عید زہرا سلام اللہ علیہا مبارک
ایام غم کا اختتام
گلشن میں جیسے بہار لوٹ آئی ہو 
مختار نے خبر ہی کچھ ایسی سنائی ہے 
خوب آج ہنسو عید کا دن ہے حسینیوں
دختر زہرا آج کے دن مسکرائی ہے۔

ہمارے معاشرے میں بہت سی عیدیں آتی ہیں جیسے عید قربان ، عید غدیر،عید مباہلہ اور عید زہرا وغیرہ… یہ ساری عیدیں کسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں․

عید الفطر: یکم شوال کو ایک مہینہ کے روزے تمام کرنے کا شکرانہ اور فطرہ نکال کر غریبوں کی عید کا سامان فراہم کرنے کا ذریعہ ہے․

عید قربان: ۱۰/ذی الحجہ حضرت اسماعیل  کو خدا نے ذبح ہونے سے بچالیا تھا اور اُن کی جگہ دنبہ ذبح ہوگیا تھا،جس کی یاد مسلمانوں پر ہر سال منانا سنت ہے

 عید غدیر: ۱۸/ ذی الحجہ کو غدیر خم میں مولائے کائنات حضرت علی  کی تاج پوشی کی یاد میں ہر سال منائی جاتی ہے،اِس دن رسول خدا نے غدیر خم کے میدان میں مولائے کائنات کو سوا لاکھ حاجیوں کے درمیان ،اللہ کے حکم سے اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر کیا تھا․

عید مباہلہ: ۲۴/ ذی الحجہ کو منائی جاتی ہے،اس روز اہل بیت کے ذریعہ اسلام کو عیسائیت پر فتح نصیب ہوئی تھی․

عید زہرا: ۹/ ربیع الاول کو منائی جاتی ہے اور اس عید کے منانے کی مختلف وجہیں بیان کی جاتی ہیں،مثلاً:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ۹/ ربیع الاول کو دشمن حضرت زہرا ہلاک ہوا،لہٰذا یہ خوشی کا دن ہے اور اس روز کو ”عید زہرا“ کے نام سے موسوم کردیا گیا․

اس بارے میں علماء و مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ،بعض کہتے ہیں کہ عمر ابن خطاب نہم ربیع الاول کو فوت ہوئے اور بعض دیگر کہتے ہیں کہ ان کی وفات ۲۶/ ذی الحجہ کو ہوئی …جو لو گ یہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ۹/ ربیع الاول کو فوت ہوئے اُن کا قول قابل اعتبار نہیں ہے ،علامہ مجلسی اس بارے میں اس طرح وضاحت فرماتے ہیں کہ :

”عمر ابن خطاب کے قتل کئے جانے کی تاریخ کے بارے میں علمائے شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف پایاجاتا ہے

علامہ مجلسی  نے بحار الانوار میں بھی ابن ادریس کی کتاب ”سرائر“ کے حوالے سے لکھا ہے کہ :

”ہمارے بعض علما کے درمیان عمر بن خطاب کی روزِ وفات کے بارے میں اشتباہات پائے جاتے ہیں (یعنی) یہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب ۹/ ربیع الاول کو فوت ہوئے،یہ نظریہ غلط ہے“( بحار الانوار،جلد ۵۸، صفحہ ۳۷۲،باب ۱۳، مطبوعہ تہران)

علامہ مجلسی  کتاب ”انیس العابدین “کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں کہ :

”اکثر شیعہ یہ گمان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب ۹/ ربیع الاول کو قتل ہوئے اور یہ صحیح نہیں ہے… بتحقیق عمر ۲۶/ ذی الحجہ کو قتل ہوئے … اور اس پر ”صاحب کتاب غرہ“ ” صاحب کتاب معجم“ ”صاحب کتاب طبقات“ ”صاحب کتاب مسار الشیعہ “ اور ابن طاوٴوس کی نص کے علاوہ شیعوں اور سنیوں کا اجماع بھی حاصل ہے

 …اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ وہ ۹/ ربیع الاول کو فوت ہوئے(جو کہ غلط ہے)تب بھی حضرت فاطمہ زہرا کی شہادت پہلے ہوئی اور آپ کے دشمن یکے بعد دیگری بعد میں ہلاک ہوئے…تو پھر اپنے دشمنوں کی ہلاکت سے حضرت فاطمہ زہرا کس طرح خوش ہوئیں …لہٰذا عید زہرا کی یہ وجہ غیر معقول نظر آتی ہے․

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ۹/ربیع الاول کو جناب مختار نے امام حسین  کے قاتلوں کو واصل جہنم کیا…لہٰذا یہ روز شیعوں کے لئے سرور و شادمانی کا ہے․  ہم نے معتبر تاریخ کی کتابوں میں بہت تلاش کیا لیکن کہیں یہ بات نظر نہ آئی کہ جناب مختار نے ۹/ربیع الاول کو امام حسین کے قاتلوں کو واصل جہنم کیا تھا…لہٰذا یہ وجہ بھی غیر معقول ہے․

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جناب مختار نے ابن زیاد کا سر امام زین العابدین کی خدمت میں مدینہ بھیجا اور جس روز یہ سر چوتھے امام  کی خدمت میں پہنچا وہ ربیع الاول کی ۹/ تاریخ تھی،امام  نے ابن زیاد کا سر دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا اور مختار کو دعائیں دیں نیز اسی وقت سے ان عورتوں نے بالوں میں کنگھی اور سر میں تیل ڈالنا اور آنکھوں میں سرمہ لگاناشروع کیا جو واقعہ کربلا کے بعدسے ان چیزوں کو چھوڑے ہوئے تھیں․

بالفرض اگر اسے صحیح مان لیاجائے تب بھی یہ عید جناب زینب اور جناب سید سجاد سے منسوب ہونی چاہئے تھی …اور ہمیں بھی امام زین العابدین  کی پیروی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شکر خدا ادا کرنا چاہئے تھا اور جناب مختار کے لئے دعائے خیر کرنا چاہئے تھی ،لیکن نہ تو یہ عید چوتھے امام  سے منسوب ہوئی اور نہ جناب زینب  کے نام سے مشہور ہے لہٰذا عید زہرا کی یہ وجہ بھی غیر معقول ہے․

بعض علماء کی تحقیق کے مطابق ۹/ ربیع الاول کو جناب رسول خدا کی شادی جناب خدیجہ سے ہوئی تھی اور حضرت فاطمہ زہرا ہر سال اس شادی کی سالگرہ مناتی تھیں اور جشن کیا کرتی تھیں ،نئے لباس اور انواع و اقسام کے کھانے مہیا کرتی تھیں ،لہٰذا آپ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے شیعہ خواتین نے بھی یہ سالگرہ منانی شروع کی اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا ،آپ کے بعد یہ خوشی آپ سے منسوب ہوگئی اور اس طرح ۹/ ربیع الاول کا روز شیعوں کے درمیان عید زہرا کے نام سے موسوم ہوگیا ،لہٰذا عید زہرا  کی یہ وجہ مناسب معلوم ہوتی ہے،چنانچہ ایک شخص نے آیت اللہ کاشف الغطاء سے سوال کیا کہ :

”مشہور ہے کہ ربیع الاول کی نویں تاریخ جناب فاطمہ زہرا کی خوشی کا دن تھا اور ہے اور یہ اس حال میں ہے کہ عمر کے ۲۶/ذی الحجہ کو زخم لگا اور ۲۹/ ذی الحجہ کو فوت ہوا لہٰذا یہ تاریخ حضرت فاطمہ زہرا کی وفات سے بعد کی تاریخ ہے تو پھر حضرت فاطمہ زہرا(اپنے دشمن کے فوت ہونے پر) کس طرح خوش ہوئیں؟

اس کا جواب آیت اللہ کاشف الغطاء نے اس طرح دیا کہ :

”شیعہ پُرانے زمانے سے ربیع الاول کی نویں تاریخ کو عید کی طرح خوشی مناتے ہیں…کتاب اقبال میں سید ابن طاوٴوس نے فرمایا ہے کہ ۹/ ربیع الاول کی خوشی اس لئے ہے کہ اس تاریخ میں عمر فوت ہوا ہے اور یہ بات ایک ضعیف روایت سے لی گئی ہے جس کو شیخ صدوق نے نقل کیا ہے،لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ ۹/ربیع الاول کو شیعوں کی خوشی شاید اس وجہ سے ہے کہ ۸/ربیع الاول کو امام حسن عسکری شہید ہوئے اور ۹/ ربیع الاول اامام زمانہ  کی امامت کا پہلا روز ہے …

اس خوشی کا دوسرا احتمال یہ ہے کہ ۹/ اور ۱۰/ ربیع الاول پیغمبر اسلام کی جناب خدیجہ سے شادی کا روز ہے اور حضرت فاطمہ زہرا ہر سال اس روز خوشی مناتی تھیں اور شیعہ بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے ان دنوں میں خوشی منانے لگے ،مگر شیعوں کو اس خوشی کی یہ علت معلوم نہیں ہے“

( سوال و جواب ،صفحہ ۱۰ و ۱۱، از آیت اللہ العظمیٰ کاشف الغطاء ،ترجمہ ،مولانا (ڈاکٹر)سید حسن اختر صاحب نوگانوی،منجانب ادارہٴ تبلیغ و اشاعت نوگانواں سادات)

اس سلسلہ میں بعض حضرات و خواتین غلط بیانی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اس دن جو چاہیں گناہ کریں اس پر عذاب نہیں ہوتا اور فرشتے لکھتے بھی نہیں اور یہ لوگ علامہ مجلسی کی کتاب بحار الانوارکی اس طویل حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس کو علامہ مجلسی نے سید بن طاوٴوس کی کتاب ”زوائد الفوائد“سے نقل کیا ہے … ہاں بحار الانوار میں ایک حدیث ایسی ضرور لکھی ہوئی ہے،مگر یہ حدیث چند وجوہات کی بناء پر قابل اعتبار و عمل نہیں ہے:

۱۔ اس حدیث میں لکھا ہے کہ ۹/ ربیع الاول کو جو گناہ چاہیں کریں اس کو فرشتے نہیں لکھتے اور نہ ہی عذاب کیا جاتا ہے․

اور ہم قرآن مجید کے سورہٴ زلزال کی آیت ۷ اور ۸ میں پڑھتے ہیں کہ

”فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَرَرَہ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرَّاً یَرَ ہ“

”یعنی جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی کی ہے تو وہ اسے دیکھ لے گا“

اور ہمارے سامنے رسول خدا کی وہ حدیث بھی ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ : اگر کسی سے ایسی حدیث سنو جو ہم سے منسوب ہو اور قرآن سے ٹکرا رہی ہو تو اسے دیوار پر دے مارو یعنی اس پر عمل نہ کرو،مذکورہ روایت قرآن سے ٹکرا رہی ہے لہٰذا قابل عمل نہیں ہے․

۲۔ اس حدیث کے راوی غیر معتبر ہیں ،چنانچہ جب میں نے قم میں آیت اللہ شاہرودی صاحب سے استفتاء کیا تو زبانی طور پر آپ نے فرمایا کہ :

” اس روایت کو علامہ مجلسی نے کتاب اقبال سے نقل کیا ہے اور اس کے راوی غیر معتبر ہیں … ۹/ ربیع الاول کا مرفوع قلم نہ ہونا اظہر من الشمس ہے“(لہٰذا مذکورہ روایت غیر معتبر ہے)

۳۔ اس روایت میں ایک جملہ اس طرح آیا ہے کہ :

” رسول اللہ … نے امام حسن  اور امام حسین -(جو کہ ۹/ ربیع الاول کو آپ کے پاس بیٹھے تھے ) سے فرمایا کہ اس روز کی برکت اور سعادت تمہارے لئے مبارک ہو کیوں کہ آج کے دن خدا وند عالم تمہارے اور تمہارے جد کے دشمنوں کو ہلاک کرے گا “

رسول اسلام اگر مستقبل میں رونما ہونے والے کسی واقعہ یا حادثہ کی خبر دیں توسو فی صد صحیح ،سچ اور وقوع پذیر ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ آپ  صادق الوعد ہیں․

لیکن معتبر تاریخ میں کسی بھی دشمن رسول و آل رسول کی ہلاکت ۹/ ربیع الاول کے روز نہیں ملتی لہٰذا روایت قابل اعتبار نہیں ہے․

۴۔ اس روایت کے آخر میں امام علی -کے حوالے سے ۹/ ربیع الاول کے ۵۷ نام ذکر کئے گئے ہیں جن میں یوم رفع القلم (گناہ نہ لکھے جانے کا دن ) یوم سبیل اللہ تعالیٰ ( اللہ کے راستے پر چلنے کا دن ) یوم قتل المنافق ( منافق کے قتل کا دن ) یوم الزھد فی الکبائر (گناہان کبیرہ سے بچنے کا دن ) یوم الموعظہ (وعظ و نصیحت کا دن ) یو م العبادة (عبادت کا دن ) بھی شامل ہیں جو آپس میں متصادم ہیں یعنی ۹/ ربیع الاول کو گناہ نہ لکھنے کا دن کہہ کے سب کچھ کر ڈالنے کی تشویق بھی ہے تو یوم نصیحت و عبادت و زہد کہہ کر گناہوں سے روکا بھی گیا ہے اور یہ تضاد کلام معصوم  سے بعید ہے اس کے علاوہ قتل منافق کا روز بھی کہا گیا ہے جس کی تردید آیت اللہ کا شف الغطاء اور آیت اللہ شاہرودی کے حوالے سے ہم کرہی چکے ہیں، لہٰذا یہ روایت غیر معتبر ہے․

۵۔ اس روایت میں ایک جملہ یہ بھی آیا ہے کہ :

”اللہ نے وحی کے ذریعہ حضرت رسول سے کہلایا کہ : اے محمد ! میں نے کرام کاتبین کو حکم دیا ہے کہ وہ ۹/ ربیع الاول کو آپ  اور آپ کے وصی کے احترام میں لوگوں کے گناہوں اور ان کی خطاوٴں کو نہ لکھیں “

جب کہ دوسری طرف قرآن مجید میں خداوند عالم اس طرح ارشاد فرماتا ہے کہ :

” ھٰذَا کِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ“

”یہ ہماری کتاب (نامہٴ اعمال ) ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے اور ہم اس میں تمہارے اعمال کو برابر لکھوا رہے تھے“ (سورہٴ جاثیہ،آیت ۲۹)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے اعمال ضرور لکھے جاتے ہیں،اور کسی بھی روز کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا ہے․

”وَوَضَعَ الْکِتٰبُ فَتَرَیٰ الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ و َ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتٰبَ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا کَبِیْرَةً اِلَّا اَحْصٰھَا وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِراً وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَداً“

”اور جب نامہٴ اعمال سامنے رکھا جائے گا تو دیکھو گے کہ مجرمین اس کے مندرجات کو دیکھ کر خوفزدہ ہوں گے اور کہیں گے ہائے افسوس ! اس کتاب (نامہٴ اعمال ) نے تو چھوٹا بڑا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور سب کو جمع کرلیا ہے اور سب اپنے اعمال کو بالکل حاضر پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی ایک پر بھی ظلم نہیں کرتاہے“(سورہٴ کہف، آیت ۴۹)

اس آیت سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں کے اعمال برابر لکھے جاتے ہیں اور کوئی بھی موقع اور دن اس سے مستثنیٰ نہیں ہے․

”یَوْمَئِذٍیَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتاً لِّیُرَوْا اَعْمَالَھُمْ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَّرَہ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَّرَہ“

”اس روز سارے انسان گروہ گروہ قبروں سے نکلیں گے تاکہ اپنے اعمال کو دیکھ سکیں پھر جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھ لے گا“(سورہٴ زلزلہ ،آیت ۸ا۔۵)

اس روایت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں کے چھوٹے بڑے ہر قسم کے اعمال ضرور لکھے جاتے ہیں․

یہ روایت آیات قرآنی سے ٹکرا رہی ہے لہٰذا غیر معتبر ہے․

ہو سکتا ہے بعض حضرات یہ اعتراض کریں کہ اتنی معتبر شخصیات جیسے علامہ ابن طاوٴوس،شیخ صدوق اور علامہ مجلسی وغیرہ نے کس طرح ضعیف روایتوں کو اپنی کتابوں میں جگہ دے دی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ شیعہ علماء نے کبھی بھی اہل سنت کی طرح یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ ہماری کتابوں میں جو بھی لکھا ہے وہ سب صحیح ہے،بلکہ ہمیں ان کی چھان بین کی ضرورت رہتی ہے،کیوں کہ جس زمانہ میں یہ کتابیں مرتب کی گئیں وہ پُر آشوب دور تھا اور شیعوں کی جان و مال ،عزت و آبروکے ساتھ ساتھ ثقافت بھی غیر محفوظ تھی جس کی مثالوں سے تاریخ کا دامن بھرا پڑا ہے،مسلمان حکمراں شیعوں کے علمی سرمایہ کو نذرِ آتش کرنا ہرگز نہ بھولتے تھے،ایسے ماحول میں ہمارے علمائے کرام نے ہر اس روایت اور بات کو اپنی کتابوں میں جگہ دی جو شیعوں سے تعلق رکھتی تھی،جس میں بعض غیر معتبر روایات کا شامل ہوجانا باعث تعجب نہیں ہے،چونکہ اُس زمانہ میں چھان پھٹک کا موقع نہ تھا اس لئے یہ کام بعد کے علماء نے فرصت سے انجام دیا ،جبھی تو آیت اللہ کاشف الغطا ئاورآیت اللہ شاہرودی کے علاوہ دیگر مراجع کرام۹/ ربیع الاول والی اس روایت کو ضعیف مانتے ہیں․

ہمیں چاہئے کہ اِس روز بھی اسی طرح اپنے آپ کو گناہوں سے بچائیں جس طرح دوسرے ایام میں بچانا واجب ہے ،ہمارے ائمہ ٪اور فقہائے عظام و مراجع کرام کا یہی حکم ہے ،چنانچہ جب میں نے اِس بابت مراجع کرام آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ،آیت اللہ مکارم شیرازی،آیت اللہ فاضل لنکرانی،آیت اللہ اراکی اور آیت اللہ صافی گلپائیگانی سے قم میں یہ استفتاء کیا کہ :

”بعض لوگ عالم و غیر عالم اس بات کے معتقد ہیں کہ ۹/ ربیع الاول سے (جو کہ عید زہرا سے منسوب ہے )۱۱/ ربیع الاول تک انسان جو چاہے انجام دے چاہے وہ کام شرعاً ناجائزہو تب بھی گناہ شمار نہیں ہوگا اور فرشتے اسے نہیں لکھیں گے ، برائے مہربانی اس بارے میں کیا حکم ہے بیان فرمائیے

آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای صاحب نے اس طرح جواب دیا کہ :

”شریعت کی حرام کی ہوئی وہ چیزیں جو جگہ اور وقت سے مخصوص نہیں ہیں کسی مخصوص دن کی مناسبت سے حلال نہیں ہوں گی،بلکہ ایسے محرمات ہر جگہ اور ہر وقت حرام ہیں اور جو لوگ بعض ایام میں ان کو حلال کی نسبت دیتے ہیں وہ کورا جھوٹ اور بہتان ہے اور ہر وہ کام جو بذات خود حرام ہو یا مسلمانوں کے درمیان تفرقے کا باعث ہو شرعاً گناہ اور عذاب کا باعث ہے“

آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی صاحب کا جواب یہ تھا کہ:

”یہ بات (کہ ۹/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیں جاتے )صحیح نہیں ہے اور کسی بھی فقیہ نے ایسا فتویٰ نہیں دیا ہے ،بلکہ ان ایام میں تزکیہٴ نفس اور اہل بیت کے اخلاق سے نزدیک ہونے اور فاسق و فاجر وں کے طور طریقوں سے دور رہنے کی زیادہ کوشش کرنی چاہئے“

آیت اللہ فاضل لنکرانی صاحب نے یوں جواب دیا کہ:

”یہ اعتقاد(کہ ۹/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیں جاتے )غیر صحیح ہے ان ایام میں میں بھی گناہ جائز نہیں ہے ،مذکورہ عید (عید زہرا) بغیر گناہ کے منائی جا سکتی ہے“

آیت اللہ اراکی صاحب نے تحریر فرمایاکہ :

”وہ کام جن کو شریعت اسلام نے منع کیا ہے اور مراجع کرام نے اپنی توضیح المسائل میں ذکر کیا ہے کسی بھی وقت جائز نہیں ہیں، اور یہ باتیں کہ (۹/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیں جاتے) معتبر نہیں ہیں“

آیت اللہ صافی گلپائیگانی صاحب کا جواب تھا کہ :

”یہ بات کہ (۹/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیں جاتے ) ادلّہٴ احکام کے عمومات و اطلاقات کے منافی ہے اور ایسی معتبر روایت کہ جو ان عمومی و مطلق دلیلوں کو مخصوص یا مقید کردے ثابت نہیں ہے بالفرض اگر ایسی کوئی روایت ہوتی بھی تو یہ بات عقل و شریعت کے منافی ہے اور ایسی مقید و مخصص دلیلیں منصرف ہیں …“

یہ بات واضح ہوجانے کے بعد اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے ، وہ یہ کہ اس خوشی کو کس طرح منائیں …؟اسی طرح جیسے اکثر بستیوں میں منائی جاتی ہے ؟ یا پھر اس میں تبدیلی ہونی چاہئے؟

جن ہستیوں سے یہ خوشی منسوب ہے اُن کے کردار کی جھلک بھی اس خوشی اور عید میں نظر آنی چاہئے یا نہیں؟

یہ خوشی امام زمانہ اور حضرت فاطمہ زہرا سے منسوب ہے تو کیا ہمیں ان معصومین  کے شایان شان اس خوشی کو نہیں منانا چاہئے ؟…ہمیں کیا ہوگیا ہے ! اپنے زندہ امام کی خوشی کو اس انداز سے مناتے ہیں ؟دنیا کی جاہل ترین قومیں بھی اپنے رہبر کی خوشی اس طرح نہ مناتی ہوں گی …

افسوس صد ہزار افسوس! آج کل اگر کسی سیاسی و سماجی شخصیت کے اعزاز میں جلسے جلوس منعقد کئے جاتے ہیں تو ان کو اُسی کے شایان شان طریقے سے اختتام تک پہنچانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے․

لیکن عید زہرا ! جو خاتون ِ جنت ،جگر گوشہٴ رسول زوجہٴ علی مرتضیٰ  ،ام الائمہ زہرا بتول کے نام سے منسوب ہے وہ اس طرح منائی جاتی ہے کہ اس میں شریف انسان شریک ہونے کی جرأت بھی نہ کر سکے؟!

اس کے علاوہ عالم اسلام پر جس طرح خطرات کے بادل چھائے ہوئے ہیں وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہے ،کتنا اچھا ہو اگر عید زہرا اپنے حقیقی معنوں میں اس طرح منائی جائے جس میں تمام مسلمین شریک ہوسکیں ․

تبرہ فروع دین سے تعلق رکھتا ہے اور فروع دین کا دارو مدار عمل سے ہے … اگر کوئی مسلمان صرف زبان سے کہے کہ نماز ،روزہ، حج، زکوٰة،خمس وغیرہ واجب ہیں تو یہ تمام واجبات جب تک عملی صورت میں ادا نہ ہوجائیں گردن پرقضا ہی رہیں گے…فروع دین کے واجبات وقت اور زمانے سیمخصوص ہیں، جس طرح نماز کے اوقات بتائے گئے ہیں اسی طرح روزہ ،زکوٰة،حج اور خمس وغیرہ کازمانہ بھی معین ہے ، لیکن امر باالمعروف ،نہی عن المنکر،تولا اور تبرا یہ دین کے ایسے فروع ہیں جن کے لئے کوئی وقت اور زمانہ معین نہیں ہے ،بالخصوص تولا اور تبرا سے تو ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہیں رہ سکتے ،یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک منٹ کے لئے محبت اہل بیت کو دل سے نکال دیا گیا ہے یا ایک لمحہ کے لئے دشمنان اہل بیت  کے کردار کو اپنا لیا گیا ہے ، جب ایسا ہے … تو پھرتبرہ کو ۹/ ربیع الاول سے کیوں مخصوص کردیا گیا ؟ اِسی روز اس کی کیوں تاکید ہوتی ہے؟ باقی دنوں میں اس طرح کیوں یاد نہیں آتا؟وہ بھی صرف زبانی! …

زبان سے تبرا کافی نہیں ہے بلکہ عملی میدان میں آکر تبرا کریں یعنی اہل بیت  کے دشمنوں کی اطاعت و حکمرانی دل سے قبول نہ کریں اور ان کے پست کردار کونہ اپنائیں․

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شیعہ جو خمس نہ نکالتا ہو اور بیٹیوں کو میراث سے محروم رکھتا ہو وہ غاصبین پر لعنت کرے اور اس لعنت میں خود بھی شامل نہ ہوجائے ․

وہ شیعہ جو اپنے عملِ بد سے اہل بیت  کو ناراض کرتا ہو اور وہ اہل بیت ستانے والوں پر لعنت کرے اور اس لعنت کے دائرے میں خود بھی نہ آجائے․

یاد رکھئے ! لعنت نام پر نہیں ،کردار پر ہوتی ہے اسی لئے اس کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے․

جناب مرحوم قیصر باہوی نے کیا خوب کہا ہے 
تاریخ محبت کا قلمکار ہے مختار
جو آج بھی زندہ ہے وہ کردار ہے مختار 
اس نام سے گھبراتا ہے شبیر کا دشمن
گویا غمِ شبیر کی تلوار ہے مختار 
انساں ہے ظالم کا کبھی ساتھ نہ دے گا 
مظلوم کی اُلفت کا وہ معیار ہے مختار
ہر اہل نظر جس کی صداقت پہ فدا ہو 
جذبات کے ہونٹوں پہ وہ گفتار ہے مختار
زہرا کے غریبوں کو دیا جس نے تبسم 
کوفے کی فضا میں وہ عزادار ہے مختار
مسرور کیا عابد بیمار کو جس نے 
وہ اَجر مودت کا طلبگار ہے مختار

مورخین کا اتفاق ہے کہ جناب مختار نے حضرت حنفیہ کی خدمت میں قاتلان امام علیہ السلام کے سروں کے ساتھ ایک خط بھی اس مضمون کے ساتھ لکھ کر بھیجا تھا کہ ؛ میں نے آپ علیہ السلام کے مددگاروں اور ماننے والوں کی ایک فوج آپ علیہ السلام کے دشمنوں کو قتل کرنے کے لِئے موصل بھیجا تھا ، اس فوج نے بڑی جوانمردی اور بہادری کے ساتھ آپ کے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور بے شمار دشمنوں کو قتل کیا جس سے مومنین کے دلوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئ اور آپ کے ماننے والے نہایت خوش اور مسرور ہوئَے ، اس سلسلے میں سب سے بڑا کردار ابراہیم بن مالک اشتر نے ادا کیا جو سب سے زیادہ تحسین و آفرین کے مستحق ہیں ۔
جناب محمد حنفیہ کے سامنے جس وہ تمام سر پیش کیئَے گئَے تو دیکھتے ہی سجدہ شکر میں جھک گئَے اور جناب مختار کے حق میں دعا کی کہ ؛ خداوند مختار کو جزائَے خیر دے جس نے ہماری طرف سے واقعہ کربلا کا بدلا قاتلان حسین علیہ السلام لیا ہے ۔"؛
پھر اس کے بعد آپ سجدہ شکر سے سر اٹھا کر عرض پرواز ہوئَے ؛ "پالنے والے تو ابراہیم بن مالک اشتر کی ہر حال میں حفاظت فرما اور دشمنوں کے مقابلے میں ہمیشہ اں کی مدد کرتا رہ اور انہیں ایسے امور کی توفیق عطا فرما جو تیری مرضی کے مطابق ہوں اور جن سے تو راضی ہو اور ان کو دنیا و آخرت میں بخش دے" ۔

عمر بن سعد نے کربلا میں بے شمارجنایتیں انجام دیں ، امام حسین علیہ السلام کو ان کے بچوں ، بھائیوں اور ساتھیوں کے ساتھ شھید کیا ، امام حسین علیہ السلام نےاس کے سلسلے میں فرمایا : تجھےکیا ہوگیا ہے ، خدا تجھے بہت جلد تیرے بستر پر قتل کرے اورمحشر کے دن ھرگز تیری بخشش نہ کرے ، خدا کی قسم امیدوار ہوں سرزمین عراق کا ایک دانہ گندم بھی تجھے نصیب نہ ہو۔

قاتلین کربلا کا سردار «عمر بن سعد بن ابی وقاص» نو ربیع الاول کو جناب مختار کے ہاتھوں ھلاک ہوا .

عمر، سعد بن ابی وقاص کا بیٹا سن 23 هجری میں پیدا ہوا ۔ 
یہ وہ انسان ہے جس نے جنگ صفین کی حکمیت کے زمانے میں جب سپاه امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (علیه السلام) اور معاویه لعنت اللہ علیہ کے درمیان اختلاف دیکھا تو اپنے باپ کو خلافت کیلئے اکسانے کی کوشش کی مگر سعد بن ابی وقاص نے قبول نہیں کیا ۔ 


اس کا شمار ان لوگوں میں سے کیا جاتا ہے جنہوں نے «حجربن عدی» کے خلاف گواہی دی کہ حجر نے بلوا برپا کرنے کوشش کی تھی ، حجربن عدی کوامیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (علیه السلام) کے باوفا صحابیوں میں شمار کیا جاتا تھا اور اسی جھوٹی گواھی کے سبب ابن سعد اور بعض با وفا ساتھی معاویہ لعنت اللہ علیہ کے ہاتھوں «مرج عذراء» میں شھید کردئے گئے۔ 


ایک روز متقین کے پیشوا امیر المؤمنین علی (علیه السلام) نے عمربن سعد سے اس کی نوجوانی میں فرمایا : عمر تم اس دن کیا کرو گے جس دن خود کو بہشت وجنھم کے درمیان گم دیکھوگے اور اخر جہنم اختیار کرو گے ۔ 

امیر المؤمنین علی (علیه السلام) کی پیش گوئی سن 60 ھجری میں محقق ہوگئی جب ابن مرجانہ ابن زیاد نے عمرابن سعد کو شھر ری کی حکومت حسین بن علی (علیهما السلام) سے جنگ کی شرط قرار دیا عمر ابن سعد نے ابتداء میں اپنے دوستوں سے اس سلسلے میں مشورہ کیا ، سبھی نے کربلا کے سفر سے اسے روکا مگر حکومت ری کی ہوس نے چار ھزار لشکر کی سپہ سالاری میں تین محرم سال 61 ھجری کو کربلا پہونچا دیا ۔

امام حسین (علیه السلام) نے بارہا وبارہا کربلا میں عمر ابن سعد کو وعظ ونصیحت فرمائی ایک شب امام علیہ السلام نے رات کی تاریکی میں عمر ابن سعد کو ملاقات کی غرض سے بلا بھیجا امام حسین علیہ السلام اور عمرابن سعد دونوں 20 سوار کے ساتھ ایک دوسرے کے روبرو کھڑے ہوئے امام حسین علیہ السلام نے حضرت عباس و علی اکبر (علیهما السلام) کے علاوہ تمام اصحاب سے کہا کہ ذرا فاصلے پر کھڑے ہوں ، عمر ابن سعد نے بھی اپنے بیٹے حفص اورغلام کے علاوہ دوسروں کو کچھ فاصلے پرکھڑے ہونے کا حکم ۔

امام حسین (علیه السلام) نےعمر ابن سعد سے کہا : یا بن سعد ، تجھ پر وای ہو ، کیا تم اس خدا سے جس کی بارگاہ میں لوٹ کر تجھے جانا ہے نہیں ڈرتا ؟ کیا مجھ سے جنگ کرے گا ، جب کہ جانتا ہے میں کس کا بیٹا اور کس کا نواسہ ہوں ؟ اس تبہکار گروہ سے خود کو جدا کرلے اور میرے ساتھ آجا ، کیوں کہ اس طرح تو خداوند متعال سے قریب ہوگا ۔
عمر ابن سعد نے جواب میں کہا : ہمیں ڈر ہے کہ میرا گھر اجاڑ دیا جائےگا ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : میں تیرے گھرکی بقا کی ذمہ داری لیتا ہوں ، عمرابن سعد نے جواب میں کہا : خوف مند ہوں کہ میری جائداد ضبط کر لی جائے گی ۔

امام حسین (علیه السلام) نے فرمایا: میں اپنی حجاز کی دولت سے تجھے اس بھی بہتر دوں گا ۔

عمر ابن سعد نے کہا : میں اپنے اھل وعیال کی بہ نسبت فکر مند ہوں امام حسین علیہ السلام اس گفتگو کے بعد خاموش ہوگئے اور اپ نے عمر ابن سعد کو کوئی جواب نہیں دیا ۔
اپ عمر ابن سعد کے پاس سے اس حال میں لوٹے کہ آپ کی زبان پر جملہ تھا : ما لک! ذ بحک اللَّه على فراشک عاجلا، و لا غفر لک یوم حشرک‏! تجھے کیا ہوگیا ، تیری موت تجھے تیرے بستر پر آ دبوچے گی اورخدا تجھے قیامت کے دن معاف نہ کرے ، خدا کی قسم عراق کا ایک دانہ گندم بھی تجھے نصیب نہ ہوگا ۔

عمرابن سعد نے مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا : اگر اس گندم کو نہ کھا سکا تو اس کے بدلے جو ہی کافی ہے ۔ 

عمر بن سعد نے کربلا میں بے شمار جنایتیں انجام دیں اورامام حسین علیہ السلام کو ان کے بچوں ، بھائیوں اور ساتھیوں کے ساتھ تہ تیغ کرڈالا ، اس نے سید الشھداء کی شھادت کی بعد اپ کے جسم اطھر پر گھوڑے دوڑانے کا حکم دیا کہ اس حکم کے پاتے ہی دس گھوڑے سوار اپ کے جسم اطھر پردوڑ پڑے.  اور گیارہ محرم کو اھل حرم کو اسیر کرکے اپنے کشتہ ہای نجس کو دفنا کر امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے جسم اطھر کو بےگور و کفن چھوڑ کر کوفہ کی جانب روانہ ہوگیا ۔ 

آخر کار جناب مختارکے قیام کے بعد جناب مختار کے غلام کے ہاتھوں اپنے گھر میں مارا گیا اور اس کے بعد اس کا بیٹا حفص ھلاک ہوا اور اپنے باپ کے ساتھ جہنم واصل ہوا ۔

یہ وہ دن ہے جس دن  زہرا کونین [س] کے دل کو کسی قدر سکون پہنچا ہو گا اور اپنے لال کے قاتل کی موت پر اظہار مسرت کیا ہو گا لہذا اسے عید زہرا کے عنوان  سےجانا جاتا ہے۔

جناب حنفیہ نے ابن زیاد ، عمر سعد ، حسین بن نمیر اور شمر زی الجوشن وغیرہ کے سروں کو امام زینُ العابدین علیہ السلام کی خدمت میں ارسال فرمایا ، اُن دنوں حضرت مکہ معظمہ میں ہی مقیم تھے ۔ حضرت کی خدمت میں اُن ملعونوں کے سر پہنچے اور آپ کی نگاہ اُن سروں پر پڑی ، آپ علیہ السلام نے فوراً سجدہ شکر میں اپنا سر رکھ دیا اور بارگاہ احدیت میں عرض کی ، " پالنے والے میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے ہمارے دشمنوں سے انتقام لیا " ۔ پھر سجدے سے سر اٹھا کر آپ علیہ السلام نے فرمایا " خدا مختار کو جزائَے خیر دے کہ اُس نے ہمارے دشمنوں کو قتل کیا" ۔
جس وقت ابن زیاد کا سر آپ علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا آپ ناشتہ تناول فرما رہے تھے ۔ اُن سروں کو دیکھ کر آپ نے سجدہ شکر کیا پھر سر اٹھا کر فرمایا کہ " خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے میری وہ دعا قبول کر لی جو میں نے دربار کوفہ میں کی تھی جب میرے پدر بزگوار کا سر طشت میں رکھا ہوا تھا اور اُس وقت ابن زیدا ملعون ناشتہ کر رہا تھا  " یعنی خداوندا مجھے اُس وقت تک موت نہ دینا جب تک مجھے ابن زیاد ملعون کا کٹا ہوا سر نہ دکھا دے" ۔
اس کے بعد حضرت زینُ العابدین علیہ السلام نے داخل خانہ ہو کر مخدرات عصمت و طہارت سے فرمایا کہ اب لباس ماتم تبدیل کرو ، آنکھوں میں سرمہ لگاو ، بالوں میں کنگھی کرو ۔ چنانچہ آپ کے ارشاد کے مطابق اہل حرم نے عمل کیا ۔
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد سے آج تک اہلبیت رسول صلی اللہُ علیہ و آلہ وسلم میں نہ کسی نے سرمہ لگایا تھا ، بالوں میں تیل ڈالا تھا ۔

۹ربیع الاول اس لحاظ سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے  کہ ۹ ربیع الاول سن 260 ھ کو حضرت حجت قائم آل محمد حضرت صاحب ُ العصر والزمان نے امامت کا منصب سنبھالا ۔
السلام ُ علیک یا صا حبُ آلعصر والزمان عجل اللہ ُ تعالٰی فرجہ، ۔

غلام احمد قادیانی کون ہے؟

غلام احمد قادیانی کون ہے؟


غلام نے اپنی کتاب استفتأ جو 1378؁ ھ میں نصرت پریس ، ربوہ ، پاکستان میں طبع ہوئی، کے صفحہ 72 پر اپنا تعارف اس طرح کرایا ہے : "میرا نام غلام احمد ابن مرزا غلام مرتضیٰ ہے۔ اور مرزا غلام مرتضیٰ مرزا عطا محمد کا بیٹا تھا۔" اسی صفحہ پر وہ اپنے بارے میں کہتا ہے " اور میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ ہمارے آباواجداد مغلیہ نسل سے تھے۔ مگر خدا نے مجھ پر وحی بھیجی کہ وہ ایرانی قوم سے تھے، نہ کہ ترکی قوم سے۔" اس کے بعد کہتا ہے، " میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میرے اسلاف میں سے کچھ عورتیں بنی فاطمہ میں سے تھیں۔" صفحہ 76 پر وہ کہتا ہے، " اور میں نے اپنے والد سے سنا ہے اور ان کے سوانح میں پڑھا ہے کہ ہندوستان میں آنے سے پہلے وہ لوگ سمرقند میں رہا کرتے تھے۔"

غلام احمد 1835 ؁ عیسوی یا 1839 ؁ عیسوی اور یا شاید 1840 ؁ عیسوی میں ہندوستان میں پنجاب کے موضع قادیان میں پیدا ہوا۔ بچپن میں اس نے تھوڑی سے فارسی پڑھی اور کچھ صرف و نحو کا مطالعہ کیا۔ اس نے تھوڑی بہت طب بھی پڑھی تھی۔ لیکن بیماریوں کی وجہ سے، جو بچپن سے اس کے ساتھ لگی ہوئی تھیں اور جن میں قادیانی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق مالیخولیا (جنون کی ایک قسم) بھی شامل تھا، وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکا۔ وہ نوجوان ہی تھا کہ ایک دن اُسے اس کے گھر والوں نے اپنے دادا کی پنشن وصُول کر لانے کے لیے بھیجا، جو انگریزوں نے اس کی انجام کردہ خدمات کے صلے میں اس کے لیے منظور کی تھی۔ اس کام کے لیے جاتے ہوئے اس کا ایک دوست امام الدین بھی غلام احمد کے ساتھ ہو گیا۔ پنشن کا روپیہ وصول کرنے کے بعد غلام کو اس کے دوست امام الدین نے پُھسلایا کہ قادیان سے باہر کچھ دیر موج اُڑائی جائے۔ غلام احمد اس کے جھانسے میں آ گیا اور پنشن کے روپے تھوڑی ہی دیر میں میں اُڑا دیئے گئے۔ روپے ختم ہونے پر اس کے دوست امام الدین نے اپنی راہ لی۔ اور غلام کو گھر والوں کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے گھر سے بھاگنا پڑا۔ چنانچہ وہ سیالکوٹ چلا گیا جو اب مغربی پاکستان کے پنجاب کے علاقہ میں ایک شہر ہے۔ سیالکوٹ میں اُسے کام کرنا پڑا تو وہ ایک کچہری کے باہر بیٹھ کر عوامی محرر (نقل نویس) کا کام کرنے لگا۔ جہاں وہ تقریباً 15 روپے ماہوار کے برائے نام معاوضہ پر عریضوں کی نقلیں تیار کیا کرتا۔

اس کے سیالکوٹ کے قیام کے دوران وہاں ایک شام کا اسکول قائم کیا گیا جہاں انگریزی پڑھائی جاتی تھی۔ غلانے نے بھی اس اسکول میں داخلہ لے لیا اور وہاں اس نے بقول خود ایک یا دو انگریزی کتابیں پڑھیں۔ پھر وہ قانون کے ایک امتحان میں بیٹھا لیکن فیل ہو گیا۔

پھر اس نے 4 سال بعد سیالکوٹ میں اپنا کام چھوڑ دیا اور اپنے باپ کے ساتھ کام کرنے چلا گیا جو وکالت کرتا تھا۔

یہی وہ زمانہ ہے جب اس نے اسلام پر مباحثے منعقد کرنا شروع کئے اور بہانہ کیا کہ وہ ایک ضخیم کتاب، جس کا نام اس نے " براہینِ احمدیہ " رکھا تھا، تالیف کرے گا۔ جس میں وہ اسلام پر اعتراضات اٹھائے گا۔ تب ہی لوگ اُسے جاننے لگے

_________________حکیم نور الدین بُہیروی

سیالکوٹ میں قیام کے دوران غلام احمد کا واسطہ نور الدین بُہیروی نامی ایک منحرف شخصیت سے پڑا۔ نور الدین کی پیدائش
۱۲۵۸ ہجری مطابق ۱۸۴۱ عیسوی بُہیرہ ضلع شاہ پور میں ہوئی جو اب مغربی پاکستان کے علاقہ پنجاب میں سرگودھا کہلاتا ہے۔ اس نے فارسی زبان، خطاطی، ابتدائی عربی کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۸۵۸ عیسوی میں اس کا تقرر راولپنڈی کے سرکاری اسکول میں فارسی کے معلم کے طور پر ہو گیا۔ اس کے بعد ایک پرائمری اسکول میں ہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا۔ چار سال تک اس جگہ پر کام کرنے کے بعد اس نے ملازمت سے استغفٰی دے دیا اور اپنا پورا وقت مطالعہ میں صرف کرنے لگا۔ پھر اس نے رامپور سے لکھنؤ کا سفر کیا جہاں اس نے حکیم علی حسین سے طبِ قدیم پرھی۔ علی حسین کی معیت میں اس نے دو سال گزارے پھر ۱۲۸۵ ھ میں وہ حجاز چلا گیا جہاں مدینہ منورہ میں اس کا رابطہ سیخ رحمت اللہ ہندی اور شیخ عبد الغنی مجددی سے ہوا۔ اس کے بعد وہ اپنے وطن واپس آ گیا۔ جہاں اس نے مناظرہ بازی میں کافی شہرت حاصل کی۔ پھر اس کا تقرر جنوبی کشمیر کے صوبہ جموں میں بطور طبیب ہو گیا۔ ۱۸۹۰ عیسوی میں اسے اس عہدہ سے برطرف کر دیا گیا۔ جموں میں قیام کے دوران اس نے غلام احمد قادیانی کے بارے میں سنا۔ پھر وہ گہرے دوست بن گئے۔ چناچہ جب غلام نے ’براہینِ احمدیہ‘ لکھنی شروع کی تو حکیم نور الدین نے ’تصدیقِ براہین احمدیہ‘ لکھی۔

پھر حکیم نے غلام کو نبوت کا دعویٰ کرنے کی ترغیب دینی شروع کی۔ اپنی کتاب ’سیرت المہدی‘ میں صفحہ
۹۹ پر حکیم نے کہا، کہ اس وقت اس نے کہا تھا : "اگر اس شخص (یعنی غلام) نے نبی اور صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا اور قرآن کی شریعت کو منسوخ کر دیا تو میں اس کے اس فعل کی مخالفت نہیں کروں گا۔"

اور جب غلام قادیان گیا تو حکیم بھی اس کے پاس وہیں پہنچ گیا۔ اور لوگوں کی نگاہ میں غلام کا سب سے اہم پیرو بن گیا۔

ابتدا میں غلام نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن بعد میں اس نے کہا کہ وہ مہدی معہود تھا۔ حکیم نورالدین نے اُسے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرنے کے لئے آمادہ کیا اور
۱۸۹۱ عیسوی میں غلام نے دعویٰ کر دیا کہ وہ مسیح موعود تھا اور لکھا :

"درحقیقت مجھے اسی طرح بھیجا گیا جیسے کہ موسیٰ کلیم اللہ کے بعد عیسیٰ کو بھیجا گیا تھا اور جب کلیم ثانی یعنی محمد آئے تو اس نبی کے بعد، جو اپنے اعمال میں موسیٰ سے مشابہت رکھتے تھے، ایک ایسے نبی کو آنا تھا جو اپنی قوت، طبیعت و خصلت میں عیسیٰ سے مماثلت رکھتا ہو۔ آخرالذکر کا نزول اتنی مدت گزرنے کے بعد ہونا چاہیے جو موسیٰ اور عیسیٰ ابنِ مریم کے درمیانی فصل کے برابر ہو۔ یعنی چودھویں صدی ہجری میں۔

پھر وہ آگے کہتا ہے :

"میں حقیقتاً مسیح کی فطرت سے مماثلت رکھتا ہوں اور اسی فطری مماثلت کے بنا پر مجھ عاجز کو مسیح کے نام سے عیسائی فرقہ کو مٹانے کے لئے بھیجا گیا تھا کیونکہ مجھے صلیب کو توڑنے اور خنازیر کو قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں آسمان سے فرشتوں کی معیت میں نازل ہوا جو میرے دائیں بائیں تھے۔"

جیسا کہ خود غلام احمد نے اپنی تصنیف ’ازالہ اوہام‘ میں اعلان کیا، نور الدین نے درپردہ کہا کہ دمشق سے، جہاں مسیح کا نزول ہونا تھا، شام کا مشہور شہر مراد نہیں تھا بلکہ اس سے ایک ایسا گاؤں مراد تھا جہاں یزیدی فطرت کے لوگ سکونت رکھتے تھے۔

پھر وہ کہتا ہے : "قادیان کا گاؤں دمشق جیسا ہی ہے۔ اس لئے اس نے ایک عظیم امر کے لئے مجھے اس دمشق یعنی قادیان میں اُس مسجد کے ایک سفید مینار کے مشرقی کنارے پر نازل کیا، جو داخل ہونے والے ہر شخص کے لئے جائے امان ہے۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے منحرف پیروؤں کے لئے قادیان میں جو مسجد بنائی تھی وہ اس لئے تھی کہ جس طرح مسلمان مسجد الحرام کو حج کے لئے جاتے ہیں، اسی طرح اس مسجد کے حج کے لئے آئیں، اور جس میں اس نے ایک سفید مینارہ تعمیر کیا تھا تا کہ لوگوں کو اس کے ذریعہ یہ باور کرایا جا سکے کہ مسیح کا (یعنی خود اس کا) نزول اسی مینارہ پر ہو گا۔

_________________اس کا نبی ہونے کا دعویٰ

غلام احمد نے اپنے گمراہ پیروؤں میں سے ایک شخص کو قادیان میں اپنی مسجد کا پیش امام مقرر کیا تھا جس کا نام عبد الکریم تھا۔ جیسا کہ خود غلام نے بتایا، عبد الکریم اس کے دو بازوؤں میں سے ایک تھا جبکہ حکیم نورالدین دوسرا۔

۱۹۰۰ عیسوی میں عبد الکریم نے ایک بار جمعہ کے خطبہ کے دوران غلام کی موجودگی میں کہا کہ مرزا غلام احمد کو خدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا اور اس پر ایمان لانا واجب تھا۔ اور وہ شخص جو کہ دوسرے نبیوں پر ایمان رکھتا تھا مگر غلام پر نہیں، وہ درحقیقت نبیوں میں تفریق کرتا تھا اور اللہ تعالٰی کے قول کی تردید کرتا تھا جس نے مومنین کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :

"ہم اس کے نبیوں میں سے کسی میں بھی تفریق نہیں کرتے۔"

اس خطبہ نے غلام کے پیروؤں میں باہمی نزاع پیدا کر دیا جو اس کے مجدد، مہدی معہود اور مسیح موعود ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ لہٰذا جب انہوں نے عبد الکریم پر تنقید کی تو اس نے اگلے جمعہ کو ایک اور خطبہ دیا اور غلام کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ : "میرا عقیدا ہے کہ آپ اللہ کے رسول اور اس کے نبی ہیں۔ اگر میں غلط ہوں تو مجھے تنبیہہ کیجئے۔" اور نماز ختم ہونے کے بعد جب غلام جانے لگا تو عبد الکریم نے اُسے روکا۔ اس پر غلام نے کہا : " یہی میرا دین اور دعویٰ ہے۔" پھر وہ گھر میں چلا گیا۔ اور وہاں ہنگامہ ہونے لگا جس میں عبد الکریم اور کچھ اور لوگ ملوث تھے جو شور مچا رہے تھے۔ شور سنکر غلام گھر سے باہر نکلا اور کہا، " اے ایمان والو، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔"

اس کا دعویٰ کہ نبوت کا دروازہ ابھی تک کُھلا تھا

غلام نے واقعی کہا تھا کہ نبوت کا دروازہ ہنوز کُھلا ہوا تھا۔ اس کا اظہار اس کے لڑکے محمود احمد نے، جو قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ تھا، اپنی کتاب ’حقیقت النبوت‘ کے صفحہ
۲۲۸ پر اس طرح کیا تھا : "روز روشن میں آفتاب کی طرح یہ واضح ہے کہ بابِ نبوت ابھی تک کُھلا ہوا ہے۔" اور ’انوارِ خلافت‘ میں صفحہ ۶۲ پر وہ کہتا ہے : "حقیقتاً، انہوں نے (یعنی مسلمانوں نے) کہا کہ خدا کے خزانے خالی ہو گئے ہیں۔ اور ان کے ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں خدا کی صحیح قدر و قیمت کی سمجھ نہیں ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ بجائے صرف ایک کے ہزاروں نبی آئیں گے۔" اسی کتاب کے صفحہ ۶۵ پر وہ کہتا ہے : "اگر کوئی شخص میری گردن کے دونوں طرف تیز تلواریں رکھ دے اور مجھ سے یہ کہنے کے لئے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں یقیناً کہوں گا کہ وہ کاذب ہے۔ کیونکہ ایسا نہ صرف ممکن بلکہ قطعی ہے کہ ان کے بعد نبی آئیں گے۔" رسالۂ تعلیم (۱) کے صفحہ ۱۴ پر خود غلام کہتا ہے : "یہ ذرا بھی نہ سوچنا کہ وحی زمانۂ پارینہ کا قصہ بن چکی ہے، جس کا آجکل کوئی وجود نہیں ہے۔ یا یہ کہ روح القدس کا نزول صرف پرانے زمانے میں ہی ہوتا تھا، آجکل نہیں۔ یقیناً اور حقیقتاً میں کہتا ہوں کہ ہر ایک دروازہ بند ہو سکتا ہے مگر روح القدس کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔"

رسالۂ تعلیم‘ کے صفحہ
۹ پر وہ کہتا ہے : "یہ وہ ہی خدائے واحد تھا جس نے مجھ پر وحی نازل کی اور میری خاطر عظیم نشانیاں ظاہر کیں۔ وہ جس نے مجھے عہدِ حاضر کا مسیح موعود بنایا، اس کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں، نہ زمین پر نہ آسمان پر۔ اورجو اس پر ایمان نہیں لائے گا، اس کے حصہ میں بدقسمتی اور محرومیت آئے گی۔ مجھ پر حقیقت میں وحی نازل ہوتی ہے جو آفتاب سے زیادہ واضح اور صریح ہے۔"

_________________اس کا دعویٰ کہ وہ نبی اور رسول ہے جس پر وحی نازل ہوتی ہے

غلام ’مکتوب احمد‘ (مطبوعہ ربوہ 1383 ھ طبع پنجم) کے صفحہ 7 اور 8 پر کہتا ہے : "اس کی برکتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے مجھے ان ناموں سے مخاطب کیا " تم میری حضوری کے قابل ہو، میں نے تمہیں اپنے لئے انتخاب کیا۔" اور اس نے کہا، " میں نے تمہیں ایسے مرتبہ پر فائز کیا جو خلق کے لئے نامعلوم ہے۔" اور کہا " اے میرے احمد، تم میری مراد ہو اور میرے ساتھ ہو۔ اللہ اپنے عرش سے تمہاری تعریف بیان کرتا ہے۔" اس نے کہا۔ " تم عیسیٰ ہو، جس کا وقت ضائع نہیں ہو گا۔ تمہارے جیسا جوہر ضائع ہونے کے لئے نہیں ہوتا۔ تم نبیوں کے حلیہ میں اللہ کے جری ہو۔" اس نے کہا، "کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے اول ہوں۔" اس نے کہا، " ہمارے جوہر سے اور ہمارے حکم کے مطابق جائے پناہ تعمیر کرو۔ جو تمہاری اطاعت کا عہد کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ کی اطاعت کا عہد کر رہے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔" اس نے کہا، "ہم نے تمہیں دنیا پر صرف رحمت بنا کے بھیجا۔" غلام کہتا ہے، "اس کی برکتوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب اس نے دیکھ کہ پادری حد سے زیادہ مفسد ہو گئے ہیں اور کہنے لگے ہیں کہ وہ ملک میں بلند مرتبوں پر پہنچ گئے ہیں تو اس نے ان کی سرکشی کے سیلاب اور تیرگی کے عروج پر مجھے بھیجا۔" اس نے کہا، " آج تم ہمارے ساتھ کھڑے ہو، طاقتور اور قابلِ اعتماد۔ تم جلیل القدر حضوری سے آئے ہو۔" غلام کہتا ہے : "اس نے مجھے یہ کہتے ہوئے پکارا اور مجھ سے کلام کیا : میں تمہیں ایک مفسدین کی قوم کی طرف بھیجتا ہوں۔ میں تمہیں لوگوں کا قائد بناتا ہوں اور تمہیں اپنا خلیفہ مقرر کرتا ہوں اور عزت کی علامت کے طور پر اور اپنے دستور کے مطابق، جیسا کہ پہلے لوگوں کے تھا۔"

غلام کہتا ہے : "اس نے مجھے ان ناموں سے مخاطب کیا : میری نظر میں تم عیسیٰ ابنِ مریم کی مانند ہو۔ اور تمہیں اس لئے بھیجا گیا تھا کہ تم اپنے رب الاکرم کے کئے ہوئے وعدہ کو پورا کرو۔ حقیقتً اس کا وعدہ برقرار ہے اور وہ اصدق الصادقین ہے۔" "اور اس نے مجھ سے کہا کہ اللہ کے نبی عیسٰی کا انتقال ہو چکا تھا۔ انہیں اس دنیا سے اٹھا لیا گیا تھا اور وہ جا کر مُردوں میں شامل ہو گئے تھے اور ان کا شمار ان میں نہیں تھا جو واپس آتے ہیں۔" (مکتوب احمد صفحہ 9)۔

اسی کتاب کے صفحہ
۶۳ اور ۶۴ پر غلام کہتا ہے : "خدا نے مجھے یہ کہتے ہوئے خوشخبری دی : اے احمد، میں تمہاری تمام دعائیں قبول کروں گا، سوائے ان کے جو تمہارے شرکا کے خلاف ہوں گی۔ اور اس نے اتنی بے شمار دعائیں قبول کیں کہ جگہ کی کمی کے باعث ان کی فہرست اور تفصیل کا تو ذکر ہی کیا اس جگہ ان کا خلاصہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔ کیا تم اس معاملے میں میری تردید کر سکتے ہو؟ یا مجھ سے پِھر سکتے ہو؟"

اپنی کتاب ’مواہب الرحمٰن‘ (مطبوعہ ربوہ
۱۳۸۰ ھ) کے صفحہ ۴ پر وہ کہتا ہے : "میرا رب مجھ سے اوپر سے کلام کرتا ہے۔ وہ مجھے ٹھیک طرح سے تعلیم دیتا ہے اور اپنی رحمت کی علامت کے طور پر مجھ پر وحی نازل کرتا ہے میں اس کی پیروی کرتا ہوں۔"

استفتا‘ (مطبوعہ ربوہ
۱۳۷۸ ھ) کے صفحہ ۱۲ پر غلام کہتا ہے : "میں خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔"

اسی کتاب کے صفحہ
۱۷ پر وہ کہتا ہے : "خدا نے مجھے نبی کہہ کر پکارا۔"

اسی کتاب کے صفحہ
۲۰ پر وہ کہتا ہے : "خدا نے مجھے اس صدی کے مجدد کے طور پر، مذہب کی اصلاح کرنے، ملت کے چہرے کو روشن کرنے، صلیب کو توڑنے، عیسائیت کی آگ کر فرو کرنے اور ایسی شریعت کو جو تمام خلق کے لئے سودمند ہے قائم کرنے، مفسد کی اصلاح کرنے اور جامد کو رواج دینے کے لئے بھیجا۔ میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں۔ خدا نے مجھے وحی اور الہام سے سرفراز کیا اور اپنے مرسلین کرام کی طرح مجھ سے کلام کیا۔ اس نے اپنی ان نشانیوں کے ذریعہ جو تم دیکھتے ہو، میری سچائی کی شہادت دی۔" صفحہ ۲۵ پر غلام کہتا ہے : "خدا نے مجھ پر وحی بھیجی اور کہا : میں نے تمہارا انتخاب کیا اور تمہیں ترجیح دی۔ کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں تمہیں اپنی توحید اور انفرادیت کے مرتبہ پر فائز کرتا ہوں۔ لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ تم خود کو عوام الناس پر ظاہر کرو اور ان میں خود کو شہرت دو جو ہر طرف سے آئیں گے۔ جن کو ہم بذریعہ الہام کہیں گے کہ وہ تمہاری پشت پناہی کریں۔ وہ ہر طرف سے آئیں گے۔ یہی میرے رب نے کہا ہے۔"

غلام نے صفحہ
۲۷ پر بھی کہا : " اور میرے پاس خدا کی تصدیقات ہیں۔"

مسیح ناصری ہندوستان‘ (مطبوعہ ربوہ میں) کے صفحہ 12 اور 13 پر غلام کہتا ہے : "انتہائی ملائمت اور صبر کے ساتھ لوگوں کو سچے خدا کی طرف رہبری کرنے کے لیے اور اسلام کے اخلاقی معیار کے دوبارہ تعمیر کے لیے اس نے مجھے بھیجا۔ اس نے مجھے ان نشانیوں سے عزت بخشی جو حق کے متلاشیوں کی تسلی و تشفی اور تیقن کے لیے وقف ہوتی ہیں۔ اس نے حقیقت میں مجھے معجزے دکھائے اور مجھ پر ایسے پوشیدہ امور اور مستقبل کے راز ظاہر کئے جو سچے علم کی بنیاد کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس نے مجھے ایسے علوم اور معلومات سے سرفراز کیا جن کی تاریکیوں کے بیٹے اور باطل کے حمایتی مخالفت کرتے ہیں۔"

حمامتہ البشریٰ‘ (مطبوعہ ربوہ 1378 ھ) کے صفحہ 60 پر غلام کہتا ہے : " یہی وجہ ہے جس کے سبب اللہ تعالٰی نے مجھے انہیں حالات میں بھیجا جن حالات میں مسیح کو بھیجا تھا۔ اس نے دیکھا کہ میرا زمانہ اسی کے زمانے جیسا تھا۔ اس نے ایک قوم دیکھی جو اُسی کے قوم جیسی تھی۔ اس نے تلے کے اوپر تلا دیکھا۔ اس لئے اُس نے عذاب بھیجنے سے قبل مجھے بھیجا تاکہ ایک قوم کو تنبیہ کر دوں، چونکہ ان کے آبأ و اجداد متنبہ نہیں کئے گئے تھے، اور تاکہ بدکاروں کا راستہ صاف ہو جائے۔"

تحفۃ بغداد‘ (مطبوعہ ربوہ 1377 ھ) کے صفحہ 14 پر غلام کہتا ہے : " میں قسم کھاتا ہوں کہ میں جو عالی خاندان سے ہوں، فی الحقیقت خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔"

خطبات الہامیۃ‘ (مطبوعہ ربوہ 1388 ھ) کے صفحہ 6 پر وہ کہتا ہے : " مجھے آبِ نور سے غسل دیا گیا اور تمام داغوں اور ناپاکیوں سے چشمہ مقدس پر پاک کیا گیا۔ اور مجھے میرے رب نے احمد کہہ کر پکارا۔ سو میری تعریف کرو اور بے عزتی نہ کرو۔"

صفحہ 8 پر وہ کہتا ہے : " اے لوگو، میں محمدی مسیح ہوں، میں احمد مہدی ہوں اور میرا رب میری پیدائش کے دن سے مجھے قبر میں لٹائے جانے کے دن تک میرے ساتھ ہے۔ مجھے فنا کر دینے والی آگ اور آبِ زلال دیا گیا۔ میں ایک جنوبی ستارہ ہوں اور روحانی بارش ہوں۔"

صفحہ 87 پر وہ یہ بھی کہتا ہے : " اسی وجہ سے مجھے خدا نے آدم اور مسیح کہہ کر پکارا، جس نے، میرا خیال ہے، مریم کی تخلیق کی، اور احمد، جو فضیلت میں سب سے آگے تھا۔ یہ اُس نے اس لیے کیا تاکہ ظاہر کر سکے کہ اس نے میری روح میں نبیوں کی تمام خصوصیات جمع کر دی تھیں۔"

البدر‘ مورخہ 5 مارچ 1908 عیسوی میں ایک مضمون کے تحت، جس کا عنوان تھا ’ہمارا دعویٰ کہ ہم رسول و نبی ہیں‘ اس نے لکھا: " اللہ کے حکم کے مطابق میں اس کا نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کرتا ہوں تو میں گنہگار ہوں۔ اگر خدا مجھے اپنا نبی کہتا ہے تو میں اس کی نفی کیسے کر سکتا ہوں۔ میں اس کے حکم کی تعمیل اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک اس دنیا سے کنارہ نہ کر لوں۔" (دیکھیے مسیح موعود کا خط بنام مدیر اخبار عام، لاہور) یہ خط مسیح موعود نے اپنے انتقال سے صرف تین دن پہلے لکھا تھا۔ 23 مئی 1908 عیسوی کو اس نے یہ خط لکھا اور 26 مئی 1908 عیسوی کو، اس کے انتقال کے دن اس اخبار میں شائع ہوا۔

کلمہ فصیل‘ (قولِ فیصل) مصنفہ بشیر احمد قادیانی اور REVIEW OF RELIGIONS نمبر 3، جلد 4، صفحہ 110 پر شائع شدہ میں یہ عبارت شامل ہے : " اسلامی شریعت نے ہمیں نبی کا جو مطلب بتایا ہے وہ اس کی اجازت نہیں دیتا کہ مسیح موعود استعارتاً نبی ہو۔ بلکہ اس کا سچا نبی ہونا ضروری ہے۔"

حقیقت النبوۃ‘ مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد میں مصنف صفحہ 174 پر اپنے منشور میں ’فرقہ احمدیہ میں داخلہ کی شرائط‘ کے عنوان سے اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے : "مسیح موعود (یعنی غلام احمد) اللہ تعالٰی کے نبی تھے اور اللہ کے نبی کا انکار سخت گستاخی ہے جو ایمان سے محرومی کی طرف لے جا سکتی ہے۔"

_________________بعض دوسرے نبیوں پر اپنی فضیلت کا غرور اور بحث

غلام احمد پر غرور اور تکبر بری طرح چھایا ہوا تھا۔ اس لئے اس نے دل کھول کر اپنی تعریف کی۔ اس نے اپنی کتاب ’استفتأ‘ میں مندرجہ ذیل عبارت کا حوالہ دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سے اس طرح خدا نے خطاب کیا " میرے لئے تم میری وحدانیت اور انفرادیت کے بمنزلہ ہو۔ میرے لئے تم بمنزلہ میرے عرش کے ہو۔ میرے لئے تم بمنزلہ میرے بیٹے کے ہو۔"

احمد رسول العالم الموعود‘ نامی کتاب میں شامل ایک مضمون میں وہ کہتا ہے : "حقیقت میں مجھے اللہ القدیر نے خبر دی ہے کہ اسلامی سلسلہ کا مسیح موسوی سلسلہ کے مسیح سے بہتر ہے۔" اسلامی سلسلہ کے مسیح سے اُس کی مراد بذات خود ہے۔ اسی لئے غلام احمد عیسٰی سے بہتر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کے دعووں میں سے ایک اور یہ ہے کہ خدا نے کہ کہتے ہوئے اس سے کلام کیا : " میں نے عیسٰی کے جوہر سے تمہاری تخلیق کی اور تم اور عیسٰی ایک ہی جوہر سے ہو اور ایک ہی ہو۔" (حمامتہ البشریٰ سے) وہ کہتا ہے کہ وہ عیسٰی سے بہتر ہے۔ ’رسالہ تعلیم‘ میں صفحہ 7 پر وہ کہتا ہے : " اور یقینی طور سے جان لو کہ عیسٰی کا انتقال ہر گیا ہے اور یہ کہ اس کا مقبرہ سرینگر، کشمیر میں محلہ خانیار میں واقعہ ہے۔ اللہ نے اس کی وفات کی خبر کتاب العزیز میں دی۔ اور مجھے مسیح ناصری کی شان سے انکار نہیں حالانکہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ محمدی مسیح، مسیح ناصری سے بلند مرتبہ ہو گا۔ تاہم میں ان کا نہایت احترام کرتا ہوں کیوں کہ وہ امت موسوی میں خاتم الخلفأ تھے جس طرح میں امت محمدی میں خاتم الخلفأ ہوں۔ جس طرح مسیح ناصری ملتِ موسوی کا مسیح موعود تھا اسی طرح میں ملتِ اسلامیہ کا مسیح موعود ہوں۔"

وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی فضیلت کا دعوی کرتا ہے۔ حقیقت النبوۃ، مصنفہ مرزا بشیر احمد، خلیفہ ثانی کے صفحہ 257 پر مصنف کہتا ہے : " غلام احمد حقیقت میں بعض اولی العظم رسولوں سے افضل تھے۔"

الفضل‘ جلد 14، شمارہ 29 اپریل 1927 عیسوی سے مندجہ ذیل اقتباس پیش ہے :

"حقیقت میں انہیں بہت سے انبیا پر فوقیت حاصل ہے اور وہ تمام انبیا کرام سے افضل ہو سکتے ہیں۔"

اسی صحیفہ ’الفضل‘ کی پانچویں جلد میں ہم پڑھتے ہیں : "اصحاب محمد اور مرزا غلام احمد کے تلامذہ میں کوئی فرق نہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ بعثِ اول سے تعلق رکھتے تھے اور یہ بعثِ ثانی۔ (شمارہ نمبر 92 مورخہ 28 مئی 1918 عیسوی)۔

اسی صحیفہ ’الفضل‘ کی تیسری جلد میں ہم پڑھتے ہیں : "مرزا محمد ہیں۔" وہ خدا کے قول کی تائید کرتا ہے، "اس کا نام احمد ہے۔" (انوارِ خلافت، صفحہ 21)۔ یہ کتاب یہاں تک کہتی ہے کہ غلام کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی افضلیت حاصل ہے۔ ’خطبات الہامیہ‘ صفحہ 177 پر خود غلام احمد کہتا ہے : "محمد کی روحانیت نے عام وصف کے ساتھ پانچویں ہزارے کے دور میں اپنی تجلی دکھائی۔ اور یہ روحانیت اپنی اجمالی صفات کے ساتھ اس ناکافی وقت میں غایت درجہ بلندی اور اپنے منتہا کو نہیں پہنچی تھی۔ پھر چھٹے ہزارے میں (یعنی مسیح موعود غلام احمد کے زمانے میں) اس روحانیت نے اپنے انتہائی عالیشان لباس میں اپنے بلند ترین مظاہر میں اپنی تجلی دکھائی۔" اپنے رسالہ ’اعجازِ احمدی‘ میں وہ یہ اضافہ کرتا ہے :

"اُن کے لئے چاند کی روشنی گہنا گئی۔"
کیا تمہیں اس سے انکار ہے کہ میرے لئے چاند اور سورج، دونوں کہ گہن لگا۔"

اس کا دعویٰ کے اُسے خدا کا بیٹا ہونے کا فخر حاصل ہے اور وہ بمنزلہ عرش کے ہے

استفتا‘ کے صفحہ 82 پر غلام کہتا ہے : "تم بمنزلہ میری وحدانیت اور انفرادیت کے ہو۔ لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ تم خود کو عوام میں ظاہر کر دو اور واقف کرا دو۔ تم میرے لئے بمنزلہ میرے عرش کے ہو۔ تم میرے لئے بمنزلہ میرے بیٹے کے ہو۔ تم میرے لئے ایک ایسے مرتبہ پر فائز ہو جو مخلوق کے علم میں نہیں۔"

اجماع امت محمد یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خامتم المرسلین تھے، کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ کہ جو اس سے انکار کرتا ہے وہ کافر ہے۔

قرآن پاک، سنتِ رسول اور اجماعِ امت سے بے پرواہ غلام احمد دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی اور رسول ہے۔ شریعت کے یہ تینوں ماخذ اس کے ثبوت میں شہادت دیتے ہیں کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین اور مرسلین ہیں۔

قرآن میں خدا کا قول ہے : "محمدﷺ تم لوگوں میں سے کسی کے والد نہیں بلکہ خدا کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔"

خاتم بکسر ’تا‘ پڑھا جائے تو صفت کا اظہار کرتا ہے جو محمدﷺ کو انبیا میں سب سے آخری بیان کرتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ آپ کے بعد کوئی بھی شخص مقام نبوت کو نہیں پہنچ سکتا۔ لہٰذا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ ایک ایسی چیز کا مدعی ہے جو اس کی رسائی سے باہر ہے۔ اسی لفظ کو بفتح ’تا‘ خاتم پڑھا جائے تو بھی عرب علما لغت کے مطابق اس کے یہ ہی معنی و تعبیر ہو گی۔ حقیقت میں مفسرین و محققین نے اس کا یہی مطلب لیا ہے اور سنت صحیحہ نے بھی اسی کی تصدیق کی ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری میں ابو ہریرہ سے ایک حدیث روایت کی گئی ہے اور انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ فرمایا : "بنی اسرائیل کی رہبری نبیوں کے ذریعہ کی گئی۔ ایک نبی کی وفات کے بعد دوسرے نبی نے اس کی جانشینی کی۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔"

صحیح بخاری میں ایک دوسری حدیث نقل کی گئی ہے۔ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول خدا سے سنا۔ فرماتے تھے : میری اور مجھ سے قبل آنے والے نبیوں کی مثال اس شخص کے معاملہ جیسی ہے کہ اس نے ایک مکان بنایا، خوب اچھا اور خوبصورت لیکن ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ یہ مکان دیکھنے آتے اور مکان کی تعریف و توصیف کرتے، مگر کہتے " وہ ایک اینٹ کیوں نہیں رکھ دیتے تم؟" رسولِ خدا نے کہا، "وہ اینٹ میں ہوں – اور میں خاتم النبیین ہوں۔" مسلم کی روایت کے مطابق جابر سے روایت ہے کہ رسولِ خدا نے کہا "اس اینٹ کی جگہ میں ہوں۔ میں آیا اور انبیا پر مہر لگا دی۔"

یہی اجماع المسلمین ہے اور ضرورتاً مذہب کی ایک حقیقت معلومہ بن گیا ہے۔ ’خاتم النبیین‘ کی تفسیر میں امام ابنِ کثیر کا قول ہے : "اللہ تعالٰی نے ہم سے اپنی کتاب میں کہا ہے، جیسا کہ اس کے رسول نے سنتِ متواترہ میں کہا "کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ انہیں جان لینے دو کہ اس کے بعد جو کوئی اس مقام کا دعویٰ کرتا ہے وہ کذاب، مکار، فریبی اور دجال ہے۔" الالوسی نے اپنی تفسیر میں کہا : "اور یہ حقیقت کہ وہ (محمد رسول اللہ) خاتم النبیین ہیں، قرآن پاک میں بیان کی گئی ہے، سنت نے اس کی تصدیق کی ہے اور اُمت کا بالاتفاق اس پر اجماع ہے۔ لہٰذا جو کوئی بھی اس کے برخلاف دعویٰ کرتا ہے وہ کافر ہے۔"
خاتم النبیین کی قادیانی تفسیر

رسالہ تعلیم‘ میں صفحہ 7 پر غلام احمد کہتا ہے : "ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، سوائے اس کے جس کو بطور جانشینی ردا محمدیہ عطا کی گئی ہو۔ اس کی ایک دوسرے تاویل میں "میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا" والی حدیث کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے بعد (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد) ان کی اُمت کے علاوہ کسی دوسری اُمت سے کوئی نبی نہیں ہو گا۔ یہ دوسری تاویل دراصل غلام احمد نے ایک دوسرے جھوٹے نبی اسحاق الاخرس سے نقل کی ہے جو سفاح کے زمانہ میں ظاہر ہوا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ دو فرشتے اس کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ وہ نبی تھا۔ اس پر اس نے کہا، "یہ کیسے ہو سکتا ہے جب اللہ تعالٰی کہہ چکا ہے کہ رسولِ خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں؟" اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا، " تم سچ کہتے ہو، لیکن خدا کا مطلب یہ تھا کہ وہ ان نبیوں میں سب سے آخری تھے جو اُن کے مذہب کے نہیں تھے۔"

اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلے قادیانیوں نے ’خاتم النبیین‘ کی یہ تفسیر کی کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ محمد صلی اللہ علی وسلم انبیا کی مہر ہیں تا کہ ان کے بعد آنے والے ہر نبی کی نبوت پر ان کی مہر تصدیق ثبت ہو۔ اس سلسلہ میں یہ مسیح موعود کہتا ہے : "ان الفاظ (یعنی خاتم النبیین) کا مطلب یہ ہے کہ اب کسی بھی نبوت پر ایمان نہیں لایا جا سکتا۔ تا وقتیکہ اس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر تصدیق ثبت نہ ہو۔ جس طرح کوئی دستاویز اس وقت تک معتبر نہیں ہوتی جب تک اس پر مہر تصدیق ثبت نہ ہو جائے، اسی طرح ہر وہ نبوت جس پر اس کی مہر تصدیق نہیں غیر صحیح ہے۔"

ملفوظات احمدیہ‘ مرتبہ محمد منظور الٰہی قادیانی میں صفحہ 290 پر درج ہے : "اس سے انکار نہ کرو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انبیا کی مُہر ہیں لیکن لفظ ’مُہر‘ سے وہ مراد نہیں جو عام طور پر عوام الناس کی اکثریت سمجھتی ہے، کیوں کہ یہ مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، ان کی اعلٰی و ارفع شان کے قطعی خلاف ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو نبوت کی نعمت عظمٰی سے محروم کر دیا۔ اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ وہ انبیا کی مہر ہیں۔ اب فی الحال کوئی نبی نہیں ہو گا سوائے اس کے جس کی تصدیق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں۔ ان معنی میں ہمارا ایمان ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ (الفضل مورخہ 22 ستمبر 1939 عیسوی - الفضل ایک روزانہ اخبار ہے جو تقسیم ملک سے پہلے قادیان سے شائع ہوتا تھا۔ اب یہ ربوہ سے شائع ہوتا ہے اور قادیانیوں کا ترجمان ہے۔)

الفضل، مورخہ 22 مئی 1922 عیسوی میں ہم پڑھتے ہیں : "مہر ایک چھاپ ہوتی ہے۔ سو اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھاپ ہیں، تو وہ یہ کیسے ہو سکتے ہیں اگر ان کی اُمت میں کوئی اور نبی نہیں؟"
اُس کا دعویٰ کہ انبیا نے اُس کی شہادت دی

وہ دعویٰ کرتا ہے کہ صالح نے اس کی شہادت دی۔ اپنی کتاب ’مکتوب احمد‘ میں صفحہ 62 پر وہ کہتا ہے : "حقیقتاً صالح نے میری صداقت کی شہادت میری دعوت سے بھی پہلے دی۔ اور کہا کہ وہ ہی عیسیٰ مسیح تھا جو آنے والا تھا۔ اس نے میرا اور میری زوجہ کا نام بتایا اور اس نے اپنے پیروؤں سے کہا : مجھے میرے رب نے ایسا ہی بتایا ہے لہٰذا میری یہ وصیت مجھ سے لے لو۔"

نزول مسیح کے بارے میں اس کے متضاد بیانات کبھی اُس کا انکار، کبھی اقرار، کبھی اس کی تاویلات – رفع مسیح کا بھی باری باری انکار، اقرار اور تاویل

مکتوب احمد‘ صفحہ 47 پر وہ کہتا ہے : "فی الحقیقت تم نے سنا ہو گا کہ ہم قرآن کے بیان صریح کے مطابق مسیح اور اس کے رفیق کے نزول کے قائل ہیں، ہم اس نزول کے برحق ہونے کو واجب تسلیم کرتے ہیں اور ہمیں یا کسی اور کو اس سے مفسدوں کی طرح منحرف نہیں ہونا چاہیے، نہ ہی کسی کو اس کے اقرار پر متکبرین کی طرح آزردہ ہونا چاہیے۔"

حمامۃ البشریٰ‘ کے صفحہ 11 پر وہ کہتا ہے : "اس لقب کے بعد میں سوچا کرتا تھا کہ مسیح موعود ایک غیر ملکی تھا۔ اور اس پوشیدہ راز کے ظاہر ہو جانے تک، جو خدا نے اپنے بہت سے بندوں سے ان کا امتحان لینے کے لئے چھپا رکھا تھا، میں نے کبھی نہیں سوچا تھاکہ میں ہی مسیح موعود تھا۔ اور میرے رب نے ایک الہام میں مجھے عیسیٰ ابن مریم کہہ کر پکارا اور کہا : "اے عیسیٰ، میں تمیہں اپنے پاس بلاؤں گا، تمہیں اپنے تک اٹھاؤں گا اور تمہیں ان لوگوں سے پاک کروں گا جنہوں نے کفر کیا۔ میں ان لوگوں کو جنہوں نے تمہارا اتباع کیا، ان لوگوں سے اونچا مرتبہ دوں گا جو یومِ القیامت پر ایمان نہیں لائے۔ ہم نے تمہیں عیسیٰ ابن مریم بنایا اور تمہیں ایسے مرتبہ پر فائز کیا جس سے مخلوق لا علم ہے۔ اور میں نے تمہیں اپنی توحید اور انفرادیت کے مرتبہ پر فائز کیا اور آج تم میرے ساتھ ہو اور مضبوطی و حفاظت کے ساتھ متمکن ہو۔"

صفحہ 38 پر وہ کہتا ہے : "کیا انہوں نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا ہے کہ خدا نے قرآن میں ہر وہ اہم واقعہ بیان کیا ہے جو اس نے دیکھا۔ پھر اس نے نزول مسیح کے واقعہ کو اس کی عظیم اہمیت اور انتہائی معجزانہ ماہیت کے باوجود کیسے چھوڑ دیا؟ اگر یہ واقعہ سچا تھا تو اس کا ذکر کیوں چھوڑ دیا جبکہ یوسف کی کہانی دوہرائی؟ خدا نے کہا : "ہم تمہیں بہترین قصے سناتے ہیں۔" اور اس نے اصحابِ کہف کا قصہ سنایا۔ اس نے کہا : یہ ہماری عجیب نشانیوں ہیں سے ہیں۔ لیکن اس نے آسمان سے نزول مسیح کے بارے میں اس کی وفات کے ذکر کے بغیر کچھ نہیں کہا۔ اگر نزول کی کوئی حقیقیت ہوتی تو قرآن نے اس کا ذکر ترک نہ کیا ہوتا بلکہ اسے ایک طویل سورۃ میں بیان کیا ہوتا اور اسے کسی دوسرے قصے کی بہ نسبت بہتر بنایا ہوتا کیوں کہ اس کے عجائبات صرف اسی لئے مخصوس ہیں اور کسی دوسرے قصے میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ وہ اُسے اُمت کے لئے ختم دنیا کی نشانی بنا دیتا۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ یہ الفاظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال نہیں کئے گئے ہیں بلکہ اس گفتگو میں اس سے ایک مجدد عظیم مراد ہے جو مسیح کے نقش قدم پر اس کے مثیل و نظیر ہو گا۔ اسے مسیح کا نام اسی طور پر دیا گیا تھا جس طرح کچھ لوگوں کو عالمِ رویا میں کسی دوسرے کے نام سے پکارا جاتا ہے۔"

اسی کتاب کے صفحہ 41 پر وہ کہتا ہے : "وہ کہتے ہیں کہ مسیح آسمان سے نازل ہو گا، دجال کو قتل کر دے گا اور عیسائیوں سے جنگ کرے گا۔ یہ تمام خیالات ’خاتم النبیین‘ کے الفاظ کے بارے میں سئے فہمی اور غور و فکر کی کمی کا نتیجہ ہیں۔"

نزول ملائکہ کے بارے میں اس کی توضیح اور اس کا ادّعا کہ وہ خدا کے بازو ہیں

حمامۃ البشریٰ‘ کے صفحہ 98 پر وہ کہتا ہے : اور دیکھو ملائکہ کو، کہ خدا نے ان کی اپنے بازوؤں کے طور پر کیسے تخلیق کی۔"

تحفہ بغداد‘ کے صفحہ 34 پر وہ لکھتا ہے : "اور ہم فرشتوں، ان کے مرتبوں اور درجوں پر ایمان رکھتے ہیں، اور ان کے نزول پر ایمان رکھتے ہیں کہ نزول انوار کی طرح ہوتا ہے نہ کہ ایک انسان کی ایک جگہ سے دوسرے جگہ نقل و حرکت کی طرح۔ وہ اپنا مقام نہیں چھوڑتے۔"

                                                                                محمداسلم

 

شیعیان علی پر رسول خدا ۖ کا فخر کرنا

شیعیان علی پر رسول خدا ۖ کا فخر کرنا

٢٨:عن أبی ذر الغفاری قال:

سَمِعْتُ رَسول اللہِۖ یَقُولُ: لَیسَ أَحد مِثلی صِھرًا أَعطَاہُ الحَوضَ وَجعلَ اِلیہِ قِسْمةَ الجنةِ وَالنَارِ، وَلمْ یُعطِ ذَلکَ المَلائِکةَ، وجَعلَ شِیعتَہُ فِی الجَنَةِ[31].

ترجمہ:

حضرت ابوذرغفاری روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا ۖ سے سنا آپۖ فرما رہے تھے:

میری طرح کسی کا داماد نہیں جسکے اختیار میں خدا نے حوض کوثر رکھا، جنت وجہنم کا تقسیم کرناے والا اسے قرار دیا جبکہ یہ اختیار ملائکہ کو بھی عطا نہ کیا اور انکے شیعوں کو جنت میں مقام عطا کیا۔

شیعیان علی عرش کے سائے میں

٢٩: قَالَ رسولُ اللہ لعلیٍّ:

السَّابِقُونَ اِلٰی ظِلّ العَرشِ یَومَ القِیَامةِ طُوبٰی لَھُمْ ، قِیلَ : یارسولَ اللہ ! مَن ھُمْ؟ قال: شِیعتُکَ یَاعَلِیُ وَمُحِبُّوھُمْ[32].

ترجمہ:

رسول خدا ۖ نے حضرت علی سے فرمایا: خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو روز قیامت سب سے پہلے عرش الہی کے سائے میں پہنچیں گے۔

عرض کیا گیا: یارسول اللہ ۖ! وہ کون لوگ ہیں؟

فرمایا: اے علی ! وہ آپ کے شیعہ اور ان کو دوست رکھنے والے ہیں۔

شیعیان علی کی صحابہ پر فضیلت

٣٠:عن أبی سعید الخدری قال: قال رسول اللہ ۖ:

اِنّ عَن یَمِینِ العرشِ کَرَاسِیّ مِن نُورٍ عَلیھَا أَقوَام تَلألَؤَ وُجوھُھمْ نُورًا۔ فقال أبوبکرٍ: أَنا مِنھُمْ یَانبیّ اللہِ؟ قَال: أنتَ عَلٰی خَیرٍ۔ قَال : فقالَ عُمرُ: یانبیّ اللہِ أنَا مِنھُمْ؟ فقال لہُ مثلَ ذَلکَ۔ وَلٰکِنّھُمْ قوم تَحَابُّوْا مِن أَجْلِی وَھُم ھَذَا وَشِیعَتہِ۔ وَأَشارَ بیدِہِ اِلٰی عَلِیّ بنِ أبیْ طَالبٍ[33]۔

ترجمہ:

ابوسعید خدری رسول اکرم ۖ سے نقل کرتے ہیں کہ آپۖ نے فرمایا:

عرش الہی کے دائیں طرف نور کی کرسیاں لگی ہوئی ہیں جن پر نورانی چہروں والے گوہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ابوبکر کہنے لگے: یانبی اللہ کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آنحضرت ۖ نے فرمایا: تونیکی پر ہے۔ پھر عمر کہنے لگے: یانبی اللہ کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپۖ نے وہی جواب دیا۔ اور پھر فرمایا: یہ وہ قوم جن کی محبت میری خاطر ہے اور وہ یہ علی اور اسکے شیعہ ہیں اور پھر اپنے دست مبارک سے علی بن ابیطالب کی طرف اشارہ فرمایا۔

جنت کی کنجیوں پر شیعیان علی کے نام

٣١: عن جابر: قال رسولُ اللہِ ۖ:

اِذَا کَانَ یَومُ القِیَامةِ یَأْتِینِی جَبرَائِیْلُ وَمِیکَائِیلُ وَبِحَزْمَتَیْنِ مِن المَفاتیحِ: حَزمةٍ مِن مفاتیحِ الجَنّةِ، وحَزمةٍ مِن مفاتیحِ النَّارِ، وَعَلٰی مفاتیحِ الجَنّةِ أَسمائُ المُؤمنینَ مِن شِیعَةِ مُحَمّد ۖ وَعَلیٍ۔ وَعَلٰی مفاتیحِ النّارِ أَسمَائُ المُبغضِینَ مِن أَعدَائہِ۔ فَیقُولانِ لِی: یَاأحمدُ! ھَذا مُحبّک وھذا مُبغضُکَ۔ فَأرفعَھَا اِلٰی عَلِیّ بن أبی طالب فَیحْکُمُ فیھِم بِمَا یُریدُ فَوالّذِی قَسَّمَ الأَرزَاقَ لَایدخلُ مبغضہِ الجنةَ وَلَامُحبّہِ النَّارَ[34]۔

ترجمہ:

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ۖ نے فرمایا: روز قیامت جبرائیل ومیکائیل چابیوں کے دوتھیلے میرے پاس لائیں گے جن میں ایک تھیلا جنت کی چابیوں کا ہوگا اور دوسرا جہنم کی چابیوں کا۔

جنت کی چابیوں پر محمد ۖ اور علی کے مومن شیعوں کے نام تحریر ہوں گے جبکہ جہنم کی چابیوں پر ان کے دشمنوں کے نام۔اور پھر جبرائیل ومیکائیل مجھ سے کہیں گے: اے احمد! یہ آپۖ کا دوست ہے اور یہ آپکا دشمن ہے۔ اور پھر میں وہ چابیاں علی کے حوالے کردوں گا وہ اپنی مرضی سے انکا فیصلہ کریں گے ۔

قسم ہے رزق تقسیم کرناے والی ذات کی، علی کے دشمن جنت میں داخل نہ ہوں گے اور ان سے محبت کرناے والے جہنم میں داخل نہ ہوں گے۔

شیعیان علی نورانی لباس میں

٣٢: قال رسولُ اللہِ ۖ:

یَاعَلِیُّ ! اِذَا یَومُ القِیَامةِ یَخرجُ قوم مِن قُبورھِمْ لِباسھُمْ النُورُ، عَلٰی نَجائبَ مِن نُورٍ، أَزِمّتُھَا یَوَاقِیتُ حُمُر، تَزُفُّھُمُ المَلائکةُ اِلٰی المَحشرِ، فقالَ عَلِیّ: تَبارکَ اللہُ مَاأکرمَ قومًا عَلَی اللہِ؟ قالَ رسولُ اللہِۖ : یَاعَلِیُّ! ھَم أھلَ وِلایتکَ وَشِیعَتکَ وَمُحِبُّوکَ یُحِبونکَ بحبّی، ویحبّونی بحبِّ اللہِ، وھُم الفَائزُونَ یَومُ القِیَامةِ[35].

ترجمہ:رسول خدا ۖ نے حضرت علی سے فرمایا:

یاعلی !قیامت کے دن ایک گروہ قبروں سے ظاہر ہوگا جبکہ انہوں نے نور کے لباس زیب تن کیے ہوئے ہوں گے اور نورانی سواریوں پر سوار ہوں گے، خدا کے ملائکہ انہیں محشر کی طرف رہنامائی کررہے ہوں گے۔

حضرت علی نے عرض کیا: وہ گروہ کس قدر خدا کے ہاں عزیز ومکرّم ہے؟ آپۖ نے فرمایا: یاعلی ! وہ آپ کی ولایت کو قبول کرناے واے، آپ کے شیعہ اور آپکے محب ہیں جو میری خاطر آپ سے محبت کرتے ہیں اور مجھ سے خدا کی خاطر محبت کرتے ہیں۔ یہی لوگ روز قیامت کامیاب وکامران ہیں۔

اگر سب لوگ شیعہ ہوتے تو خدا جہنم کو خلق ہی نہ کرت

٣٣: عن ابن عباس : قال رسول اللہ ۖ لِأَمِیرِ المؤمنینَ علیہ السلام:

یَاعَلِیُّ! لَوِاجْتَمعَتْ أَھلِ الدُّنیَا بِأَسْرِھَا عَلٰی وِلَایَتِکَ لَمَا خَلقَ اللہُ النارَ، وَلکن أَنتَ وَشِیعتُکَ الفَائزُونَ یومَ القیامةِ[36].

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ۖ نے حضرت علی سے فرمایا:

اے علی ! اگر ساری دنیا آپ کی ولایت کو قبول کرلیتی تو خدا کبھی جہنم کو خلق نہ کرتا، لیکن جان لو کہ آپ اور آپ کے شیعہ ہی روز قیامت کامیاب ہوں گے۔

شیعیان علی کا دوسروں کی شفاعت کرنا

٣٤: قالَ رسولُ اللہِ ۖ :

لَا تَسْتَخِفُّوا بِشیعَةِ عَلِیٍّ، فَانَّ الرَّجُلَ مِنھُمْ یَشفعُ فِی مِثْلِ رَبِیعَةَ وَمُضَرَ[37].

ترجمہ:

رسول خدا ۖ نے فرمایا:

علی کے شیعوں کو حقارت کی نگاہ سے مت دیکھو اسلیے کہ ان میں سے ہرایک شخص قبیلہ ربیعہ ومضر کے برابر افرادکی شفاعت کر سکتا ہے۔

شیعیان علی کا سبقت لے جانا

٣٥: عن ابن عباس: سَأَلتُ رسولَ اللہِ ۖ عَن قولِ اللہِ: (اَلسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ أُوْلٰئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ[38])(١)

قَالَ: حَدَّثنِی جَبرئِیلُ بِتفسِیرِھَا، قالَ: ذَاکَ عَلِیّ وَشِیْعَتِہِ اِلَی الجَنّةِ[39].

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں میں نے رسول خدا ۖ سے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا تو آپۖ نے فرمایا:

جبرائیل نے مجھے اس کی تفسیر یوں بیان کرتے ہوئے بتایا: وہ علی اور ان کے شیعہ (جنت میں سبقت لینے والے ) ہیں۔

شیعیان علی درخت رسالت کے پتے

٣٦: قالَ رسولُ اللہِۖ :

أَنا الشَّجرةُ، وفَاطمةُ فرعُھَا، وعَلِی لقاحُھَا، وَالحسنُ وَالحسینُ ثَمرُھَا، وشِیعَتُنَا وَرَقُھَا، وأَصْلُ الشَّجرةِ فِیْ جَنّةِ عَدْنٍ، وسَائرُ ذَلِکَ فِی الْجَنّةِ[40].

ترجمہ:

رسول خدا ۖ نے فرمایا:

میں (وہ) شجرہ طیبہ ہوں، فاطمہ اُس کی شاخ ہیں، علی اس کا پیوند ہیں، حسن ، حسین اُس کا پھل ہیں اور ہمارے شیعہ اسکے پتے ہیں، اس درخت کی جڑ جنت میں ہے

شیعیان علی ہی ابرار ہیں

عن الأصبغ بن نباتة قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقولُ: أَخذَ رسولُ اللہِ بِیَدِیْ، ثُمّ قال: یَاأَخی! قول اللہ تعالیٰ: (ثَوَابًا مَنْ عِنْدِ اللّہِ وَاللّہُ عِنْدَہُ حُسْنُ الثَّوَابِ وَمَا عِنْدَاللّہِ خَیْر لِلأَبْرَارِ[41]) أَنتَ الثَّوابُ وَشِیعتُکَ الأَبْرَارُ[42].

ترجمہ:

اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں میں نے علی سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ رسول خدا ۖ نے میرا ہاتھ تھام کر فرمایا:

اے برادرم! خداوند متعال کا یہ فرمان(خدا کے ہاں یہ انکے کیے کا ثواب ہے اور خدا کے یہاں اچھا ہی ثواب ہے) وہ ثواب تم ہو اور ابرار سے مراد آپ کے شیعہ ہیں۔

شیعیان علی نبی ۖ کے جوار میں

٣٨: لَمَّا قَدِمَ عَلِیّ عَلٰی رَسولِ اللہِ لِفَتح خَیْبَرَ قَالَ ۖ:

لَوْلَاأَنْ تَقُولَ فِیکَ طَائفَةً مِن اُمَّتی مَاقَالتِ النَّصاریٰ فِی المسیحِ لَقُلتُ فِیکَ الیومَ مَقَالًا لَاتَمُرُّ بِمَلائٍ اِلَّا أَخذُوا التُّرابَ مِن تَحتَ قَدمیکَ وَمِن فَضلِ طُھُورِکَ یَستَشْفُونَ بہِ، ولکن حسبکَ أن شیعتَک عَلٰی مَنابرَ مَنْ نُورٍ روّائً مَسرورِین، مبیضةً وُجوھُم حَولی أشفعُ لَھم، فَیکونُونَ غدًا فِی الجَنةِ جِیْرَانِیْ[43].

ترجمہ:

جب فتح خیبر کے سلسلہ میں حضرت علی رسول خدا ۖ کی خدمت میں پہنچے تو آنحضرت ۖ نے فرمایا: اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میری امت کا ایک گروہ آپ کے بارے میں وہی بات کرے گا جو عیسی کے بارے میں نصاری نے کہی تو آج میں آپ کے بارے میں ایسی بات بیان کرتا کہ آپ جہاں سے گزرتے لوگ آپ کے پاؤں کی خاک اور آپ کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو شفا کیلئے اکٹھا کرتے۔لیکن آپ (کے مقام ومنزلت) کیلئے یہی کافی ہے کہ آپ کے شیعہ سیراب، خوشحال اور چمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ میرے اطراف میں ہوں گے میں ان کی شفاعت کرونگا اور جنت میں میرے ہمسائے میں ہوں گے۔

شیعیان علی کا مقام

٣٩: قال رسول اللہ ۖ :

لَمَّا اَدْخَلْتُ الْجَنَّةَ رَأَیْتُ فِیھَا شَجرةً وَفِی أَعْلَاھَا الرِّضْوَانُ۔ قُلتُ یاجبرئیلُ لِمَنْ ھَذِہِ الشَّجَرةُ؟

قال: ھذا لِابْنِ عَمّکَ عَلِیَّ بْنَ أبی طَالِبٍ اِذَا أَمَر اللّہُ الخَلیفةَ بِالدُّخُولِ اِلَی الْجَنةِ یُوتیٰ بِشِیْعَةِ عَلِیٍّ یَنْتَھِیْ بِھم اِلیٰ ھَذِہ الشَّجرةُ یَلبِسونَ الْحُلَلَ، وَیرکَبُونَ الخَیلَ البَلَقَ وَیُنادی مُنادٍ: ھَؤُلَائِ شِیعَةُ عَلِیٍّ صَبَرُوا فِی الدُّنیَا عَلَیْ الأَذٰی مَحَبُوا الیَوْمَ[44].

ترجمہ:

رسول خدا ۖ نے فرمایا: جب مجھے (سفرمعراج میں) جنت میں لے جایا گیا تو وہاں پر میں نے ایک درخت دیکھا جس پر رضوان یعنی خدا کی خوشنودی پائی جاتی تھی۔

میں نے پوچھا اے جبرائیل ! یہ درخت کس کیلئے ہے؟

کہا: یہ آپ کے بھائی علی بن ابیطالب کیلئے ہے۔

جب خداوند متعال لوگوں کو جنت میں داخل ہوناے کا امر صادر فرمائے گا تو علی اپنے شیعوں کو اس درخت کے پاس لائیں گے ۔ انہوں نے خوبصورت لباس پہنے ہوں گے اور تیزرفتار سواریوں پر سوار ہوں گے۔ منادی ندا دے گا: یہ علی کے شیعہ ہیں جنہیں دنیا میں تکلیفوں پر صبر کرناے کی بناء پر یہ مقام عطا ہوا ہے۔

شیعہ نجات یافتہ فرقہ

٤٠:عن أنس بن مالک قال:

کُنَّا عِند رسولِ اللہۖ، وَتَذَکرناا رَجُلاً یُصَلِّیْ وَیَصُومُة وَیَتَصَدَّقُ وَیُزَکِّی، فَقالَ یَاأَبَاالحَسنِ لَنَارَسولَ اللّہِ ۖ:

لَاأَعْرُفُہُ... قَال عَلِیّ...فقال: یَاأَباالحَسنِ اِنَّ اُمَّةَ مُوْسیٰ علیہ السلام اِفْتَرَقَتْ عَلٰی اِحْدیٰ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَةً، فِرْقَة نَاجِیَة وَالبَاقُونَ فِیْ النَّارِ۔

وَاِنَّ اُمَّةَ عِیْسیٰ علیہ السلام اِفْتَرَقَتْ عَلٰی اِثْنینَ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَةً، فِرْقَة نَاجِیَة وَالبَاقُونَ فِیْ النَّارِ.

وَستفترقُ اُمَّتیْ عَلٰی ثَلاثٍ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَةً، فِرْقَة نَاجِیَة وَالبَاقُونَ فِیْ النَّارِ.

فقلتُ: یَارسولَ اللہِ ۖ فَمَا النَّاجِیةُ؟ قال: اَلْمُتَمَسِّکُ بِمَا أَنْتَ وَشِیْعَتُکَ وَأَصْحَابُکَ[45]

ترجمہ:

انس بن مالک کہتے ہیں:

میں رسول خدا ۖ کی خدمت میں موجود تھا اور ایک شخص کے بارے میں گفتگو کررہے تھے جو نماز ، روزہ، صدقہ وزکات کا پابند تھا ۔ تو رسول خدا ۖ نے ہم سے فرمایا:میں ایسے شخص کو نہیں جانتا۔ حضرت علی نے سوال کیا تو آنحضرت ۖ نے جواب میں فرمایا:اے ابوالحسن ! بے شک امت موسی اکہتر فرقوں میں بٹ گئی جبکہ ان میں سے صرف ایک فرقہ نجات یافتہ ہے ۔

عیسی کی امت بہتّر فرقوں میں تقسیم ہوگئی جبکہ ان میں سے بھی صرف ایک فرقہ نجات یافتہ ہے۔

اور عنقریب میری امت بھی تہتّر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی جن میں سے صرف ایک فرقہ نجات یافتہ ہوگا اور باقی سب جہنمی ہوں گے۔

میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ۖ کونسا فرقہ نجات پائے گا؟ فرمایا: وہ آپ ، آپ کے شیعہ اور آپ کے اصحاب کی سیرت پر عمل کرناے والے ہوں گے۔

١٧ ربیع الاول ١٤٣٠ ہجری روز ولادت باسعادت پیغمبراکرمۖ کتاب مکمل ہوئی۔

حوالے

سوربیّنة:٧.[1]

تفسیر در منثور٦:٣٧٩؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛ تفسیر روح المعانی٣٠:٢٠٧؛ تفسیر جامع البیان٣٠:٢٦٥.[2]

٦:٣٧٩؛ تاریخ دمشق٢:٩٥٨٤٤٢.[3]

تفسیر درّمنثور٦:٣٧٩؛ تاریخ دمشق٢:٩٥٨٤٤٢.[4]

تفسیر درّمنثور٦:٣٧٩؛ تفسیر روح المعانی٣٠:٣٠٧؛ کفایة الطالب:٢٤٦.[5]

.[6] حلیة الاولیائ٤:٣٢٩، تالیف ابونعیم اصفہانی؛ تاریخ بغداد١٢:٦٧٣١٢٨٩؛ تاریخ دمشق٢:٨٥٢٣٤٥ اور صفحہ٨٥٩٣٥٠؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛ ینابیع المودّة:٢٥٧؛ منا قب خوارزمی:٦٧ و٢٤٩؛ منتخب کنزالعمال٥:٤٣٩؛ کنزالعمال١٢:٣١٦٣١٣٢٣؛ الاشاعة فی اشتراط الساعة:٤١۔٤٠؛ موضع اوھام الجمع والتفریق١:٥١، تالیف خطیب بغدادی

.[7]فضائل علی بن ابیطالب، حدیث١٩٠، تالیف احمد بن حنبل؛ معجم کبیر طبرانی،ح٩٦؛ تذکرة الخواص جوزی:٣٢٣،باب١٢؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛مقتل خوارزمی١:١٠٩، فصل٦؛الریاض النضرة٢:٢٠٩

.[8] تفسیر التذھیب:٣٥٥، تالیف بیھقی، ذیل آیت (وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلَکُمْ فِیْ شِیَعِ الأَوَّلِیْنَ)؛ مفاتیح النجا:٦١، تألیف علامہ بدخشی.

.[9]مجمع الزوائد٩:١٧٤؛ ینابیع المودّة، باب٥٨،حدیث٢٧٠؛ الصوعق المحرقہ:٩٦؛معجم الکبیر طبرانی،ترجمہ ابی رافع؛ تذکرةالخواص:٣٣٣؛ فرائد السمطین،ح٣٧٥ نقل از ترجمہ الامام علی بن ابی طالب٢:١٣١؛ اسعاف الراغبین فی سیرة المصطفٰی واھل بیتہ الطاھرین:١٣٠، تالیف ابن صبان؛ کفایة الطالب:٣٢٦؛ فضائل علی بن ابی طالب:١٥٢، تالیف عبداللہ بن احمد حنبل.

.[10]کنوز الحقائق فی حدیث خیر الخلائق:٩٨، تالیف علامہ مناوی؛ تذکرہ خواص الامة:٥٤، باب دوم ؛ تاریخ دمشق٢:٤٢٢،حدیث ٩٥٨؛ مناقب علی :٣٧، تالیف علامہ عینی حیدرآبادی.

کنوز الحقائق:٢٠٣، حرف یائ، تألیف علامہ مناوی۔.[11]

مجمع الزوائد ٩:١٣١۔.[12]

ینابیع المودّة:٢٥٦ ؛ مودّة القربی :٨٥ نقل از احقاق الحق١٧:٢٩٨.[13]

مجمع الزوائد ٩:١٣١.[14]

لسان العرب ٢:٥٦٦ مادہ قمح، منتخب کنزالعمال ٥:٥٢؛ نورالأبصار:٧٨، تألیف شبلنجی شافعی.[15]

ینابیع المودّة :٢٥٦.[16]

مجمع الزوائد ٩:١٧٢.[17]

ینابیع المودّة :٢٥٧؛ مودة القربی:٩٠؛ احقاق الحق ١٧:٢٦١.[18]

.[19]ینابیع المودّة :٢٧٠؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛ مناقب خوارزمی:٢٤٣؛ ارحج المطالب:٥٣٠؛ فرائد السمطین١:٢٤٧٣٠٨.

مناقب ابن مغازلی:٢ ١٥.[20]

تاریخ دمشق ٤٢:٨٩٨٧٣٨٤.[21]

سورة حجر:٤٧.[22]

مجمع الزوائد٩:١٧٣.[23]

مناقب ابن مغازلی :٢٩٦.[24]

کفایة الطالب:٢٤٤؛ فرائد السمطین١:١١٨١٥٩، باب٣١.[25]

مناقب خوارزمی:٢٤٥؛ احقاق الحق٧:١٧٥.[26]

ینابیع المودة:١٧٣،باب٥٨؛ غایة المرام:٥٥٣،تالیف موفق.[27]

مناقب ابن مغازلی شافعی:٢٩٣؛ مناقب خوارزمی:٣٤٥۔٣٥٣؛ ارحج المطالب:٥٢٩.[28]

مناقب خوارزمی:٢٢٩؛ درّبحر المناقب:١١٩،تالیف جمال الدین موصلی.[29]

مناقب مرتضوی:٢٥،باب٢،تالیف ترمذی.[30]

مناقب مرتضوی:٥١.[31]

وسیلة المآل فی عدّ مناقب الآل:١٣١، تالیف حضرمی شافعی.[32]

تاریخ دمشق٢:٣٤٧ء٨٥٥ اور جلد ٤٢:٨٨٩٨٣٣٣.[33]

ینابیع المودّة:٢٥٧، مودة القربی:٧٩.[34]

تاریخ دمشق٢:٨٥٣٣٤٦،طبع مؤسسہ محمودی لبنان.[35]

درّ بحر المناقب: ٥٨؛ مناقب خوارزمی:٦٧،حدیث٣٩، طبع مؤسسہ النشر الاسلامی۔.[36]

مودة القربی:٩٠.[37]

سورة الواقعہ:١١.[38]

تفسیر شواھد التنزیل٢:٢١٦.[39]

المستدرک علی الصحیحین٣:١٦٠.[40]

آل عمران:١٩٥.[41]

شواہد التنزیل١:١٣٨.[42]

مناقب خوارزمی:١٢٩،ح١٤٣،طبع مؤسسہ النشر الاسلامی.[43]

مناقب خوارزمی:٧٣،ح٥٢.[44]

الالزام:٨٠،تالیف شیخ صمیری، نقل از تفسیر مقاتل بن سلیمان، تفسیرقتادہ، تفسیرمجاہد، تفسیر علی بن حرب.[45]

 

اوفات پیغمبرص کے بعد انحراف کے قطعی شواہد


وفات پیغمبرﷺ کے بعد انحراف کے قطعی شواہدنص کے مقابلے میں اجتھاد نص سے مراد نص الٰھی یا نص نبوی ہے، اس کے مقابلے میں جب اجتہاد آجائے تو قطعی طور پر اس اجتہاد کی کوئی اہمیت نہیں ھوتی اور وہ نص کے مقابلے میں ساقط ھو جاتا ھے نص کے مقابلے اجتہاد صرف اپنی خواھشات کے لئے ھوتاھے خواہ وہ کسی لباس میں ھی کیوں نہ ھو۔ اس سلسلے میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نصوص کثرت سے موجود ھیں کہ میرے بعد امام اور خلیفہ کون ھو گایہ نصو ص دعوت ذو العشیرہ سے لے کر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری لمحات تک موجود ھیں یہاں ھم اجمالی طور بعض کامختصر تذکرہ کرتے ھیں ۔ دعوت ذ والعشیرہ جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے )ڈراؤ تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو دعوت دی اور ان سے فرمایا : اِني قد جئتکم بخیر الدنیا والآخرة وقد اٴمرني اللہ عزوجل اٴن اٴدعوکم اِلیہ فایکم یؤمن بي ویؤازرني علیٰ ھذا الاٴمرعلی اٴن یکون اٴخي و وصیي و خلیفتي فیکم۔ میں تمہارے پاس دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کر آیا ھوں۔ مجھے اللہ تعالی نے حکم دیا ھے کہ تمھیں اس کی طرف دعوت دوں تم میں سے جو بھی مجھ پر ایمان لائے گا اور اس اھم معاملے میں میری مدد کرے گا وھی میرا بھائی ،وصی اور خلیفہ ھو گا۔ پوری قوم خاموش اور ساکت رھی لیکن حضرت ابن ابی طالب علی علیہ السلام کھڑے ھوئے اور عرض کی یا رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل کیا میں اس معاملے میں آپ (ع)کی مدد کروں گا۔ آپ نے دو مرتبہ اسی طرح کھالیکن حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ (ع) کو بٹھا دیا تےسری مرتبہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِن ھذا اٴخي ،ووصیي وخلیفتي فیکم فاسمعوا لہ و اٴطیعوا ۔ یہ تم لوگوں میں میرا بھائی‘ وصی اور خلیفہ ھے اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ [1] حد یث منزلت اصحاب سیرت و حدیث نے یہ روایت نقل کی ھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنگ تبوک کی طرف جانے لگے تو لوگ بھی آپ (ص)کے ساتھ چل دئے۔ اس وقت حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی یا رسول اللہ (ص)کیا میں بھی آپ(ص) کے ساتھ چلوں۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا نھیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے گریہ کرنا شروع کیا توحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٴماترضیٰ اٴن تکونَ مني بمنزلة ھارون من موسیٰ اِلاّ اٴنہ لا نبي بعدي اِنّہ لا ینبغي اٴن اٴذھب اِلاّ و انتَ خلیفتي ۔ کیا آپ (ع)اس بات پر راضی نھیں ھیں کہ آپ کی قدرو منزلت میرے نزدیک وھی ھے جو ہارون کی موسیٰ کے نزدیک تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نھیں آئے گا۔ میں فقط یھی چاھتا ھوں کہ آپ (ع)میرے خلیفہ ھوں۔ اِلاّ اٴنہ لا نبّي بعدي ۔ ( مگر یہ کہ میرے بعد کو ئی نبی نھیں ھو گا)یہاں جو استثنا ء پایا جاتا ھے اس سے معلوم ھوتا ھے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کے جتنے مناقب تھے نبوت کے علاوہ وہ سب حضرت علی علیہ السلام کی ذات اقدس میں موجود ھیں ۔ [2] حد یث غد یر یہ حدیث متواتر احادےث میں سے ھے اسے صحابہ کرام ،تابعےن اور ھر شیعہ سنی نے نقل کیا ھے، ھم یہاں پر ابن حجر سے بیان شدہ روایت کو سپرد قرطاس کر رھے ھیں ابن حجر نے اعتراف کیا ھے کہ اس روایت کی سند صحیح ھے۔ ابن حجر کھتے ھیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غدیر کے مقام پر شجرات کے نےچے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا : اٴیھّا الناس اِنہّ قد نّباٴ ني اللطیف الخبیر اٴنہ لم یعمّر نبي الانصفُ عمر الذي یلیہ من قبلہ واٴنيّ لاٴظن اٴني یو شک اٴن اٴدعی فاجیب و اِنی مسوٴول و اٴنکم مسوٴولون فماذا اٴنتم قائلون؟ قالو ا نَشھدُاٴنّک بلغت و جھدت و نصحت فجزاک اللہ خیراً: فقال اٴ لیس تشھدون اٴن لا الہ الا اللّہ و اٴنَّ محمداً عبدہ ورسولہ واٴن جنتہ حق واٴنَّ نارہ حق وان الموت حق واٴن البعث حق بعدالموت ، واٴنّ الساعة آتیة لا ریب فیھا واٴن اللّہ یبعثُ مَن في القبور ؟قالوا بلی نشھد بذلک قالٰ اللھم اشھد ثم قال(( یا اٴیھاالناس اِن اللہ مولاٴي واٴنا مولیٰ المؤمنین واٴنا اٴولیٰ بھم من اٴنفسھم فمن کنت مولاہ فھذا ےعني علیا۔مولاہ اللھم وال من والاہ وعا د من عاداہ ))۔ اے لوگو! مجھے لطیف الخبےر نے خبر دی ھے کہ ھر نبی اپنے پھلے نبی کی نسبت آدھی عمر پاتا ھے لہٰذا میں بھی یہ گمان نھیں کرتا کہ مزید تم لوگوں کے درمیان رھوں، مجھے بارگاہ خداوندی میں بلایا گیا ھے قریب ھے کہ میں اس دعوت کو قبول کروں، وہ وقت آپھنچا ھے کہ میں اس دار فانی کو الودع کھوں اگر میں پکاروں تو مجھے جواب دو۔میں مسئول ھو ں اور تم لوگ بھی اس کے مسئول ھیں اس بارے میں آپ کیا کھتے ھو؟ یہ سن کر وہ لوگ کھنے لگے: ھم گواھی دیتے ھیں کہ آپ(ص) نے تبلیغ کی ،جہاد کیا ،نصےحت کی ،اللہ کی ذات ھی آپ(ص) کو بھترین جزا دینے والی ھے پھر آنحضرت(ص)نے فرمایا کیا تم یہ گواھی نھیں دیتے کہ اللہ کے علاوہ کو ئی معبود نھیںھے اور محمد اللہ(ص) کے عبد اوراس کے رسول ھیں۔ بے شک اس کی جنت ،جھنم ،موت ، موت کے بعد قبروں سے نکالنا یہ سب حق ھے اور بے شک قیامت اس کی ایسی نشانیوں میں سے ھے جس میں کسی کو کوئی شک وشبہ کی گنجا ئش نھیں ھے اور جو کچھ قبروں میں ھے اللہ ھی اس کو نکالنے والا ھے۔ وہ کھنے لگے ۔جی ہاں۔ ھم ان تمام چیزوں کی گواھی دیتے ھیں: آپ(ص) نے فرمایا اے پروردگار تو بھی اس پر گواہ رہ۔ پھر آپ (ص)نے فرمایا: اے لوگو ! ا للہ میرا مولا ھے اور میں مومنین کا مولا ھوں اور میں ان کی جانوں پر ان کی نسبت اولیٰ ھوں ۔پس جس کا میں مولا ھوں اس کا یہ علی (ع) مولا ھے پروردگار اس سے محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے ۔ [3] اس میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نھیں ھے کہ جو شخص حدیث غدیر کے مضمون اور اس میں موجود حالیہ اور مقالیہ قرائن کو مد نظر رکھے تو اسے معلوم ھو جائے گا کہ اس حدیث کا مقصد حضرت علی علیہ السلام کو امامت اور خلافت پر نصب کرنا ھے۔ اسی مطلب کو اس بابرکت محفل میں موجود مہاجرین و انصار نے بھی سمجھا ھے۔ جیسا کے اس کو پھنچانے والے نے سمجھا ھے اور ایک مدت کے بعد امت میں بھی یہ بات ظاھر ھو ئی ھے اوراس وقت سے لے کر آج تک اس کی اتباع مشھور ادباء اور شعراء نے بھی کی ھے ۔ےعنی شعراء وغیرہ نے بھی ابتداء ھی سے اس سے مراد حضرت علی علیہ السلام کا خلافت پر نصب کرنا سمجھا تھا ۔[4] اس موقع پر حسان بن ثابت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کرتے ھیں: یارسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا مجھے اجاز ت ھے کہ میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شان میں چند اشعار کھوں۔ چنا نچہ انھوںنے یہ شعارکھے: ینادیھم یوم الغدیر نبیھُّم بخم واٴسمعِ بالرسولِ منادیا فقال فمن مولاکمُ وولیکم فقالو ا و لم یبدوا ھناک التعامیا الھٰک مولانا و اٴنت ولینا و لم تلق منا في الولایة عاصیا فقال لہ قم یا علي فاِنني رضیتُک من بعدي اِماماً و ھادیا فمن کنتُ مولاہُ فھذا ولیّہ فکونوا لہ اٴتباع صدق موالیا ھنا کَ دعا اللھم والِ ولیّہ وکن للذي عا دیٰ علیا مُعادیا ان کے نبی(ص) غدیر کے دن خم کے مقام پر انھیں پکار رھے تھے اور پکارتے ھوئے نبی (ص)کتنے اچھے معلوم ھو رھے تھے انھوں نے کھاکہ تمہارا مولا اور نبی(ص) کون ھے؟ وہ سب لو گ کھنے لگے اور ان میں سے کسی نے مخالفت اور دشمنی کا اظہار نہ کیا آپ(ص) کا معبود ھمارا مولا ھے اور آپ(ص) ھمارے نبی(ص) ھیں اور آپ (ص)ولایت کے سلسلے میں ھم سے کسی کو نافرمان نھیں پائےں گے۔ آپ (ص)نے فرمایا اٹھو اے علی کیونکہ میں نے آپ(ع) کو اپنے بعد کے لئے امام اور ہادی منتخب کیا ھے۔ پس جس کا میں مولا ھوں اس کا یہ ولی اور مولا ھے ۔لہٰذا اس کے سچے پیروکار اور موالی بن جاؤ اور پھر دعا کی خدا یا اس کے دوست کوتو دوست رکھ اور حضرت علی علیہ السلام سے دشمنی کرنے والے کو دشمن رکھ۔[5] حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کو تنہا(اسی مفھوم کے ساتھ) حسان بن ثابت نے ھی نھیں سمجھا تھا‘ بلکہ اس مطلب کو عمرو بن عاص نے بھی سمجھا تھا ۔حا لانکہ کہ یہ اےسا شخص ھے جس کی حضرت علی علیہ ا لسلام کے ساتھ دشمنی ڈھکی چھپی نہ تھی جب معاویہ کو اس مسئلہ میں شک ھو ا تو حضرت علی علیہ السلام کی جلالت و بزرگی کو بیان کرتے ھوئے کھتا ھے : وکم قد سمعنا من المصطفیٰ وصایا مخصصّة في علي و فی یوم خمّ رقیٰ منبرا و بلغّ والصحب لم تر حل فاٴمنحہ اِمرةالمؤمنین من اللہ مستخلف المنحل فی کفّہ کفّہ معلنا ینادي باٴ مر العزیز العلي قال فمن کنت مولیٰ لہ عليٌّ لہ الیوم نعم الولي ھم نے اکثر حضرت محمد (ص)سے حضرت علی (ع) سے متعلق مخصوص وصیتیں سنیں ھیں، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خم والے دن منبر پرگئے اور خطبہ دیا۔ کسی صحابی اور صحابیہ نے ان کے مطالب کے خلاف گفتگو نہ کی ان (علی (ع)) کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر خدائے بزرگ و برتر کے حکم سے یہ اعلان کیا اور فرمایا جس جس کا میں مولا ھوں آج سے حضرت علی علیہ السلام اس کے بھترین ولی ھیں ۔[6] اس طرح حدیث غدیر کے اس معنی کو سب بزرگوں نے واضح انداز میں تسلیم کیا شاعر ذائع صےت کمےت بن زید الاسدی کھتا ھے : و یوم الدوح دوح غدیر خم اٴبان لہ الخلافة لواٴُ طیعا یوم روح ‘روح غدیر خم ھے ۔ اگر وہ اطاعت کر لیتے توان کے لئے خلافت کا مسئلہ واضح ھو چکا ھوتا۔ [7] غدیر خم میں موجود جلیل القدر صحابی حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کھتے ھیں: و عليٌ اِما مُنا و اِمامٌ لسوانا اٴتی بہ التنز یل یوم قال النبي من کنت مولا ہ فھذا مولاہ خطبٌ جلیل قرآن مجےد نے ھمیں بتا یا ھے کہ حضرت علی علیہ السلام ھمارے اور ھمارے علاوہ دوسرے لوگوں کے امام ھیں۔ اس دن جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلیل القدر خطبہ میں ارشاد فرمایا: جس جس کا میں مولا ھوں اس اس کا یہ مولا ھے [8] ھم نے اس حدیث کی مزید وضاحت اور اس کی سند و دلالت اور حجت پر بحث اس لئے نھیں کی کیونکہ احادےث اور سیرت کی کتب نے اس حدیث کو بیان کیا ھے لیکن ھم نے مسلمان بھائیوں کے سامنے اس کی اصل صورت اور حقےقت پیش کر دی تاکہ صاحبا ن عقل کے سامنے حق و حقیقت واضح ھو جائے۔ ۴۔حدیث ثقلین حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ھیں: اِني اوشک اٴن اُدعیٰ فاجیب،واِنی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ عزوجل وعترتي،کتاب اللہ حبل ممدود من السماء اِلی الارض وعترتي اَھل بیتي۔ واِنّ اللطیف الخبیر اٴخبرني اٴنّھما لن یفترقا حتیٰ یردا عليّ الحوض فانظروا کےف تخلّفوني فیھما۔ مجھے بارگا ہ خدا وندی میں بلایا گیا ھے اور قریب ھے کہ میں اس دعوت پر لبےک کھوں۔ وہ وقت آن پھنچا ھے کہ میں دار فانی کو الودع کھوں۔ میں تم میں دو گراں قدر چیزےں :اللہ کی کتاب اوراھل بیت چھوڑ کر جا رھاھوںاللہ کی کتاب اور میری اھل بیت زمےن و آسمان کے درمیان اللہ کی دراز رسی ھے۔ اور مجھے لطیف الخبےر نے خبر دی کہ یہ حو ض کوثر پر میرے پاس آنے تک ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھو نگے اور دیکھومیرے بعد ان دونوں کے ساتھ کیسا سلوک کرو۔ [9] ۵۔حد یث سفینہ حاکم اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ھیں کہ حضرت ابو ذر غفاری کعبہ کے درواز ہ کو پکڑ کر کھتے ھیں جو شخص مجھے جانتا ھے سو وہ جانتا ھے جو نھیں جانتا تو وہ سن لے: میں ابو ذر ھوں اور میں نے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ھوئے سنا ھے: اٴلا اِنّ مثل اٴھل بیتي فیکم مثل سفینة نو ح فی قومہ مَن رکبھا نجا و من تخلف عنھا غرق ۔ آگا ہ ھو جاؤ تم لوگوں میں میرے اھل بیت (علیہ السلام) کی مثال حضرت نوح( علیہ السلام )کی قوم میں ان کی کشتی جیسی ھے جو اس پر سوار ھو جائے گا وہ نجا ت پا جائے گا اور جو اس کی مخا لفت کرے گا، وہ ڈوب کر ھلاک ھو جائے گا ۔ [10] ائمہ معصومین (علیھم السلام )کی کشتی کی مثال حضرت نوح( علیہ السلام) کی کشتی سے دینے سے مراد یہ ھے کہ جس شخص نے دین اسلام کے احکام میں ان کی طرف رجوع کیا اور اس نے دین کے اصول‘ فروع اور آئمہ معصو مےن (علیھم السلام) سے تعلق جوڑا، وہ شخص عذاب جھنم سے نجات حاصل کر لے گا اور جس نے ان کے احکام کی مخا لفت کی تو وہ ڈوب جائے گا۔ جیسے نوح کی قوم نے کھاتھا کہ جب طوفان آئے گا تو لوگ بھاگ کر پہاڑ پر چڑھ جائیں گے۔ اور خدا کے اس عذاب سے بچ جائیں گے لیکن یہ سب لوگ اس پانی میں غرق ھو گئے اور یھی ان کی تباھی کا مقام ھے۔ [11] ۶۔حدیث امان حاکم، ابن عباس سے روایت کرتے ھیں کہ ابن عباس نے کھاکہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : النجومَ اٴمانٌ لاٴھلِ الارضِ من الغرق و اٴھلِ بیتیِ اٴمان لاٴمتي من اِلاختلاف فا ذا خالفتھا قبیلةمن العرب اختلفوا فصاروا حزب اٴبلیس۔ اندھےرے میں ستارے اھل زمےن کے لئے امان ھیں اور میرے اھل بیت امت کے اختلاف کے وقت ان کے لئے امان ھیں، اور جو قبیلہ عرب ان کی مخالفت کرےگا ، وہ حزب ابلیس سے ھو گا ۔[12] قارئین کرام! ھم نے یہ چند ایک قطعی نصوص اور روایات نقل کی ھیں جو کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے بیان ھوئی ھیں اور جس طرح آپ نے دےکھا ان کو کتب اھلسنت نے بھی بیان کیا ھے۔ اب اس خاندان عصمت کے حق میں نازل شدہ چند آیات کا تذکرہ کرتے ھیں جنھیں حق تعالی نے ان کی شان میں نازل کیا : ۱۔آیت ولایت إِ نَّمَا وَلِیُّکُمْ اللهُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُونَ > اللہ ، اس کا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور نماز پڑھتے ھیں اور رکوع کی حالت میں زکوة ادا کرتے ھیں فقط وھی تمھارے ولی ھیں۔[13] تمام مفسرےن کا اجماع ھے کہ یہ آیت مبارکہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ھوئی ھے ۔ ۲۔آیت تطھیر إِ نَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیر > [14] اللہ صرف یہ ارادہ رکھتا ھے کہ اے اھل بیت تم کو ھر قسم کی گندگی سے دور رکھے اور اےسا پاک و پاکیزہ رکھے جیسا پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ھے۔ اس آیت کے متعلق مفسرےن کا اجماع ھے کہ یہ آیت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،حضرت امام علی علیہ السلام ،حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا، حضرت امام حسن علیہ السلام اورحضرت امام حسین علیہ السلام کی شان میں نازل ھوئی ھے۔ ۳۔آیت مباھلہ فَمَنْ حَاجَّکَ فِیہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ کَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اٴَبْنَاءَ نَا وَاٴَبْنَاءَ کُمْ وَنِسَاءَ نَا وَنِسَاءَ کُمْ وَاٴَنْفُسَنَا وَاٴَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِ ینَ۔> [15] اس کے متعلق واضح علم آجانے کے بعد جو شخص تم سے جھگڑا کرے تو تم کہہ دو کہ ھم اپنے بیٹوں کو بلاتے ھیں تم اپنے بےٹوں کو بلاؤ ھم اپنی خواتےن کو بلاتے ھیں تم اپنی خواتےن کو بلاؤ ھم اپنے نفسوں کو بلاتے ھیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ پھر ھم مباھلہ کرےں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کرےں۔ تمام مفسرےن کا اجماع ھے کہ پو ری دنیا سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کوئی بھی مباھلہ کے لئے نھیں نکلا تھا مگر بےٹوں کی جگہ حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام تھے اور نساء کی نمائندگی حضرت جنا ب فاطمة الزھرا سلام اللہ علیھانے کی اور نفس رسول فقط حضرت علی علیہ السلام تھے آپ لوگ اس آیت میں غور و فکر و تاٴمل کرےں ۔ ۴۔آیت اکمال د ین اور اتمام نعمت الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَاٴ َتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمْ الْإِسْلاَمَ دِینًا> [16] آج میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے اس دین اسلام کو پسند کیا۔ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد فرمایا :اللہ اٴکبرعلیٰ اکمال اِلدین و اتمام النعمہ و رضا الربْ برسالتي و الولا یةَ لعلي من بعدي۔ اللہ اکبر آج دین کامل ھوگیا اور نعمتےں پوری ھو گئیں اللہ رب العزت میری رسالت اور میرے بھائی علی (ع) کی ولاےت پر راضی ھے۔ یہ سننے کے بعد لوگ جو ق درجوق حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں جا کر تھنیت و مبارک باد عرض کرنے لگے صحابہ کرام میں سب سے پھلے مبارکباد دینے والے شیخین بھی تھے ۔ےعنی حضرت عمر اور حضرت ابو بکر اور ان کامبارک باد دینے کا انداز یہ تھا : بخٍ بخٍ لکَ یا بنِ اٴبي طالب اٴصبحت مولاي و مولیٰ کل موٴمن و موٴمنة ۔ مبارک ھو مبارک ھو اے ابو طالب (ع)کے فرزند آپ(ع) ھی میرے اور تمام مومنین اور مومنات کے مولا ھیں ۔[17] ۵۔آیت مود ت ِ قُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَ ی ۔> [18] اے رسول(ص) کہہ دیجے کہ میں تم لوگوں سے محبت اھل بیت کے علاوہ کو ئی اجر رسالت نھیں مانگتا۔ زمخشری اپنی کتاب کشاف میں کھتے ھیں کہ جب یہ آیت نازل ھوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا ؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ(ص) کے وہ قریبی رشتہ دار کون ھیں جن کی محبت و مودت کو ھم پر واجب قرار دیا گیا ھے۔ حضرت نے ارشاد فرمایا: وہ علی ،(ع)فاطمہ(ع) اور ان کے دو بیٹے ھیں۔ ِقُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی۔> اے رسول کہہ دیں تم سے اھلےبیت کی محبت کے علاوہ کسی چیز کے متعلق سوال نھیں کیا جائے گا زمخشری نے اپنی کتاب کشاف میںاس آیت کی تفسیر کرتے ھوئے بیان کیا ھے ان کے علاوہ بھی قرآن کریم کی متعدد آیات اور احادیث حضرت علی علیہ السلام کی شان میں موجود ھیں مثلاً۔اٴقضاکُم علي تم میں سب سے بڑے قاضی حضرت علی (ع)ھیں ۔ اٴنا مدینة العلم وعلی بابُھا۔ میں علم کا شھر ھوں اور علی (ع) اس کا دروازہ ھیں ۔ علی اٴعلم اُمتیِ بالسُّنّہ ۔ علی (ع)میری امت میں سنت کو سب سے زیادہ جانتے ھیں ۔ علي مع الحقِ والحقُ مع علی ۔ علی (ع)حق کے ساتھ ھیں اور حق علی (ع)کے ساتھ ھے ۔ علي ولیُّکم بعدی۔ میرے بعد فقط علی (ع)ھی تمہاراولی ھے ۔وغیرہ وغیرہ جب آپ لوگ ان قطعی نصوص کو جان چکے ھیں تو پھر حق کو چھوڑ کر گمراھی کی راہ اختیار کرنا اور حق کے مقابلے میں خواھشات نفس کی پیروی کرنا قرین قیاس نھیں ھے ۔ آپ کو خلیفہ اول کے ان کلمات کے متعلق خوب غور فکر کرنا چاھیے جسے وہ اپنی بیعت کے دوسرے دن اس طرح بیان کر رھے ھیںاورعذر خواھی کے بعد کھتے ھیں: میری بیعت ایک قلادہ ھے ۔اللہ اس کے شر اور فتنہ سے بچائے ۔[19] وہ ایک اور مقام پر کھتے ھیں: اے لوگو! میں تم پر بادشاہ بنایا گیا ھوں حالانکہ میں تم سے بھتر نھیں ھوں (بھرحال)اگر میں اچھا کام کروں تو میری مدد کرنا اور اگر غلط کام کروں تو مجھے راہ راست پر لانا کیونکہ مجھ پر ھر وقت ایک شیطان سوار رھتا ھے جو مجھے راہ راست سے دور رکھتا ھے۔[20] اب سوچنے کی بات یہ ھے کہ حضرت ابوبکر نے تو اپنی شرعی ذمہ داری کاپاس اور لحاظ کیا اور انھوں نے اپنے بعد حضرت عمر کو خلیفہ نامزد کردیا۔ اسی طرح حضرت عمر نے بھی اپنی شرعی ذمہ داری کا خیال رکھا کہ اسے بھی خلیفہ بنانا چاھیے اور اس نے ایک شوری تشکیل دی۔ یہاں تک کہ معاویہ کی بھی یھی رائے تھی کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو خلیفہ کے بغیر نہ چھوڑا جائے اور اس نے اپنے بیٹے یزید کوخلیفہ نامزد کردیا۔ توکیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا خلیفہ بنانے کا کوئی خیال نہ تھا ؟کہ وہ بھی اپنی امت کے لئے اس قسم کا اھتمام کرتے ؟ کیا ان کی اتنی بھی ذمہ داری نہ تھی کہ وہ اپنے بعد اپنا خلیفہ نامزد فرماتے؟ یا اللہ تعالی کو بھی اس امت مرحومہ کے متعلق معاویہ یا معاویہ سے پھلے لوگو ں برابر بھی خیال نہ تھا ؟!!! ۲۔حضرت علی اور حضرت فاطمہ علیھاالسلام کے دروازے پر ھجوم حضرت علی علیہ السلام اورحضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاکے دروازے پر ھجوم کرنا اسکی حرمت کا خیال نہ رکھنا ،دروازے پر لکڑیاں جمع کرنا اور گھر کو جلانے کی دھمکیاں دینا کیا ھے؟ جبکہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیھاکا گھر انبیاء علیھم السلام کے گھروں سے بھی افضل تھا۔ سیوطی در منثور میں سورہ نور کے ذیل میں اللہ تعالی کے اس فرمان کی تفسیر بیان کرتے ھوئے کھتے ھیں : فِی بُیُوتٍ اٴَذِنَ اللهُ اٴَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیہَا اسْمُہُ> [21] یہ ایسے گھروں میں سے ھے جس کے بارے میں خدا نے حکم دیا ھے کہ ان کی تعظیم کی جائے اس کا نام ان میں لیا جائے ۔ ابن مردویہ اور بریدہ نے روایت بیان کی ھے کہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی تو ایک شخص نمودار ھوا اور اس نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کون سے گھر ھیں۔ حضرت نے فرمایا: وہ انبیاء علیھم السلام کے گھر ھیں ۔ حضرت ابوبکر کھڑے ھوئے اور انھوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ گھر جس میں حضرت علی اور حضرت فاطمہ علیھاالسلام رھتے ھیں کیا یہ بھی انھیں گھروں میں سے ھے؟ حضرت نے جواب میں فرمایا: جی ہاں، بلکہ یہ تو انبیاء کے گھروں سے بھی افضل ھے۔[22] یہ وہ گھر تھا جہاں روح الامین تشریف لاتے تھے اور ملائکہ کی آمد و رفت ھوتی تھی اور اس گھر کو اللہ تعالی نے رجس سے اسطرح پاک رکھا جس طرح پاک رکھنے کا حق ھے یہ وہ گھر جس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اجازت کے بغیر داخل نہ ھوتے تھے ۔جب اس گھر کی بے حرمتی کی گئی اور یہ بھی نہ دیکھا گیا کہ اس گھر میں کون لوگ موجود ھیں؟ اور یہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی وجہ سے کس قدر غمگین ھیں؟ اس گھر کے اردگرد لکڑیاں جمع کی گئیں اور اس کو جلا دینے کی دھمکیاں دیں گئیں اور اھلبیت علیھم السلام کے ساتھ زیادتی کی گئی وہ اھلبیت جن کی مودت کے واجب ھونے کا اعلان آیت مودت کرتی ھے اور آیت تطھیر جن کی طہارت اور پاکیزگی کا قصیدہ پڑھتی ھے۔ ابن قتیبہ کھتے ھیں کہ خلافت پر قبضہ جمانے والوں نے چند مرتبہ حضرت علی علیہ السلام کی طرف پیغام بھیجا لیکن آپ نے ان کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ ابن قتیبہ مزیدکھتے ھیں کہ یہ سن کر حضرت عمر کھڑے ھوئے ان کے ساتھ ایک گروہ تھا وہ لوگ جناب فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھاکے دروازے پر آئے انھوں نے دق الباب کیا جب جناب سیدہ سلام اللہ علیھا نے ان کی بلند آوازیں سنیں ۔ تب بی بی فاطمہ زھراء سلام اللہ علےھا بلند آواز سے پکار کر کھتیں ھیں۔ اے میرے بابا، اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے بعد ابن خطاب اور ابن ابی قحافہ میرے دروازے پر کس طرح حملہ آور ھورھے ھیں ۔ جب لوگوں نے جناب سیدہ کے رونے کی آواز سنی تو ان میں سے بعض روتے ھوئے دروازے سے ہٹ گئے ،قریب تھا کہ ان کا دل اس دردناک آواز کو سن کر پھٹ جائے لیکن عمر اور ایک گروہ وہاں موجود رھاانھوں نے حضرت علی علیہ السلام کو گھر سے نکالا اور ابوبکر کے پاس لے آئے اور ان سے کھنے لگے کہ ابوبکر کی بیعت کرو۔ حضرت نے فرمایا اگر میں اس کی بیعت نہ کروں تو پھر؟ وہ کھنے لگے: خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نھیں ھم آپ(ع) کی گردن اتار لیں گے ۔[23] ایک اور روایت میں ابن قتیبہ بیان کرتے ھیں کہ حضرت ابوبکر نے ان لوگوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جنھوں نے اس کی بیعت کرنے سے انکار کیا تھا اور یہ لوگ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پاس موجود تھے۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو ان کی طرف بھیجا حضرت عمر گئے اور اس نے ان سے بیعت کرنے کا مطالبہ کیا وہ لوگ حضرت علی علیہ السلام کے گھر موجود تھے انھوں نے گھر سے باھر نکلنے سے انکار کر دیا تو حضرت عمر نے لکڑیاں لانے کے لئے کھااور کھنے لگا : والذي نفس عمر بیدہ لتخرُجن اٴولاٴحرقنھا علیٰ مَن فیھا فقیل لہ یا اٴبا حفص اِنّ فیھا فاطمہ فقال واِن ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں عمر کی جان ھے اگر یہ لوگ باھر نہ نکلے تو میں اس گھر کو گھر والوںسمیت جلا کر راکھ کر دوں گا۔ کسی نے اس سے کھا: اے ابو حفص جا نتے ھو کہ اس گھر میں تو جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا موجود ھیں ، وہ کھنے لگا تو ھوتی رھیں ۔جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا فرماتی ھیں تم میں سے جو بھی بری نیت لے کر میرے دروازے پر آیا ھے میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نھیں ھے۔[24] حق کی جستجو کرنے والے قاری محترم آپ نے ملاحظہ کیا کہ کس کس طرح لوگوں نے رفتار گفتار اور عمل کے میدان میں حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل اور ان کی رفتار گفتار سے انحراف کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آل پاک کے ساتھ کیسا سلوک کرنے کو کھااور ان لوگوں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ فدک کا غصب کرنا فدک جناب فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھا کا حق تھا۔ لیکن ان لوگوں نے بی بی (ع)کے اس حق کو غصب کرلیا۔بی بی (ع)نے یہ دعوی کیا تھا کہ یہ میری میراث ھے۔ لیکن اس دعوی کو انھوں نے رد کردیا اور جناب امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور جناب ام ایمن کی گواھیوں کو جھٹلادیا ۔ علامہ امام شرف الدین کھتے ھیں کہ فدک کے متعلق حاکم کا اتنا علم ھی کافی تھا کہ یہ مدعی(فاطمہ) تقدیس کی معراج پر فائز ھے اور تقدس میں وہ جناب مریم(ع) بنت بن عمران (ع)کی ھم پلہ ھے بلکہ ان سے بھی افضل ھے ۔جناب زھرا(ع)ء جناب مریم (ع)جناب خدیجہ(ع) جناب آسیہ (ع)اھل جنت کی عورتوں سے افضل ھیں ۔جس طرح اللہ تعالی نے اپنی واجب نمازوں میں اپنے بندوں پر شہادتین پڑھنا واجب قرار دیا ھے اسی طرح ان پر درود سلام بھیجنا بھی واجب قرار دیا ھے اور یہ بی بی(ع) ان ھستیوں میں سے ھے جن پر نماز میں درود بھیجنا واجب قرار دیا گیا ھے ۔[25] شیخ ابن عربی کھتے ھیں جیسا کہ ابن حجر کی کتاب صواعق المحرقہ وغیرہ میں بھی موجود ھے ۔ رایتُ ولائي آل طہ فریضةً علیٰ رغم اٴھل البعد یُورثني القُربیٰ فما طلب الرحمن اٴجراً علیٰ الھدیٰ بتبلیغہِ اِلاّ المودةَ في القربیٰ میں سمجھتا ھوں کہ آل طہ کی ولایت واجب ھے ۔قرابت دار ھی وراثت کے حق دار ھوتے ھیں۔ اگرچہ بعض لوگوںنے ان کے اس حق کو نظر انداز کیا ھے۔ خداوند عالم نے صرف محبت اھلبیت ھی کو اجر رسالت و تبلیغ ھدایت کے عوض قرار دیا ھے۔ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام حضرت ابوبکر سے کھتے ھیں: اے ابوبکر کیا تم نے اللہ کی کتاب کو پڑھا ھے ۔ وہ کھنے لگے جی ہاں۔ آپ (ع)نے فرمایا مجھے یہ بتاؤ کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان کس کی شان میں نازل ھواھے : إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا>۔ [26] اے اھلبیت اللہ فقط یہ چاھتا ھے کہ آپ اھلبیت (ع) سے ھر قسم کی گندگی اور رجس کو دور رکھے اور ایسا پاک رکھے جیسا پاک رکھنے کا حق ھے ۔ یہ آیت ھماری شان میں نازل ھوئی ھے یا ھمارے علاوہ کسی اور کی شان میں نازل ھوئی ھے؟ وہ کھنے لگا کہ یقینا آپ(ع) کی شان میں نازل ھوئی ھے۔ حضرت نے فرمایا اچھا یہ بتاؤ اگر چند لوگ گواھی دیں کہ جناب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا نے فلاں غلط کام کیا ھے تو تم کیا کروگے ؟ وہ کھنے لگے میں ان پر اس طرح حد جاری کروں گا جس طرح میں تمام مسلمان عورتوں پر حد جاری کرتا ھوں ۔حضرت نے فرمایا تو پھر اس وقت تو اللہ کے نزدیک کافروں کے ساتھ محسوب ھوگا۔ وہ کھنے لگا کیوں ؟ حضرت نے فرمایا چونکہ اللہ نے اس کی طہارت کی گواھی دی ھے اور تو نے اس کی گواھی کو جھٹلادیا ھے اور اس کے عوض لوگوں کی گواھی کو قبول کیا ھے تم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو جھٹلا دیا ھے اور ایک اعرابی کی گواھی کو قبول کیا ھے کیونکہ اللہ اور اس کے رسول نے فدک جناب سیدہ کو عطافرمایا ھے اور تم نے جناب سیدہ سے اس کو چھین لیا ھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : البیّنة علیٰ المدعي والیمین علیٰ المدّعٰی علیہ ۔ گواہ اور بینہ پیش کرنا مدعی کی ذمہ داری ھے اور مدعی علیہ پر قسم ھے ۔[27] استاد محمود ابو ریہّ مصری المعاصر کھتے ھیں کہ اس مقام پر ضروری ھے کہ ھم اس بات کی وضاحت کریں کہ جناب فاطمہ صلوات اللہ علیھا کے ساتھ آپ(ع) کے والد محترم کی میراث کے حوالے سے حضرت ابوبکر نے جو رویہّ اختیار کیا ھے ھمیں کھل کر اس کی وضاحت کرنی چاھےے۔ اس سلسلے میں وہ کھتے ھیں کہ اولاً تو ھم اس حدیث کو مانتے نھیں جو انھوں نے گھڑی ھے۔ اورثانیا ً اگر ھم اس کو تسلیم بھی کر لیں تو یہ خبر واحد ظنی ھے اور خبر واحد ظنی، کتاب قطعی(قرآن) کے لئے کس طرح مخصص بن سکتی ھے ؟ ثالثاً اگر یہ سچ ھے اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ھم وراثت نھیں چھوڑا کرتے( جبکہ اس خبر کے عموم کی تخصیص بھی نھیں ھے) تو اس وقت حضرت ابوبکر کے لئے بھترین موقع تھا کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے والد محترم حضرت رسول اکرم(ص) کی چھوڑی ھوئی تمام میراث پر قبضہ جما لیتے۔ فقط خاص طور پر فدک پر ھی قبضہ کیوں کیا اور اس کو مخصص بنا کر اس حدیث کی تخصیص کیوں کی ھے؟ جبکہ فدک جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کا وہ حق تھا جس میں کسی کو کسی قسم کا اشکال نھیں ھے۔ اس کی تخصیص تو فقط زبیر بن عوام اور محمد بن مسلمہ وغیرہ نے کی ھے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متروکات میں سے فدک ھی وہ ھے جس سے ابوبکر نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کو روک دیا تھا، اگر فدک واقعا کسی کی میراث نھیں بن سکتا تھا تو خلیفہ عثمان کبھی بھی مروان کو اس کے کچھ حصے کا مالک نہ بناتا ۔[28] ابن ابی حدید نے بعض بزرگوں سے ایک روایت نقل کی ھے جس کا مضمون یہ ھے کہ ان دونوں خلفاء نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر کے ساتھ ان کی وفات کے بعد جو رویہّ اپنایا، ھمیں اس پر سخت تعجب ھوتا ھے!! آخر میں کھتے ھیں : وقد کان الاٴجلّ اٴن یمنعھما التکرُّم عما ارتکباہ من بنت رسول اللہ فضلاً عن الدین۔ اور اس سے بڑھ کر کہ انھوں نے بنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکرام تک نہ کیا چہ جائیکہ وہ بی بی(ع) کا حق ادا کرتے۔ اس کے ذیل میں ابن حدید کھتے ھیں کہ اس بات کا کوئی شخص بھی جواب نھیں دے سکتاھے ۔[29] صاحب فدک فی التاریخ میں ایک مطلب کو بیان کرتے ھیں کہ اگر خلیفہ کا موقف درست تھا اور یہ بھی مان لیتے ھیں کہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد بھی فرمایا تھا ھم انبیاء وراثت نھیں چھوڑا کرتے اور جو کچھ ھم چھوڑ جاتے ھیں وہ صدقہ ھوتا ھے تو پھر حضرت عمر نے خلیفہ کے فرمان کو کیوں مھمل قراردیا اور پس پشت ڈال کر فدک کو جناب عباس اور جناب علی (ع) کے سپرد کردیا؟ فدک کو ان دونوں کے سپرد کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ فدک حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث تھی اور یہ کام انھوں نے اپنی خلافت کے دوران انجام دیا تھا۔[30] قارئین کرام !آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح یہ لوگ الٹے پاؤں پھر گئے اللہ تعالی اور اس کی شریعت نے اھل بیت علیھم السلام سے متعلق مودت کا حکم دیا تھا اور وہ ان سے کس طرح روگردان ھو گئے ۔ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی مرتبہ ارشاد فرمایا : المرء یحفظ فی ولدہ ۔ کسی شخص کی عزت و اکرام اس کی اولاد کی عزت و حفاظت کے ساتھ ھوتی ھے۔ جیسا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث ثقلین میں ارشاد فرمایا ھے (جس کا تذکرہ پھلے ھو چکا ھے ) فانظروا کیف تخلفونني فیھما۔ میں دیکھ رھاھوں کہ تم ان دونوں گراں قدر چیزوں میں کس طرح میری مخالفت کررھے ھو۔ ۴۔نظریاتی اور اعتقادی بنیاد کو کھوکھلا کرنا یہ لوگ نظریاتی اور اعتقادی بنیادوں کو مھمل قرار دے کر فقط فتوحات کی طرف متوجہ ھو گئے اور محرمات خدا میں ظلم و تعدی کرنے لگے جیسا کہ جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالک بن نویرہ اور ان جیسے دوسرے افراد کو قتل کرنا ان کے ظلم کا واضح ثبوت ھے۔ اس جلیل القدر صحابی کو خالد بن ولید نے بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا جب کہ وہ جانتا تھا کہ وہ مسلمان ھیں نمازیں پڑھتے ھیں شہادتین پر ایمان رکھتے ھیں۔ یعقوبی اپنی تاریخ میں لکھتے ھیں کہ مالک بن نویرہ کو خالد بن ولےد کے پاس لایا گیا اس کے پیچھے پیچھے اس کی بیوی بھی آگئی جب خالد نے اسے دیکھا تو اس پر فریفتہ ھوگیا۔ خالد کھنے لگا خدا کی قسم میں تجھے قتل کردوں گا اور تلوار کے ذریعہ اس نے مالک بن نوےرہ کی گردن اڑادی اور اس کی بیوی کے ساتھ شادی کرلی۔بلکہ اس سے زنا کیا۔ ابو قتادہ نے حضرت ابوبکر کو اس کی اطلاع دی اس نے فقط اس کی قیدی بیوی کو خالد کے چنگل سے آزاد کروادیا، جبکہ مالک بن نوےرہ مسلمان تھا اور اسلام کی حالت میں قتل ھوا تھا ،اس کے متعلق حضرت ابوبکرنے خالد کو کچھ بھی نہ کہا۔[31] خمس میں ذوی القربی کا حصہ ختم کرنا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد خمس سے قریبی رشتہ داروں کا حصہ ختم کردیا گیا جبکہ قرآن مجید میں خمس میں ذوی القربی کے حصے کے متعلق نص موجود ھے ۔ ارشاد رب العزت ھوتا ھے : وَاعْلَمُوْا اٴَ نَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیءٍ فَاِنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِیْ الْقُرْبیٰ وَالْیَتَامیٰ وَالْمَسٰاکِیْنِ َوابْنِ السَّبِیْلِ اِنْ کُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللّٰہِ وَمَا اٴَ نْزَلْنَا عَلیٰ عِبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ اِلْتَقیٰ الْجَمْعَانِ وَاللّٰہُ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ۔> [32] اور یہ جان لو جب کسی طرح کی غنیمت تمہارے ہاتھ آئے تو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کا ھے (اور رسول کے )قرابت داروں،یتیموں، مسکینوں،اور مسافروں کا حق ھے اگر تم اللہ پر ایمان لائے ھو اور اس پر جو ھم نے اپنے بندے پر فیصلہ کے دن نازل کی تھی جس دن دوگروہ آمنے سامنے آگئے اور اللہ تعالی ھر چیز پر قدرت رکھنے والا ھے ۔ چنا نچہ تمام مسلمانوں کااجماع ھے کہ خمس میں سے ایک حصہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا اور ایک علیحدہ حصہ آپ(ص) کے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ مخصوص تھا اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ھوئی حتی کہ اللہ تعالی نے آپ(ص) کو اپنی بارگاہ میں بلالیا۔ لیکن آپ(ص) کی وفات کے بعد خلافت پر مسلط ھونے والے اصحاب رسول نے خمس میں سے بنی ھاشم کا حصہ ختم کردیا اور انھیں دوسرے لوگوں کے برابر سمجھنے لگے اور انھیں دوسری یتیم عورتوں ،مسکینوں اور مسافروں کی صفوں میں شامل کردیا ۔ [33] یہ آیت مبارکہ منسوخ بھی نھیں ھوئی ھے اور جیسا کہ پھلے گزر چکا ھے کہ۔ حلال محمد حلال الی یوم القیامةوحرامہ حرام الی یوم القیامة ۔ حلال محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک کے لئے حلال اور حرام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک کے لئے حرام ھے۔ جب اس طرح ھے تو پھر خمس میں سے ذوی القربی کا حصہ کیوں ساقط کیا گیا !!!؟ ۶۔متعہ الحج کا ختم کرنا ارشاد رب العزت ھے: فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنْ الْہَدْیِ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَةِ اٴَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَةٌ کَامِلَةٌ ذَلِکَ لِمَنْ لَمْ یَکُنْ اٴَہْلُہُ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۔> [34] جو شخص حج تمتع کا عمرہ کرے تو اسے جو قربانی میسر آئے وہ کرنا ھوگی اور جس کے لئے قربانی کرنا ناممکن ھو تو اسے تین روزے حج کے زمانہ میں اور سات روزے جب وہ حج سے واپس آئے (رکھنے ھوں گے)اس طرح یہ دس دن پورے ھو جائیں گے یہ حکم اس شخص کے لئے ھے جو مسجد الحرام (مکہ) کے باشندہ نہ ھوں ۔ عمرہ تمتع کی حج کے ساتھ صفت بیان کرنے کا مطلب یہ ھے کہ حج کے مھینوں میں کسی ایک میقات سے احرام باندھنا ھوتا ھے پھر مکہ میں خانہ کعبہ کے طواف کے لئے داخل ھونا ھوتا ھے‘ اور نماز ادا کر نی پڑتی ھے ‘ اس کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنی ھوتی ھے اور پھر بال کٹواتے ھیں اس وقت احرام باندھنے کی وجہ سے جو کچھ حرام تھا وہ سب حلال ھو جائے گا۔ پھر اسی حالت پر باقی رھے اور اسی سال حج کے لئے ایک اور احرام باندھ کر عرفات کی طرف نکل جائے وہاں سے مشعر الحرام میں اعمال کے اختتام تک ٹھھرے۔ یھی عمرہ تمتع الی الحج ھے۔ اللہ تعالی نے جو ارشاد فرمایا ھے : فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَج ۔ اس سے مراد یہ ھے کہ جو اس میں متعہ اور لذت پائی جاتی ھے احرام کے محرمات وغیرہ (دونوں احراموں کی مدت کے درمیان) مباح ھوگئے ھیں۔ اب محرم اور غیر محرم میں کسی قسم کا فرق نھیں ھے۔ یہاں تک کہ اپنی بیویوں کو لمس بھی کر سکتا ھے۔ یھی قرآن کی شریعت ھے لیکن حکومت پر مسلط اور قابض بعض اصحاب نے اس کی مخالفت کی ۔احمد بن حنبل ابو موسی سے روایت بیان کرتے ھیں کہ ابوموسی نے متعہ کا فتوی دیا ایک شخص کھنے لگا تیرے بعض فتوے عجیب ھیں کیا تم نھیں جانتے امیر نے اس کے متعلق کیا کچھ نھیں کھاھے۔ ابو موسی کھتا ھے کہ میں حضرت عمر کے پاس گیا اور اس سے پوچھا تو حضرت عمر کھنے لگے جیسا کہ تو جانتا ھے کہ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب نے متعہ کیا لیکن میں اسے ناپسند کرتا ھوں ۔[35] ابی نضرہ حضرت جابر رضی اللہ سے روایت بیان کرتے ھیں کہ جابر نے کھاابن زبیر تو متعہ سے روکتا ھے لیکن ابن عباس متعہ کرنے کے لئے کھتے ھیں، راوی کھتا ھے کہ ھمارے سامنے یہ سیرت موجود ھے کہ ھم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے زمانے میں متعہ کرتے تھے۔ جب عمر خلیفہ بنے تو انھوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں انھوں نے کھابے شک رسول اللہ ھی رسول ھیں اور قرآن یھی قرآن ھے ان دونوں نے متعہ کی اجازت دی تھی اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اسی پر عمل بھی ھوتا رھالیکن میں تمھیں ان دونوں سے منع کررھاھوں اور جو شخص متعہ کرے گا، میں اسے سزا دوں گا۔ ان دونوں میں ایک متعہ النساء ھے۔ میرے پاس کوئی ایسا شخص نہ لایا جائے جس نے معینہ مدت کے لئے کسی عورت سے نکاح کیا ھو میں اسے پتھروں میں چھپا دوں گا (یعنی سنگسار کردوں گا )اور دوسرا متعہ الحج ھے ۔ [36] بالفاظ دیگر خلیفہ یہ کھنا چاھتے ھیں کہ خدا کا حکم ھے (کہ اس نے اسے جائز قرار دیا ھے) اور میرا یہ حکم ھے (کہ میں اسے ناجائز قرار دیتا ھوں )۔اس سے بڑھ کر (اللہ کے فرمان کی مخالفت کرنے میں)اور بڑا اعتراف کونسا ھوگا اوراس سے بڑی اور کیا جسارت ھو گی !!!۔ ۷۔مولفہ قلوب کا حصہ ختم کرنا اللہ رب العزت کا فرمان ھے: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیْہَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللهِ وَاِبْنِ السَّبِیلِ فَرِیضَةً مِنْ اللهِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ > [37] صدقات تو فقط محتاجوں ،مسکینوں اور صدقات وصول کرنے والوں اور ان لوگوں کا حق ھے جن کی قلبی تالیف منظور ھو نیز غلام آزاد کرنے اور قرض داروں کا قرض ادا کرنے کے لئے اور راہ خدا میں (مجاھدین کی تیاری)اور مسافروں کی امداد میں صرف کیا جائے اور یہ اللہ کی طرف سے مقرر ھو چکا ھے اور اللہ صاحب علم وحکمت ھے۔ آیت واضح طور پر یہ بتاتی ھے کہ صدقات مندرجہ بالا اصناف میں سے ھر اک صنف کا حصہ ھے۔ اور سیرت مستمرہ بھی یھی رھی ھے ۔لیکن جب حضرت ابوبکر خلیفہ بنے تو مؤلفة القلوب اس کے پاس آئے تا کہ اس سے اپنا حصہ وصول کریں۔ جس طرح یہ لوگ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مؤلفة القلوب کے عنوان سے وصول کرنے کی عادت بنا چکے تھے۔ حضرت ابوبکر نے انھیں ان کا حصہ لکھ دیا وہ لوگ یہ خط حضرت عمر کے پاس لےکر گئے تا کہ اس سے اپنا حصہ وصول کریں ۔ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کے خط کو پھاڑ دیا اور ان لوگوں سے کہا: ھمیں تمہاری کوئی ضرورت نھیں ھے اللہ نے ھی اسلام کو عزت دی ھے اور وہ تم لوگوں سے بے نیاز ھے اگر تم اسلام لے آؤ تو ٹھیک ھے وگرنہ ھمارے اور تمہارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔ وہ لوگ حضرت عمر کی اس جسارت کو دیکھ کر حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور ساراقصہ بیان کرنے کے بعد کہا: کیا آپ خلیفہ ھیں یا وہ خلیفہ ھے۔ حضرت ابوبکر کھتے ھیں انشاء اللہ وھی خلیفہ ھیں جو کچھ حضرت عمر نے فیصلہ کیا تھا اسی کے مطابق عمل کیا اور انھیں کچھ بھی نہ دیا ۔[38] اس آیت کریمہ پر امت اسلامیہ کا اجماع ھے کہ یہ آیت منسوخ نھیں ھوئی لہٰذا خلیفہ کے لئے یہ کس طرح جائز ھے کہ وہ کتاب وسنت کی مخالفت کرے اورقرآن وسنت کے مقابلہ میں صرف اپنی رائے پر عمل کرے!!! جب جناب سیدہ فاطمہ الزھرہ سلام اللہ علیھا نے اپنے والد محترم حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا تو حضرت ابوبکر کھنے لگے کہ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ھوئے سنا ھے کہ ھم انبیاء وراثت نھیں چھوڑا کرتے اور جو چیز ھم چھوڑ کر جاتے ھیں وہ صدقہ ھوتا ھے۔ اس کے بعد کھتے ھیں خدا کی قسم میں ھر اس کام کو ضرور انجام دوں گا جسے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انجام دیتے ھوئے دیکھا ھے۔ انشاء اللہ تعالی۔[39] جب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤلفة القلوب کو ان کا حصہ دیتے تھے تو حضرت ابوبکر نے ان کا حصہ کیوںختم کیا !!؟ ۸۔اذان واقامت سے حی علی خیر العمل کا نکالنا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں،حی علی خیر العمل اذان واقامت کا جز تھا۔ لیکن انھوں نے اللہ تعالی کے اس حکم کو اذان واقامت سے نکال دیا۔ امام مالک اپنی کتاب موطہ ابن مالک میں بیان کرتے ھیں کہ مؤذن حضرت عمر ابن خطاب کے پاس آیا تا کہ اسے نماز صبح کی اطلاع دے لیکن اس نے حضرت عمر کو سویا ھوا پایا تواس نے یہ جملہ کھا: الصلوٰةُ خیرٌ من النوم ۔ نماز نیند سے بھتر ھے۔ اس کے بعد حضرت عمر نے اس کو حکم دیا کہ صبح کی اذان میں اس جملے کا اضافہ کردیا جائے ۔ [40] زرقانی موطا ابن مالک کی شرح بیان کرتے ھوئے حضرت عمر کی روایت بیان کرتے ھیں کہ حضرت عمر نے مؤذن سے کھانماز فجر کی اذان میں جب تم (حی علی الفلاح )پر پھنچو تو تم( الصلوٰةُ خیرٌ من النوم ۔)کا اضافہ کردینا ۔ [41] ۹۔بیت المال کی تقسیم میں سیرت نبی(ص) سے انحراف حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ سیرت تھی کہ عطیات کو فوراً تقسیم کردیتے تھے اور تمام مسلمانوں کے درمیان مال غنےمت برابر برابر تقسیم فرماتے تھے۔ خواہ کو ئی عرب ھو یا غیر عرب مہاجر ھو یا انصار سب کو برابر کا حصہ ملتا تھا۔لیکن(آپ (ص)کی وفات کے بعد)اموال کی تقسیم میںکافی فرق کر دیا گیا۔ خصوصاً حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کے دور میں تو اس تقسیم میں بھت زیادہ فرق ھونے لگا،مثلاً کسی کو۳ ہزارکسی کو۴ ہزار کسی کو۵ ہزاریہاں تک کہ کسی کو۱۲ہزارتک دیا جانے لگا جب کہ عوام الناس اور فقراء کو ۲ہزار (۲۰۰۰)ملتا تھا ۔ خلیفہ ثالث کے دور میں تو کوئی حساب کتاب ھی نہ تھا اس کا جتنا جی چاھتا اتنا مال دے دیتا۔ اس نے اپنے خاندان کے قریبی رشتہ داروں کو عوام الناس پر مسلط کردیا ،گورنری اور دیگر حکومتی عھدوں کو فقط اپنے خاندان میں ھی منحصر کردیا تھا۔ [42] حضرت عثمان نے اپنے چچا حکم بن ابی عاص کو صدقات میں سے کثیر رقم قرابت داری کی وجہ سے عنایت کی حالانکہ حضرت رسول (اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اسے مدینہ سے نکال دیا تھا (اسی وجہ سے اسے طرید النبی(نبی کا نکالا ھوا )کھاجاتا ھے)۔ [43] بلازری اپنی کتاب انساب میں روایت بیان کرتے ھیںکہ اسے دیئے جانے والے صدقات کی مالیت تین لاکھ درھم تھی جب یہ واپس آگیا تو عثمان نے صدقات کی یہ رقم اپنے چچا حکم کو ھدیہ کر دیا۔[44] حضرت عثمان نے اپنے چچا زاد اور اپنی بیٹی ام ابان کے شوھر مروان بن حکم بن ابی عاص کو افریقہ سے حاصل ھونے والے غنائم کا خمس دے دیا جبکہ ان کی مالیت پانچ ملاکھ دینار تھی۔ اس وقت عبدالرحمن بن حنبل الجمعی الکندی شاعر نے خلیفہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کھے: دعوتْ اللعینَ [45] فاٴدنےتہُ خلافا لسنةمن قد مضیٰ واٴعطیتُ مروانَ خُمس الَعبا دظلما لھم وحمیتُ الحمیٰ تونے اپنے لعےن چچا کو بلا کرمال و دولت سے نوازا جبکہ اس کو بلانا تم سے پھلے والے لوگوں کی سنت اور سیرت کے خلاف تھا اور تو نے رشتہ داری کی وجہ سے اسے خمس دے کر دوسرے لوگوں پر ظلم کیا۔ [46] غنائم کی تقسیم کے حوالہ سے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور سیرت یہ تھی کہ اللہ کے لئے پانچواں حصہ اور باقی چار حصے لشکر والوں کے لئے ھوتے اور اس سلسلہ میں کسی کو کسی دوسرے پر کوئی برتری حاصل نھیں تھی۔ اپنی طرف سے کسی کے حصے میں اضافہ نھیں کیا کرتے تھے اور اگر کوئی زیادہ کا مطالبہ کرتا تو اس سے کھتے تھے کہ تم اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ حق دار نھیں ھو۔ جب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مال غنیمت لایا جاتا آپ اسے اسی دن تقسیم فرما دیتے اور اھل جنگ کو دوحصے اور باقی عربوں میں ایک حصہ بانٹا جاتا۔ [47] مندرجہ بالا مطلب کی روشنی میں صحابہ کرام خلیفہ ثانی سے راضی نہ تھے کیونکہ مال کی تقسیم کے حوالہ سے یہ بعض لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دیتے تھے جس کو کسی دوسرے پر کوئی فضیلت ھوتی اسے معتبر قرار دیتے جیسا کہ وہ حضرت نبی خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیگمات اور امہات مومنین کو دوسر ی عورتوں پرترجیح دیتے تھے اسی طرح بدری کو غیر بدری پر مہاجرین کو انصار پر اور مجاھدین کو گھر بیٹھنے والے پر وہ ترجیح دیتے تھے ۔[48] غلط تقسیم اور مالی تفاوت کی وجہ سے طبعی تفاوت بھی پیدا ھوگیا تھا اور انھوں نے اسلام کے خلاف چلنے کا فیصلہ کرلیا تھااور خلیفہ ثالث کے زمانہ میں تو یہ لوگ خاص طور پر زمانہ جا ھلیت کی طرف پلٹ گئے اس وقت غالب اور مغلوب طبقات پیدا ھوگئے ۔ جب ساری حکومت بنی امیہ کے ہاتھوں میں چلی گئی تو ایسا معلوم ھوتا تھا کہ یہ بوستان فقط قریش کے لئے ھے اور ان کے علاوہ کسی کو اس میں داخل ھونے کاکوئی حق نھیں ھے۔ یہ انحراف قرآن کی روشنی میں شجر ملعونہ کی شکل میں ظاھر ھوا اس کے بعد لوگ غلام بن گئے اور قرآن مجید میں موجود شجرہ ملعونہ کا ثمرہ یزید بن معاویہ اور اس جیسے دوسرے لوگ تھے ۔ اگرحضرت علی علیہ السلام کو حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے بعد خلافت مل جاتی اور تا حیات آپ کے پاس رھتی اور آپ کی شہادت کے بعد یہ خلافت،امین، طاھر اور نیک لوگوں اور اپنے سچے وارثوں کی طرف منتقل ھوتی رھتی اور اس کے وارث صحیح معنی میں ائمہ ھدی علیھم السلام قرار پاتے تو دنیا کے سامنے اسلام درست تابناک اور روشن چھرے کے ساتھ ظاھر ھوتا۔ جبکہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت بھت کم مدت کے لئے تھی اور آپ کو خلافت اس زمانہ میں ملی جس میں طبعی تفاوت اپنی انتھاء کو پھنچ چکے تھے کمزور لوگ مغلوب بنا لئے گئے تھے ھلاکت میں ڈالنے والی جنگوں کی وجہ سے ھر طرف وحشت ھی وحشت تھی۔ ان سپاہ سالاروں اور ان کی فتوحات پر ترقیاں اور انعامات دئیے جارھے تھے جبکہ اسلام کے صحیح وارثوں اور حقےقی امین لوگوں کو پس پشت ڈال دیا گیا جبکہ ان کے علم وعدالت سے لوگوں کی مشکلات کو حل کیا جاسکتا تھا اور یہ ھستیاں لوگوں کو آزادزندگی بسر کرنے کے وسائل فراھم کرسکتیں تھیں۔[49] ۱۰۔حکم بن ابی العاص کو مدینہ واپس بلانا خلےفہ ثالث کے چچاحکم بن ابی العاص کو مدینہ واپس بلایا گیا حالانکہ اس کو حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا اور اس پر لعنت کی تھی ۔ عجےب بات ھے کہ خلیفہ ثانی نے اللہ تعالی اور اس کے پاک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعتہ الحج اور متعة النساء جیسے احکام پر لوگوں کو عمل کرنے سے منع کر دیا حا لانکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ان پر عمل کیا جاتا تھا، یہ تو تھے حضرت ثانی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول(ص)کی اس طرح مخالفت کی۔ جہاں تک حضرت ثالث کا تعلق تھا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کو کسی اور انداز میں ٹھکراتے ھوئے اپنی خواھش پر عمل کرتے ھیں اور اسے مدینہ واپس لاتے ھیں جسے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا اور اس پر لعنت کی تھی۔ بلاذری اپنی کتاب انساب میں کھتے ھیں زمانہ جاھلیت میں حکم بن الی العاص حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پڑوسی تھا اور اسلام کا جانی دشمن تھافتح مکہ کے بعد مدینہ آیا اور اس نے مجبور ھو کر اسلام قبول کیاحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گفتگو فرماتے تو یہ ملعون آپ کی نقلیں اتارتا اور ناک منہ چڑھاتا تھا۔ جب حضرت نماز پڑھتے تو تو یہ پیچھے کھڑے ھو کر انگلیوں سے اشارے کرتا تھا حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی بد تمیزی سے مطلع کیا گیا اس وقت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بےگم کے حجرہ میں تشریف فرما تھے آپ باھر تشریف لا ئے ۔اور فرمایا یہ لعین قابل معافی نھیں ھے اسے اور اس کے بےٹے کو یہاں نہ رھنے دیا جائے۔ اصحاب نے ان دونوں کو طائف کی طرف نکال دیا اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد تو حضرت عثمان نے حضرت ابو بکر سے اس سلسلے میں بات کی اور اسے واپس بلانے کی درخواست کی حضرت ابو بکر نے یہ جملے کھتے ھوئے حکم ابن ابی العاص کو واپس لانے سے انکار کر دیا۔ اور کھامیں طرےد رسول اللہ کو واپس نھیں لا سکتا۔ اس کے بعد حضرت عمر خلیفہ بنے تو حضرت عثمان نے اسے واپس لانے کے لئے کھاتو حضرت عمر نے بھی حضرت ابو بکر والی بات دھرائی اور اسے واپس لانے سے انکار کر دیا لیکن جب حضرت عثمان خود خلیفہ بنے تو اسے واپس مدینہ لے آئے۔ میں نے بذات خود حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق بات کی تھی اور اسے واپس لانے کی درخواست کی تھی تو انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ ان کو واپس بلا لیا جائے گا لیکن اس سے پھلے آپ کی روح مالک حقےقی کی طرف پرواز کر گئی اور مسلمانوں نے انھیںمدینہ واپس بلانے سے انکار کر دیا ۔ [50] حاکم اپنی کتاب مستدرک میں لکھتے ھیں کہ حکم ابن ابی العاص نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آنے کی اجازت طلب کی حضرت نے اس کی آواز کو پہچان لیا اور فرمایا: کیا اسے اجازت دی جائے جس پر اور جو اس کے صلب میں موجود ھیں (اس پر)(مومنین کے علاوہ) اللہ نے لعنت کی ھے وہ اوراسکی اولاد فرےبی اور مکار ھیں دنیا میں ان سب پر لعنت ھے اور آخرت میں بھی ان کاکوئی حصہ نھیں ھوگا۔[51] حکم بن ابی العاص قرآن کی نظر میں ابن ابی حاتم روایت بیان کرتے ھیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ھیں کہ میں نے حکم بن ابی العاص کے بےٹے کو بندروں کی طرح دےکھا اللہ تعالی نے اس کے بارے میں فرمایا : ِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی اٴَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِی الْقُرْآنِ> [52] جیسے آپ نے دےکھا ھے وہ ھم نے اس لئے دکھا یا ھے کہ وہ لوگوں کے درمیان فتنہ ھے اور قرآن میں وہ شجرہ ملعونہ ھے [53] ابن ابی حاتم ،ابن مردویہ ، نسائی اور حاکم نے عبداللہ سے روایت صحیحہ بیان کی ھے کہ جب مروان خطبہ دے رھاتھا تو اس وقت میں مسجد میں موجو د تھا وہ کھنے لگا اللہ تعالی نے امیر المومنین ےعنی معاویہ کو ےزید کے متعلق ایک خوبصورت خواب دکھایا کہ وہ اپنے بعد اس (ملعون)کو خلیفہ بناجائے جس طرح ابو بکر نے حضرت عمر کو خلیفہ منتخب کیا۔ عبدالرحمن بن ابو بکر کھنے لگے: اے چوڑی باچھوں والے یہ کیا بات ھے خدا کی قسم حضرت ابو بکر نے اپنی اولاد میں سے کسی کو خلیفہ منتخب نہ کیا اور اسی طرح اپنے خاندان میں بھی کسی کو خلیفہ نہ بنایا تھا ۔لہٰذا معاویہ کو بھی نھیں چاھےے تھا کہ وہ اپنے بےٹے کو خلافت کے لئے منتخب کرے جبکہ یہ سب کچھ اس نے اپنے بےٹے پرلطف و کرم کیا ھے۔ مروان نے کھاکیا اس طرح کھنے سے تو اپنے والدین کو برا بھلا نھیں کہہ رہا؟عبد الرحمن نے کہاکیا تو ابن لعین نھیں ھے کیا تیرے باپ پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت نھیںکی تھی؟ جب حضرت عائشہ نے یہ سنا تو مروان سے کھنے لگیں مراون تو عبدالرحمن کے ساتھ اس طرح کی باتیں کرتاھے یہ(مندرجہ ذیل )آیت عبدالرحمن کے بارے میں نازل نھیں ھوئی بلکہ تیرے باپ کے بارے میں نازل ھوئی ھے اللہ نے فرمایا : وَلاَتُطِعْ کُلَّ حَلاَّفٍ مَہِینٍ ۔ ہَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِیمٍ>[54] اور کسی ایسے شخص کی بات تسلیم نہ کرنا جو بڑا قسمیں کھانے والا، ذلیل خیال، عےب جو اور چغلخور ھو ۔[55] جناب ابو ذرحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل کرتے ھیں کہ ابی العاص کے بےٹوں نے تےس (۳۰)افراد کے ساتھ اللہ کے مال کو لوٹا اللہ کے بندوں کو غلام بنا کر ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا اور اللہ کا دین اختیار کر کے اس کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ حلام بن جفال کھتا ھے کہ جب لوگوں نے ابوذر کی اس بات کو تسلیم نہ کیا توحضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے گواھی دی کہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ھے آپ نے فرمایا : ما اظلت الخضراء ولا اقلت الخبراء علی ذی لھجہ اصدق من ابی ذر۔ نیل گوں آسمان کے سایہ میں اور زمےن کے اوپر کوئی اےسا شخص نھیں جو حضرت ابوذر سے زیادہ سچا ھو (ےعنی ابوذر سب سے زیادہ سچے ھیں ) پھر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا میں یہ بھی گواھی دیتا ھوں کہ یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ھے ۔ بھرحال آپ لوگ غور فرمائیں یہ حکم ابن ابی العاص کاواضح و روشن چھرہ ھے، اسے شھر سے نکالا گیا تھااور یہ خلےفہ ثالث کا چچا تھا۔ علامہ امینیۺ اپنی کتاب الغدیر میں ارشاد فرماتے ھیں: ھمارے ذھن میں یہ سوالات ابھرتے ھیں کہ ھم خلیفہ سے پوچھیں کہ (جس لعین کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا اس کے بارے میں آپ کو بھی تو معلوم تھا )اور قرآن مجےد کی آیت بھی اس کی مذمت میں نازل ھو ئی ھے اور اس طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کا بھی علم ھے کہ حضور نے اس پر اور اسکی پوری نسل پر لعنت کی ھے( مگر جو اس کے صلب سے مومن پیدا ھو اور وہ بھت ھی کم ھیں) اے خلےفہ وہ کونسی وجہ تھی جو آپ کو اسے مدینہ واپس بلانے پر مجبور کر رھی تھی جب کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اور اس کے بےٹوں کو مدینہ سے نکال دیا تھا کیونکہ ان میں اموی پلیدگی اور گند گی پائی جاتی تھی اور اب خلیفہ سوم اسے دور کرنے کی کوشش کررھے ھیں۔ خلےفہ سوم اس سے پھلے حضرت ابو بکر اور پھر حضرت عمر سے بھی واپس بلانے کی درخواستےں کر چکے تھے اور انھوں نے یہ جواب دے کر اس کی درخواستوں کوردّ کردیا تھا کہ یہ ھمارے لئے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عھد کو توڑنا جائز نھیں ھے۔ حلبی اپنی سیرت کی دوسری جلد کے ۸۵ ویں صفحہ پر لکھتے ھیں: جس کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا اور اس پر حضور نے لعنت کی تھی اور وہ طائف کی طرف چلا گیا تھا اور وہاں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے زمانے تک رھاحضرت عثمان نے حضرت ابو بکر سے اسے مدینہ واپس لانے کی درخواست کی تو حضرت ابو بکر نے واپس لانے سے انکار کر دیا۔ حضرت عثمان سے کھاتیرے چچا کو واپس لاؤ ں؟تیرا چچا تو جھنم میں ھے میرے لئے بھت ھی مشکل ھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کو بدل دوں( اےسا ممکن نھیں ) ۔جب حضرت ابو بکر وفات پا گئے اوراس کے بعد حضرت عمر خلیفہ بنے توحضرت عثمان نے وھی جملے حضرت عمر سے دھرائے۔ حضرت عمر نے جواب دیا: عثمان تجھ پر بھت افسوس ھے کہ تو اس شخص کے متعلق درخواست پیش کر رھاھے جس پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی تھی اور اسے مدینہ سے نکال دیا تھا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دشمن ھے۔لیکن جب حضرت عثمان خود مسند خلافت پر بےٹھے تو اس لعین کو مدینے واپس لے آئے، یہ بات مہاجرین اور انصار کے دلوں پر بھت سخت نا گوار گزری اور بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے لئے بھی یہ بات بھت گراں تھی اور انھوں نے اس کی مخالفت کی اوریہ بات ان کے نزدیک عثمان کے خلاف قیام کرنے کا بھت بڑا سبب تھا ۔ علامہ امینیۺ قدس سرہ کھتے ھیں کیاخلیفہ وقت کے لئے رسول کو نمونہ نھیں مانتے تھے؟ جب کہ خدا وند عالم حضرت کے متعلق ارشاد فرماتا ھے ۔: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللهِ اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللهَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللهَ کَثِیرًا > [56] مسلمانوں تمہارے لئے تو رسول اللہ کی زندگی ایک بھترین نمونہ ھے(لیکن یہ اس شخص کے لئے ھے )جو خدا اور روز آخرت کی امید رکھتا ھو اور کثرت سے خدا کی یاد کرتا ھو۔ یا یہ کہ خلیفہ سوم اپنی قوم اورساتھیوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ پسند کرتے تھے جب کہ قرآن حکیم بھی ان کے پاس موجود تھا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ھے : قُلْ إِنْ کَانَ آبَاؤُکُمْ وَاٴَبْنَاؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَاٴَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیرَتُکُمْ وَاٴَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوہَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا اٴَحَبَّ إِلَیْکُمْ مِنْ اللهِ وَرَسُولِہِ وَجِہَادٍ فِی سَبِیلِہِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَاٴْتِیَ اللهُ بِاٴَمْرِہِ وَاللهُ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ> [57] اے رسول کہہ دو کہ تمہارے باپ دادا نے اور تمہارے بےٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے رشتہ دار نےز وہ مال جو تم نے کمایا اور وہ تجارت جس کے نقصان کا تمھیں اندےشہ ھے اور وہ مکانات جنھیں تم پسند کرتے ھو اگر (یہ سب چیزےں)تمھیں خدا اور اس کے رسول اور ان کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزےز ھیں تو تم انتظار کرو یہاں تک کہ خدا کا حکم (عذاب)آجائے اور خدا نافرمان لوگوں کو ھدایت نھیں کرتا ۔ [58] ۱۱۔غلاموں پر بھروسہ مملکت چلانے کے لئے غلام زادوںپر بھروسہ کیا گیااور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض مخلص اصحاب کو دشمنی کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا ان غلام زادوں میں چند مندرجہ ذیل ھیں : ۱۔ معاویہ بن ابو سفیان خلیفہ ثانی نے اسے شام کا گورنر بنایا اور اس نے شام میں ۲۲/سال تک حکومت کی۔[59] خدا کی قسم ھماری سمجھ نھیں آتا کہ خلیفہ ثانی کی نظر میں اس کی کونسی سی فضیلت تھی جس کے پیش نظر اسے شام کی گونری کے لئے معین کیا گیاحا لانکہ یہ کافروں کے سردار اور بھت بڑے منافق ابو سفیان کا بیٹا تھا کیا دین اسلام میں اس کا کوئی کردار تھا؟ کیا جہاد میں اس کی کوئی فضیلت تھی؟ کیا اسلام کی تروےج کا اس نے کوئی بوجھ اٹھایا تھا؟ (ےقےنا نھیں)تو پھر سب سے پھلے اسلام لانے والوں جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں اور تقوی میں بلند مقام حاصل کرنے والے لوگوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟!! ھمیں نھیں معلوم کہ اللہ کی بارگاہ میں اس کا کیا جواب دیں گے جب کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ان کی نظروں کے سامنے تھا : من اِستعمل عاملاً من المسلمےن وھو ےعلم اٴنَّ فےھم اٴولیٰ بذلک منہ واٴعلم بکتاب اللہ و سنةِ نبیہ فقد خانَ اللہُ ورسولَہ وجمےع المسلمینَ۔ اگر کوئی شخص یہ جانتے ھوئے کسی بد کردار شخص کو حکومت کے کسی عھدے پر نصب کر ے جب کہ اس سے بھتر افراد مسلمانوں موجود ھوں جو اللہ کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ جانتے ھوں تو اس نے اللہ ، اس کے رسول(ص) اور تمام مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی ھے۔[60] ابن ابی الحدید شرح نھج البلاغہ میں معاویہ کے بارے میں کھتے ھیں۔ ھمارے بزرگوں کی رائے کے مطابق معاویہ اپنے دین میں مطعون ھے اور علماء اس کو زندےق سمجھتے ھیں۔اس طرح وہ مزید کھتے ھیں ھمارے بزرگ اپنی علم کلام کی کتابوں میں بیان کرتے ھیں یہ ملحد تھا ، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جھگڑتا تھا اس میں جبر اور ارجاء کا عقیدہ پایا جاتا تھا اس کا کوئی اور جرم نہ بھی ھوتا تو بھی اس کے مفسد ھونے کے لئے یہ کافی ھے کہ اس نے امام علیہ السلام سے جنگ کی تھی۔[61] ۲۔ولید بن عقبہ بن ابی معےط یہ ماں کی طرف سے خلیفہ ثالث کا بھائی تھا اس کا باپ عقبہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت ترےن دشمن تھا اور حضور کو اذیت پھنچانے میں کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا ۔ حضرت عائشہ روایت بیان کرتی ھیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ابو لھب اور عقبہ بن معےط جیسے گندے اور شرےر لوگوں کاھمسایہ تھا یہ دونوں کوڑاوغیرہ اٹھا کر میرے دروازے پر پھنک جایا کرتے تھے۔[62] اس ملعون کے متعلق مشھورواقعہ ھے کہ اس نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جسارت کی اور آپکے (مقدس اور پاک )چھرے پر لعاب دھن پھےنکا۔ اس ملعون کے بارے میں خدا وند عالم نے اس طرح ارشاد فرمایا : وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْہِ یَقُولُ یَالَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیلًا۔ یَاوَیْلَتِی لَیْتَنِی لَمْ اٴَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیلًا ۔ لَقَدْ اٴَضَلَّنِی عَنْ الذِّکْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَ نِی وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولاً > [63] اور جس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹے گا اور کھے گا کہ کاش میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ھمرا ہ ھوتا ہائے افسوس میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ھوتا باتحقےق میں تو ذکر کے آجانے کے بعد گمراہ ھوگیا اور شےطان انسان کو بھت ذلیل و رسوا کرتا ھے[64] یہ تو ولید کے باپ کے متعلق تھا اور جہاں تک خود ولید کا تعلق ھے تو یہ وحی مبین کی زبان میں فاسق زانی ،فاجراورشرابی و کبابی ھے اور اس نے دین کو تباہ و برباد کیا ھے اور بڑے بڑے اصحاب کو اس نے کوڑے مارے اس نے صبح کی نماز میں چار رکعتےں پڑھیں اور شراب کے نشے میں چور ھو کر یہ شعر کھنے لگا : علق القلب الربابا بعد ما شابت و شابا میں جب سے جوانی کا مالک بنا ھوں اس وقت سے میرا دل سرداری کے لئے مچل رھاھے پھر نشے میں کھنے لگا میںاس سے بھی زیادہ رکعتےں پڑھوں گا۔ یہ سن کر ابن مسعود نے جوتے سے اس کی پٹائی کی اور تمام نمازیوں نے ھر طرف سے اس پر پتھر بر سائے تویہ بھاگ کر اپنے گھر میں گھس گیا ۔[65] قارئین کرام! ھم یہ کھتے ھیں کہ اس جیسے گمراہ شخص کی طرف ان کی نظریں کیوں لگی ھوئی تھیں جب کہ خدا وند متعال نے قرآن مجےد میں اس ملعون کا اس طرح تعارف کروایاھے ۔ اِنْ جَا ءَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَباٴٍ فَتَبینواْ ۔> اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لائے تو اس میں اچھی طرح چھان بین کر لیا کرو۔ کیااس (ملعون)جیسا فاسق انسان کیو نکر اللہ کے حدود ،اس کے احکام، مسلمانوں کے اموال اور عزتوں کا نگھبان ھو سکتا ھے ؟! اٴنّا للّٰہ و اِناّ اِلیہ راجعون۔ ۳۔عبداللہ بن ابی سرح یہ خلیفہ ثالث کا رضائی بھائی تھا اس کو مصر کا گورنر بنایا گیا اس نے فتح مکہ سے پھلے اسلام قبول کیا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ ھجرت بھی کی تھی لیکن بعد میں مرتد اور مشرک ھو گیا تھا۔ اور قریش مکہ کے ساتھ جا ملا تھا،اور ان سے کھنے لگا : میں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی کاری ضرب لگائی ھے جیسی میں چاھتا تھا۔ جب مکہ فتح ھو گیا تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا کہ اس( ملعون)کا خون مباح ھے اگرچہ یہ خانہ کعبہ کے غلاف میں ھی کیوں نہ چھپا ھو۔ یہ حضرت عثمان کے پاس چلا گیا اور حضرت عثمان نے اس کو چھپا دیا یہاں تک کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اھل مکہ سے اطمینان حاصل ھو گیا تو حضرت عثمان نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے لئے امان مانگی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافی دےر تک خاموش رھے۔ پھر فرمایا ہاں اسے امان ھے۔جب حضرت عثمان چلے گئے تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ارد گرد بےٹھنے والے صحابیوں سے ارشاد فرمایا: میں اتنی دےر صرف اس لئے خاموش رھاتھا تاکہ تم میں سے کوئی شخص اس کی گردن اڑا دے۔[66] قرآن مجےد نے سورہ انعام میں اس کے کفر کا اس طرح اعلان فرمایاگیا ھے: وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَی عَلَی اللَّہِ کَذِبًا اٴَوْ قَالَ اٴُوحِیَ إِلَیَّ وَلَمْ یُوحَ إِلَیْہِ شَیْءٌ وَمَنْ قَالَ سَاٴُنزِلُ مِثْلَ مَا اٴَنزَلَ اللَّہُ۔> [67] اس سے بڑھ کر کون ظالم ھو گا جو خدا پر جھوٹ اور افتراء پر دازی کرے اورکھے کہ ھمارے پاس وحی آئی ھے حا لانکہ اس کے پاس کو ئی وحی وغیرہ نھیں آئی یا وہ یہ دعوی کرے کہ جیسا خدا وند عالم نے قرآن نازل کیا ھے میںبھی اےسا قرآن عنقریب نازل کئے دیتا ھوں۔ تمام مفسرےن اس بات پر متفق ھیں کہ یہ عبداللہ بن ابی سرح کے الفاظ ھیں کہ میں بھی عنقریب ایسا ھی قرآن نازل کرونگا جس طرح اللہ تعالی نے نازل کیا ھے۔[68] اے اھل دین اور اھل انصاف کیا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمال معین کرنے کا یھی معیار اور شرائط بیان فرمائے تھے جن کا ھم معاویہ کے متعلق کی گئی بحث میں ذکر کر چکے ھیں کیا یہ کھلی ھوئی جاھلیت نھیں ھے ؟ کیا یہ حکم خدا اور رسول سے انحراف نھیں ھے ؟یقینا یہ تو الٹے پاؤ ں جاھلیت کی طرف پلٹنا اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام سے انحراف کرنا ھے ۔!!! ۴۔سعید بن عاص خلیفہ ثالث نے ولید کو کوفہ کی گورنری سے معزول کر کے اس کو کوفہ کا امیر بنایا حالانکہ اسلام میں اس کا کوئی کردار نھیں تھا جہاں تک اس کے (ملعون )باپ عاص کا تعلق ھے وہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت دشمن تھا اور آپ کو وہ اذیت دیا کرتا تھا اسی(معلون )کو حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے جنگ بدر میں شرک کی حالت میں فی النار کردیا تھا۔[69] جہاں تک سعید کا تعلق ھے تو یہ ایک بے راھرو نوجوان تھا اور کسی قسم کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کی اھلیت نہ رکھتا تھا اور اسے گورنر بنا دیا گیا اس نے اپنی گورنری کے پھلے دن سے لوگوں کو بھڑکا یا تو کوفہ کے لوگوں کو اس کی شقاوت اور گفتگو میں تضاد کا پتہ چل گیا وہ کھتا تھا کہ اس باغ(اسلامی حکومت) کی سرداری قریش کے بے راہ رو جوانوں کے لائق ھے۔ اس کودین اوراحکام کے متعلق کسی چیز کا ذرا برابر علم نہ تھا اس نے ایک مرتبہ کوفہ میں کھاکہ تم میں سے چاند کس نے دیکھا ھے( یہ چاند دیکھنا عید الفطر کے موقع پر تھا) لوگوں نے کھاکہ ھم میں سے کسی نے بھی چاند نھیں دیکھا۔ ہاشم بن عقبہ (جو کہ جنگ صفین میں امیرالمومنین علی ا بن ابی طالب کے علمبردار تھے) نے کھاکہ میں نے چاند دیکھا ھے سعید نے اس سے کھاتم نے اپنی ان اندھی آنکھوں کے ساتھ چاند دیکھ لیا ھے اور پوری قوم نے نھیں دیکھا ؟ہاشم نے کھاتم میری ان آنکھوں کا عیب نکال رھے ھو جب کہ میری یہ آنکھ تو اللہ کی راہ میں خراب ھوئی ھے (ان کی یہ آنکھ غزوہ یرموک میں خراب ھوئی تھی) جناب ہاشم نے اگلے دن روزہ نہ رکھا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ صبح کھانا تناول کیا جب سعید تک یہ خبر پھنچی تو اس نے اپنے سپاھی بھیجے جنھوں نے ہاشم کو مارا پیٹا اور ان کے گھر کو جلا کر راکھ کردیا۔[70] قارئین کرام! حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے اس ظالم،سرکش اور بے راہ رو شخص کی جہالت کو ملاحظہ کریں کہ وہ روایت جسے اصحاب صحاح نے نقل کیا ھے یہ اس سے بھی ناواقف اور جاھل تھا ارشاد ھوا : صوموا لرؤیتہ و افطروا لرؤیتہ۔چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔ بھت سی چیزوں کے متعلق کوفیوں نے اس کی ملامت کی ھے اور خلیفہ سے اس کی شکایت کی لیکن کوئی شنوائی نہ ھوئی اور جب اسے ان شکا یات کا علم ھوا تو اس نے کوفہ والوں کو بھت مارا اور انھیں سخت اذیتیں دیں ۔[71] حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان فساد امتی علی ید غلمہ سفھاء من قریش ۔ قریش کے بے وقوف جوانوں کے ہاتھوں میری امت میں فساد برپا ھوگا۔[72] اسی وجہ سے قریش کا چھوکرا سعید بن عاص کوفہ کا والی بن گیا وہ کھتا تھا کہ اس باغ کی سرداری قریش کے چھوکروں کے لائق ھے ۔ ۵۔عبداللہ بن عامر بن کریز ۔ یہ خلیفہ ثالث کا ماموں زاد بھائی تھا ابو موسی اشعری کو بصرہ اور عثمان بن ابوالعاص کو فارس سے معزول کرنے کے بعد خلیفہ نے اس کو بصرہ اور فارس کا والی بنایایقینا آپ کو اس بات پر تعجب ھوگا۔ لیکن اس سے زیادہ تعجب انگیز بات مندرجہ ذیل ھے کہ شبل بن خالد عثمان کے پاس آیا اس وقت امویوں کے علاوہ کوئی بھی اس کے پاس موجود نھیں تھا ۔شبل نے کھااے خاندان قریش تمھیں کیا ھو گیا ھے تم نے اپنے خاندان کے تمام لوگوں کو نجیب بنا دیا ھے اس خاندان کے تمام غریبوں کو غنی بنادیا ھے اور ھر گمنام کو نامور بنادیا ھے تم لوگوں نے ابوموسی اشعری جیسے بزرگوں کو ان کے عھدوں سے معزول کردیا اور عراق کے حق کو نظرانداز کردیا ھے ۔حضرت عثمان نے کھاایسا کس نے کھاھے اس نے عبداللہ بن عامر کی طرف اشارہ کیا ،جس وقت اسے والی بنایا گیا تھا اس وقت اس کی عمر سولہ سال کی تھی ۔[73] ابو عمر نے عبداللہ بن عامرکے حالات زندگی میں اسے چوبیس سال کا اور ابو الیقطان نے چوبیس یا پچیس سال کا نوجوان ذکر کیا ھے ۔[74] حضرت عثمان نے ان جیسے لوگوں کو اپنی خلافت میں والی مقرر کیا ، اور وہ ان کے تمام کرتوت جانتا تھا جبکہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان موجود ھے: من اِستعمل عاملامن المسلمین وھویعلم اٴن فیھم اٴولیٰ بذلک منہ واٴعلم بکتاب اللہ وسنةنبیہ فقد خان اللہ و رسولہ و جمیع المسلمین ۔ جو شخص مسلمانوں میں سے کسی کو عامل مقرر کرے اور وہ یہ جانتا ھو کہ (جسے اس نے والی بنایا ھے)اس سے بھتر افراد موجود ھیں جو اللہ کی کتاب اور اس کے نبی (ص)کی سنت کو زیادہ بھتر جانتے ھیں تو گویا اس (والی مقرر کرنے والے) نے اللہ اس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔[75] جب آپ ان والیوں کی صلاحیت پر ذرا گھراھی کے ساتھ غور کریںگے تو آپ کو معلوم ھو جائے گا کہ ان میں ایسے اشخاص بھی ھیں جنھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا اور ان پر لعنت کی یا وہ جھوٹوں کے سردار اور فسق و فجور کے پیکر تھے۔ اور قرآن مجید نے ان کی فصیحت بیان کی ھے اور ان تمام غلام زادوں کی جائے پناہ خلیفہ ثالث تھی اس طرح انھوں نے بے راہ رو چھوکرے مسلمانوں پر حاکم اور والی بنادئےے یہ سب لوگ اسلام اور مسلمانوں کے لئے وبال جان بن گئے اور وہ ھمیشہ دین اور اللہ کے صالح افراد کے ساتھ جنگ کرنے میں مشغول رھتے تھے اور ان لوگوں سے ظاھر ھونے والا فسق وفجور ان کے اسلام سے منحرف ھونے کی واضح وروشن دلیل ھے۔ [1] بحوت فی الملل والنحل شیخ جعفر سبحانی ج ۴۴،تا ریخ طبری ج ۲ ص۶۲ ،۶۳، تاریخ ابن اثیر ج ۲ ص۴۰ ، ۴۱۔ [2] بحوث فی الملل والنحل ج ۶ ص۴۵ ،صحیح بخاری ۵ باب فضائل اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، باب مناقب حضرت علی علیہ السلام ۲۴۰۔ [3] ابن حجر کی کتاب الصواعق المحرقہ ص۴۳ ،۴۴ ، اسی طرح مسند امام احمد ج ۴ ص۳۷۲۔ [4] بحوث فی الملل والنحل ج ۶ ص ۵۰ [5] شیخ جعفر سبحانی کی کتاب الا لھیات ج ۲ ص ۵۸۶ ، ۵۸۷۔ [6] ابن ابی الحدید کی شرح نھج البلاغہ ج ۱۰ ،ص ۵۶ ،۵۷۔ [7] الغدیر ج ۲ ص ۱۸۱ ۔ [8] الالھیات ج ۲ص۶۰۰۔ [9] مسند احمد ج ۳ ص ۱۷ تا ۲۶ مسند احمد نے اس حدیث کو ابی سعید خدری سے نقل کیا ھے ۔ [10] المستدرک علی الصحیحین ج ۳ ص ۱۵۱ ۔ [11] بحوث فی الملل والنحل ج ۱ ص ۳۳۔ [12] المستدرک علی الصحیحین ج ۳ ص۱۴۹۔ [13] سورہ مائدہ :۵۵۔ v [14] سورہ احزاب:۳۳۔ [15] سورہ آل وعمران آیت ۶۱۔ [16] سورہ مائدہ:۳۔ [17] الا لھیات ج ۲ ص۵۸۶ ۔ [18] سورہ شوریٰ آیت۲۳۔ [19] شرح نھج البلاغہ ج۶ ص۴۷۔ [20] شرح نھج البلاغہ ج۶ص ۲۰۔ [21] سورہ نور: آیت۳۶۔ [22] سیوطی درمنثور میں مندرجہ بالاآیت کی تفسیر بیان کرتے ھوئے ۔ [23] ابن قتیبہ کی الامامة والسیاسة ج۱ ص ۲۰۔ [24] الامامة والسیاسة ابن قتیبہ ج۱ ص ۱۹۔ [25] امام شرف الدین موسوی کی کتاب النص والاجتھاد ص ۶۸ تا ۷۱۔ [26] سورہ احزاب:۳۳۔ [27] طبرسی کی کتاب الاجتحاج ص ۹۰،۹۲۔ [28] مجلہ رسالہ مصریہ نمبر ۵۱۸ ،السنہ :۱۱ص ۴۵۷۔ [29] شرح نھج البلاغہ ج۴ ص ۱۰۶۔ [30] شھید سید محمد باقر الصدر کی فدک فی التاریخ ص ۴۷۔ [31] تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۳۱،۱۳۲۔ [32] سورہ انفال:۴۱ [33] بحوث فی الملل والنحل جعفر سبحانی ج۶ص ۹۲،۹۳۔ [34] سورہ :بقرہ :۱۹۶ [35] بحوث فی الملل والنحل ج ۶، ص ۹۰،۹۲صحیح مسلم ج۱ ص۴۷۲ مسند احمد ج۱ ص۵۰ وغیر ۔ [36] سنن بیہقی ج۷ ص۲۰۶،الغدیر ج۶ ص۲۱۰۔ [37] سورہ توبہ آیت۶۰۔ [38] بحوث فی الملل والنحل ج۶ص۹۳،۹۴منقول از الجوھرہ النیرہ فی الفقہ الحنفی ج۱ص۱۶۴۔ [39] امامت و سیاست ج۱ ص۲۱۔ [40] بحوث فی الملل والنحل ج۶ص۸۷۔ [41] موطا مع شرح الزرقانی ج۱، ص۱۵۰، طبع مصر باب ماجاء فی النداء فی الصلوة، حدیث نمبر ۸۔ [42] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص۳۱۳۔ [43] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۴۱۔ [44] انساب الاشراف بلاذری ج۵ ص۲۸۔ [45] لعین سے مراد حکم ابن ابی العاص ھے جس پر حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی تھی اور اسے مدینہ سے نکال دیا تھا ۔ [46] ابن قتیبہ کی کتاب المعارف ص ۸۴۔ [47] سنن البیہقی ج۶ ص ۳۲۴،سنن ابی داؤد ج۲ ص ۲۵،مسند احمد ج۶ ص۲۹۔ [48] ابن جوزی کی تاریخ عمر ابن الخطاب ص۷۹،۸۳اور بلاذری کی فتوح البلدان ص ۴۵۳۔ [49] سیرت ائمہ اثنا عشر ج۱ ص۳۱۴۔ [50] بلاذری کی کتاب ا نساب ج ۵ ص۲۷۔ [51] حاکم کی کتاب مستدرک ج ۴ ص۴۸۱ ۔ [52] سورہ اسراء آیت:۶۰۔ [53] علامہ امینی ۺکی الغدیر ج ۸ ص۲۳۹۔ [54] سورہ قلم :۱۰۔۱۱۔ [55] سیرت حلبیہ ج۱ ص۳۳۷، تفسیر شو کافی ج ۵ص۲۶۳،درمنثور ،سیوطی ص۴۱ ۔اور ص۲۵۱۔ [56] سورہ احزاب:۲۱ [57] سورہ توبہ :۲۴ [58] کتاب الغدیر ج ۸ ص۲۵۴ ،۲۵۵۔ [59] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص۳۳۸۔ [60] مجمع الزوائد ج ۵ ص۲۱۱، سنن بیہقی ج ۲۰ ص۱۱۸۔ [61] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص۳۴۰ ۔ [62] طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۱۸۶ ۔ [63] سورہ فرقان :۲۷ تا ۲۹ ۔ [64] سیرت ابن ھشام ج۱ ص۳۸۵ ۔ [65] الغدیر علامہ امینی ج۸ ص۲۷۴۔ [66] بلازری کی انساب ا لاشراف ج ۵ ص ۴۹۔ [67] سورہ انعام:۹۳ [68] تفسیر قرطبی ج ۷ص۴۰ زمخشری کی تفسیر کشاف ج ۱ ص۴۶۱ وغیرہ ۔ [69] طبقات ابن سعد:ج۱ص۱۸۵۔ [70] طبقات ابن سعد ج۵ ص۲۱۔ [71] الغدیر ج۸ ص۲۷۰۔ [72] حاکم کی کتاب المستدرک ج۴ ص۴۷۰۔ [73] الغدیر ج ۸ص ۲۹۰ ۔ [74] الغدیر ج ۸ ص ۲۹۰۔ [75] مجمع الزوائد الھیثمی ج۵ص۲۱۱۔    

حضرت علی(علیہ السلام) اور قبولِ خلافت


حضرت علی(علیہ السلام) اور قبولِ خلافت ایسے مشکل حالات میں لوگوں کی ناراض اکثریت نے علی ابن ابی طالب علیه السلام کی خدمت میں پناہ لی اور آنحضرت علیہ اسلام کے انکار کے باوجود آپ کو مسندخلافت پر بٹھادیا۔ درحقیقت یہ پھلی بار تھا کہ لوگوں کی اکثریت نے خود جوش طور پر داعیٴ بیعت کے عنوان سے ایک لائق ترین فرد ، ایسے شخص کے ھاتھوں پر بیعت کی۔ عمر اور عثمان نے اپنے پھلے والے خلفا کی وصیت کے مطابق خلافت حاصل کی۔ اور ابوبکر کے بارے میں بھی مسئلہ علی ابن ابی طالب+ کی طرح نھیں تھا۔ شروع میں چند گنے چنے افراد نے ان کی بیعت کی اور بعد میں تیزی کے ساتھ کچھ حوادث کا پیش آ نا( جس کا سبب مھاجرین و انصار اور اوس و خزرج کے درمیان پوشیدہ و آشکار رقابتیں نیز بیرونی دھمکیاں بھی تھیں) جو اس بات کا سبب بنا کہ ان کی شخصیت اور موقعیت مستحکم ا ور پائیدار ھو جائے ۔ شاید یھی وجہ تھی کہ عمر بعد میں مختلف مواقع پر کھا کرتے تھے :” ابوبکر کی بیعت ناگھانی اور بغیر سوچے سمجھے ھوگئی کہ خداوندعالم نے مسلمانوں کو اس کے شر سے محفوظ رکھا۔ پس قتل کردو اس شخص کو جو اس شر کی طرف پلٹنا چاھتا ھے (یعنی جو ابوبکر کی طرح بیعت کروانا چاھتا ھے)[1] حضرت علی (علیہ السلام) نے بدترین حالات میں قدرت اور منصب خلافت کو سنبھالا اور ان مشکلات کو تحمل کرنے پر مجبورھوئے جن مشکلات کو پیدا کرنے میں آپ کا ذرا سا بھی ھاتھ نہ تھا۔ بنیادی طور پر آنحضرت(علیہ السلام)  کی بیعت کے لئے لوگوں کا ھجوم صرف اس لئے تھا کہ یہ مشکلات حل ھوجائیں۔ ان لوگوں کی نظر میں ان مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھنے والا واحد شخص صرف اور صرف آنحضرت(علیہ السلام)  کی ذات والا صکات تھی، تقریباً تمام بیعت کرنے والوں کی چاھت بھی یھی تھی۔[2]ان لوگوں کی تعداد بھت کم تھی کہ جنھوں نے  ذاتی صلاحیت کی بنا پر آپ کو خلافت کے لائق سمجھتے ھوئے اور وصیت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کی پیروی کرتے ھوئے آنحضرت(علیہ السلام)  کی بیعت کی تھی۔ اگرچہ بعد میں اُنھیں کم افراد کے چھوٹے سے گروہ کی مدد سے آنحضرت(علیہ السلام)  بڑی بڑی مشکلوں پر فائق آگئے۔ حقیقت یہ ھے کہ سابق خلفا میں سے کسی ایک نے بھی ایسے مشکل حالات میں منصب خلافت کو نھیں سنبھالا۔ کچھ مدت کے بعد جو لوگ عمر کی خلافت کے آخری ایام سے اس عھدہٴ خلافت پر قبضہ کرنے کی  فکر میں پڑ گئے تھے اور عثمان کے دور ھی سے اپنے آپ کو آمادہ کررکھا تھا۔ مخالفت کا پرچم بلند کردیا۔ اس مخالفت کی تاخیر کی وجہ لوگوں کی وسیع اور قاطع اکثریت کا خوف تھا جو حضرت علی(علیہ السلام) کے گرد جمع ھوگئے تھے ا ور اگر آپ کے علاوہ کوئی اور شخص بھی ھوتا اور منصب خلافت کو سنبھالتا ، تب بھی یہ افراد مخالفت کے لئے اُٹھ کھڑے ھوتے۔ کیونکہ معاشرہ ھی غیر منظم اور بکھرا ھوا تھا۔ گویا تمام کے تمام، یا کم از کم معاشرہ میں نفوذ رکھنے والے، خود کو اس معاشرہ میں گم کئے ھوئے تھے۔ نہ تووہ خود ھی کو اور نہ ھی اپنی حیثیت کو ھی پھچانتے تھے اور نہ تو اپنی حیثیت کے مطابق اپنے آپ سے اور اپنے معاشرے سے ھی کوئی توقع رکھتے تھے۔[3] بہ عنوان نمونہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کے مخالفین کے سرداروں کو مدنظر رکھئے۔ کیا ایسا نھیں ھے کہ وہ اپنی لیاقت اور قابلیت سے اونچی یھاں تک کہ اپنی ذاتی شخصیت سے بھی زایادہ توقع رکھتے تھے اور اگر حضرت علی(علیہ السلام) سے ان کی مشترک مخالفت حاکم اور خلیفہ کے عنوان سے نہ ھوتی تو پھر وہ ایک دوسرے کے مقابل میں کھڑے ھوجاتے۔ کیا یھی طلحہ و زبیر نھیں تھے جنھوں نے جنگ جمل میں لشکر کے امام جماعت بننے کے لئے ایک دوسرے کی عبا کو کھینچ ڈالا ۔اور اپنے گھوڑوں کے چھرے پر تازیانے مارے ؟[4]اور کیا اصحاب جمل میں سے مروان ابن حکم نھیں تھا جو طلحہ کے قتل اور اس سے انتقام لینے پر متھم تھا اور کم از کم یہ تھا کہ ُاس کے مرنے پر اس نے خوشیاں منائی تھیں؟[5] آیا معاویہ ان لوگوں کو اور وہ لوگ معاویہ کو برداشت کرسکتے تھے؟ اس کے علاوہ آیا یہ احتمال موجود نھیں تھا کہ بااثر لوگ غیر جانب دار افراد جن لوگوں نے نہ حضرت علی(علیہ السلام) کی بیعت کی اور نہ حضرت(علیہ السلام)  کے مقابل صف آراء ھوئے اگر کوئی دوسرا شخص منصب خلافت پر فائز ھوتا تو ایسی صورت میں یہ بے طرف اور معاشرہ میں نفوذ رکھنے والے افراد اس کے مدمقابل شمشیر بکف نظر آتے؟ لیکن یہ حضرت علی(علیہ السلام) کی شخصیت اور آ پ کا بے نظیر سابقہ تھا جو ایسے قیام سے مانع ھوا چاھے جتنا وہ لوگ حضرت کے ساتھ اور ان کے حامی نہ رھے ھوں۔[6] جیساکہ ھم بیان کر چکے ھیں کیا کہ مسئلہ معاشرتی ، اخلاقی اور روحی انتظام کے بکھر جانے کا تھا۔ خود کو اپنے آپ کے گُم کردینے کا مسئلہ اورقابلیتوں اور صلاحیتوں کے مشتبہ ھوجانے سے متعلق تھا حتی خود ان لوگوں کے نزدیک بھی مسئلہ یہ نھیں ھے کہ حضرت علی(علیہ السلام) اس وقت کے ا ن نامناسب اور بکھرے ھوے حالات کو منظم نہ کرسکے۔ دوسرا کوئی بھی شخص اس نامنظم اور بکھرے ھوئے اور خود پرچم بغاوت بلند کیئے ھوئے معاشرے کو منظم نھیں کرسکتا تھا۔ بلکہ اس کے لئے مسلسل سعی و کوشش اور ناکوں چنے چبانے کی ضرورت تھی تب جاکر وہ بے نظم معاشرہ نظم اور حکومت کو برداشت کرپاتا۔ البتہ افسوس کی بات ھے کہ اس نشیب و فراز کے بعد معاویہ کے ذریعہ معاشرہ میں یہ نظم و نسق برقرار ھوگیا۔ حضرت اس زمانہ کے حالات اور معاشرہ میں بے شمار تبدیلیوں کو اپنے ایک مختصر اور پُرمعنی جملہ میں یوں بیان فرماتے ھیں:”حضرت علی(علیہ السلام) کے دورخلافت میں ایک روز کسی نے آپ کو طعنہ دیتے ھوئے کھا۔ آخر اتنے سارے لوگوں نے آپ کے متعلق اختلاف کیا حالانکہ پھلے دو خلفا پر ان کا اتفاق تھا؟ حضرت(علیہ السلام)  نے جواب میں ارشاد فرمایا:” چونکہ وہ لوگ مجھ جیسے افراد پر حکومت کرتے تھے اور میں تجھ جیسے افراد پر حکومت کرتا ھوں۔“[7] روحی پریشانیاں حقیقت کچھ ایسی ھی تھی۔ حالات بالکل بدل گئے تھے۔ حضرت علی(علیہ السلام) کی اکثر مشکلات بھی انھیں حالات کی تبدیلیوں کی پیدا وار تھیں۔ ایک فقیر و محدود اور مسدود معاشرہ پر، جدید آفاق کا کھل جانا اور ایک مقامی ا ور محدود حکومت کا ایک وسیع و عریض مملکت و سلطنت میںتبدیل ھو جانا جو ایران کی شھنشاھیت کو مکمل طورپر اور روم کی بادشاھت کے ایک وسیع حصے کو اپنے اندر سموئے ھوئے تھی، نہ فقط نئی مشکلات اور سخت وسنگین حالات اپنے ھمراہ لائی تھی بلکہ اس سے کھیں زیادہ اھم یہ تھا کہ اس نے ابتدائی دور کے مسلمانوں کے اخلاق و افکار اور معنویات و توقعات اور آرزوٴں اور تمناووٴں کو بھی اپنے زیراثر قرار دیا تھا۔ اب اس کے بعد وہ لوگ نھیں چاھتے تھے اور شاید ان خصوصیات کی بناپر جس کو انھوں نے حاصل کیا تھا وہ لوگ دینی قوانین، احکام اور معیار کے آگے اپنا سر جھکا دیں۔ بلکہ وہ لوگ اس دین کو چاھتے تھے جس کی ان لوگوں نے خود تفسیر کی ھو۔ ایک ایسے دین کو چاھتے تھے جو ان کے مقاصد اور ان کی تمناوٴں کو پورا کرسکے نہ کہ اس کے برعکس اور چونکہ ایسا ھی تھا یعنی ان کی آرزووٴں اور چاھتوں کے بر خلاف تھا۔ لہٰذا وہ علی ابن ابی طالب+ جیسی شخصیت کو برداشت نھیں کرسکتے تھے حسب ذیل نمونہ اس مسئلہ کو پوری طرح بیان کررھا ھے۔ جنگ صفین کے وقت، امام(علیہ السلام)  اور آپ(علیہ السلام)  کے برجستہ اصحاب اس کوشش میں تھے کہ کسی بھی طرح جنگ کو روک دیں۔ان میں سے جس نے اس بات کی سب سے زیادہ کوشش کی تھی وہ عمار تھے انھوں نے کوشش کی تاکہ مغیرہ ابن شعبہ کو وعظ و نصیحت کریں اور امام کی حقانیت کو اس پر واضح کردیں ۔لیکن وہ انجان بن رھا تھا اور حقیقت کو قبول کرنے پر تیار نھیں تھا (مغیرہ امام(علیہ السلام)  کو اور آپ(علیہ السلام)  کے تمام سابقہ حالات کو بخوبی جانتا تھا یھاں تک کہ آپ کی خلافت کے شروع میں ھی اس نے حضرت سے کھا کہ طلحہ و زبیر اور معاویہ کو ان کے عھدوں پر باقی رکھئے تاکہ لوگ آپ کی بیعت پر متفق ھوجائیں اور اتحاد و اتفاق بر قرار اور محفوظ رہ جائے اور پھر آکا جیسے جی چاھے حکومت کیجئے۔ اور جب یہ دیکھا کہ امام (علیہ السلام) نے اس کی بات اور اس کے مشورہ کی طرف کوئی توجہ نہ کی تو وہ دوسرے روز آکر اس طرح کھنے لگا: ”میں نے غورو فکر کے بعد یہ سمجھ لیا کہ جو کچھ میں نے کھا تھا اس میں مجھ سے غلطی ھوگئی ھے اور حق وھی ھے جو آپ نے سوچا ھے۔“[8] امام(علیہ السلام)  نے عمار کو مخاطب کرکے فرمایا:” اس کو اسی کے حال پر چھوڑ دو! کیونکہ وہ دین سے کچھ نھیں لیتا مگر وھی چیز جو اس کو دنیا سے نزدیک کردے۔ وہ مسئلہ کو عملی طورپر اپنے اوپر مشتبہ کرلیتا ھے تاکہ ان شبھوں کو اپنی خطا کے واسطے عذر قرار دے“۔[9] البتہ یہ کھنا ضروری ھے کہ وہ لوگ نہ صرف یہ امام(علیہ السلام)  کو تحمل نھیں کرسکتے تھے ،بلکہ کسی دوسرے شخص کو بھی برداشت نھیں کرسکتے تھے۔ ان کی مشترک مخالفت صرف اس بناپر تھی کہ قدرت اورمنصب امام(علیہ السلام)  کے ھاتھ میں تھا اور ان کی زیادہ تر ناجائز خواھشات کے پوری اور عملی نہ ھونے سے امام(علیہ السلام)  بالکل بے توجہ تھے ، اسی سبب نے ان کے اندر اتحاد پیدا کردیا تھا اور کم از کم ان میں آپس کے اختلا ف کو آشکار ھونے سے مانع تھا۔ البتہ خاص حساس مواقع پر اس اتحاد کا شیرازہ بکھر جاتا تھا۔ یہ وحدت ٹوٹ جاتی اور اختلاف و کشمکش نمایاں ھوجاتا تھا۔[10] بھرحال آنحضرت(علیہ السلام)  اپنے پورے دورخلافت میں اس بات پر مجبور ھوگئے کہ وہ اپنے مخالفین سے  مقابلہ کریں اور وہ لوگ جو جنگ کے لئے آمادہ ھیں، ان سے مقابلہ کے واسطے اُٹھ کھڑے ھوں۔ یہ جنگیں ان نقصانات کے ظاھر ھونے کا فطری نتیجہ تھیں کہ اپنی گذشتہ تاریخی سابقہ جو اسلام سے ماقبل ھے اس تک پھونچتی تھی اور یہ مسئلہ عمر کے دورخلافت کے درمیانی ایام میں پیدا ھوا۔ اور آھستہ آھستہ (اندر اندر) پکتا رھا اور یہ دور بھی امام(علیہ السلام)  کی شھادت [11]اور معاویہ کے حکومت حاصل کرنے پر ختم ھوگیا۔  وہ افراد بھت زیادہ ھیں جو یہ کھتے ھیں کہ امام(علیہ السلام)  کی یہ مشکلات آپ(علیہ السلام)  کے ایام خلافت میں دین و عدالت کی بنیادپر مبنی دقیق اور سخت رویہ کی وجہ سے وجود میں آئی تھیں۔ اگرچہ یہ بات درست ھے مگر حقیقت یہ ھے کہ تمام مشکلات کی بنیاد یہ نھیں تھی۔ بلکہ ان میں سے بھت سے مشکلات کی بنیاد کو اس زمانے کے بدلتے ھوئے حالات اور ماحول میں تلاش کرنا چاہئے۔ ایک ایسا ھمہ گیر اور گھرا بدلاوٴ پیدا ھوا تھا جس نے اپنے اندر ھر چیز اور ھر شخص کو غرق کردیا تھا۔ فقط چند باایمان ا ور بااخلاص مسلمان تھے جو ان حالات کے بھاوٴ میں غرق نھیں ھوئے تھے۔ وھی لوگ جو حضرت علی  (علیہ السلام) سے متحد اور ھم آھنگ اور اپنے خون کے آخری قطرہ تک آپ کی ھمراھی میں اور آپ کے ھم رکاب رھے اور ان میں سے بھت سیافراد تینوں جنگوں میں درجہٴ شھادت پر فائز ھوگئے۔[12] معاشرہ اور سماج کا درھم برھم ھونا اس درھم و برھم حالات کو نہ صرف یہ کہ حضرت علی(علیہ السلام) بلکہ کوئی دوسرا بھی منظم نھیں کرسکتا تھا۔ قدیم اور جدید صاحبان قلم کے قول کے بالکل برعکس اگر بالفرض پھلے دونوں خلفا بھی آنحضرت (علیہ السلام) کی جگہ ھوتے تب بھی حالات میں اتنی تبدیلی نھیں آسکتی تھی۔[13]ان دونوں کی کامیابی معاشرتی انسجام اور اتحاد کو برقرار رکھنے میں ،اس زمانہ کے حالات کی مرھون منت تھی نہ کہ ان کی ذاتی خصوصیات یا ان کی مجموعی سیاست کا ثمرہ رھی ھوں۔ بغیر کسی شک شبہہ کے اگر امام(علیہ السلام)  کو گذشتہ خلفا کے دور میں مسند خلافت پر بٹھا دیا جاتا تو ان دونوں سے کھیں زیادہ وہ کامیاب ھوتے ۔یہ بات کسی حدتک عثمان کے بارے میں بھی صحیح ھے۔ ان کی ناکامی فقط ان کی غلط خصوصیات کی بناپر وجود میں نھیں آئی تھی ۔احتمال قوی کی بناپر یہ بات کھی جاسکتی ھے کہ اگر ان (عثمان) کے ماقبل دونوں خلفا میں سے کوئی بھی ان کی جگہ برسر اقتدار آتا، تب بھی حالات کی تبدیلی میں کوئی خاص فرق نہ پڑتااور اسے بھی کم و بیش انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا جن سے عثمان دوچار ھوئے ھیں۔ وہ موٴرخین یہ بھول بیٹھے کہ پھلے ھی در جہ میں عثمان کی مشکلات انھیں مشکلات کا سلسلہ تھیں جن سے خود عمر اپنی خلافت کے آخری دور میں دست و گریباں تھے اور یہ ساری مشکلات اس نئے ماحول اور حالات ضمنی عوا ر ض کا نتیجہ تھے جو جدید فتوحات کے ذریعہ پیدا ھوئے تھے۔ عمر نے اپنی عمر کے آخری ایام میں یہ احساس کرلیا تھا کہ وہ اپنے نفوذ و اختیارات سے ھاتھ دھو بیٹھے ھیں اور اب خلافت کے ابتدائی سالوں کی طرح قدرت اور رعب و دبدبہ کے ساتھ حکومت نھیں کرسکتے۔ اس حقیقت کا قبول کرنا ان کے واسطے بھت مشکل امر تھا جیسا کہ اس کی طرف اشارہ کیا گیا ھے کہ انھوں نے کئی مرتبہ موت کی تمنا کی۔ لیکن گویا امام علی(علیہ السلام) پر تنقید کرنے والے یہ سب مسائل بھول گئے ھیں اور اس کا سبب یہ ھے کہ انھوں نے اپنی تجزیہ و تحلیل میں تیز گام بنیادی انقلابات اور حالات میں تیزی کے ساتھ بدلاوٴ کو نظر انداز کردیا اور خلفا میں ھر ایک کی کامیابی کی مقدار کو فقط فردی سیاستوں، خصلتوں اور خصوصیات کی بنیادپر چھان بین کی ھے۔ [14] چنانچہ معاویہ بھی جو مدارات، ھوشیاری(کیاست) اور سیاست میں مشھور تھا اگر بلافاصلہ قتل عثمان کے بعد حکومت کی باگ ڈور کو اپنے ھاتھ میں لے لیتا ، اسے بھی ایسے ھی مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا جن سے حضرت علی(علیہ السلام) دوچار تھے۔[15]بیشک اصحاب جمل علی(علیہ السلام) کی بہ نسبت معاویہ کے ساتھ زیادہ شدو مد اور سختی کے ساتھ جنگ کے لئے اُٹھ کھڑے ھوتے کیونکہ وہ آنحضرت(علیہ السلام)  کی دینی اور ذاتی لیاقت اور یھاں تک کہ ٓاپ کی عمومی بیعت کے شرعی اور قانونی ھونے کا یقین رکھتے تھے اور صرف بھانہ تراشی کرتے تھے۔ وہ لوگ خود ان چیزوں کو جانتے تھے اسی وجہ سے عائشہ نے چند مرتبہ پلٹ جانے کا پکا ارادہ کیا لیکن ھر بار لوگوں نے جھوٹ بو لکر ان کو اس کام سے روک دیا۔[16] بعد میں وہ خود اپنے اس کام سے سخت پشیمان ھوئیں۔[17]زبیر بھی جنگ کے آخری لمحوں میں محاذ جنگ کو ترک کردیا اور وہ اس بات کے لئے تیار نہ ھوئے کہ حضرت علی(علیہ السلام) سے جنگ کریں۔[18]لیکن معاویہ ان لوگوں کی نظر میں نہ یہ کہ فقط ھر قسم کی لیاقت و خوبی سے عاری تھا بلکہ وہ لوگ خود کو اس سے بھتر اور برتر سمجھتے تھے۔ اس سے بھی قطع نظر، ظن غالب کی بنیاد پر سعد ابن ابی وقاص اور ان کے جیسے دوسرے لوگ جو نہ تو امام(علیہ السلام)  کی حمایت کے لئے اور نہ ھی آپ کی مخالفت میں کھڑے ھوئے، وہ معاویہ کے خلاف اٹھ کھڑے ھوتے ان لوگوں کے لئے قابل قبول نہ تھا کہ وہ لوگ اس (معاویہ) کو عثمان کے بعد بلافاصلہ مسند خلافت پر بیٹھا دیکھیںاور وہ لوگ اس کے تابع رھیں معاویہ اپنی مطلقہ قدرت اور حکومت پانے کے ایک عرصہ کے بعد بھی ان سے ڈرتا تھا اور ان لوگوں کو یزید کی ولیعھدی کی رکاوٹوں میں سے ایک رکاوٹ سمجھتا تھا۔[19] اور یہ کلام ایک دوسری طرح سے ان لوگوں کے بارے میں بھی صحیح ھے جنھوں نے خلافت امام(علیہ السلام)  کے آگے سرتسلیم خم کردیا تھا۔ قیس ابن سعد ابن عبادہ کے ایسے لوگ، قطعی طورپر اگر امام(علیہ السلام)  میدان خلافت و سیاست میں موجود نہ بھی ھوتے، تب بھی وہ معاویہ اور اس کے جیسے دوسرے افرادکے مقابلہ میں کھڑے ھوجاتے۔ ان لوگوں کی مخالفت معاویہ کے ساتھ اس بنا پر نہ تھی کہ وہ امام (علیہ السلام)  کے دوستوں کی صف میں آگئے تھے اور امام(علیہ السلام)  معاویہ کے مد مقابل اٹھ کھڑے ھو ئے تھے ان لوگوں کی معاویہ سے ایک سنجیدہ اور بنیادی مخالفت تھی۔ کیونکہ وہ لوگ امام(علیہ السلام)  کو خلیفہ بر حق جانتے تھے، لہٰذا آپ(علیہ السلام)  کے پرچم تلے اس کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ھوئے اور اگر ایسا علم اور پرچم نہ بھی ھوتا تب بھی مسئلہ میں کوئی تبدیلی نہ آتی کیونکہ معاویہ امام(علیہ السلام)  کی شھادت کے بعد بھی ان لوگوں سے ڈرتا تھا۔[20] اسی طرح خوارج جیسی مشکل بھی خواہ مخواہ وجود میں آگئی۔ خوارج داستانِ حکمیت کی پیداوار نھیںھیں یہ حادثہ زخم کو تازہ کرنے کا ایک سبب تھا کہ حتی زمانہٴ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  میں بھی جس کا وجود تھا۔ وہ لوگ خشک اور تند مزاج بدّو تھے کہ بنیادی طورپر دین کے متعلق ایک دوسرا نظریہ رکھتے تھے( دین کے متعلق تنگ نظری اور سخت گیری کے شکار تھے۔ )اور اپنی اسی کج فھمی ا ور ایسے ادراک کی بنیاد پر خود پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کی ذات پر بھی اعتراض کربیٹھے۔ مشھور ھے کہ ایک روز قبیلہ بنی تمیم کے افراد میں سے ایک شخص جو بعد میں خوارج کے سرداروں میں سے ھوگیا اور جنگ جمل کے معرکہ میں مارا گیا(ذوالخو یصرہ) جس وقت آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  مال غنیمت تقسیم فرمارھے تھے، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  پر اعتراض کربیٹھا اور کھنے لگا ”اے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عدالت کی کیوں رعایت نھیں کی؟“ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  غضب میں آگئے اور فرمایا: ”میں نے عدالت کی رعایت نھیں کی! تو میرے علاوہ عدالت کو کھاں پائے گا؟“ اس کے بعد فرمایا یھی لوگ وہ گروہ ھونگے جو دین سے خارج ھو جائیںگے ا س وقت ان لوگوںکے خلاف جنگ کرنے کے لئے اُٹھ جانا۔[21] ضروری تھا کہ ایک زمانہ گذرجائے اور حالات تبدیل ھو جائیں تاکہ رفتہ رفتہ یہ کج فکر بچکانہ ذھنیت رکھنے والے بدو سخت گیر افراد ایک گروہ کی شکل میں جمع ھوکر موجودہ نظام کے مقابلہ میں کھڑے ھو جائیں ۔یہ تصور کرنا بالکل غلط ھے کہ یہ لوگ جنگ صفین اور داستانِ حکمیت کی پیداوار ھیں۔ یہ لوگ اسلامی معاشرہ کے اندر ایک سرطانی غدہ کی حیثیت رکھتے تھے کہ آخرکار ایک نہ ایک روز اس کو پھوٹنا ھی تھا البتہ حضرت علی(علیہ السلام) کے زمانہ میں حالات کچھ اس طرح ھوگئے تھے کہ اس کا مناسب ترین موقع اس دور میں آپھونچا۔ [22] قطعی طورپر اگر معاویہ حضرت علی(علیہ السلام) کی جگہ قرار پاتا تو یہ لوگ زیادہ قدرت اور قوت کے ساتھ وسیع پیمانہ پر میدان میں نکل آتے، ان کا اعتراض حضرت علی ابن ابی طالب+ پر یہ تھا کہ کیوں تم نے حکمیت کو مان لیا اور اب اپنے اس عمل سے توبہ کرو۔ صرف یھی ایسا ایک اعتراض تھا جو وہ کرسکتے تھے، کیونکہ ان کی نظر میں حضرت علی(علیہ السلام) کبھی بھی اسلام کے صراط مستقیم اور عدالت سے خارج نھیں ھوئے اور یھی وجہ تھی کہ ان خوارج میں سے بھت سے امام(علیہ السلام)  اور ان کے اصحاب کی توضیحات سے اپنی راہ سے عدول کرگئے ، نھروان کی جنگ میں، جنگ سے منھ موڑ کرچلے گئے ۔لیکن کیا ان کا یہ رویہ معاویہ کے ساتھ بھی ایسا ھی ھوتا؟ معاویہ جیسا شخص خوارج کی نظر میں ظلم و بربریت اور کفر و بے دینی کا مظھر تھا ۔جیساکہ وہ لوگ (خوارج) اِس(معاویہ) کے قدرت میں آنے کے فوراً بعد اُس کے اور اس کے ناخلف اخلاف کے مدمقابل کھڑے ھوگئے۔ یہ کھنا ضروری ھے کہ اس راہ میں انھوں نے شجاعت اور بھادری کی یادگار قائم کردی   عباسیوں کے ابتدائی دور تک ان کی جنگ اور استقامت اور صف آرائی جاری رھی اور آخرکار وہ بغیر کسی فوجی طاقت کا مقابلہ کئے ھوئے، حالات کے بدل جانے سے نابود ھوگئے اور وہ لوگ بھی جو باقی رہ گئے تھے انھوں نے اپنے باقی فکر و عمل اور اعتقاد میں اس طرح کی اصلاحات اور اعتدال پیدا کر لیا کہ وہ دوسرے مسلمانوں کے مانند ھوگئے۔[23] مشکلات کا سرچشمہ نتیجہ یہ کہ علی ابن ابی طالب+ کی مشکلات کا سرچشمہ صرف ان کی عدالت خواھی ھی نہ تھی۔ بلکہ ان میں سے اکثر مشکلات اس زمانے کے حالات کی طرف پلٹتی ھیں۔ اگر حضرت علی(علیہ السلام) کی جگہ کوئی اور بھی ھوتا تب بھی ان مشکلات سے روبرو ھوتا۔ اگر بعد میں معاویہ تک حکومت اور قدرت پھونچ گئی پھر بھی زیادہ ترمشکلات ان حالات کی بناپر ھے جو حضرت علی(علیہ السلام) کے دور خلافت کے بعد رونما ھوئیں نہ معاویہ کی ذاتی اور شخصی خصوصیات کی بناپر۔ اور خلافت کے عموماً بڑے دعویدار اور معاویہ کے رقیب امام(علیہ السلام)  کے مد مقابل صف آرا ھوکر قتل ھوگئے تھے۔ اور اس زمانے کے تلخ تجربوں نے لوگوں کو خستہ و فرسودہ کردیا تھا اور اب مائل نہ تھے کہ نفوذ رکھنے والے اور خلافت کے دعویداروں کی آواز پر لبیک کھیں ۔گویا اس معاشرہ میں سکون حاکم ھوچکا تھا اور وہ خود بخود رام ھوگیا تھا اور اس کا مد و جزر تھم چکا تھا اور ایک ایسی قدرت کی جستجو میں تھا جو ان کے لئے امن و امان کا نوید لائے اور اس زمانے کے لوگوں کی نظر میں یہ فقط معاویہ ھی تھا جو اپنے اندھے و بھرے اور اندھی تقلید کرنے والے شامی اطاعت گزاروں کی مدد سے یہ کام کر نے پر قادر ھوگیا تھا۔ اگرچہ بعد میں اس نے لوگوں کو قبرستان جیسے امن و سکون کے تحفہ سے نوازا جو تمام آزادیوں اور انسانی کرامتوں کو سلب اور تمام اصول و اسلامی معیاروں کو پامال کرنے کے مترادف تھا۔[24]یہ علی ابن ابی طالب+ کے خلافت تک پھنچنے اور آنحضرت(علیہ السلام)  کے ساتھ ھونے والی مخالفتوں کی اجمالی داستان تھی۔ عثمان کی بے لیاقتی، کینہ توزی، خاندان پرستی اور ان کے فوجی سرداروں کی ظلم و زیادتی اور لاپرواھی نے لوگوں کی چشم امید کو آنحضرت(علیہ السلام)  کی طرف مبذول کر دیا تھا اس حدتک کہ لوگوں نے بیعت کرنے کے واسطے ایسا ھجوم کیا کہ آپ کے دونوں فرزند اس ھجوم اور بھیڑ میں پِس کر زخمی ھوگئے۔ لوگ خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لپکے اور ان کی طرف دوڑے (نہ کہ حضرت نے چاھا اور ان کو اپنی طرف بلایا ھو ۔) اب اس کے یہ معنی نھیں ھیں کہ ھم کھیںکہ آنحضرت(علیہ السلام)  لوگوں کی طرف سے قبول کر  لئے گئے۔ انھوں نے بیعت سے پھلے ھی، اپنا انتخاب کرلیا تھا۔ البتہ اس کے علاوہ بھی دوسرے اسباب موجود تھے مثلاً” مونٹ گمری واٹ“ معاویہ کی کامیابی اور حضرت(علیہ السلام)  علی (علیہ السلام) کے لئے پیش آنے والی مشکلات سے روبرو ھونے کے بارے میں اس طرح کھتا ھے: ”معاویہ کی حمایت ان شامی عربوں کے ذریعہ ھوتی تھی۔ جو کئی سال سے اس کے فرمانبردار اور اطاعت گذار  تھے عام طورپر وہ صحرا سے نھیں آئے تھے بلکہ وہ ایسے خاندان سے متعلق تھے جو ایک یا دو نسل سے شام ھی میں مقیم تھے لہٰذا وہ ان بدّوٴں کی بہ نسبت زیادہ پائیدار اور بھروسے مند تھے جوعلی ابن ابی طالب+ سے وابستہ تھے۔شامی عربوں کی بھترین کیفیت معاویہ کی کامیابی کی ایک بھت بڑی دلیل تھی۔“[25] آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کے مخالفین اور معارضین (مقابلہ کرنے والے) حقیقت میں دھشت گرد اور شدت پسند تھے فقط انھیں کے ساتھ نھیں بلکہ جو بھی آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کی جگہ پرھوتا وہ لوگ اس کی بھی مخالفت کرتے۔ ان لوگوں کا اعتراض صرف یہ تھا کہ حکومت میں ان لوگوں کا کوئی خاص عھدہ یا مقام کیوں نھیں ھے۔ وہ چیز جس نے ان لوگوں کو ایک متحدہ محاذ پر لاکر کھڑا کردیا تھاوہ امام(علیہ السلام)  سے مخالفت تھی نہ یہ کہ ھم عقیدہ ا ور ھم مسلک ھونے کی بنیاد پر۔ یھی وہ لوگ تھے جنھوں نے پروپیگنڈے ، دھمکیوں اور لالچ دینے(تطمیع) کا سھار الیکر عوام الناس کی صف اتحاد میں تفرقہ اندازی کرکے چاھے ان لوگوں کے درمیان  تفرقہ اندازی کرتے جنھوں نے امام سے براہ راست بیعت کی تھی یا پھر ان کو قانونی طورپر اپنا برحق خلیفہ تسلیم کرتے تھے، ا ان لوگوں کے درمیان اختلاف کا بیج بویا اور آخر کار ایک گروہ کو اپنا پیرو بنا ھی لیااور امام   (علیہ السلام)کے مدمقابل کھڑا کردیا۔ ورنہ حقیقت یہ ھے کہ چند لوگوں کے علاوہ سب نے امام کی خلافت کو قبول کرلیا تھا اور ھم یھاں تک کہہ سکتے ھیں کہ لوگوں کا امام بعنوان خلیفہ منتخب کرلینا گذشتہ دونوں خلفا کی بہ نسبت زیادہ وسیع اور اکثریت کا حامل تھا۔[26] البتہ ھم پھلے یہ بیان کرچکے ھیں کہ علی ابن ابی طالب+ کی خلافت پر پھنچنے کی داستان پھلے تین خلفا سے مختلف تھی اگرچہ عمومی طورپر لوگوں نے آپ کی بیعت کرکے آپ کے گرد جمع ھوگئے تھے اور گذشتہ خلفا کی طرح آپ(علیہ السلام)  کو دیکھتے تھے اور یہ چاھتے تھے کہ حضرت علی(علیہ السلام) ان کے دنیاوی امور کی بھی ذمہ دار ھوں لیکن آپ(علیہ السلام)  کے ماننے والوں اور پیروی کرنے والوں میں کچھ ایسے بھی افراد تھے جنھوں نے آپ سے بیعت اس واسطہ   کی تھی آپ(علیہ السلام)  کو وہ پیغمراکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کے برحق جانشین اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے منسوب اور منصوص جانتے تھے۔ (یعنی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  نے خاص طورپر آپ کو جانشین بنایا تھا) آپ کی بیعت اس وجہ سے نھیں تھی کہ ان کا کوئی رھبر ھو جو ان کے دنیاوی امور کی دیکھ بھال کرے اور اس کے انتظام کو اپنے ھاتھوں میں لے لے، بلکہ آپ کی بیعت اس لحاظ سے کی تھی کہ وہ لوگ اپنے دنیاوی اور دینی امور میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کے صحیح جانشین کی بیعت کئے ھوئے ھوں۔ یعنی ایسے شخص کی بیعت جو وسیع اور عمیق معنوں میں منصب امامت کی لیاقت رکھتا ھو ۔ایسی امامت جو نبوت اور رسالت ھی کا ایک سلسلہ ھو بلکہ یہ امامت، رسالت و نبوت کا فطری اور منطقی نتیجہ ھے۔ اگرچہ ایسے (مخلص) افراد کی تعداد بھت کم تھی لیکن وہ لوگ سایہ کی طرح ھمیشہ امام(علیہ السلام)  کے ھمراہ تھے اور لوگوں کو امام کی طرف بلاتے رھے اور آنحضرت کے ساتھ جنگوں میں بھت اساسی کردار ادا کیا اور عموماً انھیں جنگوں میں درجہٴ شھادت پر فائز ھوگئے۔[27] حقیقت کی بدلتی ھوئی تصویر خلفائے راشدین کی تاریخ کی حقیقت یہ تھی جیساکہ وہ محقق ھوئی۔ اگر اس کا پھلا حصہ چین و سکون کے ساتھ اور اس میں کسی قسم کی کشیدگی نھیں پائی جاتی ھے تو وہ صرف بیرونی خطرات میں لوگوں کی توجھات کے مشغول ھوجانے کی بناپر ھے، ابتدائی زمانہ میں بیرونی خطرات کی طرف توجہ کے مرکوز ھونے کے ساتھ ساتھ اندرونی دھمکیاں اور معاشرہ کا فقر اور اس کی محدودیت نے اپنے میں مشغول کر رکھا تھا، اگر اس کے بعد کا زمانہ پُرآشوب اور بحرانی ھے تو بھی اس کی پیدائش کا واحد سبب وہ حالات ھیں جو اکثر بیرونی خطرات کے ختم ھوجانے اور ثروت کی بھرمار کی بنا پر پیدا ھوئے ھیں۔ خلفا کا انتخاب عام لوگوں کی نظر میں اس زمانہ میں ایک معمولی چیز تھی۔ ان لوگوں کی نظر میں یہ لوگ (خلفا) بھی معمولی افراد تھے اور ان کا منصب بھی کوئی خاص فضیلت نھیں رکھتا تھا اور خود وہ(خلفا) بھی اپنے کو کسی اور زاویہٴ نظر سے نھیں دیکھتے تھے۔ جس وقت ابوبکر کھتے تھے کہ ” مجھ کو چھوڑ دو(سمجھنے کی کوشش کرو) میں تم میں سے بھتر نھیں ھوں“ اور یا کہ وہ کھتے تھے :” میرے اوپر ایک شیطان مسلط ھے“ اور میں کھیں راستہ سے کج ھوگیا (راہ راست سے بھٹک گیا) تو مجھے راہ مستقیم پر لگادو تو یہ مذاق نھیں فرمارھے تھے اور نہ ھی تواضع و انکساری کررھے تھے۔ وہ واقعاً ایسا ھی سوچتے تھے اور دوسرے لوگ بھی ان کو اسی نظر سے دیکھتے تھے۔ جس وقت عمر کھتے تھے: مجھ سے ھوشیار رھو اگر میں نے کھیں غلطی کی ھو تو مجھے ٹوک دو ۔“ یہ سنجیدگی اور متانت کے ساتھ کھتے تھے اور جس وقت فلاں عرب اُٹھ کر کھتا تھا :”خدا کی قسم اگر تم کج رفتاری کرو گے تو تمھیں شمشیر کے ذریعہ سیدھا کردیں گے۔“ حقیقت میں یہ چیز اس زمانہ کے لوگوں کا خلیفہ کے ساتھ برتاوٴ کے طریقے اور بنیادی طورپر مقامِ خلافت کے متعلق لوگوں کے نظرئے کو بیان کرتی ھے۔[28] لیکن بعد میں ،جیساکہ ھم بیان کریں گے، ایک دوسرے طریقہ سے دیکھا گیا اور اس کی تصویر کشی کی گئی۔ رفتہ رفتہ انسانی، مادی اور دنیاوی رنگ کو کھوکر معنوی اور روحانی حاصل کرلیا یھاں تک کہ دینی تقدس کے رنگ میں رنگ گیا۔ وہ دور جو صدر اسلام کے مسلمانوں کی تاریخ کا دور تھا درحقیقت خود اسلام کی تاریخ کی تمامیت اور خالصیت کی صورت میں پیدا ھوگیا لہٰذا مختلف اسلامی ادوار کی تاریخ میں بلکہ خود دین کے مقابلہ میں اس کا ھم پلہ قرار دیاگیا یھاں تک کہ وہ تاریخیں دین کی مفسر اور مبین ھوگئیں اور دوران پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کی منزلت کے برابر منزلت حاصل کرلی اب مسئلہ یہ ھے کہ یہ حالات میں تبدیلی کیوں اور کیسے وجود میں آئی؟ اور اس کے نتائج کیا ھوئے؟  معاویہ کے مطلق العنان ھو نے کے بعد امام حسن(علیہ السلام) بھی خاموشی پر مجبور ھوگئے، اس کے بعد معاویہ نے کچھ ایسے اقدامات کے لئے ھاتھ پیر مارے جن کی بناپر بعد میں تاریخ اسلام میں اھم تغیرات رونما ھوئے یھاں تک کہ اسلام کے متعلق مسلمانوں کے فھم و ادراک میں بھی تبدیلی پیدا ھوگئی۔ اس کے یہ معنی نھیں ھیں کہ وہ خود جانتا تھا کہ اس کے ان اقدامات کا نتیجہ کیا ھوگا۔ شاید وہ اپنے حدتک دوسرے مقاصد کی تلاش میں رھا ھو ،لیکن بھرحال اس کے اقدامات کے نتیجہ میں مسلمانوں کے فھمی و کلامی اور اعتقادی ڈھانچہ پر بھت زیادہ اثر انداز ھوا۔ اس طرح کہ اگر ھم کھیں کہ ان اقدامات کی طرف توجہ کئے بغیر جامع اور مکمل اسلام کی متعلق مسلمانوں کے فھم و ادراک میں تبدیلی کو سمجھا نھیں جاسکتا تو ھماری یہ بات غلط گوئی نہ ھوگی۔ (یعنی معاویہ کے اقدامات نے اھم تحولات پیدا کئے اور مسلمانوں نے انھیں اسلام سمجھا اگر ان کو نظر انداز کردیا جائے تو مسلمانوں کی فھم او ر ان کی کلامی و اعتقادی بنیاد میں کمی واقع ھوجائے گی۔)[29] معاویہ کی قدرت و طاقت کے اوج کے وقت بھی اس کے حائز اھمیت مخالفین موجود تھے البتہ وہ ان لوگوں کی کامل اور دقیق شناخت بھی رکھتا تھا۔ وہ حسب ذیل افراد تھے: عبداللہ ابن زبیر، عبدالرحمن ابن ابوبکر، عائشہ، سعد ابن ابی وقاص، عبداللہ ابن عمر، قیس ابن سعد ابن عبادہ اور تمام انصار اور علی ابن ابی طالب+ کے خالص شیعہ۔ لیکن بجز شیعوں اور خوارج کی مخالفت کے کہ اس میںاعتقادی پھلو تھا بقیہ تمام مخالفین اور ناسازگاریاں سیاسی پھلو رکھتی تھیں۔ وہ اتنا ھوشیار، چالاک، لوگوں کی پھچان رکھنے والا اور موقع شناس انسان تھا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے مقابلہ کے لئے اٹھ سکے اور ان کو لالچ دیکر یا ڈرادھمکا کر سکوت پر آمادہ کر سکے لہٰذایہ لوگ اس کے لئے قابل تحمل تھے ۔ وہ چیزجو اس کے لئے برداشت کے قابل نہ تھے یھاں تک کہ وہ ان سے ڈرتا تھا وہ علی ابن ابی طالب+ کا سنگین سایہ اور آپ(علیہ السلام)  کا قدرت مند جاذبہ تھا۔  البتہ امام(علیہ السلام)  اس وقت درجہٴ شھادت پر فائز ھو گئے تھے وہ خود حضرت علی(علیہ السلام) سے نھیں ڈرتا تھا بلکہ آپ کی شخصیت سے ڈرتا تھا ایسی شخصیت جو اس کی حکومت و سلطنت کی شرعی اور قانونی اور اس کے مطلق العنان ھونے میں رکاوٹ اور سنگ راہ تھی اگر وہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کی شخصیت اور تقدس کے حریم کو نابود کر سکتا، وہ اپنا اور اپنے خاندان کا تاریخی انتقام بھی لے لیتا، اپنے اور اپنے خاندان کے غلبہ کو باقی رھنے اور اسکی مشروعیت کو حاصل کرنے کا جو سب سے بڑا مانع تھا اسے بھی درمیان سے ھٹا دیتا۔[30] حضرت علی(علیہ السلام) سے مقابلہ آرائی سب سے پھلا اقدام امام(علیہ السلام)  پر سب ولعن کا  رواج دے نا تھا۔ لیکن کچھ مدت گزر جانے کے بعد میں جان لیا کہ فقط یہ کافی اور کارساز نھیں ھوسکتا لہٰذا اس نے فیصلہ کیا کہ ایک آئین نامہ کے ذریعہ اپنے حکام سے یہ چاھے کہ جو مناقب علی ابن ابی طالب+ کے بارے میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  سے نقل کئے گئے ھیں انھیں کے مشابہ فضیلتیں دوسروں کے بارے میں گڑھ کر ان کی ترویج کریں اور ٹھیک یھیں سے تحول اور تبدیلی کا آغاز ھوتا ھے۔ صدر اسلام اور اس کے افراد کو تقدس کی نظروں سے دیکھا جانے لگا۔ مدح صحابہ، عصر صحابہ، خلفائے ثلاثہ، خلفاء راشدین، عشرہ مبشرہ، ازواج پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  اور صدر اول کی اھم اور صاحبان نفوذ شخصیتوں کے بارے میں حدیثیں گڑھی جانا شروع ھوجاتی ھیں۔ یہ حدیثیں عام لوگوں کے دل و دماغ اور یھاں تک کہ علما اور محدثین کے ذھن اور ان کے دماغ میں گھرکر گئیں اور کبھی بھی ان کے ذھن سے یہ بات نھیں نکلی اور نہ ھی اس میں شک و شبہہ پیدا ھوا کیونکہ اس بات کے ذھن سے نکلنے یا اس میں شک کے لئے کوئی راستہ نہ تھا اور یھاں تک کہ یہ عقاید بعد کے زمانہ میں بھی کچھ اسباب کے تحت جن کا ذکر ھم بعد میں کریں گے وہ قوی ھوگئے ۔ ابن ابی الحدید شرح نھج البلاغہ میں ایک فصل تحریر کرتے ھیں جس کو” اھل بیت(ع)پر ڈھائے جانے والے بعض مظالم اور اذیتوں کے بیان“ کے عنوان کے تحت اس سے متعلق ایک مفصل حدیث امام محمد باقر(علیہ السلام) سے نقل کرتے ھیں جس میں آنحضرت(علیہ السلام)  جو کچھ شیعوں کے ائمہ اور ان کے ماننے والوں پر گذری ھے اس کو مختصر طورپر بیان فرمایا ھے :” ھم ھمیشہ مورد آزار واذیت اور ظلم واقع ھوئے اور قتل کئے گئے ، ھمیشہ قید و بند، تحت تعقیب اور محرومیت میں مبتلا رھے ھیں ۔میری اور میرے چاھنے والوں کی جانیں محفوظ نہ تھیں۔اسی حال میں جھوٹی حدیثیں گڑھنے والے اور حقیقت سے نبردآزما لوگ میدان میں کود پڑے ان کے جھوٹ بولنے اور حقیقت سے نبردآزمائی کی بناپر ان لوگوں نے برے امیروں، قاضیوں اور حکام کے نزدیک ھر شھر میںاپنی حیثیت بنالی۔ وھی لوگ حدیثیں گڑھ کے اس کو شائع کرتے تھے ۔ جو ھم نے انجام نھیں دیا تھا اور اس کے بارے میں نھیں کھا تھا اس کی نسبت ھماری طرف دے دی گئی یعنی ھم سے روایت کرڈالی تاکہ ھم کو لوگوں کے درمیان بدنام کریں اور ان کی دشمنی کی آگ ھمارے خلاف بھڑکائیں اور یہ ماجرا امام حسن(علیہ السلام) کی رحلت کے بعد معاویہ کے زمانے میں شدید ھوگیا۔“[31]اس روایت کو نقل کرنے کے بعد مدائنی کی معتبر کتاب الاحداث سے ایک دوسری بات نقل کرتے ھیں کیونکہ وہ بھت زیادہ فوائد پر مشتمل ھے لہٰذا ھم اس کا ایک اھم حصہ بیان کریں گے:حضرت علی(علیہ السلام) کی شھادت کے بعد جب معاویہ کی خلافت مستقر ھوگئی، اُس(معاویہ) نے اپنے والیوں کو اس طرح لکھا: ”میں نے اپنے ذمہ کو اس فر دسے جو ابوتراب اور ان کے خاندان کے فضائل بیان کرتا ھے بری کر لیا ھے۔ اتنا کھنا تھا کہ دور و نزدیک تمام علاقوں میں ھر منبر سے ھر خطیب نے مولائے کائنات حضرت علی  (علیہ السلام) پر لعنت کرنا شروع کردیا اور ان سے اظھار بیزاری کرنے لگے خود ان کے اور ان(علیہ السلام)  کے اھل بیت(علیہ السلام)  کے خلاف زبان کھولنے لگے اور ان پر لعن وطعن کرنے لگے۔ اسی درمیان کوفہ تمام علاقوں سے زیادہ مصیبت میں گرفتار ھوگیا چونکہ زیادہ تر شیعہ اسی شھر میں ساکن تھے۔ معاویہ نے زیاد ابن سمیہ کو اس کا والی بنایا اور بصرہ کو بھی اسی سے متصل کردیا اس نے بھی شیعوں کو ڈھوڈنا شروع کیا اور چونکہ حضرت علی(علیہ السلام) کے دور میں وہ خود بھی آپ(علیہ السلام)  کے شیعوں میں سے تھا لہٰذا ان کو اچھی طرح پھچانتا تھا ان کو جھاں بھی پاتا قتل کردیتا تھا ایک عظیم دھشت پھیل گئی تھی ان کے ھاتھ پاوٴں کاٹ دیتا اور آنکھوں میں سلاخیں ڈال دیتا اور درخت خرمہ کے تنے پر ان کو سولی دے دیتااور عراق سے ان کو نکال کر ان لوگوں کو ادھر ادھر منتشر اورتتر بتر کردیا اس حدتک کہ اب کوئی معروف شخصیت وھاں باقی نہ رہ جائے۔ معاویہ نے دوسری نوبت میں اپنے کارندوں کو لکھا کہ کسی ایک بھی شیعہٴ علی اور ان سے وابستہ لوگوں کی شھادت (گواھی) کو قبول نہ کرو۔ اپنی توجہ کو عثمان اور اس کے شیعوں کی طرف موڑ دو اور جو لوگ اس کے فضائل اور مناقب کو بیان کر تے ھیں انھیں اپنے سے نزدیک کرو ان کو اکرام و انعام سے نوازو۔ ان سے مروی روایات اور خود ان کے ناموں، ان کے باپ اور خاندان کے ناموں کو لکھ کر میرے پاس ان کی فھرست بھیجو۔ اس کے کارندوں نے ایسا ھی کیا یھاں تک کہ عثمان سے متعلق فضائل بھت زیادہ ھوگئے اور ھر جگہ پھیل گئے اور یہ معاویہ کے مختلف ھدیوں کی بدولت تھا عبا اور زمین سے لیکر دوسرے بھت سارے قیمتی تحفے، تحائف تک کہ جو عربوں اور دوستوں کو بخشا تھا ۔وہ دنیا کو پانے کے واسطہ ایک دوسرے سے مقابلہ آرائی میں مشغول تھے۔ کوئی بیکار اور فضول شخص بھی ایسا نہ تھا جو معاویہ کے گورنر کے پاس گیا ھو اور کوئی روایت عثمان کی فضیلت میں نقل نہ کی ھو مگر یہ کہ اس کا نام لکھا جا ئے اور اس کی قدردانی کی جاتی تھی اور وہ شخص مقام و منزلت پا جاتا تھا اور ایک مدت اسی طرح گزر گئی۔ کچھ دنوں کے بعد معاویہ نے اپنے والیوں کو لکھا کہ عثمان کے بارے میں احادیث بھت زیادہ ھوگئی ھیں اور تمام علاقوں میں پھیل گئی ھیں۔ جس وقت میرا خط تم تک پھنچے لوگوں کو دوسرے صحابہ اور پھلے دونوں خلفا کے فضائل بیان کرنے کی دعوت دو۔ جیسی فضیلتیں مسلمانوں نے ابوتراب(علیہ السلام)  کے بارے میں نقل کی ھیں ویسی ھی فضیلتیں صحابہ کی شان میں جعل کر کے میرے پاس بھیج دو۔ کیونکہ اس امر کو میں بے حد پسند کرتا ھوں اور میری آنکھیں اس سے روشن ھوجاتی ھیں اور وہ خلفائے راشدین کی فضیلتیں ابوتراب اور ان کے شیعوں کی دلیلوں کو بھتر طورپر باطل کرتی ھیں اور ان لوگوں پر عثمان کے فضائل بیان کرناسخت اور دشوار کام ھے۔  اس(معاویہ) کے خطوط لوگوں کے سامنے پڑھے گئے۔ بلا فاصلہ اسی کے ساتھ ساتھ بھت زیادہ اخبار و احا دیث صحابہ کی فضیلت میں بیان ھونے لگیں کہ تمام کہ تمام جھوٹی اور جعلی تھیں ،لوگ اس راہ پر چلنے لگے یھاں تک کہ یہ روایتیں منبروں سے پڑھی جانے لگیں اور مدرسہ کے منتظمین اور اس میں پڑھانے والے اساتذہ کو دیدی گئیں انھوں نے ان روایات کو بچوں کو تعلیم دینا شروع دیا اور یہ احادیث اس قدر پھیل گئیں اور اھمیت کی حامل ھوگئیں کہ ان(احادیث) کو قرآن کی طرح سیکھ لیا اپنی لڑکیوں، غلاموں، کنیزوں اور عورتوں کو تعلیم دے دی گئیں۔ اس کے بعد ایک دوسرا خط لکھا اور اپنے کارندوں سے چاھا کہ جس شخص پر علی  (علیہ السلام) کی دوستی کا الزام ھو اس کو زیرنظر اور اس پر دباوٴ بنائے رھیںاس کے گھر کو خراب کرد یں۔”۔۔ اس طرح بھت سی احادیث جعل کر کے منتشرکر دی گئیں۔ فقیھوں، قاضیوں اور امیروں نے بھی یھی راستہ اختیار کیا۔ اسی درمیان ریاکار جھوٹے راوی اور زھد فروش حقیر اور مقدس نما، افراد اس مسابقہ میں بازی جیت لے گئے اور سب سے زیادہ اپنے آپ کو اس سے آلودہ کرلیا تاکہ اس راہ سے مال و متاع اور مقام ان کے ھاتھ لگے اور وہ حکام سے نزدیک ھوجائیں ۔یھاں تک کہ یہ احادیث متدین افراد اور سچ بولنے والوں کے پاس پھو نچ گئیں جو لوگ نہ تو جھوٹ بولتے تھے اور نہ ھی فطری طورپر اس بات کا یقین کر نے پر قادر تھے کہ دوسرے لوگ بعنوان محدث و راوی جھوٹ بولیں گے۔ لہٰذا ان سب کو قبول کرکے اورسچ سمجھ کر روایت کرنے لگے ۔اگر وہ جانتے کہ یہ احادیث جھوٹ اور باطل ھیں تو نہ ان کو قبول کرتے اور نہ ھی ان کو نقل کرتے۔۔۔“[32] اس کے بعد ابن ابی الحدید نے ابن نفطویہ جو کہ برزگ محدثین میں سے ھیں، ان سے ایک جملہ نقل کرتے ھیں مناسب ھے کہ ھم بھی اس کو نقل کردیں:”اکثر جعلی حدیثیں جو صحابہ کے فضائل میں گڑھی گئیں وہ بنی امیہ کے زمانہ میں گڑھی گئیں ھیں، تاکہ اس کے ذریعہ ان کا تقرب حاصل کریں یہ خیال کرتے ھوئے کہ اس طرح بنی ھاشم کی ناک زمین پر رگڑ دیں گے۔[33] حقیقت یہ ھے کہ معاویہ اور اس کے بعد بنی امیہ نے، مختلف وجوھات اور دلائل کے تحت ایسے اقدام کئے۔ وہ اپنی موقعیت اور مشروعیت کو ثابت کرنے اور اپنے سب سے بڑے رقیب و مخالف، بنی ھاشم اور ان میں بھی سرفھرست ائمہ معصومین(ع)کو میدان سے ھٹانے کے لئے مجبور تھے کہ خود کو عثمان کے شرعی اور قانونی وارثوں کی حیثیت سے پھچنوائیں اور حضرت علی(علیہ السلام) کے ھاتھ کو اس کے خون سے آلودہ بتائیں اگر ان کاموں میں وہ کامیاب ھوجاتے تو وہ اپنے مقاصد تک پھنچ جاتے ،اسی وجہ سے خاص طورپر شعرا اور ان کی مدح و سرائی کرنے والوں نے عثمان کے فضائل بیان کرنے اور ان کو بے گناہ قتل ھونے اور یہ کہ بنی امیہ اس کے خون کے حقیقی وارث ھیں اور اس کی طرف سے یہ خلافت ان تک پھنچی ھے، اس کے لئے ان لوگوں نے داد سخن دی ھیں۔[34] گولڈزیھر (Goldziher) اس بارے میں اس طرح کھتا ھے:”تاریخ کے نقطہٴ نظر سے یہ چیز تقریباً مسلم ھے کہ بنی امیہ نے خود کو عثمان کا قانونی اور شرعی جانشین کھلوایا اور اس کے خون کا انتقام لینے کے عنوان سے حضرت علی(علیہ السلام) اور ان کے شیعوں کے خلاف بنی امیہ دشمنی پر تل گئے ۔ اسی سبب سے عثمانی ایک ایسا عنوان ھوگیا تھا جو اموی خاندان کے سر سخت طرفداروں پر اطلاق ھوتا تھا۔[35] یہ سب اس بات کا مرھون منت ھے کہ عثمان جس قدر، منزلت پاسکتے ھوں پالیں۔ ایسی منزلتیں جو ان کو ھر اس تنقید سے بچاسکتی تھیں جو تنقید یں ان پر کی جاسکتی تھیں اور اس میں چند اھم نتیجہ پائے جاتے تھے۔ پھلا یہ کہ اس کے ذریعہ کوئی سوچ بھی نھیں سکتاکہ وہ کیوں اور کن لوگوں کے ذریعہ اور کن تھمتوں کی وجہ سے قتل کئے گئے ؟ وہ فضائل جو ان(عثمان) کے لئے نقل ھوتے تھے ان کی حقیقی شخصیت اور ان کے اعمال و کردار کے اوپر ایک ضخیم پردہ کی حیثیت رکھتا تھا اورھالہ کی روشنی کے سبب ان کے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈال دیتا تھا۔ دوسرے: یہ ثابت کرتا تھا کہ ایک ایسا شخص جواپنی زندگی کے آخری لمحہ تک حق و حقیقت کے سوا کسی اور راہ پر نہ تھا لہٰذا وہ مظلومانہ طور پر شھیدکیاگیا ھے اور اس کے قاتل، بے دینوں اور بددینوں کا ایک گروہ تھاالبتہ پروپیگنڈے سے لوگوں کو یہ یقین دلا سکتے تھے کہ علی(علیہ السلام) کا اس حادثہ میں ھاتھ تھا بلکہ ان کا اھم کردار تھا۔ تیسرے : اس خون ناحق کا انتقام لیا جائے اور اس کا بدلہ لینے کے لئے معاویہ اور بنی امیہ کے علاوہ کون سب سے زیادہ حق دار ھوسکتا ھے! معاویہ عثمان کے خون کا ولی اور وارث ھے اور صرف اسی کو اس کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اُٹھنا چاہئے اور صرف اسی کو اس کا جانشین ھونا چاہئے لہٰذا معاویہ کی خلافت اور جانشینی بھی مشروعیت پارھی تھی اور علی(علیہ السلام) سے اس کی مخالفت اور آپ سے جنگ بھی شرعی اور قانونی  قرار پارھی تھی۔ اتفاقاً اس طرح کے استدلال اس زمانے کے مسلمانوں کے لئے قابل درک تھے کیونکہ وہ لوگ ابھی تک دوران جاھلیت کے میراث کے قانون سے متائثر تھے اور بنی امیہ بھی اپنی پوری طاقت و قوت کے ساتھ انھیں زندہ کرنے کے لیئے کمر بستہ تھے اور وہ لوگ اس کو درک کرتے تھے۔ کیونکہ جاھل معاشرہ میں ثار کے قانون کی بنیاد پر مقتول کے وارثوں پر لازم ھے کہ اس کا انتقام قاتلوں سے لے لیں۔ اصل (اس قانوں میں) فقط انتقام لینا ھے دوسری کسی اصل کی رعایت نھیں ھے نہ کہ کسی اور دوسری اصل (قاعدہ) اور حدود کی رعایت کرنا۔[36] اب تک جو کچھ بھی بیان ھوا اس کا بھترین ثبوت جنگ صفین میں عمرو ابن عاص اور ابو موسیٰ اشعری کے ذریعہ حکمیت کے بارے میں موافقت نامہ کا تحریر کرنا ھے۔ ایک ایسا نمونہ جس کی بعد میں معاویہ اور سارے خلفائے بنی امیہ اس کی پیروی کرتے تھے۔ ان دونوں کی بھت سی بحث و گفتگو کے بعد عمرو عاص نے اپنے ساتھی سے چاھا جس چیز پر ھم توافق کرتے جائیں وہ کاتب کے ذریعہ لکھوایا جائے۔ کاتب اسی عمرو کا بیٹا تھا، خدا کی وحدانیت اور رسول کی رسالت اور پھلے دو خلفا(ابو بکر وعمر) کی حقانیت کی گواھی لکھنے کے بعد عمرو ابن عاص نے اپنے بیٹے سے کھا لکھو: کہ عثمان، عمر کے بعد تمام مسلمانوں کے اجماع اور صحابہ کی مشورت اور ان کی مرضی سے خلافت کے عھدہ پر فائز ھوئے اور وہ مومن تھے۔“ ابوموسیٰ اشعری نے اعتراض کیا اور کھا: یھاں اس مسئلہ کی تحقیق کے لئے نھیں بیٹھے ھیں، عمرو نے کھا:” خدا کی قسم یا وہ مومن تھے یا کافر تھے۔ ابوموسیٰ نے کھا :”مومن تھے۔“ عمرو نے کھا ”ظالم قتل ھوئے یا مظلوم؟“ ابوموسیٰ نے کھا ”مظلوم قتل ھوئے ھیں۔“  عمرو نے کھا :”آیا خداوندعالم نے مظلوم کے ولی کو یہ اختیار نھیں دیا کہ اس کے خون کا بدلہ لے؟ “ ابوموسیٰ نے کھا: ”کیوں نھیں“ عمرو نے کھا: ”آیا عثمان کے واسطے معاویہ سے بھتر کوئی ولی جانتے ھو؟“ ابوموسیٰ نے کھا ”نھیں“ عمرو نے کھا:”آیا معاویہ کو اتنا بھی حق حاصل نھیں ھے کہ وہ عثمان کے قاتل کو جھاں بھی ھوں اپنے پاس طلب کرے تاکہ یا تو اس کو قتل کردے یا اس کے مقابلہ سے وہ عاجز ھوجائے؟ “ ابوموسیٰ نے کھا :”کیوں نھیں، ایسا ھی ھے“ عمرو نے کھا:” ھم ثبوت پیش کرتے ھیں کہ علی نے عثمان کو قتل کیا ھے۔[37] اور ان تمام باتوں کو اس عھد نامہ کا جز قرار دیا مقام صحابہ کا اتنا اھم ھوجانا یہ ان حالات کا ایک گوشہ ھے جس میں عثمان اور گذشتہ خلفا اور صحابہٴ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کے نفع میں حدیث کا گڑھے جانے کا کام انجام پایا۔ معاویہ اپنے مقاصد تک پھنچنے کے لئے مجبور تھا کہ عثمان کی حیثیت اور  شخصیت کو بڑھائے لہٰذا مدائنی کے نقل کے مطابق کہ (معاویہ نے) بلا فاصلہ خلافت پر پھنچنے کے بعد حدیثیں گڑھنے کا حکم صادر کردیا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ اقدام فقط شخص عثمان تک محدود نھیں رہ سکتا تھا۔ کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں کے لئے، جن میں سے بعض نے عثمان اور ان کے پھلے والے خلفا کو دیکھا تھا یہ ان لوگوں کے لئے قابل درک وہضم نھیں تھا کہ اس (عثمان) کا اتنا بڑا مرتبہ اور مقام ھو اور اس کے پھلے والے خلفا اور دوسرے صحابہٴ نامدار کی یہ منزلت نہ ھو۔ یہ مسئلہ عثمان کے فضائل کے بارے میں مختلف قسم کے سوالات اور شک وشبہہ ایجاد کرسکتا تھا یھی وجہ تھی کہ وہ (معاویہ) مجبور ھوگیا کہ عثمان کے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی شان و شوکت اور مقام و منزلت بلند کریں اور ایسا ھی کیا۔ اس ضرورت کے علاوہ اس عمل کے دوسرے نتائج بھی تھے۔ ان میںسے اھم ترین نتیجہ یہ تھا کہ ایک ایک صحابہ کی قدر و منزلت کو آشکار کرنے کے ذریعہ بلند ترین قدر ومنزلت رکھنے والے صحابی کی معروف ترین شخصیت اور حیثیت کو دبانے اور کم کرنے میں مدد کررھے تھے۔[38] یہ کہ جو معاویہ نے کھا:” ابوتراب کی کسی بھی فضیلت کو جو کسی مسلمان نے نقل کی ھو اسے ھرگز نہ چھوڑنا مگر یہ کہ اس کے خلاف صحابہ کی شان میں  حدیث میرے پاس لاوٴ۔“ درحقیقت اس کا مقصد حضرت علی(علیہ السلام) کی حیثیت اور شخصیت کو کم کرنا تھا۔ یھی وجہ تھی کہ اس نے صراحت کے ساتھ کھا:” اس بات کو میں دوست رکھتا ھوں اور وہ میری آنکھوں کو روشن کرتا ھے جو ابوتراب اور ان کے چاھنے والوں (شیعوں)اور ان کی دلیلوں کو بھتر طورپر باطل کرتا ھے۔“ البتہ ان دلیلوں کے تحت جن کا ھم بعد میں تذکرہ کریں گے کہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ھو گیا۔ بھرحال نتیجہ یہ ھوا کہ دوسروں کی سطح بھی اوپر آگئی اس حد تک کہ بسا اوقات پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کی سطح کے نزدیک قرار پاگئی اور صدر اول کی تاریخ ایک شان او ر قدر منزلت اور تقدس کی حامل ھوگئی اور اس کی قدر و منزلت خود اسلام کے ھم پلہ ھوگئی اور اس طرح اسلام کی ھمزاد ھوگئی کہ بغیر اس کی طرف توجہ دیئے اسلام کا سمجھنا ممکن نہ تھا۔ [39] ------------------ [1] یہ معروف جملہ ھے جس کو مختلف مناسب مواقع پر عمر سے نقل کیا گیا ھے۔ اس کے لئے آپ  تحریر الاعتقاد کے ص/۲۴۵، پر رجوع کریں؛ اور شرح ابن ابی الحدید کی ج/۲، ص/۲۶پر رجوع کریں۔ [2] ”۔۔۔ جن لوگوں نے علی(علیہ السلام) کی بیعت کی تو ان کی بیعت کرنے کا اصلی سبب یہ تھا کہ آپ کو مسلمانوں کے درمیان مقام خلافت کے لئے سب سے بھتر پاتے تھے جیساکہ گذشتہ زمانہ کے مسلمان ابوبکر کو مقام خلافت کے لئے سب سے بھتر سمجھتے تھے، اسی لئے اس کا انتخاب بھی کرلیا اور یکے بعد دیگرے عمر اور عثمان کو منتخب کرتے رھے (۲۲۰) اسلام بلا مذاھب ص/۱۱۰۔ [3] ان توقعات کے نمونوں میں سے ایک نمونہ ابوموسیٰ اشعری کی تجویز ھے جس کو آپ مروج الذھبکی ج/۲، ص/۴۰۹، پر ملاحظہ کریں۔ [4] طلحہ و زبیر کا جنگ جمل سے پھلے امام جماعت اور لشکر کی قیادت کے سلسلہ میں اختلاف اس کے لئے آپ ”نقش عائشہ در تاریخ اسلام“ کی ج/۲، ص/۴۸۔ ۶۵پر  رجوع کریں۔ [5] طلحہ کا جنگ جمل کے دوران مروان کے ھاتھوں قتل کئے جانے اور اس کے مدارک میں تنقیدی چھان بین کے بارے میں آپ اسی کتاب کے ص/۱۷۳۔ ۷۵ ۱پر رجوع کریں، نیز العواصم من القواصم فی الذب عن سنةابی القاسم کے ص/۲۴۰۔ ۲۴۱،پر اور خاص طورپر اسی طرح آپ محب الدین خطیب کے شدید تکلیف دہ جواب کے لئے ان کے حاشیوں میں رجوع کریں۔ [6] اس کے باوجود کہ سعد ابن ابی وقاص کے ایسا انسان علی(علیہ السلام) کے ساتھ نہ تھا لیکن وہ یہ بھی نھیں چاھتا تھا کہ وہ آپ(علیہ السلام)  سے مقابلہ کرے، وہ اس جملہ کو اپنی زبان پر لاتے ھوئے کہ” میں جنگ نھیں کروں گا کہ مجھے تلوار دو اور وہ میرے بارے میں یہ سوچیں اور دیکھیں اور یہ کھیں کہ یہ راہ راست اور دوسرا خطا پر ھے۔“ حضرت علی(علیہ السلام) کی مددسے انکار کردیا الفتنة الکبریکےٰ ص/۵پر، لیکن اس کے باوجود امام(علیہ السلام) کی تعریف میں یہ کھا: ”پس پیغمبر خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  سے جو باتیں علی  (علیہ السلام) کے بارے میں میں نے سنی ھیں اگر میرے سر پر آرہ رکھ کر ان کو برا بھلا کھنے کے لئے کھیں کہ ان کو برا بھلا کھوں تب بھی میں ان کو برا بھلا نھیں کھوں گا۔“ کنز العمال اس روایت کو مختلف نقلوں اور سندوں کے ساتھ بیان کرتی ھے۔ ج/۱۳، ص/۱۶۲۔ ۱۶۳۔ [7] الخلافة و الامامة عبد الکریم الخطیب‘ ص/۱۲۱۔ [8] مقدمہ ابن خلدون‘ ج/۱، ص/۲۹۸۔ [9]شرح ابن ابی الحدید‘ ج/۲۰، ص/۸۔ [10] اس خود پسندانہ تفسیر اور اس من چاھی اور ناجائز توقعات کے بھترین نمونہ کو علی(علیہ السلام) سے طلحہ و زبیر کے مجادلات میں دیکھا جاسکتا ھے اس کے لئے آپ”نقش عائشہ در تاریخ اسلام“ کے ص/۳۵۔ ۴۱، پر رجوع کریں۔ [11] بیشک حضرت علی(علیہ السلام) اپنی خلافت کے وقت جن مخالفتوں سے روبرو ھوئے اس کے چند اصلی اسباب تھے ان میں سے ایک سبب خاندان قریش کا آپ سے قدیمی کینہ تھا۔ امام(علیہ السلام)  نے بارھا مختلف مواقع پر اس کی طرف اشارہ کیا ھے۔ اور قریش والوں کی شکایت کی۔ ایک بار آپ(علیہ السلام)  نے فرمایا: ”تمام وہ کینہ جو قریش نبی اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کے لئے اپنے دل میں رکھتے تھے مجھ پر ظاھر کردیا اور بعد میں میری اولاد سے بھی اس کینہ کا اظھار کریں گے۔ مجھ کو قریش سے کیا سروکار! خدا اور اس کے رسول کا حکم تھا جس کے باعث میں ان (قریش) سے لڑا۔ کیا خدا و رسول کی اطاعت کرنے والے کی جزا یھی ھے، اگر یہ لوگ مسلمان ھیں۔“ الشیعة و الحاکمون ص/۱۷۔ قابل توجہ بات تو یہ ھے کہ دوسرے لوگ بھی اس نکتہ کی تہہ تک پھونچ گئے تھے۔ ایک دن عمر نے عباس سے اس طرح کھا:” اگر ابوبکر کی رائے اپنے مرنے کے بعد کے خلیفہ کے بارے میں نہ ھوتی تو بیشک و شبہہ یہ قدرت تمھارے پاس پھونچ جاتی اوراگر ایسا ھوجاتا تو اپنی قوم سے تمھیں چین کا سانس لینا نصیب نہ ھوتا۔ وہ تم کو اس طرح دیکھتے ھیں جس طرح ذبح ھونے والی گائے قصاب کو دیکھتی ھے۔“ ایک دوسرے مقام پر ایک جلیل القدر صحابی ابن التیھان نے حضرت علی(علیہ السلام) سے کھا: ”قریش کا حسد آپ کی بہ نسبت دو طرح کا ھے۔ ان میں کے اچھے لوگ چاھتے ھیں کہ آپ ھی کی طرح ھوجائیں اور آپ ھی کی طرح معنوی اور روحانی حیثیت بڑھانے میں آپ سے رقابت کریں لیکن ان میں کے جو برے لوگ ھیں وہ آپ(علیہ السلام)  سے اس قدر حسد کرتے ھیں جو دل کو سخت بنادیتا ھے اور عمل کو نابود کرنے والا ھے۔ جب وہ دیکھتے ھیں کہ آپ(علیہ السلام)  کن نعمتوں سے مالا مال ھیں جو آپ(علیہ السلام)  کی خوشنودی اور ان کی محرومی کا باعث ھے۔ وہ چاھتے ھیں کہ آپ(علیہ السلام)  کے برابر ھوجائیں اور آپ(علیہ السلام)  سے آگے نکل جائیںکہ وہ اپنے مقصد کو حاصل نھیں کرپاتے ھیں اور ان کی کوشش بے نتیجہ ھوجاتی ھے چونکہ وہ کامیاب نھیں ھوتے ھیں لہٰذا وہ آپ(علیہ السلام)  سے مقابلہ کے لئے اُٹھ کھڑے ھوتے ھیں۔ خدا کی قسم آپ(علیہ السلام)  تمام قریش سے زیادہ ان کے نزدیک قدردانی کے مستحق ھیں۔ کیونکہ آپ(علیہ السلام)  نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کی مدد کی اور آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کی رحلت کے بعد ان کے حق کو ادا فرمایا۔ خدا کی قسم ان کی سرکشی میں صرف انھیں کا نقصان ھے۔ انھوں نے اس کے ذریعہ خدا کے عھد کو توڑ دیا اور اس (خدا وند عالم) کا ھاتھ تمام ھاتھوں سے برتر ھے۔ لیکن ھم انصار کے ھاتھ اور زبانیں آپ(علیہ السلام)  کے ساتھ ھیں۔۔۔“ الفکر السیاسی الشیعی کے ص/۲۰۴۔ ۲۰۶،پر رجوع کریں ؛خاص طورپر آپ زیاد ابن الغم شعبانی کے نظریات میں رجوع کریں (متوفی۱۵۶) اور اسی طرح شعبی نے بھی اسی باب میں محب الدین خطیب العواصم من القواصم نامی کتاب کے حاشیہ کے ص/۱۶۸۔ ۱۶۹، سے نقل کیا ھے۔ واقعیت یہ ھے کہ قریش کی مخالفت صرف حضرت علی(علیہ السلام) تک محدود نہ تھی یہ خود پیغمبر اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کو بھی شامل تھی کہ اس کے نمونے آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کی عمر کے آخری حصہ میں باربار دیکھے جاسکتے ھیں۔ شیخ مفیدۺ، امام صادق(علیہ السلام) سے روایت نقل کرتے ھیں کہ اس میں کا کچھ حصہ اس طرح ھے: ”پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کو خبر ملی کہ قریش کے بعض لوگوں نے اس طرح کھا ھے: کیا تم لوگوں نے نھیں دیکھا کہ پیغمبر اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  نے کس طرح قدرت کو اپنے اھل بیت کے لئے مستحکم اور استوار بنادیا ھے ان کی وفات کے بعد اس قدرت کو ھم ان (اھل بیت) سے دوبارہ لے لیں گے اور اسے دوسری جگہ پرمقرر کردیں گے۔۔۔“ امالی، ص/۱۲۳۔ قریش کے طعنہ دینے کے باب میں اور ان میں سے سرفھرست ابوسفیان تھاجو بنی ھاشم کو حتیٰ زمان پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  میں بھی طعنہ دیا کرتا تھا اس کے لئے عبداللہ بن عمر کی روایت کو اقتضاء الصراط المستقیم، نامی کتاب مصنفہ ابن تیمیہ کے ص/۱۵۵ سے ماخوذ ھے اس پر ملاحظہ فرمائیں اور ایسے ھی ابوسفیان کے کلام کی طرف بھی جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کے چچا حضرت حمزہ کی قبر کو مخاطب کرتے ھوئے کھا قاموس الرجال، نامی کتاب کی ج/۱۰، ص/۸۹، پر رجوع فرمائیں۔ [12] اس زمانہ کے رائج دین کی تبعیت میں ڈاکٹر طہ حسین صاحب کے اقتصادی بدلاؤ کے بارے میں تحلیل و تجزیہ کو الفتنة الکبریٰ، نامی کتاب میں رجوع کریں۔ [13] نمونہ کے واسطے ابوحمزہ کے خطبہ البیان والتبیین، کی ج/۲، ص/۱۰۰۔ ۱۰۳، پر رجوع کریںاور یہ کہ پھلے والے دو خلیفہ اور حضرت علی تعارف کس طرح سے کرایا گیا۔ [14] نظریة الامامة لدی الشیعة الاثنا عشر، نامی کتاب کے، ص/۲۸۰ پر، ان تنقیدوں کے خلاصہ کو تلاش کیا جاسکتا ھے۔ [15] معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیاں اور اس کی اتباع میں پھلے زمانہ کی دینی، سیاسی اور فکری تبدیلیاں اس قدر گھری اور تیز تھیں کہ معاویہ کے جیسے بلا کے سیاسی انسان کو بھی عاجز وناتواں بنادیا۔ اس نے اپنے مرض الموت کے خطبہ میں اپنی ناتوانی اور عاجزی کا اعتراف کرتے ھوئے کھا تھا: ”اے لوگو! ھم بھت ھی سخت اور گیرودار اور فتنہ سے بھرے ھوئے زمانے میں واقع ھوئے ھیں۔ ایسا زمانہ جس میں ایک صالح انسان گنہگار شمار کیا جاتا ھے اور ظالم اپنی سرکشی میں اور اضافہ کردیتا ھے۔۔۔“ عیون الاخبار، ج/۲، ص/۲۵۹۔ [16] حقیقت تو یہ ھے کہ عائشہ بھت زیادہ مصمم نھیں تھیں اور حتیٰ کہ حضرت علی(علیہ السلام) سے جنگ کرنے کے لئے مائل نھیں تھیں چند بار ارادہ کیا میدان جنگ میں نہ جائیں زیادہ تر عبداللہ بن زبیر جو ان کے بھانجہ تھے، حضرت عائشہ کو ان کے قطعی ارادہ سے روک دیا۔ اس کے لئے آپ نقش عائشہ در تاریخ اسلام، نامی کتاب کی ج/۲، ص/۵۱۔ ۵۲ کی طرف رجوع کریں۔ [17] عائشہ جنگ جمل کے بعد اپنے کئے پر سخت پشیمان ھوئیں اور انھوں نے اسے مختلف طرح سے اظھار اور بیان کیا۔ ان میں سے ایک معاویہ کے ذریعہ حجر بن عدی کی شھادت کے بعداس طرح کھا: ”میں یہ چاھتی ھوں حجر کے خون کے بدلہ لینے کے لئے قیام کروں (اس کا بدلہ لوں) لیکن ڈر اس بات کا ھے کہ کھیں جنگ جمل کی تکرار نہ ھوجائے: الفکر السیا سی الشیعی، ص/۲۹۱۔ [18] زبیر کا محاذ جنگ چھوڑ کر چلے جانے کا بڑی ھی باریکی سے جائزہ لینے کے لئے عائشہ در تاریخ اسلام، نامی کتاب کی ج/۲، ص/۱۶۰۔ ۱۷۰ پر ملاحظہ کیجئے۔ [19] بطور نمونہ الامامة والسیاسة، نامی کتاب کے ص/۱۷۷، ۱۸۹،۱۹۱ پر رجوع کریں۔ [20] حقیقت یہ ھے کہ انصار کی حضرت علی بن ابی طالب+ کی حمایت اور معاویہ اور امویوں کی مخالفت کے بھت سے دلائل اور وجوھات موجود ھیں۔ سب سے زیادہ مخالفت یہ تھی کہ ان لوگوں کو اپنی موافقت کے لئے کھینچ لیا اور یہ سبب مستقل برقرار رھا۔ یھی وجہ تھی کہ معاویہ نے مختلف مواقع پر ان لوگوں کو اس بات کا طعنہ دیا اور یزید اور تمام امویوں نے بھی ایسا ھی کیا یھاں تک کہ ان کے قتل عام کے لئے اٹھ کھڑے ھوئے۔ محمود صبحی، مسعودی کے قول سے اس طرح حکایت کرتا ھے: ”جس وقت امام حسن(علیہ السلام) نے معاویہ سے صلح، قیس بن سعد نے معاویہ سے جنگ کرنے پر اصرار کیا اور اپنے افراد کو اختیار دیا کہ یا تو امام حسن(علیہ السلام) کی طرح صلح پر قائم رھیں یا پھر بغیر امام(علیہ السلام)  کی اجازت کے جنگ کو جاری رکھیں۔“ اس کے بعد وہ خود اضافہ کرتا ھے: ھاں اس نے اچھے طریقے سے امویوں کو انصار پر امویوں کی حکومت کے مفھوم کو جان لیا تھا۔ نظریة الامامة لدیٰ الشیعة الاثنا عشریة، ص/۴۴۔ایک دوسری جگہ قیس بن سعد ایک خط (نامہ) کے ضمن میں جو نعمان بن بشیر کو لکھا تھا کہ وہ خود انصار میں سے تھے لیکن خاندان اور قبیلہ کے درمیان اختلاف کی بنا پر انصار سے جدا ھوکر معاویہ سے مل گیا تھا، اس طرح لکھا: ”اگر تمام عرب معاویہ کی حمایت میں جمع ھوجائیں، تب بھی انصار اس سے جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ھونگے انصار اور امویوں کی گھری جڑیں رکھنے والی مخالفت کے بارے میں آپ، الامامة و السیاسة،کی ج/۱، ص/۱۷۷۔ ۲۲۰۔ پر رجوع کریں اور اسی طرح معاویہ اور انصار کے درمیان رقابت کے بارے میں بھی البیان و التبیین، کی جلد/۱، ص/۱۲۹ پر رجوع کریں۔ [21] اس داستان کو عموماً کتب تاریخ واحادیث نقل کرتی ھیں۔ اس کے لئے آپ ، حاشیہ ملل ونحل، ج/۱، ص/۱۱۶ پر رجوع کریں۔ یھاں پر مزے کی بات تو یہ ھے کہ اس کو ابن تیمیہ جیسا شخص بھی السیاسة الشرعیہ، کے ص/۴۶ پر نقل کرتا ھے: اس باب میں وہ احادیث جو خوارج کے بارے میں وارد ھوئیں ھیں ان کے بارے میں کنزالعمال، کی،ج /۱۱، ص/۲۸۶۔ ۳۲۳ پر رجوع کریں۔ [22] خوارج کے وجود میں آنے اور ان کی پیدائش اور بقا کی کیفیت کے بارے میں بھترین کتاب مصنفہ نایف الخوارج فی العصر الاموی کی معروف نیز قدیمی ترین کتاب الخوارج والشیعة، مولفہ ولھازن، ترجمہ عبدالرحمن بدوی میں کسی طرف بھی رجوع کریں۔ ان کے بارے میں بھترین اور جامع ترین تعریف توصیف کو خود امام(علیہ السلام) نے بیان کیا ھے۔ نھروان کی جنگ کے تمام ھونے کے بعد امام (علیہ السلام) سے پوچھا گیا کہ یہ لوگ کون تھے؟ اور کیا یہ لوگ کافر تھے؟ آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے کفر سے فرار کیا۔ ان لوگوں نے پھر پوچھا کیا یہ لوگ منافق تھے؟ آپ(علیہ السلام)  نے فرمایا: منافق لوگ خدا کو بھت کم یاد کرتے ھیں۔ حالانکہ یہ لوگ خدا کی یاد کثرت سے کرتے ھیں۔ پھر آپ سے یہ سوال کیا گیا کہ آخر وہ کون لوگ تھے؟ تو آپ نے فرمایا: ایک ایسا گروہ تھا جو فتنہ میں مبتلا ھو گیا۔ لہٰذا وہ لوگ اندھے اور گونگے ھوگئے۔ المصنف شمارہ/۱۸۶۵۶ /ونیز قرائة ج-دی-دة ف-ی م-واق-ف ال-خ-وارج وف-ک-ر وادبھم کے ص/۷۵۔ ۸۲ پر بھی رجوع کریں۔ [23] بطور نمونہ ابوحمزہ کے اس خطبہ کو جس مقام پر وہ معاویہ، یزیداور بنی مروان کا تعارف کراتا ھے اس کے لئے آپ البیان التبیین، کی ج/۲، ص/۱۰۰۔ ۱۰۳، پر رجوع کریں۔ بعد میں خوارج کی جانب سے کی گئی اصلاحات اور ان کے درمیانہ اقدام کو آپ ملاحظہ کریں اباضیہ کے فقہ و کلام میں خاص طور پر ازالة الاعتراض عن مخفی آل اباض، و الاصول التاریخیة للفرقة الاباضیة، نامی کتابوں میں رجوع کریں۔ [24] حقیقت یہ ھے کہ متعدد مواقع پر بنی امیہ کی سیاست ایک ایسی سیاست تھی جو قھر وغلبہ، دباؤ، دھمکی آمیز انداز، خوف کا ماحول بنانے اور بلا وجہ ایک شخص کو دوسرے پر ترجیح دینے اور جبری دین کا لبادہ پھنے ھوئے تھی، نمونہ کے طور الامامة و السیاسة، کی ج/۱، ص/۱۹۱۔ ۱۸۳ یزید کے لئے بیعت لینے کے موقع پر معاویہ کے کلام کی طرف رجوع کریں۔ اور زیاد بن سمیہ کا اھل بصرہ سے وحشت ناک خطاب جس کو البیان والتبیین، کی ج/۲، ص/۵۸۔ ۶۰ پر، اپنے باپ مروان کے مرنے کے بعد عبدالملک کا خطبہ جس کو انساب الاشراف، نامی کتاب کی ج/۱، ص/۱۶۴ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ھے۔ مصعب بن زبیر کے قتل کرنے کے بعد خود اسی کا خطبہ جس کو الامویون والخلافة، کے ص/۱۲۰ پر بھی رجوع کریں۔ اور اسی طرح سے طبری، ج/۷، ص/۲۱۹ میں بھی ملاحظہ کریں۔ یزید بن عبدالملک کا اپنے دو بیٹوں کی ولایت عھدی کے بارے میں ان کے نام خط اور اسی طرح حجاج کے متعدد خطبے جس کو جاحظ نے البیان والتبیین، نامی کتاب کی جلد دوم میں بیان کیا ھے۔ خاص طورپر عراق کے لوگوں سے اس کا خطاب اسی کتاب کے ص/۱۱۴ و ۱۱۵ پر رجوع کریں، خاص طورپر آپ، الامویون والخلافة، نامی کتاب کی طرف مصنفہ، حسین عطوان کی طرف رجوع کر یں۔ سب سے بھتر اور سبق آموز مطلب کے لئے آپ، عبداللہ بن مروان کی داستان کی طرف رجوع کریں جو بنی امیہ کے آخری خلیفہ کا بیٹا تھا، اپنے خاندان کی حکومت کے ختم ھوجانے کو نئے بادشاہ کے عنوان سے اپنی زبانی منصور سے نقل کرتا ھے بادشاہ نے امویوں کی داستان کو سن کر عبداللہ سے یہ کھا: ”یھی وجہ ھے کہ خدا وند عالم نے تمھارے گناھوں کے سبب تم سے عزت اور بزرگی کو چھین لیا اور لباس ذلت پھنا دیا ھے اور انتقام خدا ابھی تمھارے اوپر ختم نھیں ھوا ھے اور میں ڈرتا ھوں کہ کھیں اسی وقت میرے ھی ملک میں خدا کا عذاب تم پر نازل ھوجائے اور تمھاری وجہ سے وہ عذاب مجھ پر بھی آجائے۔۔۔“ مقدمة ابن خلدون، ج/۱، ص/۳۹۷ اور ۳۹۸۔ [25] W. M. Watt, the Majesty That was Islam,p.18. شامیوں اور عراقیوں کے فرق کے باب میں جعفری بھی واٹ کے نظریات کی تاکید کرتا ھے۔ [26] لوگوں (عوام الناس) نے میری بیعت کی۔ وھی افراد جنھوں نے ابوبکر وعمر وعثمان کی بیعت  توجہ کی ضرورت ھے کی اسی چیز پر ان لوگوں کی بیعت کی تھی۔۔۔ الیٰ آخرہ“ شرح نھج البلاغہ، ج/۳، ص/۸۔ [27] علامہ امینی مختلف روایتوں کو ان انگشت شمار اصحاب کے بارے میں نقل کرتے ھیں جو لوگ حضرت علی علیہ السلام کے ھمراہ جنگ صفین میں تھے۔ ایک روایت کی بناپر حاکم نے مستدرک میں روایت کی ھے، وہ ۲۵۰/افراد جنھوں نے بیعت رضوان میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کے ھاتھ پر بیعت کی تھی جنگ صفین میں حضرت علی(علیہ السلام) کے ھم رکاب تھے اور ایک دوسری روایت کی بنا پر ۸۰۰/آدمی تھے، ان میں سے ۳۶۰/آدمی شھید ھوگئے۔ جیسا کہ جنگ بدر میں حضرت(علیہ السلام)  کے ھمراہ شرکت کرنے والے صحابہ ۷۰ و۸۰ یھاں تک کہ ۱۰۰/افراد کو بھی نقل کیا گیا ھے۔ خود حضرت علی(علیہ السلام) نے ۱۴۵/صحابہ کے نام ذکر کئے ھیں عموماً یھی امام(علیہ السلام)  کے باوفا ساتھیوں میں سے تھے جو حضرت کے لئے اسی شان اور حیثیت کے قائل تھے جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  نے حضرت(علیہ السلام)  کے بارے میں فضیلت بیان کی ھے۔ ان میں سے بھت سے لوگ اس جنگ میں شھید ھوگئے اور امام اپنے آخری ایام میں بارھا ان سے بچھڑنے کو یاد کرکے گریہ فرماتے تھے اور یہ آرزو فرماتے کہ جتنی جلدی ھوسکے ان سے ملحق ھوجائیں۔ الغدیر، ج/۹، ص/۳۶۲۔ ۳۶۸ ۔ تسمیة من شھد مع علی حروبہ ان لوگوں کے اسامی جو امیر المومنین(علیہ السلام) کے ھمرکاب جنگ میں شھید ھوگئے تراثنا، مجلہ کے تسمیات نامی مقالہ کے شمارہ، ۱۵، کے ص/۳۱ پر ملاحظہ ھو۔ [28] اس طرح کے بیانات پھلے دو خلفا نے بھت زیادہ دئیے ھیں اور تاریخی اور مختلف روائی مآخذ میں کثرت کے ساتھ وارد ھوئے ھیں۔ اس کے لئے تجرید الاعتقاد، نامی کتاب موٴلفہ محمد جواد جلالی کے حاشیہ کے ص/۲۴۱۔ ۲۵۴ پر رجوع کریں۔ [29] معاویہ کے اقدامات ایسے موثر اور دیرپا تھے کہ بھت سے اھل سنت کے نزدیک اس نے اموی خاندان کو ایک بھت بلند مرتبہ عطا کردیا۔ ”کیونکہ امویوں کا مسئلہ اور ان کا دفاع ھمیشہ سنیوں کی سیاسی فکر کے عنوان سے باقی رھا۔“ ضحی الاسلام کی ج/۳، ص/۳۲۹  پر رجوع کریں۔ [30] اضواء علی السنة المحمدیة، کے ص/۲۱۶ کا ملاحظہ کریں۔ اور یہ کہ ابوھریرہ نے معاویہ کی خوشامد کے واسطے امام علی(علیہ السلام) کے خلاف کس طرح بھت سی روایات جعل کیں اور معاویہ کا قدرت پر پھنچنے کے بعد کوفہ میں لوگوں کے سامنے ان کو پڑھا اور اس نے اس کے بابت ایک بھت بڑا انعام حاصل کیا۔ [31] بھت سی ان باتوں (نکات) کو حاصل کرنے کے لئے جو روایت میں موجود ھیں اور شیعوں کے ایک صدی کے حالات کی عکاسی کرتی ھیں۔ اس کے لئے شرح نھج البلاغہ کی ج/۱۱، ص/۴۳ پر رجوع کریں۔ [32] حوالہ سابق (شرح نھج البلاغہ) ج/۱۱، ص/۴۴۔۴۶۔ [33] حوالہ سابق (شرح نھج البلاغہ) ج/۱۱، ص/۴۶۔ [34] بطور نمونہ اموی شعر کے اشعار کو ملاحظہ کیجئے الامویون والخلافة، کے ص/۱۵۔ ۲۱ پر اور عباسی شعرا کے رد کے ساتھ، مروج الذھب، کی ج/۳، ص/۴۳پر موازنہ کریں۔ [35] Goltziher, Muslim Studies Vol.2nd P.115. [36] اموی لوگ کھتے تھے خلافت ھمارے جملہ حقوق میں سے ایک حق ھے اور انھوں نے اس کو عثمان سے ورثہ میں حاصل کیا ھے۔ عثمان نے شوریٰ کے ذریعہ اس کو حاصل کرلیا لیکن مظلوم قتل ھوگیئے اور ان کا حق پائمال ھوگیا۔ خلافت ان کے خاندان سے باھر چلی گئی اور دوسروں کی طرف منتقل ھوگئی۔ یہ ان کا فریضہ ھے کہ اس کو واپس پلٹانے کے لئے جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ھوں۔ امویوں کی طرفداری میں رطب اللسان شعرا اس بات کو مختلف مواقع پر کھا کرتے تھے: الامویون والخلافة، ص/۱۳اور تبلیغ کرتے تھے کہ امویوں نے خلافت پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  سے وراثت میں حاصل کی ھے۔ حوالہ سابق ص/۱۷۔ یہ تبلیغات اس حد تک موثر ھوگئیں کہ امویوں کی حکومت کے زوال تک ایسا اعتقاد، کم سے کم ان کی اپنی سرحد میں یعنی شام میں کامل شائع تھا۔ مسعودی اس موقع پر روایت کرتے ھیں: ”اس کے بعد کہ مروان، آخری اموی خلیفہ، قتل ھوگیا عبداللہ بن علی شام آئے اور وھاں کے ثروت مند لوگوں کے ایک گروہ کا انتخاب کرکے سفاح کے پاس بھیجا۔ انھوں نے سفاح کے نزدیک قسم کھائی کہ وہ لوگ امویوں کے علاوہ کسی کو پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کے اھل بیت نھیں جانتے تھے تاکہ آنحضرت سے میراث حاصل کریں۔ اس مجلس میں ابراھیم بن مھاجر نے ایک شعر پڑھا جس کی بعد میں عباسیوں کے چاھنے والے شعراء نے متابعت کی اور امویوں کے طعنہ دینے کے ضمن میں، بنی عباس کو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کے ورثہ داروں کے نام سے یاد کیا۔“  اس کے لئے آپمروج الذھب، کی ج/۳، ص/۴۳ پر رجوع کریں۔ [37] اس داستان کی تفصیل کوکتاب مروج الذھب کی ج/۲، ص/۴۰۶۔ ۴۰۹ پر ملاحظہ کیجئے۔ قابل توجہ بات یہ ھے کہ استاد سبحانی اس داستان کا اصلی سبب خلفا کی حقانیت کا عقیدہ جانتے ھیں۔ ”جبکہ یہ عقیدہ تینوں خلفا کے زمانے میں دکھائی نھیں دیتا ھے مھاجرین وانصار کسی فرد کے ذھن میں خطور نھیں کرتا تھا کہ اس کی یا اس کی خلافت کا عقیدہ رکھنا واجب ھے اور جو ان کی خلافت کا معتقد نھیں ھے وہ مومنین کی جماعت سے خارج اور بدعت گزاروں کی جماعت میں داخل ھوگیا ھے۔ اس قاعدہ کو سیاست نے وجود دیا تاکہ علی(علیہ السلام) کو طعنہ دیں اور خون عثمان کے انتقام کے سلسلہ میں معاویہ کے خروج کو مشروعیت بخشے۔ شاید عمرو ابن عاص پھلا شخص تھا جس نے اس طرزتفکر کا بیج بویا۔“ اس کے بعد داستان کو مفصل طور پر نقل کرکے اس قسم کا نتیجہ نکالتا ھے: ”یہ داستان اور اسی کی طرح دوسری داستانیں اس بات کی حکایت کرتی ھیں کہ خلفا کی خلافت کا اعتقاد دشمنی اور رقابت کی مسموم فضا میں پیدا ھوا یھاں تک کہ وہ مکار اور ھوشیار مرد شیخین کی خلافت کے اعتقاد کو وسیلہ بنا کر عثمان کی حقانیت کا اقرار لینا قرار دے۔۔۔“ الملل والنحل،کی/۱، ص/۲۶۵۔ ۲۶۶ پر رجوع کریں۔ [38] اس طرح کے واقعہ کے نمونہ کو رجال حول الرسول نامی کتاب میں ملاحظہ کریں۔ اس واقعہ نے حتی ایک آزاد خیال اور خالد محمد خالد کے جیسا تجدد پسند انسان، جو اس کتاب کے موٴلف بھی ھیں ان کو بھی متاٴثر کردیا ھے۔ [39] بربھاری جو ابن حنبل کی کتاب السنة، کی شرح ھے اس میں کھتے ھیں: ”اس بات کو دل وجان سے ماننا ضروری ھے کہ عمر اور ابوبکر عائشہ کے حجرہ میں مدفون ھیں۔ پس جب پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کی قبر کے نزدیک آؤ تو پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کو سلام کرنے کے بعد ان دونوں پر سلام کرنا واجب ھے۔“ طبقات الحنابلة، نامی کتاب کی ج/۲، ص/۳۵ سے ماخوذ ھے۔ صحابہ نامی مقالہ سے موازنہ کریں شارٹر انسائکلوپیڈیا آف اسلام میں Shorter Encyclopaedia of Islam.p.88 اور اسی طرح العواصم والقواصم فی الذب عن سنة ابی القاسم، کی ج/۳، ص/۲۳۔ ۲۳۰ پر بھی ملاحظہ کریں۔  

اصحاب جمل نے کیوں حضرت علی(ع) کے ساتھـ جنگ کی؟


اصحاب جمل نے کیوں حضرت علی(ع) کے ساتھـ جنگ کی؟ هم تاریخی مستندات کے پیش نظر، جنگ جمل کے اسباب و علل کو ، اس جنگ میں متصادم دونوں پارٹیوں کے نقطه نظر کی تحقیق کرنے کے بعد اپنا فیصله سناتے هیں : الف) اصحاب جمل کی نظر میں جنگ کے اسباب: ١ ـ عائشه اور طلحه کے خطبوں میں، جنگ جمل کا سب سے اهم سبب عثمان کے خون کا انتقام بیان هوا هے ، اور وہ اس کے ضمن میں حضرت علی(ع) کو عثمان کے قتل کا ذمه دار ٹھهراتے تھے ـ ٢ ـ بعض علمائے معتزله اعتقاد رکھتے هیں که عائشه اور ان  کے ساتھی ، امر بالمعروف و نهی عن المنکر کا قصد رکھتے تھے ـ ٣ ـ طلحه، مذکوره اسباب کے ضمن میں ایک اور سبب کا ذکر کر تا هے ، اور وه امت رسول (ص) کی اصلاح اور اطاعت الهی کو رائج کر نا هے ـ ٤ـ حضرت علی (ع) کی خلافت و رهبری سابقه خلفا کی سیرت کے مطابق نهیں تھی ، اس لئے اس کو مشروعیت حاصل نهیں تھی – ٥ – علی (ع) اپنے فیصلوں اور کام میں طلحه اور زبیر سے صلاح و مشوره نهیں کر تے تھے ـ ب) علی (ع) اور آپ (ع) کے اصحاب کی نظر میں جنگ کے اسباب: ١ ـ طلحه و زبیر کی هوس اقتدار : امیر المومنین علی (ع) نهج البلاغه کے خطبه ١٤٨ میں فر ماتے هیں" طلحه و زبیر میں سے هر ایک حکو مت کو حاصل کر نے کی امید رکھتا هے" ٢ ـ عهد شکنی: حضرت علی (ع) نے جنگ کے لئے آماده رهنے کے اعلان کے ضمن میں ، ان دو افراد(طلحه و زبیر) پر عهد شکنی کا الزام لگایا ـ ٣ ـ دیرینه کینه و کدورت : یه امر ناقابل انکار هے که حضرت علی (ع) کے بارے میں بعض افراد کے دلوں میں بغض و کینه موجود تھا ـ امیرالمو منین (ع) اس کے عوامل یوں بیان فر ماتے هیں : الف) علی (ع) کے ساتھـ اخوت کی نسبت پیغمبر (ص) کا خاص توجه فر مانا ـ ب) ابو بکر پر علی (ع) کی فضیلت ـ ج) مسجد النبی (ص) کی طرف علی (ع) کے گھر کا دروازه بند نه هو نا ـ د) فتح خیبر کا پر چم علی (ع) کے هاتھـ  میںدیا جانا – اسی طرح طله و زبیر امید رکھتے تھے که علی (ع) امور کے بارے میں ان سے صلاح و مشوره کر کے اپنی حکو مت میں انھیں شریک قرار دین گے ، لیکن ان کی آرزٶں میں سے کو ئی چیز پوری نهیں هو ئی اس لئے یهی امر ان کے لئے علی (ع) سے عناد کا سبب بنا ـ ٤ ـ  نفاق: منافقت، ایک اور سبب هے که حضرت علی (ع) نے اس کی طرف اشاره کیا هے – ٥ ـاسلامی معاشره میں بد امنی پھیلانا : اس وجہ کا واضح مصداق ، اصحاب جمل کا بصره میں بیت المال کے خزانه پر حمله کر کے کئی لوگوں کا قتل کر نا هے ـ ٦ ـ اپنے اعمال کی پرده پوشی کر نا : اس سلسله میں امیر المو منین نهج البلاغه کے خطبه ١٣٧ میں فر ماتے هیں : " وه اس خون کا انتقام لینا چاهتے هیں جسے خود انھوں نے بهایا هے ـ" جواب تفصیلی جنگ جمل کے واقع هو نے کے اسباب و علل پر تحقیق کر نے کے لئے ضروری هے که جنگ میں متصادم دونوں پارٹیوں کے استدلال پر پهلے ایک نظر ڈالی جائے اور پھر ان کا تاریخ کے حقائق سے موازنه کیا جائے اس کے بعد صحیح قول کا انتخاب کیا جائے ـ پهلے هم اس جنگ کے سلسله میں اصحاب جمل اور ان کے سر داروں کے استدلال پر نظر ڈالتے هیں : الف) اصحاب جمل کی نظر میں جنگ جمل کے اسباب و علل: ١ -)لو گوں کی طرف سے علی (ع) کی بیعت کئے جانے کے بعد عائشه مکه کے باشندوں کے ایک اجتماع میں حاضر هو ئیں اور یوں کها : " اے مسلمانو! بیشک عثمان مظلوم  قتل کئے گئے ـ"[1]  عائشه کا یه کلام بظاهر، علی (ع) سے ان  کی مخالفت کی بنیاد بن گئی اور غالبا یهی وجہ عائشه اور اس کے حامیوں کے لئے امیرالمو منین علی علیه السلام کے خلاف خروج کر نے کا بهانه بنی چونکه وه عثمان کے قتل کا اصلی سبب علی کو جانتے تھے ، اس لئے ان کے خلاف بغاوت کی ـ ٢) بعض علمائے معتزله اعتقاد رکھتے هیں که عائشه اور ان  کے ساتھی امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کا قصد رکھتے تھے -[2] ٣)طلحه نے بصره کے لوگوں میں کی گئی اپنی تقریر میں یوں اظهار کیا که اس نے خلافت وملو کیت کے لئے شورش نهیں کی هے ، بلکه وه اراده رکھتا هے که بصره کے لوگوں سے مدد حاصل کر کے اجتماعی طور پر سب لوگ امت پیغمبر (ص) میں اصلاح کر نے کی کوشش کریں اور خدا کی اطاعت کو رواج بخشیں ـ[3] جیسا که بیان هوا ، عام طور پر جو خطبے عائشه اور طلحه سے نقل هوئے هیں ، ان میں عهد شکنی کے عنوان سے سب سے اهم سبب عثمان کا قتل اور اس کا انتقام ذکر هوا هے ـ لیکن بعض دوسرے علل و عوامل کی طرف بھی اشاره کیا جاسکتا هے  ـ من جمله یه که طلحه ، علی (ع) بن ابیطالب کی حکو مت کو سابقه خلفاء کی سیرت کے مطابق نهیں جانتا تھا اور اس بات پر معترض تھا که علی(ع) اپنے کام میں اس سے صلاح و مشوره نهیں کرتے هیں  ـ[4] ب)علی بن ابیطالب اور ان کے اصحاب کی نظر میں جنگ جمل کے اسباب وعلل: حضرت علی (ع) کے نقطه نظر سے جنگ جمل کے آغاز کے اسباب و علل بیان کر نے سے پهلے همیں (ایک اهم نکته ، یعنی ) جنگ کے اصلی کارندوں کو پهچاننے کی کوشش کر نی چاهئے ـ  امیرا لمومنین نهج البلاغه کے خطبه ١٧٢ میں فر ماتے هیں : " طلحه وزبیر رسول خدا (ص) کی بیوی کو اپنے ساتھـ اس طرح لے جاتے تھے ، جیسے ایک کنیز کو غلام فروشی کے بازار کی طرف لے جایا جاتا هے ـ " مولاعلی (ع) کے اس کلام سے واضح هو تا هے که جنگ جمل کے اصلی کارندے طلحه و زبیر تھے اور اس درمیان میں عائشه کو بیشتر استعمال کیا گیا هے ـ علی (ع) کی  زبانی جنگ کے علل و اسباب : ١ ـ طلحه وزبیر کی هوس اقتدار: حضرت علی (ع) نے نهج البلاغه کے خطبه ١٤٨ میں یوں وضاحت فر مائی هے : " طلحه و زبیر میں سے هر ایک حکومت حاصل کر نے کی امید رکھتا هے اور اسی پرامید باندھے هوئے ھے  اور اپنے دوست کا لحاظ نهیں رکھتا ـ " ٢ ـ عهد شکنی : آپ (ع) اپنے ایک خطبه میں لوگوں کو جنگ کے لئے آماده رهنے کے اعلان کے ضمن میں فر ماتے هیں : " بیشک طلحه و زبیر نے بیعت توڑ دی اور عهد شکنی کی هے ، عائشه کو اکسا کر گھر سے باهر لے آئے هیں تاکه فتنه و خون ریزی بر پا کریں" [5] ٣ ـ دیرینه  کینه و کدورت: یه امر ناقابل انکار هے که حضرت علی (ع) کے بارے میں بعض لوگوں کے دلوں میں بغض وکینه موجود تھا ـ اس لئے امیرالمومنین (ع) نے بعض مواقع پر اس امر کی طرف اشاره کیا هے ، من جمله یه که : الف: چونکه پیغمبر اکرم (ص) نے مجھے عائشه کے باپ پر فضیلت بخشی تھی ب: چونکه پیغمبر (ص) نے مجھے اپنے ساتھـ اخوت میں اختصاص بخشاتھا ـ[6] ج: چونکه خداوند متعال نے حکم دیا تھا که مسجد کی طرف تمام دروازے بند کئے جائیں ، حتی کھ عائشه کے باپ کا دروازه بھی ، لیکن میرے گھر کا دروازه[7] بند نه کیا جائے ـ د: چونکه خیبر کے دن رسول اکرم (ص) نے پر چم کو دوسروں کے هاتھـ میں دینے کے بعد مجھے عطا کیا اور میں فتحیاب هوا اور میری کا میابی ان لوگوں کے لئے غمگین هو نے کا سبب بنی و...[8] اس کے علاوه ، طلحه و زبیر امید رکھتے تھے که علی(ع) حکو متی امور کے بارے میں ان سے صلاح و مشوره کریں گے کیونکه یه دونوں اپنے کو علی (ع) کے برابر ، حتی کہ ان سے برتر جانتے تھے، انھیں امید تھی که عثمان کی وفات کے بعد حکو مت کے ایک حصه کو حاصل کر سکیں گے ، لیکن ان کی آرزٶں میں سے ایک بھی پوری نه هو سکی اور یه امر سبب بن گیا که علی(ع) کے بارے میں ان کی دیرینه دشمنی آشکار هو جائے ـ ٤ـ نفاق: حضرت علی (ع) نهج البلاغه کے خطبه نمبر ١٣ میں ان لوگوں کی دینداری کو منافقت سمجھتے هیں – ٥ – اسلامی معاشره میں بد امنی پھیلانا: اصحاب جمل نے بصره پر قبضه کر نے کے بعد ، بصره کے خزانه و بیت المال پر حمله کیا اور اسے لوٹ لیا اور اسی طرح لوگوں پر حمله کیا اور کچھـ لوگوں کو جسمانی اذیتیں پهنچا ئیں اور کچھـ افراد کو قتل کیا ـ[9] ٦ – اپنے اعمال کی پرده پوشی کر نا : جب امیرالمومنین کو خبر ملی که طلحه و زبیر نے عثمان کے قتل کا انتقام لینے کے لئے شورش برپا کی هے تو، آپ(ع) نے هنس کر فر مایا : " عثمان کو ان کے علاوه کسی اور نے قتل نهیں کیا هے ـ" اور اسی مضمون کی عبارت کو حضرت علی(ع) نے نهج البلاغه کے خطبه نمبر ١٣٧ میں یوں بیان کیا هے : " وه اس خون کا انتقام لینا چاهتے هیں ، جسے انهوں نے خود بهایا هےـ" امیرالمومنین اچھی طرح جانتے تھے که طلحه نے عثمان کے قتل میں کیسارول اداکیا تھا ، کیونکه اس نے اپنے چهرے پر پٹی باندھی تھی تاکه پهچانا نه جائے اور عثمان کے گھر کے دروازے بند کئے جانے کے بعد ، یه طلحه تھا جس نے  عثمان کے ایک همسایه کے گھر سے حملہ آوروں کی  رهنمائی کی اور اسی نے عثمان کے گھر پر تیر پھینکا ـ [10] ان حقائق کے پیش نظر حضرت (ع) فر ماتے هیں: " طلحه نے خود جنگ کا آغاز کیا تاکه عثمان کے قتل کے بارے میں ملزم نه ٹھرایا جائے ـ [11]"مذکوره جملوں پر غور کر نے سے معلوم هوتا هے که: اولا، امیرالمومنین کی طرف سے اصحاب جمل کے خلاف اکثر طعنوں اور  وسر زنشوں میں آپ(ع) طلحه وزبیر سے مخاطب هیں ـ یعنی حضرت (ع) جنگ کے اصلی ذمه داران هی دو کو ٹھراتے هیں اور دوسرے الفاظ میں عائشه نے اس حادثه میں فرعی رول اداکیا هے اور ان کی طرف سے استعمال هوئی هیں ـ ثانیا ، معلوم هوتا هے که اصحاب جمل کی طرف سے جنگ کے اسباب کے طور پر پیش کئے گئے دلائل میں سے ایک بھی دلیل معقول نهیں هے ـ خاص کر جب هم جانتے هیں که عثمان کے قتل کا انتقام ایک بهانه سے زیاده کچھـ نهیں تھا، کیونکه عائشه کے بھی عثمان کے ساتھـ اچھے تعلقات نهیں تھے ـ نقل کیاگیا هے که عائشه رسول الله (ص) کے پیراهن کو لے کر عثمان کے پاس جاتی تھیں اور ان سے کهتی تھیں : " رسول خدا(ص) کا کفن ابھی خشک نهیں هوا هے که تم ان کے احکام کی  اس طرح تحریف کر رهے هو ! " پس معلوم هوتا هے که اصحاب جمل نے بظاهر ایک زیبا اور حق نما عنوان کے تحت اپنے اولی الامر کے خلاف بغاوت کی هے اور اپنے عهد و پیمان و بیعت کو توڑ دیا هے جبکه یه عنوان ایک بهانه کے سوا کچھـ نهیں تھا ـ [1] شیخ مفید، الجمل، ص ٢٢٨، به نقل از تاریخ طبری، ج٤، ص٤٥٠ ـ ٤٤٨، الشافی ، ج٤ ، ص ٣٥٨- ٣٥٧- [2] شیخ مفید، الجمل، ص٦٤، به نقل از مسائل  الامامه، ص٥٥: فضل الاعتزال،ص٧٢ [3] شیخ مفید، الجمل، ص٣٠٤، به نقل از انساب الاشراف، ص٢٢٦ و٢٢٩ [4] شیخ مفید، الجمل، ص ٣٠٦ ،به نقل انساب  الاشراف، ص٢٢٦ [5] شیخ مفید، الجمل ،ص٢٤٠، به نقل از تاریخ طبری ، ج٤،ص٤٥٥ و ٤٨٠ ، انساب الاشراق ، ٢٣٣ـ [6] شیخ مفید، الجمل، ص٤٠٩  به نقل از سیره ابن ھشام ، ج٢، ١٥٠، سنن ترمذی ، ج٥ ،ص ٥٩٥- [7] شیخ مفید، الجمل، ص ٤١٠ به نقل از مسند احمد ج٤، ص٣٦٩ـ [8] شیخ مفید، الجمل ، ص٤١٠ به نقل از مسند احمد ، ج١، ص٩٩، صحیح بخاری ، ج٥، ص٧٦- [9] سید رضی ، نهج البلاغه ، خطبه ٢١٨- [10] سید رضی ، نهج البلاغه ، ص٢٥٥، به نقل از تاریخ طبری- [11] سید رضی ، نهج البلاغه ، خطبه ١٧٤  


  کیاصحابہ پر سب کرنے والے کافر ہیں ناصبی حضرات کی طرف سے سب سے زیادہ کشت و خون اس فتنے کی وجہ سے پھیلا ہے جب وہ "ناموسِ صحابہ" کے نام پر نہ صرف اہل تشیع پر کفر کے فتوی لگا رہے ہوتے ہیں، بلکہ انکا قتل عام بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب قتل و غارت ناصبی حضرات کی "صحابہ پرستش" کا نتیجہ ہے ورنہ اللہ کی نازل کردہ شریعت میں اسلام و کفر کی بنیاد ہرگز ہرگز صحابہ نہیں ہیں بلکہ اللہ اور اسکا رسول (ص) ہیں۔                                                                             سب و شتم کی شرعی سزا ذیل کی دو چیزوں میں فرق کیجئے: 1.    سب و شتم کرنا (بُرا بھلا کہنا، گالیاں دینا) 2.    لعنت و تبرا اور غلط فعل پر تنقید کرنا اسلامی شریعت میں کسی بھی شخص پر سب و شتم کرنا حرام و کبیرہ گناہ ہے۔ مگر لعنت و تبرا عین اسلامی افعال ہیں ۔ یہ "سنت الہیہ " و "سنت رسول" ہے کیونکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے بذات خود لعنت کی ہے اور قرآن و سنت میں انکا مکمل ثبوت موجود ہے۔ لعنت کا مطلب ہے کہ کسی کے غلط فعل یا ظلم پر اللہ سے اسکے حق میں بددعا کرنا۔ جبکہ تبرا کا مطلب ہے اس سے بیزاری ظاہر کرنا۔ مذہب اہلبیت میں کسی پر سب و شتم کرنے کی ہرگز کوئی اجازت نہیں۔ اگر کوئی جاہل شخص یہ کام سر انجام دیتا ہے تو یہ اسکا اپنا ذاتی فعلِ حرام ہے اور اسکا مذہب اہلبیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ائمہ اہلبیت علیھم السلام کی تعلیمات کے مطابق فعل حرام انجام دینے پر تنقید کی جا سکتی ہے، اور اس سے بیزاری اختیار کی جا سکتی ہے، اور اگر بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ہے تو اس پر لعنت (اللہ سے بددعا) کی جا سکتی ہے، مگر سب و شتم کسی صورت نہیں کیا جا سکتا۔ مثلا مومن کو قتل کرنا بہت بڑا ظلم ہے اور اللہ اسکے متعلق فرماتا ہے: [سورۃ النساء، آیت 93] وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ترجمہ: اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اوراس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے اب چاہے یہ عمدا قتل کسی عام مسلمان سے ہو، یا پھر کسی صحابی یا صحابی زادے سے ہوا ہو، اسلامی شریعت میں اسکا ایک ہی قانون ہے اور اسکی ایک ہی سزا ہے۔ صحابہ پرستش کی بیماری میں مبتلا ہو کر اسلامی شریعت کو تبدیل کرنا مسئلہ یہ ہے کہ آج اگر ہم کسی صحابی کے غلط فعل کا تذکرہ کرنا چاہیں، اس پر تنقید کرنا چاہیں، اس سے تبرا (بیزاری) اختیار کرتے ہوئے اللہ سے انکے حق میں بددعا (لعنت کریں) تو ناصبی حضرات فوراً پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں کہ یہ لوگ کافر ہو گئے ہیں کیونکہ یہ صحابہ پر سب و شتم (برا بھلا کہنا، گالیاں دینا) کر رہے ہیں، حالانکہ ان تینوں چیزوں (تنقید، تبرا و لعنت) کا سب و شتم سے کوئی تعلق نہیں۔ ناصبی حضرات کی خود ساختہ شریعت کی بات الگ ہے، ورنہ اسلامی شریعت میں صحابی کے کسی غلط فعل پر تنقید کرنے سے کوئی کفر صادر آتا ہے اور نہ ہی تبرا و لعنت کرنے سے (مثلاً رسول ﷺ نے معاویہ ابن ابی سفیان پر لعنت کی تھی کہ اللہ اسکا پیٹ کبھی نہ بھرے۔ پڑھئیےمکمل آرٹیکل یہاں پر)۔ یا پھر صحابی حکم بن العاص پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی (لنک)۔ بلکہ اسلامی شریعت تو اس حد تک واضح ہے کہ اگر کوئی شخص انتہا پر جا کر کسی صحابی پر سب و شتم کرتے ہوئے برا بھلا بھی کہتا ہے تب بھی وہ مسلمان ہی رہے گا اور اسکا کفر سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اسکی سزا موت ہے۔ افسوس کہ ناصبی حضرات صحابہ پرستش کی بیماری میں اس حد تک مبتلا ہیں کہ بلا شرم و خوف اسلامی شریعت کو تبدیل کر کے اپنی خود ساختہ شریعت بنا کر بیٹھ گئے ہیں، جہاں وہ صحابہ کے نام پر دوسروں کو قتل کر رہے ہوتے ہیں۔ اسلامی شریعت میں صحابی پر سب و شتم کی شرعی سزا ابو ہریرہ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں: 4916 - حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان الثوري، عن منصور، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث فمن هجر فوق ثلاث فمات دخل النار "رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:یہ کبیرہ گناہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت کے خلاف ناحق بات کی جائے اور یہ بھی کبیرہ گناہ ہے کہ ایک دفعہ گالی دینے پر دو دفعہ گالی دی جائے۔ سنن ابو داؤد، کتاب 41 (کتاب الادب)، حدیث 4859 (آنلائن لنک) اور سنن ابو داؤد میں ہے: 4894 حدثنا عبد الله بن مسلمة حدثنا عبد العزيز يعني ابن محمد عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال المستبان ما قالا فعلى البادي منهما ما لم يعتد المظلوم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دو گالم گلوچ کرنے والے جو کچھ ایک دوسرے کو بکتے ہیں ان سب کا گناہ پہل کرنے والے پر ہوگا جب تک کہ مظلوم جسے پہلے گالی دی گئی زیادتی نہ کرے۔ حوالہ: سنن ابو داؤد (آنلائن لنک) چنانچہ شریعت کا اصول ہے کہ کسی مسلمان کی شان میں ناحق باتیں کرناکبیرہ گناہ ہے مگر اس کی سزا میں زیادہ سے زیادہ جواب میں ایک دفعہ گالی دی جا سکتی ہے، اور اگر جواب میں دو دفعہ گالی دے دی جائے تو یہ بھی گناہ کبیرہ ہو گا۔ یہ اسلام میں سب و شتم کرنے کی شرعی سزا ہے،اور یہ سزا اس بات سے قطع نظر ہے کہ یہ سب و شتم ایک عام مسلمان کو کیا جائے یا پھر کسی صحابی کو۔ عبد اللہ سے روایت ہے: رسول اللہ (ص) نے فرمایا : ایک مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کو قتل کر دینا کفر۔ حوالہ: صحیح بخاری، جلد ۹، کتاب ۸۸، حدیث ۱۹۷ حضرت ابو بکر خود اس بات کی گواھی دیتے ہیں۔ 4365 - حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن يونس، عن حميد بن هلال، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا هارون بن عبد الله، ونصير بن الفرج، قالا حدثنا أبو أسامة، عن يزيد بن زريع، عن يونس بن عبيد، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن مطرف، عن أبي برزة، قال كنت عند أبي بكر رضي الله عنه فتغيظ على رجل فاشتد عليه فقلت تأذن لي يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم أضرب عنقه قال فأذهبت كلمتي غضبه فقام فدخل فأرسل إلى فقال ما الذي قلت آنفا قلت ائذن لي أضرب عنقه ‏.‏ قال أكنت فاعلا لو أمرتك قلت نعم ‏.‏ قال لا والله ما كانت لبشر بعد محمد صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قال أبو داود هذا لفظ يزيد قال أحمد بن حنبل أى لم يكن لأبي بكر أن يقتل رجلا إلا بإحدى الثلاث التي قالها رسول الله صلى الله عليه وسلم كفر بعد إيمان أو زنا بعد إحصان أو قتل نفس بغير نفس وكان للنبي صلى الله عليه وسلم أن يقتل ترجمہ: ابو برزہ کہتے ہیں کہ میں ابو بکرابن ابی قحافہ کے ساتھ تھا۔ اُن کا ایک آدمی سے جھگڑا ہو گیا اور گرم الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا۔ میں نے کہا: اے خلیفہ رسول! اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کا گلا کاٹ دوں؟ میرے یہ الفاظ سن کرجناب ابو بکر کا غصہ دور ہو گیا اور وہ اٹھ کر اندر چلے گئے۔ پھر انہوں نے مجھ کو بلا بھیجا اور کہا: "تم نے ابھی کیا کہا کہ اگر میں کہوں تو تم اس کو قتل تک کر دو گے"؟ میں نے کہا،"جی ہاں"۔ اس پر حضرت ابو بکر بولے، "نہیں، میں اللہ کی قسم کہا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے علاوہ اس بات کی کسی کے لیے اجازت نہیں ہے"۔ حوالہ: سنن ابو داؤد، کتاب 38، حدیث4350 (آنلائن لنک) اور سنن نسائی میں ہے کہ حضرت ابو بکر نے اس شخص کو کہا "تیری ماں تجھ پر روئے کہ تو وہ کام کرنا چاہتا ہے جو رسول ﷺ کی وفات کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں رہا)۔ معاویة بن صالح اشعری، عبد اللہ بن جعفر، عبید اللہ، زید، عمرو بن مرة، ابونضرة، ابوبرزة سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ایک شخص پر سخت غضبناک ہوئے یہاں تک کہ اس شخص کا رنگ تبدیل ہوگیا۔ میں نے عرض کیا اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! خدا کی قسم اگر تم مجھ کو حکم دو تو میں اس شخص کی گردن اڑا دوں۔ میری یہ بات کہتے ہی وہ ایسے ہو گئے کہ جیسے ان پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا گیا ہو اور ان کا غصہ اس شخص کی طرف سے زائل ہوگیا اور کہنے لگے کہ اے ابوبرزہ تمہاری ماں تم پر روئے (یہ عرب کا ایک محاورہ ہے) یہ مقام کسی کو حاصل نہیں ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد۔ حضرت امام نسائی نے فرمایا اس روایت کی اسناد میں غلطی ہوگئی ہے اور ابونضرہ کی بجائے ابونضر ٹھیک ہے اور اس کا نام حمید بن ہلال ہے حضرت شعبہ نے اس طریقہ سے روایت کیا ہے۔   کیا ناصبی حضرات کے لیے یہ اسوہ صدیقی کافی نہیں کہ وہ صحابہ کے نام پر دوسروں کو کافر بنانے اور اُن کو قتل کرنے سے باز آ جائیں؟ مگر مسئلہ پھر وہی ہے کہ ناصبی حضرات صحابہ پرستش کی بیماری کا ایسا شکار ہیں کہ جس میں انہوں نے صحابہ کے مرتبے کو اٹھا کر انہیں رسول ﷺ کا ہم مرتبہ بنا دیا ہے (معاذ اللہ)۔ بے شمار مواقع ایسے آئے کہ صحابہ نے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی موجودگی میں ایک دوسرے کو گالیاں دیں، مگر آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس جرم کی سزا کے طور پر کبھی کسی شخص کے قتل کا حکم جاری نہیں کیا۔ امام احمد بن حنبل ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں: "ایک شخص حضرت ابو بکر کو گالیاں دے رہا تھا اور رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اسے دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ جب وہ شخص باز نہیں آیا تو حضرت ابو بکر نے بھی اسے جواب دینا شروع کر دیا۔ اس پر رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اٹھ کر چلے گئے۔ ابو بکر نے کہا، "یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)، جب تک وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بیٹھے سنتے (اور مسکراتے) رہے۔ مگر جیسے ہی میں نے جواب دینا شروع کیا تو آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ناراض ہو گئے" رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا، "اے ابو بکر، جب وہ تمکو گالیاں دے رہا تھا، تو ایک فرشتہ تمہاری طرف سے اسکو جواب دے رہا تھا۔ مگر جب تم نے خود جواب دینا شروع کیا تو شیطان آ گیا۔ اور میں اور شیطان ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتے"۔ حوالہ: (مسند احمد بن حنبل، جلد 2، صفحہ 436) یہی روایت سنن ابو داؤد میں بھی موجود ہے: 4898 - حدثنا عيسى بن حماد، أخبرنا الليث، عن سعيد المقبري، عن بشير بن المحرر، عن سعيد بن المسيب، أنه قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس ومعه أصحابه وقع رجل بأبي بكر فآذاه فصمت عنه أبو بكر ثم آذاه الثانية فصمت عنه أبو بكر ثم آذاه الثالثة فانتصر منه أبو بكر فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انتصر أبو بكر فقال أبو بكر أوجدت على يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نزل ملك من السماء يكذبه بما قال لك فلما انتصرت وقع الشيطان فلم أكن لأجلس إذ وقع الشيطان ‏"‏ ‏.‏ ترجمہ: عیسی بن حماد لیث، سعید مقبری، بشیربن محر ر، حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کرام بھی تھے ایک شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں زبان درازی کی اور انہیں ایذا دی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ خاموش رہے اس نے پھر دوسری بار ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو تکلیف دی تو بھی وہ چپ رہے اس نے تیسری بار بھی تکلیف پہنچائی تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے جواب میں کچھ کہہ دیا۔ جونہی ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ مجھ پر ناراض ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا ہے وہ اس تکلیف پہنچانے والی کی تکذیب کرتا رہا جب تم نے اسے جواب دیا تو درمیان میں شیطان آپڑا لہذا جب شیطان آپڑے تو میں بیٹھنے والا نہیں ہوں۔ حوالہ: سنن ابو داؤد، کتاب الادب (آنلائن لنک) صحابہ کے ایک دوسرے کو گالیاں دینے کے واقعات صحیح بخاری اور دیگر کتب میں سینکڑوں واقعات ہیں جہاں صحابہ ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں۔ مگر اسکے باوجود نہ رسول ﷺ نے، صحابہ نے، نہ تابعین نے ۔۔۔ کسی نے بھی اسکے لیے انہیں کافر مانا اور نہ ہی ان کے قتل کا فتوی جاری کیا۔ 2620 ـ حدثنا إسماعيل، قال حدثني أخي، عن سليمان، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ أن نساء، رسول الله صلى الله عليه وسلم كن حزبين فحزب فيه عائشة وحفصة وصفية وسودة، والحزب الآخر أم سلمة وسائر نساء رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان المسلمون قد علموا حب رسول الله صلى الله عليه وسلم عائشة،۔۔۔، فأرسلن زينب بنت جحش، فأتته فأغلظت، وقالت إن نساءك ينشدنك الله العدل في بنت ابن أبي قحافة‏.‏ فرفعت صوتها، حتى تناولت عائشة‏.‏ وهى قاعدة،فسبتهاحتى إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لينظر إلى عائشة هل تكلم قال فتكلمت عائشة ترد على زينب، حتى أسكتتها‏.‏ قالت فنظر النبي صلى الله عليه وسلم إلى عائشة، وقال ‏"‏ إنها بنت أبي بكر ‏"‏‏. ترجمہ: رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ازواج دو گروہوں میں بٹی ہو‏ئی تھیں۔ ایک گروہ میں عائشہ، حفضہ، صفیہ اور سودہ تھیں، جبکہ دوسرے میں ام سلمہ اور دوسری ازواج شامل تھیں۔ مسلمانوں کو علم تھا کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) عائشہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس لیے اگر ان کو آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو کوئی تحفہ دینا ہوتا تھا تو وہ اس بات کا انتظار کرتے تھے کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) حضرت عائشہ کے گھر میں پہنچ جائیں تو پھر آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو تحفہ دیا جائے۔۔۔۔پھر انہوں نے ام المومنین حضرت زینب بنت جحش کو بھیجا جنہوں سخت الفاظ میں کہا، " آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ازواج درخواست کرتی ہیں کہ ان سے اور ابن ابو قحافہ کی بیٹی سے برابر کا سلوک کیا جائے۔" پھر انہوں نے حضرت عائشہ کے منہ پر بلند آواز میں انہیں بُرا بھلا (عربی لفظ : فسبتها) کہنا شروع کر دیا حتیکہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرتعائشہ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا کہ شاید اب وہ جواب دیں۔حضرت عائشہنے پھر حضرت زینب کو جواب دینا شروع کیااور اس زور کا دیاکہ حضرت زینب خاموش ہو گئیں۔ اس پر آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نےحضرتعائشہ کی طرف دیکھ کر کہا، "یہ واقعی ابو بکر کی بیٹی ہے۔" حوالہ: صحیح بخاری، جلد 3، کتاب 47، حدیث 755 (آنلائن لنک) اور صحیح بخاری میں ابوصالح سے روایت ہے: 508 ـ حدثنا أبو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا يونس، عن حميد بن هلال، عن أبي صالح، أن أبا سعيد، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم وحدثنا آدم بن أبي إياس قال حدثنا سليمان بن المغيرة قال حدثنا حميد بن هلال العدوي قال حدثنا أبو صالح السمان قال رأيت أبا سعيد الخدري في يوم جمعة يصلي إلى شىء يستره من الناس، فأراد شاب من بني أبي معيط أن يجتاز بين يديه فدفع أبو سعيد في صدره، فنظر الشاب فلم يجد مساغا إلا بين يديه، فعاد ليجتاز فدفعه أبو سعيد أشد من الأولى، فنال من أبي سعيد، ثم دخل على مروان فشكا إليه ما لقي من أبي سعيد، ودخل أبو سعيد خلفه على مروان فقال ما لك ولابن أخيك يا أبا سعيد قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ إذا صلى أحدكم إلى شىء يستره من الناس، فأراد أحد أن يجتاز بين يديه فليدفعه، فإن أبى فليقاتله، فإنما هو شيطان ‏" ترجمہ: ابوصالح وسمان روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جمعہ کے دن دیکھا کہ وہ کسی چیز کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھ رہے تھے، پس ایک جو ان نے جو (قبیلہ) بنی ابی معیط سے تھا، یہ چاہا کہ ان کے آگے سے نکل جائے، تو حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے سینہ میں دھکا دیا، لیکن اس جوان نے کوئی راستہ نکلنے کا ماسوائے ان کے آگے کے نہ دیکھا تو پھر اس نے چاہا کہ نکل جائے، ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے سے زیادہ سخت اسے دھکا دیا، اس پر اس نے ابوسعید کو بُرا بھلا کہا (عربی لفظ: فنال) ، اس کے وہ مروان کے پاس گیا، اور ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو معاملہ ہوا تھا، اس کی مروان سے شکایت کی، اور اس کے پیچھے (پیچھے) ابوسعید (بھی) مروان کے پاس گئے، تو مروان نے کہا کہ اے ابوسعید تمہارا اور تمہارے بھتیجے کے درمیان کیا معاملہ ہے، ابوسعید نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہا ہو، جو اسے لوگوں سے چھپالے پھر کوئی شخص اس کے سامنے سے نکلنا چاہے تو اسے چاہئے کہ اسے ہٹا دے اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، اس لئے کہ وہ شیطان ہی ہے۔ صحیح بخاری، جلد 1، کتاب 9، حدیث 488 (آنلائن لنک) نوٹ: اوپر اس نوجوان کے لیے (تابعی) کا لفظ ہم نے اپنی طرف سے استعمال نہیں کیا ہے، بلکہ یہ صحیح بخاری کے سعودی اہل حدیث مترجم (انگریزی) محسن خان کی طرف سے ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت انس سے روایت ہے: 2732 ـ حدثنا مسدد، حدثنا معتمر، قال سمعت أبي أن أنسا ـ رضى الله عنه ـ قال قيل للنبي صلى الله عليه وسلم لو أتيت عبد الله بن أبى‏.‏ فانطلق إليه النبي صلى الله عليه وسلم وركب حمارا، فانطلق المسلمون يمشون معه، وهى أرض سبخة، فلما أتاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال إليك عني، والله لقد آذاني نتن حمارك‏.‏ فقال رجل من الأنصار منهم والله لحمار رسول الله صلى الله عليه وسلم أطيب ريحا منك‏.‏ فغضب لعبد الله رجل من قومه فشتما، فغضب لكل واحد منهما أصحابه، فكان بينهما ضرب بالجريد والأيدي والنعال، فبلغنا أنها أنزلت ‏{‏وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا فأصلحوا بينهما‏}‏ ترجمہ: رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے کہا گیا کہ وہ عبد اللہ بن ابئ کی خبر لیں۔ چنانچہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ایک گدھے پر سوار ھوئے اور مسلمانوں کی ہمراہی میں ایک بنجر میدان سے ہوتے ہوئے چلے۔ جب آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) عبد اللہ بن ابئ کے پاس پہنچے تو اس نے کہا، "مجھ سے دور رہیں۔ اللہ کی قسم آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے گدھے کی بدبو مجھے پریشان کر رہی ہے۔" اس پر ایک انصاری نے کہا، "اللہ کی قسم، آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے گدھے کی بدبو تمہاری بدبو سے اچھی ہے" اس پر عبد اللہ کے قبیلے کا ایک شخص عبد اللہ کی خاطر غصے ہو گیا اور دونوں نے ایک دوسرے کو گالیاں (نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی موجودگی میں) دینی شروع کر دیں۔ اس پر دونوں کے دوستوں کو غصہ آ گیا اور دونوں گروہوںمیں ڈنڈوں، ہاتھوں اور جوتوں کے ساتھ لڑائی شروع ہو گئی۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ آیت اس موقع پر نازل ھوئی: "اگر مومنین کے دو گروہوں کے درمیان لڑائی ہو جائے تو ان میں صلح کرا دو۔"(49:9) حوالہ: صحیح بخاری، جلد 3، کتاب 49، حدیث 856 (آنلائن لنک) حسان بن ثابت صحابی رسول اللہ (ص) کے شاعر تھے اور جب کفار رسول اللہ (ص) کی ہجو میں شعر کہتے تھے تو حسن بن ثابت صحابی انکو جواب دیتے تھے۔ مگر یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے واقعہ افک میں حضرت عائشہ پر ناپاک دامنی کا الزام لگایا تھا۔ اس وجہ سے صحابہ انکو بُرا بھلا کہتے تھے۔ انکے متعلق صحیح بخاری اور صحاح ستہ میں بے شمار روایات ہیں: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَی عَائِشَةَ فَشَبَّبَ وَقَالَ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَی مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ قَالَتْ لَسْتَ کَذَاکَ قُلْتُ تَدَعِينَ مِثْلَ هَذَا يَدْخُلُ عَلَيْکِ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ وَالَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ مِنْهُمْ فَقَالَتْ وَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنْ الْعَمَی وَقَالَتْ وَقَدْ کَانَ يَرُدُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ترجمہ: محمد بن بشار، ابن ابی عدی، شعیب، اعمش، ابی الضحی، مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسان شاعر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تعریف میں یہ شعر پڑھا۔ یعنی عاقلہ ہے پاک دامن ہے اور نیک بخت ہی ۔ صبح کرتی ہیں بھوکی مگر بے گناہ کا گوشت نہیں کرتی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ تم تو ایسے نہیں ہو میں نے عرض کیا آپ ایسے آدمی کو کیوں آنے دیتی ہیں جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ (وَالَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ مِنْهُمْ الخ) آخر آیت تک حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اندھے ہونے سے زیادہ اور کیا عذاب ہوگا اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے (کفار کو) جواب دیتے تھے۔ حوالہ: صحیح بخاری، کتاب التفسیر اور حسان بن ثابت کی یہ حدیث: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَائِ الْمُشْرِکِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَيْفَ بِنَسَبِي فَقَالَ حَسَّانُ لَأَسُلَّنَّکَ مِنْهُمْ کَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنْ الْعَجِينِ وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَا تَسُبُّهُ فَإِنَّهُ کَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ترجمہ: محمد عبدہ ہشام بن عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرکین کی ہجو بیان کرنے کی اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نسب کا کیا کرو گے (یعنی مشرکین میں بعض کا ہم سے نسبی تعلق ہے اگر ان کی ہجو کرو گے تو میری بھی ہجو ہوگی) حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا میں آپ کو اس سے اس طرح نکال دوں گا جس طرح بال آٹے سے نکالا جاتا ہے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے نقل کیا انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ کے سامنے حسان کو بُرا بھلا کہا۔ اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برا بھلا نہ کہو اس لئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جواب دیتے تھے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے: سعد بن معاد کھڑے ہو گئے اور کہا، "یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! اللہ کی قسم، میں آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو اس سے نجات دلاؤں گا۔ اگر وہ شخص اوس کے قبیلے سے ہو گا، تو ہم اس کا سر تن سے جدا کر دیں گے۔ اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج سے ہو گا، تو ہم کو حکم دیں، ہم اس کی تعمیل کریں گے۔" اس پر سعد بن عبادہ، جو کہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے اور اس سے پہلے نیک شخص تھے، قبائلی عصبیعت میں آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا، "اللہ کی قسم، تم جھوٹ بولتے ہو، تم اس کو قتل نہیں کر سکتے ہو، اور کبھی قتل نہیں کرو گے" اس پر اسید کھڑا ہو گیا اور (سعد کو) کہا،" اللہ کی قسم، تم جھوٹ بولتے ہو،اللہ کی قسم، ہم اس کو قتل کریں گے۔ اور تم خود منافق ہو اور ایک منافق کا دفاع کر رہے ہو"اس پر اوس اور خزرج کے قبائل جوش میں آ گئے اور ایک دوسرے سے لڑنا چاھتے تھے، جبکہ رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) وہاں موجود تھے۔ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان لوگوں کو اتنی دیر چپ کرایا کہ وہ خاموش ہو گئے۔ اس دن میں اتنا رویا کہ میرے آنسو رکتے تھے اورنہ مجھے نیند آتی تھی۔ حوالہ: صحیح بخاری، جلد 3، کتاب 48، حدیث 829 حضرت سلیمان بن صرد سے روایت ہے: حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ کَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَالَ الرَّجُلُ وَهَلْ تَرَی بِي مِنْ جُنُونٍ ترجمہ: یحیی بن یحیی، محمد بن علاء، علاء ابومعاویہ اعمش، عدی بن ثابت حضرت سلیمان بن صرد سے روایت ہے کہنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں (صحابہ)نے آپس میں ایک دوسرے کو گالی دی ان میں سے ایک آدمی کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں رسول اللہ نے فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ آدمی اسے کہ لے تو اس سے (یہ غصہ) جاتا رہے (وہ کلمہ یہ ہے)أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وہ آدمی عرض کرنے لگا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ میں جنون خیال کر رہے ہیں حوالہ: صحیح مسلم، کتاب 32، حدیث 6316 علقمہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں: أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ سِمَاکٍ ذَکَرَ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَتَلَ هَذَا أَخِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَتَلْتَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ قَالَ نَعَمْ قَتَلْتُهُ قَالَ کَيْفَ قَتَلْتَهُ قَالَ کُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُ بِالْفَأْسِ عَلَی قَرْنِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَکَ مِنْ مَالٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِکَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي إِلَّا فَأْسِي وَکِسَائِي۔۔۔ ترجمہ: اسماعیل بن مسعود، خالد، حاتم، سماک، علقمہ بن وائل سے روایت ہے کہ وہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس دوران ایک شخص آیا۔ ایک دوسرے شخص کو کھینچتا ہوا رسی پکڑ کر انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے میرے بھائی کو مار ڈالا ہے۔ اس پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تم نے اس کو قتل کیا ہے؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر یہ اقرار نہ کرتا تو میں گواہ لاتا۔ اس دوران اس نے کہا میں نے قتل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کس طریقہ سے مارا اور قتل کیا ہے۔ اس نے کہا میں اور اس کا بھائی دونوں لکڑیاں اکھٹا کر رہے تھے ایک درخت کے نیچے اس دوران اس نے مجھ کو گالی دی مجھ کو غصہ آیا میں نے کلہاڑی اس کے سر پر ماری (وہ مر گیا) اس پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس مال ہے جو کہ تم اپنی جان کے عوض ادا کرے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تو کچھ نہیں ہے علاوہ اس کمبل اور کلہاڑی کے۔ حوالہ: صحیح مسلم، کتاب 16، حدیث 4164 نوٹ: پہلے صحابی (قاتل) نے یھی وہی بہانہ کیا جو کہ سپاہ صحابہ قتل کرنے کے بعد کرتی ہے (یعنی اس نے اس لیے قتل کیا کیونکہ دوسرے نے گالی دی تھی)۔ ·         مگر کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے واقعی قاتل کا یہ بہانہ قبول کرکے اس کو آزاد چھوڑ دیا؟ ·         اور کیا آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے واقعی مقتول صحابی کو گالی دینے کی وجہ سے کافر اور مرتد قرار دے دیا؟ الغرض سینکڑوں روایات اہلسنت کتب میں موجود ہیں جہاں صحابہ آپس میں ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں، ایک دوسرے سے جوتیوں اور ڈنڈوں سے لڑ رہے ہیں۔ (ایسے مزید روایات آپیہاں پڑھیے)۔ ہم بات مختصر کر کے تاریخ کے چند وہ واقعات بیان کرتے ہیں جہاں معاویہ ابن ابی سفیان، اسکے گورنر، اسکی آل 90 سال تک منبر نبی سے علی ابن ابی طالب، فاطمہ ، حسن و حسین علیھم السلام پر سب و شتم کرتے رہے، حالانکہ یہ آلِ رسول ﷺ ہونے کے ساتھ ساتھ صحابی بھی تھے۔ صحیح مسلم، کتاب الفضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلاَثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّهُ لأَنْ تَكُونَ لِي ۔۔۔ ترجمہ: معاویہ نے سعد کو حکم دیا [أَمَرَ مُعَاوِيَةُ] اور کہا کہ تمہیں کس چیز نے روکا ہے [مَا مَنَعَكَ] کہ تم ابو تراب [یعنی علی ابن ابی طالب] کو بُرا بھلا (تَسُبَّ)نہ کہو؟ اس پر سعد نے کہا میں نے رسول ص سے علی کے متعلق تین ایسی باتیں سنی ہیں کہ جس کے بعد میں کبھی علی کو بُرا بھلا نہیں کہہ سکتا ۔۔۔ حافظ ابن حجر العسقلانی علی کی فضیلت میں یہی روایت نقل کرنے کے بعد اسکے نیچے ایک اور روایت نقل کرتے ہیں:[آنلائن لنک] وعند أبي يعلى عن سعد من وجه آخر لا بأس به قال لو وضع المنشار على مفرقي على أن أسب عليا ما سببته أبدا ترجمہ: اور ابی یعلی نے سعد سے ایک اور ایسے حوالے [سند] سے نقل کیا ہے کہ جس میں کوئی نقص نہیں کہ سعد نے [معاویہ ابن ابی سفیان سے کہا]: اگر تم میری گردن پر آرہ [لکڑی کاٹنے والا آرہ] بھی رکھ دو کہ میں علی [ابن ابی طالب] کو بُرا بھلا کہوں تو تب بھی میں کبھی علی کو بُرا بھلا نہیں کہوں گا۔ اسی روایت کے ذیل میں لفظ سب کے متعلق شاہ عبدالعزیز کا ایک جواب فتاوی عزیزیہ، مترجم [شائع کردہ سعید کمپنی] صفحہ 413 پر موجود ہے، جس میں شاہ صاحب فرماتے ہیں: "بہتر یہی ہے کہ اس لفظ [سب] سے اسکا ظاہری معنی سمجھا جائے۔ مطلب اسکا یہی ہو گا کہ ارتکاب اس فعل قبیح کا یعنی سب یا حکم سِب (بُرا بھلا کہنا) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صادر ہونا لازم آئے گا۔ تو یہ کوئی اول امر قبیح نہیں ہے جو اسلام میں ہوا ہے، اس واسطے کہ درجہ سب کا قتل و قتال سے بہت کم ہے۔ چنانچہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ "سباب المومن فسوق و قتالہ کفر" یعنی برا کہنا مومن کو فسق ہے اور اسکے ساتھ قتال کرنا کفر ہے۔" اور جب قتال اور حکم قتال کا صادر ہونا یقینی ہے اس سے کوئی چارہ نہیں تو بہتر یہی ہے کہ انکو مرتکب کبیرہ [گناہ] کا جاننا چاہیے۔ لیکن زبان طعن و لعن بند رکھنا چاہیے۔ اسی طور سے کہنا چاہیے جیسا صحابہ رضوان اللہ علیھم سے اُن کی شان میں کہا جاتا ہے جن سے زنا اور شرب خمر سرزد ہوا رضی اللہ عنہم اجمعین۔ اور ہر جگہ خطاء اجتہادی کو دخل دینا بیباکی سے خالی نہیں۔ " اور معاویہ ابن ابی سفیان سے منتقل ہوتی ہوئی یہ بُرائی اسکے گورنروں میں پہنچی: صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ 6382 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - عَنْ أَبِي، حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ - قَالَ - فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا - قَالَ - فَأَبَى سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ لَعَنَ اللَّهُ أَبَا التُّرَابِ ‏.۔۔۔ ‏ترجمہ: سہل روایت کرتے ہیں کہ مدینہ میں مروان کے خاندان میں سے ایک شخص حاکم ہوا اور اس نے سہل کو بلایا اور حکم دیا [فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا] کہ وہ علی ابن ابی طالب کو گالی دے۔ سہل نے انکار کیا۔ اس پر آوہ حاکم بولا کہ اگر تو گالی دینے سے انکار کرتا ہے تو کہہ لعنت ہو اللہ کی ابو تراب پر۔ ۔۔۔۔۔ آل نبی (جو کہ صحابی بھی ہیں) ان پر سب و شتم کے بیسیوںمزید ثبوت پر مشتمل آرٹیکل آپ یہاں تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔ آل نبی پر 90 سال تک یونہی بنی امیہ کھلے عام سب و شتم کرتے رہے مگر کسی امام یا فقہیہ نے انہیں اس بنیاد پر کافر نہیں کہا بلکہ ناصبی حضرات تو آج بھی بنی امیہ کے ان خلفاء کو بطور ہیرو اپنا روحانی پیشوا مانتے ہیں۔ سنی علماء کے فتاوی' حضرت عمر بن عبد العزیز: کوفہ سے ان کے ایک عامل نے لکھا: مجھے ایک ایسے آدمی کے متعلق مشورہ دیں کہ جس نے حضرت عمر کو گالی دی ہو۔ تو آپ نے جواب میں یوں لکھا کہ، "کسی بھی مسلمان شخص کو کسی کو گالی دینے پر قتل کرنا جائز نہیں ہے سوائے اس کہ کہ اس نے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو گالی دی ہو۔ پس جس نے نبی کو گالی دی ہو، اس کا خون مباح ہو گیا۔ (1)الشفاء بتعریف حقوق مصطفی'، جلد 2، صفحہ 325، مطبوعہ رھلی (2)سلالہ الرسالہ۔ ملا علی قاری صفحہ 18، طبع اردن (3)طبقات الکبری جلد 5 صفحہ 369 طبع جدید بیروت امام مالک امام مالک کا موقف یہ ہے کہ: "جس نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو گالی دی، اس کو قتل کر دیا جائے، اور جس نے صحابہ کو گالی دی اس کو ادب سکھایا جائے گا" الشفاء قاضی عیاض جلد 2، صفحہ ، 376 طبع بریلی الصارم المسلول صفحہ569 بحوالہ دفاع ابو ہریرہ، طبع پشاور امام مالک کی یہ رائے صواعق محرقہ صفحہ 259 طبع مصر میں بھی موجود ہے۔ امام نووی الشافعی آپ جمہور علماء اہل سنت کا اتفاق رائے بیان کرتے ہوئے لکہتے ہیں: "جمہور آئمہ اور فقہائے اہل سنت کا متفقہ مسلک ہے کہ صحابہ کرام کو گالی دینا حرام اور فواحش محرمات سے ہے مگر اس کی سزا قتل نہیں" النووی شرح مسلم جلد 2، صفحہ 310، طبع دھلی ملا علی قاری حنفی فقہ حنفیہ کے ترجمان ملا علی قاری اپنی رائے یوں پیش فرماتے ہیں: "ابو بکر و عمر کی توہین کرنے والے کو کافر کہنا اور اسے قتل کرنا نہ صحابہ سے ثابت ہے اور نہ ہی تابعین سے اور آئمہ ثلاثہ یعنی امام ابو حنیفہ، امام محمد اور امام ابو یوسف کے نزدیک تو ایسے شخص کی گواہی بھی قابل قبول ہے۔ حوالہ: سلالتہ الرسالہ صفحہ 19، طبع اردن اور اسی بات پر مزید بحث کرتے ہوئے آپ اپنی کتاب "شرح فقہ اکبر" میں لکھتے ہیں: "اور حضرت ابو بکر اور عمر کو گالی دینے سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا جیسا کہ ابو شکور سالمی نے اپنی کتاب"تمہید میں اس قول کو صحیح قرار دیا ہے اور اس کا کوئی ثبوت نہیں کیونکہ ہر ایک مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے۔ جیسا کہ حدیث رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں ثابت ہے اور اس حکم کے تحت ابو بکر و عمر اور تمام مسلم برابر ہیں۔ اور اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ کسی نے شیخین (ابو بکر و عمر) بلکہ ان کے ساتھ ختنین (علی و عثمان) کو بھی قتل کر دیا ہے تب بھی ایسا شخص اھل سنت و جماعت کے نزدیک اسلام سے خارج نہیں ہو گا۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ گالی کا درجہ قتل سے کمتر ہے۔" حوالہ: (شرح فقہ اکبر، صفحہ 86، کانپور) امام حافظ ابن تیمیہ الدمشقی ابن تیمیہ اپنی کتاب الصارم المسلول صفحہ 759، طبع مصر میں توہین صحابہ کے عدم کفر کی دلیلیں پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔   "انبیاء کرام کے علاوہ کسی کو سب و شتم کرنے سے کفر لازم نہیں آتا ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانے میں بعض صحابہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے رہے اور کوئی ان کے کفر کا قائل نہيں ہے۔" علامہ ابن حجر الہیثمی المکی مصر کے مشہور محدث ابن حجر تحریر کرتے ہیں۔ "میں نے کسی اہل علم کے کلام میں یہ بات نہیں پائی کہ صحابی کو گالی دینا قتل کو واجب کر دیتا ہو سوائے اس کہ کے ہمارے بعض اصحاب اور اصحاب ابو حنیفہ کے اطلاق کفر کے متعلق آتا ہے۔ مگر انہوں نے بھی قتل کی تصریح نہیں کی۔ اور ابن منذر کہتے ہیں کہ میں کسی شجص کو نہیں جانتا ہوں کہ جو نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد کسی کو گالی دینے والے کا قتل واجب گردانتا ہو۔ " صواعق محرقہ صفحہ 255، طبع مصر علامہ علاء الدین الحصکفی الحنفی آپ اپنی کتاب در المختار باب الامامت صفحہ 76 طبع دھلی میں رقمطراز ہیں۔ "اور جتنے لوگ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے ہیں وہ کافر نہیں ہوتے۔ حتی کہ خارجی بھی کافر نہیں جو ہماری جان و مال کو حلال جانتے ہیں۔ اور جو لوگ صحابہ کو سب کرنا جائز جانتے ہیں اور صفات باری تعالی کے منکر ہیں اور خدا کے دیدار کے جواز کے منکر ہیں یہ لوگ کافر نہیں کیونکہ ان کا اعتقاد تاویل اور شبہ پر مبنی ہے۔ اور ان کے کافر نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ان کی گواہی مقبول ہے۔ (یعنی کافر ہوتے تو ان کی گواہی مسلمانوں میں قبول نہ ہوتی۔ چونکہ ان کی گواہی مقبول ہے اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان ہیں)۔ علامہ عبد الحئ لکھنوی بر صغیر کے یہ مشہور عالم ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ "مفتی بہ اور صحیح ترین قول شیعہ کی عدم تکفیر کا ہے۔ اور ابو بکر اور عمر کو سب کرنا موجب کفر نہیں ہے۔ یہی قول ابو حنیفہ کے مذھب کے مطابق ہے۔" اس کے بعد ابو شکور سالمی کی کتاب التمہید فی بیان التوحید کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں۔ " اور جو یوگ یہ کہتے ہیں کہ علی (علیہ السلام) افضل ہیں شیخین سے تو یہ بدعت ہے کفر نہیں۔ اور جو کہتے ہیں کہ علی (علیہ السلام) کے مخالف مثل عائشہ و معاویہ کے لعنت بھیجنا واجب ہے، یہ سب بدعت ہے کفر نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تاویل سے صاور ہوا ہے۔ اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کو سب کرنے کی وجہ سے شیعہ کو کافر کہنا محققین کے مذھب کے سراسر خلاف ہے" (مجموعہ الفتاوی' جلد 1، صفحہ 3 اور 4، طبع لکھنؤ) مولانا رشید احمد گنگوہی ان کے نزدیک صحابہ کو ملعون اور مردود کہنے والا سنت و جماعت سے خارج نہیں ہوتا۔ سوال و جواب ملاحضہ فرمائیں۔ سوال۔ صحابہ کو ملعون اور مردود کہنے والا،کیا اپنے اس کبیرہ گناہ کی وجہ سے سنت و جماعت سے خارج ہو جائے گا؟ جواب۔ وہ اپنے اس کبیرہ گناہ کی وجہ سے سنت و جماعت سے خارج نہیں ہو گا۔ (ملخصا" از فتاوی' رشیدیہ، جلد 2، صفحہ 130، طبع دھلی) مولانا محمد رفیق اثری مدرس دارالعلوم محمدیہ ملتان لکھتے ہیں۔ "صحیح یہ ہے کہ قتل کی سزا صرف نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذات پر بیہودہ گوئی پر دی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ ابو بکر نے فرمایا کہ نبی کے بعد کسی کو کہ استحقاق نہیں ہے کہ اس پر تنقید کی وجہ سے ناقد کو قتل کر دیا جائے۔ (سنن نسائی)" (السیف المسلؤل مترجم صفحہ 520، طبع ملتان) اہل حدیث کے نامور عالم حافظ محمد ابراہیم سیالکوٹی بحوالہ صارم المسلول لکھتے ہیں۔ "نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو گالی دینے کی سزا قتل ہے کسی امیر المومنین کو گالی دینے والے کو محض اس بناء کے قتل نہیں کیا جا سکتا" (احیاء االمیت مع تنویر الابصار صفحہ 46 طبع لاہور) جسٹس ملک غلام علی (جماعت اسلامی) "میں کہتا ہوں کہ سب و شتم کا آغاز اور اس کے جواب میں سب و شتم کا آغاز جس نے بھی کیا بہت برا کیا۔ آج بھی جو ایسا کرتا ہے بہت برا کرتا ہے۔ لیکن یہ جرم بغاوت کے مترادف نہیں ہے۔ اور نہ اس کی سزا قتل ہے۔ بعض علمائے سلف اس بات کے قائل تو ہوئے ہیں کہ شاتم رسول واجب القتل ہے لیکن نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے علاوہ کسی دوسرے کی بد گوئی کرنا یا گالی دینا اسلام میں ہر گز قتل کا موجب نہیں ہے۔" (خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ صقحہ 272، طبع، لاہور) مندرجہ بالا بیان سے کہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ شریعت مقدسہ میں توہین صحابہ پر قتل یا کوئی اور سزا ہوتی تو نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ضرور اس کو جاری کرتے۔   Bottom of Form  

جنۃالبقیع ۸شوال

اسلامی امت کے الٰہی مقدسات کی توہین ان کے عقائد کی تضعیف نیز مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے اس باطل فرقہ کو اسلامی ممالک میں پھیلانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں ، قتل و غارت اور اسلامی مقدسات کی توہین سے لبریز وہابیوں کی شرمناک تاریخ گواہ ہے

قرآن کی پیرو امت کے درمیان اختراع کیا ہے اور اسلامی امت کے الٰہی مقدسات کی توہین ان کے عقائد کی تضعیف نیز مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے اس باطل فرقہ کو اسلامی ممالک میں پھیلانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں ، قتل و غارت اور اسلامی مقدسات کی توہین سے لبریز وہابیوں کی شرمناک تاریخ گواہ ہے کہ اس باطل فرقہ کا مقصد مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر اسلامی عقائد کی بیخ کنی اور استعماری طاقتوں کے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے ۔ ان کے کالے کرتوت اس حقیقت کے منھ بولتے ثبوت ہیں۔

جن مسائل میں وہابی حضرات بہت زیادہ حساس ہیں ان سے ایک قبور کی تعمیر اور اور پیغمبروں ، اولیاء اور خدا کے نیک و برگیزدہ بندوں کی قبروں پر عمارت بنانا ہے۔

اس مسئلے کو سب سے پہلے ابن تیمیۃ کے مشہور و معروف شاگرد ( ابن القیم ) نے چھیڑا اور اولیا ء خدا نیز پیغمبروں کی قبروں پر عمارت بنانا حرام قرار دیا ۔ اور انہدام کا فتویٰ دیا ۔وہ اپنی کتاب ( زاد المعاد فی ھدمی خیر العباد)صفحہ۶۶۱پر لکھتا ہے:

'' یَجِبُ ھَدْمُ الْمَشاھِدِ الَّتِیْ بُنِیَتْ عَلیٰ الْقبُوْرِ ، وَلاَ یَجُوْزُ اِبْقَاءُ ھَا بَعْدَ الْقُدْرَۃِ عَلیٰ ھَدْمِھَا وَ ابْطَالِھَا یَوْماً وَاحِداً''

''قبروں پر تعمیر شدہ عمارتوں کو ڈھانا واجب ہے ، اگر انہدام اور ویرانی ممکن ہو تو ایک دن بھی تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔''

۱۳۴۴ھ میں جب آل سعود نے مکہ و مدینہ کے گرد نواح میں اپنا پورا تسلط جمایا تو مقدس مقامات ، جنت البقیع اور خاندان رسالت مآب (ص) کے آثار کو صفحہ ہستی سے محو کر دینے کا عزم کیا اس سلسلے میں انھوں نے مدینہ کے علماء سے فتوے لئے تاکہ تخریب کی راہ ہموار ہو جائے ۔ نجد کے قاضی القضات '' سلیمان بن بلیہد'' کو مدینہ روانہ کیا تاکہ وہ ان کے من پسند فتوے ، علمائے مدینہ سے حاصل کرے ، لہٰذا اس نے ان سوالات کو اس طرح گھما پھرا کر پوچھا کہ ان کا جواب بھی انہی سولات میں موجود تھا ،لہٰذا مفتیوں کو یہ سمجھادیا گیا کہ ان سوالات کے وہی جوابات دیں جو خود ان سوالات میں موجود ہیں ورنہ تمھیں بھی مشرک قرار دے دیا جائے گا ۔اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں قتل کر دیا جائے گا۔

سوال اور جوابات مکہ سے شائع ہونے والے رسالہ ( ام القراء ) ماہ شوال ۱۳۴۴ ھ میں منتشر ہوئے ۔ مدینہ کے پندرہ علماء سے فتویٰ لینے اور اسے حجاز میں نشر کرنے کے بعد فورا خاندان رسالت کے آثار کو اسی سال آٹھویں شوال کو محو کرنا شروع کر دیا ۔ جنت البقیع میں آئمہ علیہم السلام کے روضوں کی گراں بہا اشیاء لوٹ لی گئیں اور قبرستان بقیع ایک گھنڈر اور ویران کی صورت میں تبدیل کردیا گیا۔

ہم کچھ سوالوں کو نقل کر رہے ہیں تاکہ قارئین کے لئے روشن ہو جائے کہ انھوں نے کس قسم کے سوال بنائے تھے۔ جن میں جواب بھی موجود تھا ۔ '' سلیمان بلیہد'' اپنے سوال کو یوں بیان کرتا ہے :

'' ماقول علماء المدینۃ المنورۃ زاد ھم اللہ فھماو علما فی البناء علی القبور و اتخاذھا مساجد ھل ھو جائز او لا و اذا کان غیر جائز بل ممنوع منھی عنہ نھیا شدیدا فھل یجب ھدمھا و منع الصلوۃ عندھا ام لا و اذا کان البناء فی مسبلۃ کالبقیع و ھو مانع من الانتفاع با لمقدار المبنی علیہ فھل ھو غصب یجب رفعہ لما فیہ من ظلم المستحقین و منعھم استحقاقھم ام لا ؟''

'' کیا فرماتے ہیں علماء مدینہ منورہ جن کے علم و دانش میں خدا وند عالم روز افزوں ترقی عطا فرمائے ، قبروں پر تعمیر و عمارت اور وہاں مسجد بنانے کے متعلق جائز ہے یا یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں ہے اور اسلام نے بڑی شدت سے اس کی ممانعت کی ہے تو کیا انھیں منہدم کرنا اور وہاں نماز پڑھنے سے روکنا ضروری اور واجب ہے یا نہیں ؟

کیا بقیع جیسی وقف شدہ زمین پر بنائی گئی قبریں ، عمارتیں اور گنبد ، جن کی وجہ سے بعض حصوں سے استفادہ نہیں کیا جا سکتا ، وقف کے بعض حصہ کے غصب کے مترادف نہیں ہے ؟ انھیں جتنا جلدی ہو سکے ختم کیا جائے تاکہ مستحقین پرجو ظلم ہوا ہے رفع ہو جائے ۔

مدینہ کے علماء نے خوف و حراس کے عالم میں ( شیخ ) کے سوال کا یوں جواب دیا :

''اما البناء علی القبور فھو ممنوع اجماعا لصحۃ الا حادیث الواردۃ فی منعہ و لھٰذا افتیٰ کثیر من العلماء بوجوب ھدمہ مستندین بحدیث علی رضی اللہ عنہ انہ قال : لابی الھیاج الا بعثک علی ما بعثنی علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ ان لا تدع تمثا لا الا طمستہ ولا قبرا مشرفا الا سویتہ''

قبروں پر عمارت بنانا ، احادیث کی روشنی میں اجماعی طور پر منع ہے اسی لئے بہت سے علماء نے اس کے انہدام کے وجوب کا فتویٰ دیا ہے اور اس سلسلے میں حضرت امام علی علیہ السلام سے ابی الہیاج کی نقل کردہ ایک روایت کا سہارا لیتے ہیں ۔ حضرت علی علیہ السلام نے مجھ سے فرمایاکہ میں تمھیں ایسے کام پر مامور کرتا ہوں جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے مامور کیا تھا ۔ وہ یہ کہ جو تصوریر بھی نظر آئے اسے ختم کرو اور جس قبر کو بھی دیکھو اسے برابر کر دو۔

مرحوم آقا بزرگ تہرانی اپنی کتاب '' الذریعۃ '' کی آٹھویں جلد کے صفحہ ۲۶۱ پر یوں تحریر فرماتے ہیں : وہابی ۱۵/ ربیع الاول۱۳۴۳ہجری کو حجاز پر قابض ہوئے اور آٹھویں شوال ۱۳۴۳ہجری کو جنت البقیع میں ائمہ کے مزاروں اور صحابہ کی قبروں کو منہدم کر دیا ۔ حالانکہ رسالہ ( ام القرایٰ ) نے استفتاء اور جواب کو شوال۱۳۴۴ہجری میں نشر کیا ہے اور علماء مدینہ کے جوابات کی تاریخ۲۵/ رمضان ذکر کی ہے ۔ لہٰذا یہ کہنا چاہئے کہ وہابیوں کا قبضہ اور تخریب دونوں ہی ۱۳۴۴ہجری میں انجام پائے ۔ مرحوم محسن امین نے ان کے مکمل قبضے اور تخریب جنت البقیع کی تاریخ ۱۳۴۴ہجری ہی لکھی ہے ۔

 

ادامه نوشته

جنۃالبقیع ۸شوال

اسلامی امت کے الٰہی مقدسات کی توہین ان کے عقائد کی تضعیف نیز مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے اس باطل فرقہ کو اسلامی ممالک میں پھیلانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں ، قتل و غارت اور اسلامی مقدسات کی توہین سے لبریز وہابیوں کی شرمناک تاریخ گواہ ہے

قرآن کی پیرو امت کے درمیان اختراع کیا ہے اور اسلامی امت کے الٰہی مقدسات کی توہین ان کے عقائد کی تضعیف نیز مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے اس باطل فرقہ کو اسلامی ممالک میں پھیلانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں ، قتل و غارت اور اسلامی مقدسات کی توہین سے لبریز وہابیوں کی شرمناک تاریخ گواہ ہے کہ اس باطل فرقہ کا مقصد مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر اسلامی عقائد کی بیخ کنی اور استعماری طاقتوں کے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے ۔ ان کے کالے کرتوت اس حقیقت کے منھ بولتے ثبوت ہیں۔

جن مسائل میں وہابی حضرات بہت زیادہ حساس ہیں ان سے ایک قبور کی تعمیر اور اور پیغمبروں ، اولیاء اور خدا کے نیک و برگیزدہ بندوں کی قبروں پر عمارت بنانا ہے۔

اس مسئلے کو سب سے پہلے ابن تیمیۃ کے مشہور و معروف شاگرد ( ابن القیم ) نے چھیڑا اور اولیا ء خدا نیز پیغمبروں کی قبروں پر عمارت بنانا حرام قرار دیا ۔ اور انہدام کا فتویٰ دیا ۔وہ اپنی کتاب ( زاد المعاد فی ھدمی خیر العباد)صفحہ۶۶۱پر لکھتا ہے:

'' یَجِبُ ھَدْمُ الْمَشاھِدِ الَّتِیْ بُنِیَتْ عَلیٰ الْقبُوْرِ ، وَلاَ یَجُوْزُ اِبْقَاءُ ھَا بَعْدَ الْقُدْرَۃِ عَلیٰ ھَدْمِھَا وَ ابْطَالِھَا یَوْماً وَاحِداً''

''قبروں پر تعمیر شدہ عمارتوں کو ڈھانا واجب ہے ، اگر انہدام اور ویرانی ممکن ہو تو ایک دن بھی تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔''

۱۳۴۴ھ میں جب آل سعود نے مکہ و مدینہ کے گرد نواح میں اپنا پورا تسلط جمایا تو مقدس مقامات ، جنت البقیع اور خاندان رسالت مآب (ص) کے آثار کو صفحہ ہستی سے محو کر دینے کا عزم کیا اس سلسلے میں انھوں نے مدینہ کے علماء سے فتوے لئے تاکہ تخریب کی راہ ہموار ہو جائے ۔ نجد کے قاضی القضات '' سلیمان بن بلیہد'' کو مدینہ روانہ کیا تاکہ وہ ان کے من پسند فتوے ، علمائے مدینہ سے حاصل کرے ، لہٰذا اس نے ان سوالات کو اس طرح گھما پھرا کر پوچھا کہ ان کا جواب بھی انہی سولات میں موجود تھا ،لہٰذا مفتیوں کو یہ سمجھادیا گیا کہ ان سوالات کے وہی جوابات دیں جو خود ان سوالات میں موجود ہیں ورنہ تمھیں بھی مشرک قرار دے دیا جائے گا ۔اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں قتل کر دیا جائے گا۔

سوال اور جوابات مکہ سے شائع ہونے والے رسالہ ( ام القراء ) ماہ شوال ۱۳۴۴ ھ میں منتشر ہوئے ۔ مدینہ کے پندرہ علماء سے فتویٰ لینے اور اسے حجاز میں نشر کرنے کے بعد فورا خاندان رسالت کے آثار کو اسی سال آٹھویں شوال کو محو کرنا شروع کر دیا ۔ جنت البقیع میں آئمہ علیہم السلام کے روضوں کی گراں بہا اشیاء لوٹ لی گئیں اور قبرستان بقیع ایک گھنڈر اور ویران کی صورت میں تبدیل کردیا گیا۔

ہم کچھ سوالوں کو نقل کر رہے ہیں تاکہ قارئین کے لئے روشن ہو جائے کہ انھوں نے کس قسم کے سوال بنائے تھے۔ جن میں جواب بھی موجود تھا ۔ '' سلیمان بلیہد'' اپنے سوال کو یوں بیان کرتا ہے :

'' ماقول علماء المدینۃ المنورۃ زاد ھم اللہ فھماو علما فی البناء علی القبور و اتخاذھا مساجد ھل ھو جائز او لا و اذا کان غیر جائز بل ممنوع منھی عنہ نھیا شدیدا فھل یجب ھدمھا و منع الصلوۃ عندھا ام لا و اذا کان البناء فی مسبلۃ کالبقیع و ھو مانع من الانتفاع با لمقدار المبنی علیہ فھل ھو غصب یجب رفعہ لما فیہ من ظلم المستحقین و منعھم استحقاقھم ام لا ؟''

'' کیا فرماتے ہیں علماء مدینہ منورہ جن کے علم و دانش میں خدا وند عالم روز افزوں ترقی عطا فرمائے ، قبروں پر تعمیر و عمارت اور وہاں مسجد بنانے کے متعلق جائز ہے یا یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں ہے اور اسلام نے بڑی شدت سے اس کی ممانعت کی ہے تو کیا انھیں منہدم کرنا اور وہاں نماز پڑھنے سے روکنا ضروری اور واجب ہے یا نہیں ؟

کیا بقیع جیسی وقف شدہ زمین پر بنائی گئی قبریں ، عمارتیں اور گنبد ، جن کی وجہ سے بعض حصوں سے استفادہ نہیں کیا جا سکتا ، وقف کے بعض حصہ کے غصب کے مترادف نہیں ہے ؟ انھیں جتنا جلدی ہو سکے ختم کیا جائے تاکہ مستحقین پرجو ظلم ہوا ہے رفع ہو جائے ۔

مدینہ کے علماء نے خوف و حراس کے عالم میں ( شیخ ) کے سوال کا یوں جواب دیا :

''اما البناء علی القبور فھو ممنوع اجماعا لصحۃ الا حادیث الواردۃ فی منعہ و لھٰذا افتیٰ کثیر من العلماء بوجوب ھدمہ مستندین بحدیث علی رضی اللہ عنہ انہ قال : لابی الھیاج الا بعثک علی ما بعثنی علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ ان لا تدع تمثا لا الا طمستہ ولا قبرا مشرفا الا سویتہ''

قبروں پر عمارت بنانا ، احادیث کی روشنی میں اجماعی طور پر منع ہے اسی لئے بہت سے علماء نے اس کے انہدام کے وجوب کا فتویٰ دیا ہے اور اس سلسلے میں حضرت امام علی علیہ السلام سے ابی الہیاج کی نقل کردہ ایک روایت کا سہارا لیتے ہیں ۔ حضرت علی علیہ السلام نے مجھ سے فرمایاکہ میں تمھیں ایسے کام پر مامور کرتا ہوں جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے مامور کیا تھا ۔ وہ یہ کہ جو تصوریر بھی نظر آئے اسے ختم کرو اور جس قبر کو بھی دیکھو اسے برابر کر دو۔

مرحوم آقا بزرگ تہرانی اپنی کتاب '' الذریعۃ '' کی آٹھویں جلد کے صفحہ ۲۶۱ پر یوں تحریر فرماتے ہیں : وہابی ۱۵/ ربیع الاول۱۳۴۳ہجری کو حجاز پر قابض ہوئے اور آٹھویں شوال ۱۳۴۳ہجری کو جنت البقیع میں ائمہ کے مزاروں اور صحابہ کی قبروں کو منہدم کر دیا ۔ حالانکہ رسالہ ( ام القرایٰ ) نے استفتاء اور جواب کو شوال۱۳۴۴ہجری میں نشر کیا ہے اور علماء مدینہ کے جوابات کی تاریخ۲۵/ رمضان ذکر کی ہے ۔ لہٰذا یہ کہنا چاہئے کہ وہابیوں کا قبضہ اور تخریب دونوں ہی ۱۳۴۴ہجری میں انجام پائے ۔ مرحوم محسن امین نے ان کے مکمل قبضے اور تخریب جنت البقیع کی تاریخ ۱۳۴۴ہجری ہی لکھی ہے ۔

 

ماں باپ کى ذمہ داری

ماں باپ کى ذمہ داری

اسلام کى نظر مین ماں باپ کا مقام بہت بلند ہے _ الله تعالى نھ ، رسول اکرام نے اورآئمہ معصومین علیہم السلام نے اسبار ے میں بہت تا کید کى ہے اور اس سلسلےمیں بہت سى آیات اور روایات موجود ہین _ ماں باپ سے حسن سلوک کو بہترین عباداتمیں سے شمار کیا گیا ہے_

ارشاد الہى ہے_

وقضى ربک الا تعبد و االا آیاہ و لاوالدین احسنا



اورتیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ صرف اسى کى عبادت کرو اور والادن کے تاسھ حسن) سلوک اختیاد کرو _ ( بنى اسرائیل 23

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے_تین چیزین بہترین عمل ہین:

1پابندى وقت کے ساتے نماز نچگہنہ کى اوائیگى_ _

2ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور _

3را خدامیں جہاد _

) )اصول کافى ج 2 ص 158

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماں ماپ کو سہ مرتبہ کیوں اور کیوں کرملا ہے ؟ کیا اللهتعالى انے انہیں یہ مقام بلا وجہ عطا کردیا ہے یا ان کے کسى قیمتى عمل کى وجہسے ؟ ماں باپ بچے کے لیے کون سابڑا کام انجام دیتے ہیں کہ جسکے باعث وہ اسفذر مقام و خدمت کے لائق قرارپاتے ہیں _ باپ نے ایک جنسى جذبے کستسکین کے لیے ایک خلیہ حیات ( ) رحم مادر میں منتقل کیا ہے _

یہ سیل ماں کى جانب سے ایک اور سیل کے ساتھ مل کرمرکب ہو جاتا ہے جو ایک نئے وجود کے طور پر رحممادر مین پرورشپاتا ہے _ جونو ماہ کے بعد ایک ننھے منے بچے کى صورت میں زمین پر قدم رکھتا ہے _ اںاسے دودھ او رودسرى غذا دیتى ہے _ اسے کبھى صاف کرتى ہے کبھى کپڑ ے بدلتى ہے اسکى ترى اورخشکى کا خیال رکھتى ہے ان مراحل میں باپ خاندان کے اخراجات پورے کرتا ہے اوران کى دیکے بھال کرتا ہے_ کیاماں باپ کى ان کاموں کے علاوہ کوئی مہ دارى نہیں ؟ کیا انہى کاموں کى وجہ سے ماں باپ کو اسقدربلند مقام حاصل ہے ؟ کیا صرف ماں باپ اپنى اولاد پر حق رکھتے ہیں اور اولاد اپنے مان باپ پر کوئی حق نہیں رکھتى ؟ میرے خیال میں ایسا یک طرفہ حق تو کوى بھى قبول نہیں کرتا _ احادیث معصومین علیم السلام میں ایسے حقوق اولاد بھى بان فرمائے کئے ہیں کہ جن کى ادائیکى ماں باپ کى ذمہ دارى ہے _ ان میں سے چند احادیث ہم ذیل میں ذکر کر تے ہین:

1پیغمبر اسلام صلى الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: _

چنانچہ جس طرح تیرا باپ تجھ پر حق رکھتا ہے تیرى اولاد بھى پر حق رکھتى ہے.مجمع الزوائد ، ج 8 ، ص 146

2پیغمبر اکر م صلى الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: _

جیسے اولاد اپنے ماں باپ کس نا فرمانى کى وجہ سے عاق ہو حاتى ہے اسى طرح سے ممکن ہے ماں باپ بھى اپنے فریضے کى عدم ادائیگى کے باعث اولاد کى طرف سے عاق ہو جائیں : بحار ، ج 10 ،ص

3رسول کریم صلى الله علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا: _

) خدا ایسے ماں باپ پر لعنت کرے جو اپنى اولاد کے عاق ہونے کا باعث بنیں ( مکارم الاخلاق ، ص

4اما م سجّاد علیہ السلام نے فرمایا: _

تیر ى اولاد کا حق یہ ہے کہ تو اسپر غور کر کہ وہ برى ہے یااچھى ہے بہر حال تجھى سے وجود میں آئی ہے اوراس دنیا میں وہ تجھى سے منسوب ہے اور تیرى ذمہ دار ہے کہ تو اسے ادب سکھا، الله کى معرفت کے لیے اس کى راہنمائی کر اور اطاعت پروردگار میں اس کى مددکر، تیرا سلوک اپنى اولاد کے ساتھ ایسے شخص کاساہونا چاہیے کہ جسے یقین ہوتا ہے کہ احسان کے بدلے میں اسے اچھى ) جزا ملے گى اور بد سلوکى کے باعث اسے سزاملے گى ''_ (مکارم الاخلاق ص 484

5امیر المؤمنین على علیہ السلام نے فرمایا: _

''کہیں ایسا نہ ہو کہ تیرى وجہ سے تیرا خاندان اور تیرے اقربا بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوجائیں ''_

) (غررالحکم ص 802

6پیغمبر اکرم (ص (نے فرمایا: _

''جو کوئی بھى یہ چاہتا ہو کہ اپنى اولاد کو عاق ہونے سے بچائے اسے چاہیے کہ نیک کاموں میں اس کى مدد

) کرے''_ (مجمع الزوائد ج 8 ص 146

7پیغمبر اسلام (ص (نے فرمایا: _

''جس کسى کے ہاں بیٹى ہو اور وہ اسے خوب ادب و اخلاق سکھائے ، اسے تعلیم دینے کے لیے کوشش

کرے، اس کے لیے آرام و آسائشے کے اسباب فراہم کرے تو وہ بیٹى اسے دوزخ کى آگ سے بچائے گى ''

) _(مجمع الزوائد _ ج 8 _ ص 158

سب سے بڑھ کر یہ کہ الله تعالى قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

یا ایہا الذین آمنوا قو اانفسکم و اہلیکم ناراً وقودہا الناس و الحجارة_

اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ کہ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں _

) (سورہ تحریم _ آیہ 6

بچے نے سبب کہ ابھى وضع زندگى کے بارے میں کوئی راستہ متعین نہیں کیا ہوتا اور سعادت و بدبختى ہر دو کى اسمیں قابلیت ہوتى ہے اس سے ایک کامل انسان بھى بنایا جا سکتا ہے اور ایک گھٹیا درجے کا حیوان بھى _ ہر انسان کى سعادت اور بدبختى اس کى کیفیت تربیت سے وابستہ ہے اور اس عظیم کام کى ذمہ دارى ماں باپ کے کندھوں پر ڈالى گئی ہے _ اصولاً ماں باپ کا معنى یہى ہے _ ماں باپ یعنى انسان ساز اور کمال بخشنے والے دو وجود _ عظیم ترین خدمت کہ جو ماں باپ اپنى اولاد کے لیے انجام دے سکتے ہیں وہ یہ ہے اسے خوش اخلاق ، مہربان، انسان دوست ، خیرخواہ، حریت پسند، شجاع ، عدالت پسند، دانا، درست کام کرنے والا، شرافت مند ، با ایمان فرض شناس ، سالم ، محنتى ، تعلیم یافتہ ، اور خدمت گزار بننے کى تربیت دیں_

ماں باپ کو چاہیے کہ اپنے بچے کو اس طرح سے ڈھالیں کہ وہ دنیا میں بھى سعادت مند ہو اور آخرت میں بھى سرخرد_ ایسے ہى افراد در حقیقت ماں باپ کے عظیم مرتبے پر فائز ہو سکتے ہیں نہ وہ کہ جنہوں نے ایک جنسى جذبہ کے تحت اولاد کو وجود بخشاہے اور اسے بڑا ہونے کے لئے چھوڑدیا ہے کہ وہ خود بخود تر بیت پائے_

پیغمبر اکرم (ص (نے فرمایا:

باپ جو اپنى اولاد کو بہترین چیز عطا کرسکتا ہے وہ اچھا ادب اور نیک تربیت ہے _ (مجمع الزوائد _ ج 8 ص

)159

خصوصاً ماں کى اس سلسلے میں زیادہ اہمیت ہے _ حتى کہ دوران حمل بھى اس کى خوراک اور طرز عمل

بچے کى سعادت اور بدبختى پر اثر انداز ہوتا ہے_

پیغمبر اسلام (ص (نے فرمایا:

خوش نصیب وہ ہے کہ جسکى خوش بختى کى بنیاد ماں کے پیٹ میں پڑى ہو اور بدبخت وہ ہے جسکى

)133_ سعادت کا آغاز شکم مادر سے ہوا ہو _ (بحار الانوار _ ج _ 77 ص 115

رسول اکرم (ص (نے فرمایا:

) الجنة تحت اقدام الامہات _ (مستدرک _ ج 2 _ ص 638

جو ماں باپ اپنى اولاد کى تعلیم و تربیت کى طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ اپنى رفتار و کردار سے انہیں منحرف بنادیتے ہیں وہ بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں ایسے ماں باپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا اس بے گناہ بچے نے تقاضا کیا تھا کہ تم اسے وجود بخشو کہ اب وجود میں لانے کے بعد اسے تم نے گائے ے بچھڑے کى طرح چھوڑدیا ہے _ اب جب کہ تم اس کے وجود کا باعث بن گئے ہو تو شرعاً اور عقلا تًم ذمہ دار ہو کہ اس کى تعلیم و تربیت کے لیے کوششکرو _ لہذا تعلیم و تربیت ہر ماں باپ کى عظیم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے_

اس کے علاوہ ماں باپ معاشرے کے سامنے بھى جواب وہ ہیں _ آج کے بچے ہى کل کے مرد او رعورت ہیں _

کل کا معاشرہ انہیں سے تشکیل پاناہے _ آج جو سبق سیکھیں گے کل اسى پر عمل کریں گے _ اگر ان کى تربیت درست ہوگئی تو کل کا معاشرہ ایک کامل تراور صالح معاشرہ ہوگا اور اگر آج کى نسل نے غلط پروگرام کے تحت اور نادرست طور پر پرورش پائی تو ضرورى ہے کہ کل کا معاشرہ فاسدتر اور بدتر قرارپائے _ کل کى سیاسى ، علم اور سماجى شخصیات انہیں سے وجود میں آئیں گى _ آج کے بچے کل کے ماں باپ ہیں _

آج کے بچے کل کے مربّى قرار پائیں گے _ اور اگر انہوں نے اچھى تربیت پائی ہوگى تو اپنى اولاد کو بھى ویسا ہى بنالیں گے اور اسى طرح اس کے برعکس _ لہذا اگر ماں باپ چاہیں _ تو آئندہ آنے والے معاشرہ کى اصلاح کرسکتے ہیں اور اسى طرح اگرچاہیں تو اسے برائیں اور تباہى سے ہمکنار کرسکتے ہیں _ اس طرح سے ماں باپ معاشرے کى حوالے سے بھى ایک اہم ذمہ دارى کے حامل ہیں _ اگر وہ اپنے بچوں کى صحیح تعلیم وتربیت کے لیے کوششکریں تو انہوں نے گویا معاشرے کى ایک عظیم خدمت سرانجام دى ہے او روہ اپنى زحمتوں کے صلے میں اجر کے حقدار ہیں اور اگر وہ اس معاملے میں غفلت اور سہل انگارى سے کام لیں تو نہ صرف اپنے بے گناہ بچوں کے بارے میں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں اور یقینى طور پر بارگاہ الہى میں جواب وہ ہوں گے_

تعلیم و تربیت کے موضوع کو معمولى نہیں سمجھنا چاہیے _ ماں باپ اولاد کى تربیت کے لئے جو کوشش کرتے ہیں اور جو مصیبتیں اٹھاتے ہیں وہ سینکڑوں استادوں ، انجینئروں ، ڈاکٹروں اور عالموں کے کاموں پر بھارى ہیں _ یہ ماں باپ ہیں جو انسان کامل پرواں چڑھاتے ہیں اور ایک لائق و دیندار استاد، ڈاکٹر اور انجینئر وجود میں لاتے ہیں_

خاص طور پر مائیں بچوں کى تربیت کے بارے میں زیادہ ذمہ دارى رکھتى ہیں اور تربیت کا بوجھ ان کے کندھوں پر رکھا گیا ہے _ بچے اپنے بچپن کا زیادہ عرصہ ماؤں کے دامن میں ہى گزارتے ہیں _ اور آئندہ زندگى کے رخ کى بنیاد اسى زمانہ میں پڑتى ہے _ لہذا افراد کى خوشبختى اور بدبختى اور معاشرے کى ترقى او رتنزل کى

کنجى ماؤں کے ہاتھ میں ہے _ عورت کا مقام وکالت وزارت ، اور افسرى میں نہیں یہ سب چیزیں مقام مادر سے کہیں کم تر ہیں _ مائیں کامل انسانوں کى پرورش کرتى ہیں اور صالح وزیر، وکیل ، افسر اور استاد پروان چڑھاتى ہیں اور معاشرے کو عطا کرتى ہیں_

جو ماں باپ پاک، صالح اور قیمتى بچے پروان چڑھاتے ہیں نہ صرف یہ کہ وہ اپنى اولاد اور معاشرے کى خدمت کرتے ہیں بلکہ خود بھى اسى جہان میں ان کے وجود کى خیر وخوبى سے بہرہ مند ہوتے ہیں _ نیک اولاد ماں باپ کى سرافرازى کا سرمایہ ہوتى ہے اور ناتوانى کے زمانے میں ان کا سہارا ہوتى ہے _ اگر ماں باپ ان کى

تعلیم و تربیت کے لیے کوشش کریں تو اسى دنیا میں اس کا نتیجہ دیکھیں گے اور اگر اس معاملے میں غفلت اور سہل انگارى سے کام لیں تو اسى دنیا میں اس کا ضرر بھى دیکھ لیں گے_

حضرت على علیہ السلام نے فرمایا:

) برى اولاد انسان کے لیے بڑى مصیبتوں میں سے ہے _ (غرر الحکم _ ص 180

حضرت على علیہ السلام نے یہ بھى فرمایاہے:

) برى اولاد ماں باپ کى آبروگنوادیتى ہے اور وارثوں کو رسوا کردیتى ہے _ (غررالحکم _ 780

پیغمبر اسلام صلى الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

خدا رحمت کرے ان ماں باپ پر جنہوں نے اپنى اولاد کو تربیت دى کہ وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کریں _

) (مکارم الاخلاق_ ص 517

لہذا جو ماں باپ بن جاتے ہیں ان کے کندھے پر ایک بھارى ذمہ دارى آن پڑتى ہے او ریہ ذمہ دارى خدا کے حضور بھى مخلوق کے روبرو بھى اور اولاد کے سامنے بھى ہے _ اگر انہوں نے اپنى ذمہ دارى کو صحیح طریقے سے ادا کردیا تو ان کے لئے ایک عظیم خدمت انجام دى ہے ، وہ دنیا و آخرت میں اس کا نیک صلہ پائیں گے _ لیکن اگر انہوں نے اسمعاملے میں کوتاہى کى تو خود بھى نقصان اٹھائیں گے اور اپنى اولاد اور معاشرے کے ساتھ بھى خیانت اور ناقابل بخششگناہ کے مرتکب ہوں گے_

 

اولاد کی تربیت میں محبت کا کردار

اولاد

کی تربیت میں محبت کا کردار


مقدمہ

انسان محبت اور توجہ کا بھوکا ہوتا ہے۔ محبت اور توجہ دلوں کو حیات بخشتی ہے۔ جو انسان خود کو پسند کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی اسے پسند کریں۔ محبت و چاہت انسان کو شادمان اور خوشحال کرتی ہے۔ محبت ایک ایسا جزبہ ہے جو استاد و شاگرد دونوں کے دلوں پر مساوی طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر انسان کسی کو چاہتا نہیں ہوگا، پسند نہیں کرتا ہوگا تو اس کی تربیت کیسے کر سکتا ہے۔ تربیت اولاد میں محبت کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔

محبت، استاد و شاگرد کے درمیان ارتباط برقرار کرنے میں نہایت اہم اور کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ بہترین رابطہ وہ ہے جس کی اساس اور بنیاد محبت پر ہو اس لیے کہ یہ ایک فطری اور طبیعی راستہ ہے اس کے علاوہ دوسرے تمام راستے، جن کی بنیاد زور زبردستی اور بناوٹ وغیرہ پر ہوتی ہے، وہ سب غیر طبیعی اور غیر مفید رابطے ہیں۔
بچوں کی مہمترین روانی و فطری ضرورت محبت، التفات اور توجہ حاصل کرنا ہے اور چونکہ والدین بچوں کے سب سے پہلے سر پرست اور مربی ہیں لہذا ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی اس فطری ضرورت ہر خاص توجہ مبذول کریں اور انہیں جاننا چاہیے کہ یہی وہ ضرورت ہے جو ان کی تربیت کی اساس اور بنیاد کو تشکیل دیتی ہے لہذا اس ضرورت کا پورا ہونا ان کے لیے روانی و فطری سلامتی، اعتماد بہ نفس اور والدین پر اعتبار کا سبب اور ذریعہ ہونے کی ساتھ ساتھ ان کی جسمانی سلامتی کا بھی باعث ہے۔


پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: اکثروا من قبلۃ اولادکم، فان لکم بکل قبلۃ درجۃ فی الجنۃ۔ اپنے بچوں کو بوسے دو اس لیے کہ تمہارا ہر بوسہ تمہارے لیے بہشت کے ایک درجہ کو بڑھا دے گا۔ لہذا والدین تربیت کی بنیاد مہر و محبت پر رکھیں۔ اس لیے کہ اگر ایسا نہیں ہوگا تو وہ ارتباط جو بچوں کے رشد و کمال کا سبب بن سکتا ہے، بر قرار نہیں ہو سکے گا اور صحیح طرح سے تربیت نہیں ہو سکی گی جب کہ اگر والدین کا سلوک تندی و سختی لیے ہوءے ہوگا تو وہ بچے کی روحی و روانی ریخت و شکست کا سبب ہو جاءے گا اور وہ بے راہ روی کا شکار ہو جاءے گا۔

محبت کی اہمیت و ضرورت


محبت لوگوں میں میل ملاپ اور یکجہتی کا سبب ہے۔ اگر محبت کا جزبہ نہ ہوتا تو لوگوں میں انس و محبت نہ ہوتی، کوءی بھی انسان کسی دوسرے کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہ ہوتا اور ایثار و قربانی جیسے لفظوں کا وجود نہ ہوتا۔


محبت و الفت پیدا کرنے والے کام تمام انسانوں کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ خاص طور پر تعلیمی و تربیتی اداروں کے لیے، اس لیے کہ محبت ہی ایسی شی ہے جو جسم و روح کی سلامتی کے ساتھ ساتھ انسان کی اخلاقی براءیوں اور کمزوریوں کی اصلاح اور بہبود روابط کا ذریعہ بنتی ہے۔


خداوند عالم نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اپنی محبت کا ذکر فرمایا ہے:


فان اللہ یحب المتقین (سورہ آل عمران آیہ ۷۶) اللہ متقین کو دوست رکھتا ہے۔


فان اللہ یحب المحسنین (سورہ آل عمران آیہ ۱۳۸) اللہ نیک عمل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔


انسانوں سے رابطہ کی زبان، خاص طور پر بچوں سے رابطہ کی زبان محبت ہونی چاہیے۔ غصہ و تندی و سختی سے کسی کی تربیت نہیں کی جا سکتی۔


تربیت میں محبت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ محبت، اطاعت سکھاتی ہے اور محبت والے ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔


پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: والمرء مع من احب۔ انسان اس کا ساتھ دیتا ہے جسے پسند کرتا ہے۔


محبت و اطاعت میں معیت (ساتھ رہنا) کا رابطہ پایا جاتا ہے، محبت کے ظہور کے ساتھ اطاعت و ہمراہی کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر بچے کے دل میں والدین کی محبت بیٹھ گءی تو بچہ ان کا مطیع و فرماں بردار بن جاءے گا اور اس کے اوپر جو ذمہ داریاں ڈالی جاءیں گی وہ ان سے نافرمانی نہیں کرے گا۔


محبت، بچوں کی ذہنی نشو و نما اور روحی تعادل کے مھم اسباب میں سے ہے۔ ان کی ذاتی خوبیاں اور سلوک کافی حد تک محبت کی مرہون منت ہیں جو انہیں اس تربیت کے دوران ملی ہے، گھر کی محبت بھری فضا اور محبت سے مملو ماحول بچوں میں نرم جذبات اور ٖفضاءل کے رشد کا سبب ہے جو بچے محبت بھرے ماحول میں تربیت پاتے ہیں وہ کمال تک پہچتے ہیں ، اچھتے ڈھنگ سے سیکھتے ہیں اور دوسروں سے محبت کرتے ہیں اور سماج و معاشرہ میں بہتر انسانی اقدار کے حامل ہوتے ہیں ۔ مہر و محبت ہی ہے کہ جو زندگی کو پر لطف اور با معنا بنتی ہے اور بچوں کی استعداد کی شگوفاءی اور ظہور کا سبب بنتی ہیں اور اس میں سعی و کوشش اور تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرتی ہیں۔


محبت کی بنیاد، بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کرنا، بنیادی انسانی اور اسلامی طریقوں میں سے ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بچوں سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے اور ان سے اچھا سلوک کرتے تھے اور ہمیشہ فرماتے تھے:


احبوا الصبیان وارحموھم ۔بچوں سے محبت کرو اور ان کے ساتھ الفت و محبت سے پیش آو ۔


والدین کو چاہیے کہ وہ قلبی طور پر اپنے عمل سے بچوں کو یہ یقین دلاءیں کہ وہ انہیں دوست رکھتے ہیں، ان کی یہ بات بچوں پر مثبت اثر ڈالے گی اور کچھ ہی عرصہ میں اس کا نتیجہ سامنے آ جاءے گا۔


والدین، بچوں میں ایسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں جو ان کی ذات کو تعمیر کرے اور مخصوص اعتقادات ان کے اندر جنم لیں تو ظاہر ہے کہ یہ کام بغیر محبت اور دوستی کے کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ جس کا مقصد انہیں رشد و کمال کی طرف لے جانا ہے۔

بچوں میں محبت کی ضرورت


انسان طبیعی اور فطری طور پر محبت کا طلب گار ہوتا ہے اور محبت ایک ایسی منفرد چیز ہے جس سے اسے اسیر کیا جس سکتا ہے اور بلندی کی طرف کی جایا جا سکتا ہے۔ محبت، نفس کی تربیت اور سخت دلوں کی نرمی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے کہ محبت ہی ہے جس سے کسی دوسرے انسان کے دل و دماغ کو مسخر اور فتح کیا جا سکتا ہے اور اس کے دل کو اپنے قابو میں کیا جا سکتا ہے اور انہیں طغیان و بغاوت اور براءیوں سے روک کر بندگی و حق و صداقت کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔


بچوں، نوجوانوں یہاں تک کہ بوڑھوں کو محبت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کا سبب انس، فطرت و طبیعت اور کمزوری و ضعیفی ہے۔ محبت، بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے نہایت ضروری ہے اس لیے کہ اگر وہ اپنے والدین سے محبت دیکھیں گے تو تھوڑی بہت کمیوں کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔


ماہرین علم النفس بہت سی براءیوں، کج رویوں اور انحرافات کا سبب، محبت اور توجہ کی کمی کو قرار دیتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ جب تک ان بے توجہی یا کم توجہی کا ازالہ نہ ہو جاءے ان کی اصلاح ممکن نہیں ہے۔
بچوں اور نو جوانوں کو بوڑہوں سے زیادہ محبت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح سے کھانا پینا ان کے لیے ضروری ہے ٹھیک اسی طرح سے محبت اور توجہ بھی ضروری ہے۔ محبت کے ساتھ ان کے عواطف و احساسات کی بخوبی و با آسانی تربیت کی جا سکتی ہے اور انہیں اچھا انسان بنایا جا سکتا ہے۔ استاد و مربی ان کی اس ضرورت کو نظر انداز کر کے ان سے بہتر تعلقات استوار نہیں کر سکتا اور اپنا تربیتی پیغام اس تک نہیں پچا سکتا۔ پہلے اسے بچے کا دل فتح کرنا پڑے گا تب کہیں جا کر اس کے دل و دماغ تک رساءی ممکن ہوگی۔ جب تک اسے یہ احساس نہ ہو جاءے کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں وہ آپ کی بات پر کان نہیں دھرے گا۔


انسان اسیر محبت ہوتا ہے جیسا کہ کہا گیا ہے: الانسان عبید الاحسان،


احسان و اظہار، محبت و دوستی انسان کو بندگی کی سرحد تک لے جا سکتی ہے۔


خدا وند عالم بھی اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہے اور اس کی دوستی انسان کے رشد و کمال اور اس کی ترقی کا سبب بنتی ہے اور رذاءل اور براءیوں کو اس سے دور کرتی ہے۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالی نے اپنے بندوں سے اپنی محبت کا ذکر کیا ہے جیسا کہ مربی کے طور پر حضرت موسی علیہ السلام سے فرمایا:


و القیت علیک محبہ منی و لتصنع علی عینی (سورہ طہ آیہ ۳۹)میں نے اپنی محبت تمہارے دل میں ڈال دی تا کہ تم میری آنکھوں کے سامنے تربیت پاءو ۔


امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا وند عالم کی محبت اس طرح سے انسان کے دل پر اثر انداز ہوتی ہے:
اذا احب اللہ عبدا الھمہ الطاعۃ والقناعۃ و فقھہ فی الدین ۔


جب پروردگار عالم اپنے بندہ کو دوست رکھتا ہے:


۱۔ اپنی طاعت و فرمانبرداری اس کے دل مین ڈال دیتا ہے۔


۲۔ اسے قناعت کی توفیق عنایت کرتا ہے۔


۳۔ اسے دین کی عمیق فہم عطا کرتا ہے۔


ایسے والدین جو اپنے بچوں کے ساتھ دوستی اور بے تکلفی کا رشتہ بنا سکیں اور ان میں خوشی، امید اور جزبے جو زندہ رکھ سکیں تو وہ اپنی تربیت میں کامیاب ہیں اور تربیت کا یہ نسخہ نہایت موثر واقع ہو سکتا ہے۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:


قال موسی علیہ السلام یا رب ای الاعمال افضل عندک؟ قال: حب الاطفال فانی فطرتھم علی توحیدی ۔ حضرت موسی علیہ السلام نے عرض کیا: خداہا کون سا عمل تیرے نزدیک افضل و برتر ہے؟ ارشاد ہوا: بچوں کو دوست رکھو اس لیے کہ میں نے انہیں اسلام اور توحید کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔


پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:لیس منا من لم صغیرنا و لم یوقر کبیرنا.جو شخص بچوں پر مہربانی اور بڑوں کا احترام نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے۔


تربیت کی سب سے اہم اور موثر روش محبت ہے۔ محبت، جاذبیت، کشش اور مقصد پیدا کرتی ہے اور طاغی و باغی انسانوں کو رام کر دیتی ہے اور گھر کے نالایق و نافرمان بچوں کو آرام اور سکون بخشتی ہے۔ بچے گھروں میں قانون اور رعایتوں سے زیادہ محبت و عطوفت کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور ان کی روح کی سلامتی و سعادت مندی کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب گھر کی فضا اور ماحول میں الفت و عطوفت، مہر و محبت قاءم و استوار ہو لہذا اگر والدین بچوں کی اس ضرورت ہر قادر نہ ہوں تو ان کے یہاں احساس کمتری پیدا ہو جاءے گا جو انہیں آگے جا کر فردی و معاشرتی زندگی میں مشکلوں سے دچار کرے گا۔


گھر کے ماحول کو محبت سے پر ہونا چاہیے تا کہ بچوں کے لیے اس میں سعی و کوشش کی راہ ہموار ہو سکے۔ محبت، تعلیم و تربیت کے بہت سے موانع اور مشکلات کو بر طرف کرتی ہے۔ خاص طور پر فکری و ثقافتی امور مین محبت کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ بہت سے کام ایک تبسم سے حل ہو جاتے ہیں جو بڑی بڑی کوشش اور جانفشانی سے حل نہیں ہوتے۔

علامہ سید اسماعیل بلخی کے بقول:


دل کہ در وی عشق نبود حفرہ تنگ است و بس
بی محبت یک جہان ھم یک نفس است و بس



مولوی کے بقول:


از محبت تلخھا شیرین شود
از محبت مسھا زرین شود
از محبت خارھا گل می شود
از محبت سرکہ ھامل می شود
از محبت مردہ زندہ می شود
و ز محبت شاہ بندہ می شود


بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ استاد و شاگرد کے درمیان رعب و خوف کا رشتہ ہونا چاہیے تا کہ تربیت ہو سکے۔ حالانکہ وہ اس بات سے غافل ہوتے ہیں کہ اگر رعب و خوف وقتی طور پر بری عادتوں پر پردہ ڈال سکتے ہیں تو ظاہر ہے کہ جب تک اس کا اثر انسان پر باقی رہے گا تب تک رعب و خوف بھی باقی رہے گا اور ان کے زاءل نہ ہو نے سے تمام برے صفات اپنی تمام تر براءیوں کے ساتھ خود کو ظاہر کر رہے ہونگے۔

محبت کا اظہار


والدین کی اولاد سے محبت کے باب میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ اپنی دلی محبت پر قناعت اور اکتفا نہ کریں۔ اس لیے کہ محبت تربیت میں اس وقت موثر واقع ہو سکتی ہے جب اس کا اظہار کیا جاءے اور اولاد پر ظاہر کریں کہ وہ ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ صرف دل سے محبت کرنا، محبت کرنے والے کے لیے تو مفید ہو سکتی ہے مگر اس کے لیے نہیں جس سے محبت کی جا رہی ہے۔ اظہار محبت ایک ایسا نسخہ ہے جس کی تاکید اور سفارش معصومین علیہم السلام نے متعدد مقامات پر کی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا احب احدکم اخاہ فلیعلمہ فانہ اصلح لذات البین۔


اگر تم اپنے بھاءی کو دوست رکھتے ہو اس سے محبت کرتے ہو تو اس کا اسے اظہار کرو۔ اس لیے کہ یہ اظہار تمہاری محبت اور دوستی کے لیے بہتر ہے۔ ایک روز ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام کے حضور میں عرض کیا:


انی لاحب ھذا الرجل فقال لہ ابو جعفر (ع) فاعلمہ فانہ ابقی للمودۃ و خیر فی الالفۃ۔


میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، امام (ع) نے فرمایا: اپنی اس محبت کا اس سے اظہار کرو، اس لیے کہ ایسا کرنے سے تمہارے تعلقات میں مزید استحکام پیدا ہوگا۔ لہذا والدین کو چاہیے کہ وہ مختلف طریقوں سے اپنی اولاد سے محبت کا اظہار کریں، محبت کا صرف دل میں ہونا کافی نہیں ہے۔
آگاہ اور ماہر والدین وہ ہیں جو نہایت سلیقہ سے اپنی محبت اپنے بچوں تک پہچاءیں، انہیں اپنی محبت کا احساس دلاءیں۔ جب بچے یہ محسوس کریں کہ ان کے والدین ان محبت کرتے ہیں، ان کی بھلاءی چاہتے ہیں، ان کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں اور ان کی ترقی و کامیابی کے لیے کوشان ہیں، ان کے خیر اور اچھی تربیت کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں تو وہ بھی اپنے والدین سے محبت کرنے لگیں گے، ان کی تربیتی باتوں کا اثر لیں گے اور ان پر عمل کریں گے۔

محبت میں افراط و تفریط

 

تربیت کی راہ میں محبت کی روش اس وقت مفید و موثر ہو سکتی ہے جب حد اعتدال سے خارج نہ ہو اور افراط و تفریط تک نہ پہچے جبکہ عدم توجہ اور محبت کی کمی، بچوں کو غلط راہ پر ڈال دیتی ہے۔ ایسی محبت جو بچوں کے رشد و ارتقاء کا سبب بن سکتی ہے وہ وہ محبت ہے جس میں اعتدال و واقعیت ہو، جو تکلف و تصنع سے عاری اور ان کی عمروں، حالتوں سے مناسبت رکھتی ہو۔


بچوں کی ذہنی و روحی تربیت میں محبت کا کردار غذا کی طرح ہے جس طرح سے غذا کی کمی و زیادتی اس کء جسم کے اوپر مثبت و منفی اثر ڈال سکتی ہے اس طرح سے محبت و توجہ کی کمی و زیادتی اس کے دل و دماغ پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔


جس طرح سے گزشتہ زمانوں میں بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کے بہت سے غلط اصول و ضوابط مثلا ان سے تحقیر آمیز سلوک کرنا، انہیں سخت کاموں کے لیے ہدایت دینا، برا بھلا کہنا، گالی دینا، خلاصہء کلام یہ کہ ان کی شخصیت کو درک نہ کرنا، وغیرہ پر عمل کیا جاتا تھا جس کا نتیجہ تند خویی و اضطراب، بدبینی، کینہ توزی اور براءیوں کے ارتکاب کی شکل میں سامنے آتا کرتا تھا۔ عصر حاضر میں علوم کی ترقی اور علم النفس وغیرہ کی تحقیقات کے منظر عام پر آنے سے، جس کے تحت بچوں اور نو جوانوں کی تربیت کی روش میں یہ سعی کی جاتی ہے کہ ان سے محبت آمیز سلوک ہو تا کہ ان سے گزشتہ زمانوں والی براءیوں کا ارتکاب سامنے نا آءے۔ مگر والدین کے افراط اور بیجا لاڈ پیار سے اس طرح کی دوسری نازیبا باتیں بچوں میں جنم لینے لگتی ہیں جو ان کی غلط تربیتی روش کا نتیجہ ہیں اور جس کے نتیجہ میں پر توقع، خود سے راضی، کمزور، جلدی ناراض ہو جانے والے بچے وجود میں آتے ہیں جو زندگی میں پیش آنے والی ہلکی سی سختی اور تنگی میں مایوسی، کینہ توزی، ذہنی و روانی امراض، ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور تعلیمی و تربیتی و معاشرتی زندگی میں شکست سے دچار ہو جاتے ہیں۔


لہذا والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو دل کی گہراءیوں سے چاہیں مگر کھلی آنکھوں کے ساتھ ان کی براءیوں پر بھی نظر رکھیں اور نہایت ہوشیاری سے ان کی اصلاح کریں۔ بے شک جنسی خواہشات اور شہوات فطری ہیں، محبت و عشق فطری ہے مگر اس کے مقابلہ میں ہمارا رد عمل اور ہوشیاری دکھنا بھی ضروری پے۔ بچوں کی جایز و نا جایز باتوں پر بغیر قید و شرط کے ہاں کہنا صحیح نہیں ہے، ڈانٹ بھٹکار کے بجای پیار کرنے سے نہ صرف یہ کہ نتیجہ ٹھیک نہیں نکلے گا بلکہ ان کی شخصیت پر ایسا منفی اثر ڈالے گا کہ جس کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔

محبت میں برابری و مساوات


قابل ذکر نکتہ اس باب میں بچوں سے مہر و محبت میں عدالت و مساوات کا خیال رکھنا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں سے محبت میں کسی طرح کی تبعیض اور فرق کے قاءل نہ ہوں، اس لیے کہ یہ کام نہ چاہتے ہوءے بھی سبب بنے گا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے احترام کے قاءل نہیں نہیں رہیں گے اور بچے گھر کے ماحول سے دور ہو جاءیں گے۔


معصومین علیہم السلام کی سیرت اس سلسلہ میں بچوں میں عدالت اور مساوات کی رعایت کرنا رہی ہے، خاص طور پر وہ حضرات بچوں سے محبت میں فرق کے قاءل نہیں ہیں۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اصحاب سے محو گفتگو تھے کہ ایک بچہ بزم میں وارد ہوا اور اپنے باپ کی طرف بڑھا، جو ایک گوشہ میں بیٹھا ہوا تھا، باپ نے بچہ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اپنے داہنے زانو پر بیٹھا لیا، تھوڑی دیر کے بعد اس کی بیٹی وارد ہوءی اور باپ کے قریب گءی، باپ نے اس کے سر پر بھی دست شفقت پھیرا اور اپنے قریب بیٹھا لیا، آنحضرت (ص) نے جب اس کے دوسرے سلوک کو ملاحظہ کیا تو فرمایا: اسے تم اپنے دوسرے زانو پر کیوں نہیں بیٹھایا؟ تو اس شخص نے بچی کو اپنے دوسرے زانو پر بیٹھا لیا تو آپ (ص) نے فرمایا:


اعدلوا بین ابناءکم کما تحبون ان یعدلوا بینکم فی البر و الطف۔
اپنے بچوں کے درمیان عدالت سے پیش آءو، جس طرح سے تم پسند کرتے ہو کہ تمہارے ساتھ نیکی اور محبت میں مساوات کے ساتھ سلوک کی اجاءے۔ لہذا بچوں کے درمیان عدالت و مساوات کے ساتھ پیش آنا، تربیت کے مہم نکات میں سے ایک ہے، جس کی رعایت نہ کرنے سے برے آثار و نتایج بر آمد ہو سکتے ہیں۔

محبت کے فواید و آثار


بچوں سے محبت کے بہت سے آثار و فواید ہیں، جن میں بعض کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے:
۱۔ محبت، شادابی و نشاط کا سبب ہے لہذا جو والدین اپنے بچوں سے زیادہ محبت کریں گے وہ انہیں زیادہ خوش اور مطمءن رہنے میں مدد کریں گے۔


۲۔ بچے اس روش سے یہ سیکھتے ہیں کہ دوسروں سے کیسے محبت کی جاءے، جو بچے محبت سے محروم رہتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ جسمی و روحی و روانی اعتبار سے مشکلوں کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ دوسروں سے محبت آمیز سلوک میں بھی الجھنوں سے دچار ہو جاتے ہیں اور آءندہ وہ بہتر اور مناسب سلوک سے معذور ہو جاتے ہیں۔


۳۔ محبت سے بچوں میں اعتماد بنفس پیدا ہوتا ہے، جن بچوں میں کانفیڈینس اور اعتماد بنفس پایا جاتا ہے وہ اپنی مشکلات کے حل کے لیے دوسروں کا انتظار نہیں کرتے بلکہ اپنی بلند ہمتی اور مضبوط ارادے کے ساتھ وارد عمل ہو جاتے ہیں اور جب تک ھدف اور مقصد تک نہیں پہچ جاتے، سعی و کوشش کرتے رہتے ہیں۔


۴۔ بچوں میں کچھ کرنے کا جزبہ پیدا کرنے والے اسباب میں سے ایک اصول کلی یہ ہے کہ جو بچے محبت پاتے ہیں وہ زیادہ محنت کرتے ہیں اور محبت، تعلیم اور رشد کی خوبیوں کو درک کرتے ہیں۔


۵۔ محبت سے اولاد کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے جس کے نتیجہ میں اولاد والدین پر اعتماد اور اطمینان کرنے لگتی ہے اور ان کی مطیع بن جاتی ہے، اس روش سے بچوں کی تربیت کا زمینہ فراہم ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ انسان خاص طور پر بچے اور نو جوان محبت میں کشش محسوس کرتے ہیں اور خود سے محبت کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں انہیں پسند کرتے ہیں اور ان کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔


حضرت علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:قلوب الرجال وحشیۃ فمن تالفھا اقبلت علیہ ۔انسان کا قلب وحشی ہوتا ہے جو اس سے محبت کرتا ہے وہ اس کی طرف جھک جاتا ہے۔


نتیجہ:


والدین بچوں سے محبت کا اظہار کریں، بچے ان کی باتوں کو زیادہ توجہ سننے اور ماننے لگیں گے۔ والدین محبت کے ذریعہ اپبے بچوں سے زیادہ عاطفی اور قلبی تعلق خاطر بنا سکتے ہیں اور انہیں نیک اور اچھے کاموں کی طرف راغب و ماءل کر سکتے ہیں اور برے اور خراب کاموں سے روک سکتے ہیں اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو کمال، تربیت اور بلندی کی طرف ھدایت کر سکتا ہے۔

اسلامي سوسائٹي  ميں تربيت کي بنياد


اسلامي سوسائٹي

ميں تربيت کي بنياد امام جعفر صادق کي نظر ميں




خاندان انساني سوسائٹي کا ايک چھوٹا يونٹ ہے اور اس کے اندر موجود اچھے يا برے روابط کا اثر سوسائٹي ميں واضح طور پر نظر آتا ہے چنانچہ کئي عظيم مردوں نے باشعور ماوں کے دامن اور ہمدرد باپ کي شفقت کے زيرِ سايہ پرورش پائي ہے اگر گھر کے اندر مہر و محبت اور عقل و شعور کي حکمراني ہو تو شوہر اور بيوي دونوں آرام و سکون سے رہتے ہيں اور اس عظيم اور سايہ دار درخت کے سائے ميں سمجھدار مرد و عورت اور لائق بچے تربيت پاتے ہيں? ليکن بے سکون اور کشمکش کے شکار خاندان کے بچوں کي رشد و تربيت کي بنياديں کمزور ہوتي ہيں اور وہ ناکارہ بچے سوسائٹي کے حوالے کرتے ہيں


مکتبِ اہلبيت کے عظيم علمبردار، حضرت امام جعفر صادق? نے اپنے کلمات اور مفيد و کارآمد ہدايات ميں زندگي کا درست انداز سکھايا ہے اور خاندان کے اندر باہمي تعاون کے راستے مسلمانوں کو بتائے ہيں ان رہنما اصولوں ميں مياں اور بيوي ايک دوسرے کے رقيب يا بزنس پارٹنر نہيں بلکہ ايک دوسرے کے مونس و غمخوار اور باہمي ترقي و کمال کا باعث ہيں اور آپس کي ہمدلي اور درست تعاون کے زيرِ سايہ ايک الہي خاندان تشکيل پاتا ہے


مکتبِ امام صادق? ميں انساني زندگي کے تار و پود کا ملاپ انساني جذبات او رعشق و ايثار کے ذريعے ہوتا ہے اور زوجين کے درميان عشق و محبت کا دوطرفہ تعلق نہ ہو تو کوئي انساني قانون اور معاشرتي يا حکومتي امر و نہي کے اندر يہ طاقت نہيں ہے کہ وہ گھر کے اندر سکون پيدا کرسکے


شوہر اور بيوي کے ايک دوسرے کے باہمي دو طرفہ حقوق ہوتے ہيں جن کا درست طور پر خيال رکھا جائے تو ايک محبت بھرا، بانشاط اور ترقي کرتا ہوا خاندان تشکيل پاتا ہے اور اس کے اندر اپني اور بچوں کي ترقي و کمال کے لئے فضا سازگار ہو جاتي ہے اگر دونوں ميں سے کوئي بھي اپني حدود کي خلاف ورزي کرے تو اس بنيادي يونٹ (خاندان) کي ترقي نہ صرف يہ کہ تعطل کا شکار ہوجاتي ہے بلکہ آرام و سکون کي جگہ لڑائي جھگڑے کي نوبت آجاتي ہے


امام صادق نے خاندان ميں کاميابي کے لئے شوہر اور بيوي کو چند نکات کا خيال رکھنے کي جانب توجہ دلائي ہے:
''لاغني بالزوج عن ثل?ث? اشيائ فيما بينہ و بين زوجتہ، و ہي الموافق ليجتلب بھا موافقتھا و محبتھا ھواھا و حسن خلقہ معھا و استمال? قلبھا بالھيئ? الحسن? في عينھا و توسعتہ عليھاو لا غني بالزوج فيما بينھا و بين زوجھا الموافق لھا عن ثلاث خصال و ھنّ: صيان نفسھا عن کل دنس حتي يطمئنّ قلبہ الي الثق بھا في حال المحبوب و المکروہ، حياطتہ ليکون ذلک عاطفاً عليہا عند زلّ تکون منھا، و اظہار العشق لہ بالخلاب? و الھيئ الحسن لھا في عينہ'' (تحف العقول)


امام صادق نے اس روايت ميں خاندان کي کاميابي کے لئے پہلے مرد کي ذمہ دارياں بيان کي ہيں:


الف: شوہر کے لئے ہدايات


لاغني بالزوج عن ثلاث فيما بينہ و بين زوجتہ

جو معاملات شوہر اور اس کي زوجہ کے درميان ہوتے ہيں ان ميں مرد تين باتوں سے بے نياز نہيں ہے:


1 بيوي کے ساتھ موافقت:


امام جعفر صادق نے شريکِ حيات کے ساتھ بہتر روابط کي برقراري ميں مرد کے لئے سب سے پہلي بنياد بيوي کے ساتھ موافقت اور ہم آہنگي کو قرار ديا ہے اور اس کے انتہائي مثبت نتائج بيان کئے ہيں


و ھي الموافق ليجتلب بھا موافقتھا و محبتھا و ھواھااس کے ساتھ موافقت (کرے) تاکہ اس کي موافقت، محبت اور دلبستگي حاصل ہو


موافقت، وفق سے نکلا ہے جس کے معني ہمراہي، اچھي طرح سے پيش آنا، نرم روي اور مصالحت کے ہيں يعني سختي اور شدتِ عمل کے مقابلے ميں


مطلب يہ ہے کہ شوہر اپني بيوي کي خاطر بعض معاملات ميں اپني خواہشات سے صرفِ نظر اور اپنے حقوق سے دستبردار ہو جائے? کيونکہ مياںبيوي زندگي کے ہر معاملے ميں دن رات ايک دوسرے کے شريک اور ہمدم ہوتے ہيں، کبھي مشترکہ زندگي ميں ان کے درميان سليقہ ميں اختلاف رائے بھي پيدا ہو جاتا ہے? لہذا رائے اور خواہشات کا يہ اختلاف زندگي کي بنيادوں کو نہ ہلا سکے، اس کے لئے مناسب ہے کہ مياں بيوي اپني ذاتي خواہشات اور مطالبات سے دوسرے کي خاطر دستبردار ہو جائيں


جيسا کہ مرد کو زندگي ميں سرپرست کي حيثيت حاصل ہوتي ہے اور اس کے اندر اپني خواہشات کو قبول کروانے کي زيادہ طاقت ہوتي ہے اس لئے بيوي کي کسي معمولي خواہش کے مقابلے ميں اقتدار کے باوجود شوہر کي نرمي (البتہ عزت کے ساتھ) بيوي کے حق ميں ايک قسم کا احترام سمجھا جائے گا اور اس کي محبت ميں مزيد اضافے کا باعث بنے گا? شوہر کے عفو و درگذر سے کام لينے اور بيوي کے ساتھ مسالمت آميز رويہ رکھنے سے بيوي اس کے عشق ميں ڈوب جائے گي اور وہ اپني تمام محبتوں کا مرکز و محور اپنے شوہر کو قرار دے دے گي


امام صادق نے اس روايت ميں بيوي کي موافقت کے حصول کے نتائج کے بارے ميں فرمايا ہے:


بيوي کے ساتھ مصالحت آميز رويہ رکھنے سے وہ بھي اپنے شوہر کے خواہشات پر سر تسليم خم کردے گي
بيوي اپني تمام محبتوں اور اخلاص کو شوہر کے قدموں ميں نچھاور کر دے گي


شوہر جب بيوي کے ساتھ مسالمت آميز رويہ رکھتا ہے تو بيوي کے دل ميں اس کے ساتھ عشق کے لئے زمين ہموار ہو جاتي ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ اس کا تعلق مزيد بڑھ جاتا ہے


امام صادق? نے ايک اور روايت ميں شوہر کے لئے حسنِ معاشرت کو ايک ضرورت شمار کيا ہے اور تاکيد فرمائي ہے کہ شوہر کو تکليف اٹھا کر اور کوشش کر کے بھي اپنے اندر يہ صلاحيت پيدا کرني چاہئے


المرئ يحتاج في منزلہ و عيالہ الي ثلاث خصال يتکلفھا و ان لم يکن في طبعہ ذلک: معاشر جميل و سع بتقدير و غير بتحصن
بے شک مرد کو اپنا خاندان اور گھر چلا نے کے لئے تين خصلتوں کي ضرورت ہوتي ہے، اگرچہ يہ خوبياں اس کي سرشت ميں موجود نہ ہوں: خوش رفتاري، مناسب حد تک آسائش کي فراہمي اور بردباري کے ساتھ غيرت


ہمراہي اور مصالحت حسنِ معاشرت کا ايک مصداق ہے اسي ہمدلي کے سائے ميں گھر ميں سکون و اطمينان کي فضا قائم ہوتي ہے، زوجين اس زندگي سے لطف اندوز ہوتے ہيں، بچے پُرسکون ماحول ميں پرورش پاتے ہيں اور رزق و روزي کے دروازے ان پر کھل جاتے ہيں? ايک روايت ميں خاندان کے اندر ہمدلي اور مصالحت و مسالمت کو رزقِ حلالِ کي فراواني اور رحمت و برکتِ خدا کے دروازے کھولنے کا سبب قرار ديا گيا ہے


ايما اہلبيت اعطوا حظھم من الرفق فقد وسع اللّ?ہ عليہم من الرزق


2حسنِ اخلاق:


خاندان کے اندر ايک مرد کي ذمہ داري اور آدابِ معاشرت کا ايک پہلو حسنِ اخلاق بھي ہے


حسنِ خلق يعني اچھي اور پسنديدہ عادت جس کے مقابلے ميں بري عادات اور خراب رويہ ہے


يہ مکارمِ اخلاق کي ايک شاخ ہے جيسے عفو، بخشش، صبر، شکر غيرت، شجاعت اور وفا جيسي دوسري نيک انساني خصلتيں


نبي اکرم  نے فرمايا: انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق? ميں اخلاق کي تکميل کے لئے خدا کي جانب سے مبعوث ہوا ہوں
حسنِ اخلاق يعني نرم روي، چہرے کي بشاشت، اچھا رويہ رکھنا امام صادق ايک روايت ميں اس کي حدود بيان فرماتے ہيں? چنانچہ حسن بن محبوب نے بعض اصحاب سے روايت کي ہے کہ:


قلت لابي عبد اللّہ: ما حد حسن الخلق قال: تلين جانبک و تطيب کلامک و تلقي اخاک ببشر حسن ميں نے امام صادق سے پوچھا کہ حسن اخلاق کي حد کيا ہے؟ فرمايا:لوگوں کے ساتھ نرمي اور گرمجوشي کے ساتھ ملو، بات چيت کو پاکيزہ (باادب) رکھو اور اپنے بھائيوں کے ساتھ کشادہ رو اور تبسم کے ساتھ ملاقات کرو


بنابريں، اچھي عادات جيسے سلام کرنے ميں سبقت لينا، مصافحہ کرنا، صاف ستھرا لباس پہننا، خوشبو لگانا، بيماروں کي عيادت کرنا، جنازوں ميں شرکت کرنا، غمزدہ لوگوں کو تسلي دينا، آنے والوں کا استقبال اور جانے والوں کو الوداع کہنا وغيرہ يہ سب حسنِ اخلاق ميں شامل ہيں اور اللہ کے رسول? کي ذمہ داريوں ميں سے ايک ذمہ داري اچھے آداب کو لوگوں کے درميان رائج کرنا ہے


امام جعفر صادق نے تاکيد فرمائي ہے کہ مرد کو چاہئے کہ اپنے گھر ميں مہر و محبت کي حرارت پيدا کرنے کے لئے حسنِ اخلاق سے کام لے


و حسن خلقہ معہا و استعمالہ استمال قلبھا بالھيئ الحسن في عينھا


اور اس (زوجہ) کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پيش آئے اور اس کا دل جيتنے کے لئے ايسے ذرائع استعمال کرے جو اس کي نگاہوں کو بھلے لگيں


امام? کي اس تاکيد کے مطابق، خوش اخلاقي کا تقاضا يہ ہے کہ مرد کو بردبار اور متحمل مزاج ہونا چاہئے? نہ صرف يہ کہ وہ اپنے غضب پر قابو پائے بلکہ اپنے غم و اندوہ کو بھي دل ميں چھپا لے اور زبان پر نہ لائے اور اپني زوجہ کے لئے مستحکم ستون بن جائے تاکہ اس کا ساتھي (زوجہ) اپنے روزانہ کے دکھ درد اس کو اپنا مونس و غم خوار اور مضبوط پناہ گاہ سمجھتے ہوئے بتا سکے اور مرد کي ہمدردي حاصل کر کے کچھ سکون پائے? اسے خوش اخلاق ہونے کے علاوہ خوش گفتار بھي ہونا چاہئے اور خوبصورت و حسين اور اميد افزا الفاظ زبان پر لائے اور ملال آور اور دردانگيز کلمات کے استعمال سے پرہيز کرے


علمائے اخلاق نے تاکيد کي ہے کہ: مرد گھر ميں داخل ہوتے وقت سلام کرے، اپني زوجہ کي دلجوئي کرے اور بچوں کي نگہداشت اور گھر گرہستي ميں جو زحمت وہ اٹھاتي ہے اس کي قدرداني کرے اور اپني تمام کاميابيوں کو اس کي زحمتوں کا مرہونِ منت گردانے? اپني بيوي کے رشتہ داروں کي احوال پرسي کرے اور اپنے آپ کو ان کے لئے فکرمند ظاہر کرے? يہ باتيں عورت کي محبت کے حصول کے لئے کيميا کي حيثيت رکھتي ہيں? امام باقر? نے محبت کے اثرات کے بارے ميں فرمايا ہے:

خوش و خرم اور بشاش چہرہ محبت کے حصول کا ذريعہ اور اللہ سے قربت کا وسيلہ ہے اور ترش روئي اور چہرے کي سختي دشمني کا سبب اور اللہ سے دوري کا موجب ہے

خاندان کا سربراہ اپنے احترام کا خيال رکھے:امام جعفر صادق خوش اخلاقي کي تاکيد کرتے ہوئے اضافہ کرتے ہيں کہ مرد کو خوش خلقي کے علاوہ اپني گفتار و رفتار ميں بھي نزاکتوں کا خيال رکھنا چاہئے? وہ حلال و حرام خدا کا احترام کرے اور اپنے خاندان اور بچوں کے درميان عدالت سے پيش آئے اور اس کے ہاتھ اور نگاہيں گناہوں سے دور رہيں تاکہ بيوي کو اطمينان رہے اور زوجہ اس کو عزت کي نگاہوں سے ديکھے اور اپنے شوہر پر فخر کرے؛ کيونکہ گناہ کرنے اور خدائي حدود کي پامالي سے مرد اپني زوجہ کي نگاہوں ميں گر جاتا ہے اور نافرماني کے لئے اس کے دل ميں فضا سازگار ہو جاتي ہے


جملہ استعمالہ استمال? قلبھا بالہيئ? الحسن? في عينھا سے استفادہ ہوتا ہے کہ مرد کو باوقار، حاکمانہ طبيعت اور مستحکم ہونا چاہئے تاکہ بيوي کي نظريں اس پر جم جائيں اور اس قدر نرم خو، خوفزدہ اور احمق نہ ہو کہ بيوي کي نظر ميں بے اہميت ہو جائے? کيونکہ جو چيز مرد و عورت کو ايک دوسرے کے ساتھ دلچسپي لينے پر مجبور کرتي ہے وہ دونوں کي طبيعت ميں موجود فطري اختلاف ہے? کيونکہ عورت جذبات، نرمي، صلح جوئي کا مظہر اور سکون اور ممتا کے احساسات کي مالک ہوتي ہے اور مرد منطق، سختي، مردانگي، اقتدار اور مديريت کا مرقع


جس قدر يہ خوبياں مرد کے اندر زيادہ ہوں گي اتنا ہي عورت کي نگاہوں ميں اس کي عزت زيادہ ہوگي? اور اگر مرد زنانہ صفات کا مالک ہو تو بيوي کي نظر ميں ہيرو نہيں بن سکتا اور نہ وہ اس کو اپنا آئيڈيل بنا سکتي ہے


ذاتي آرائش و زيبائي:


مرد کا اپني ذاتي آرائش و زيبائي پر توجہ دينا اس کي زوجہ کي نگاہوں ميں عزت احترام کا ايک سبب ہے کيونکہ ظاہري شکل و صورت کا بناو سنگھار انسان کو محبوب بناتا ہے اور خوبصورتي کي جانب انسان کا رجحان ايک طبيعي امر ہے لوگوں کو اچھا لباس اور آرائش اچھي لگتي ہے اور اس کو نظم و ضبط اور تہذيب و شعور کي علامت سمجھا جاتا ہے لہذا قرآن و سنت ميں مسلمانوں کو آرائش اور زينت کي جانب تشويق کيا گيا ہے? امام صادق? نے فرمايا :

ان اللّہ يحب الجمال و التجمل.بے شک اللہ خوبصورتي اور آرائش کو پسند کرتا ہے


چھٹے امام اپنے جد، علي سے نقل کرتے ہيں:خدا خود حسين ہے اور حسن کو پسند کرتا ہے اور وہ يہ بھي پسند کرتا ہے کہ بندوں ميں اپني نعمتوں کے آثار ديکھے


نبي اکرم ? مومنين سے ملاقات کے لئے اپني آرائش کيا کرتے تھے اور بے ترتيب بالوں سے پرہيز کرتے تھے? جب کسي مومن کے ساتھ مختصر وقت کي ملاقات کے لئے آراستگي کي اہميت ہے تو دائمي مونس و ہمدم کا حق يقينا اس سے بڑھ کر ہے? طبرسي? نے اس بارے ميں لکھا ہے: نبي اکرم ? خاندان تو دور کي بات ہے اصحاب کے ساتھ ملاقات کے لئے آرائش کيا کرتے تھے


شوہر کا حسنِ اخلاق، نرمي، خوش کلامي اور زينت و آرائش بيوي کو وجد ميں لے آتي ہے? اس کي افسردگي دور ہو جاتي ہے جس کے نتيجے ميں عورت بھي خوش اخلاق اور خندہ رو ہوکر مرد کے سامنے آتي ہے? خوش اخلاق بيوي کو ديکھ کر مرد کي تھکن دو رہو جاتي ہے


مرد کو عورت کے صبر کي ضرورت ہوتي ہے? اس کي توقع ہوتي ہے کہ دن بھر تلاشِ معاش کے بعد جب وہ تھک ہار کر گھر پہنچے تو بيوي بچوں کي صحبت اسے ہلکا پھلکا کردے اور گھر کے اندر وہ ہنستے مسکراتے چہرے ديکھے? ترش اور سخت چہرے اس کي توقع کو پورا نہيں کرسکتے?
روحاني آثار کے علاوہ حسنِ اخلاق کے اثرات ميں رونق و برکت اور زندگي کا آباد ہونا بھي ہے? کيونکہ ہم آہنگي، تعاون اور نشاط و توانائي کام کي صلاحيت کو بڑھاتي ہے اور زندگي ميں برکت کا باعث بنتي ہے? امام صادق? کے بقول:البر و حسن الخلق يعمران الديار و يزيدان في الاعمارنيکي او رخوش اخلاقي زمينوں کو آباد اور عمروں کو طويل کرتي ہے


3 رزق ميں وسعت:


بيوي بچے مرد کے عيال اور اس کے محتاج ہوتے ہيں اور ہميشہ اس کے لئے چشم براہ


امت مسلمہ کے رہبر نے تاکيد کي ہے: ايک پرسکون گھر اور باسعادت زندگي کي تعمير کے لئے مرد کو بخل سے پرہيز کرنا چاہئے اور جو روزي اللہ نے اسے عطا کي ہے اس کے ذريعے اپنے اہل و عيال کے لئے آسانياں اور آسائشيں فراہم کرے اور ان کو خوراک، لباس، سواري اور رہائش ميں سہولتيں دے? خود اسي سے گھروالوں کے نزديک مرد کي عزت و شوکت ميں اضافہ ہوگا


امام صادق نے فرمايا:کفي بالمرئ اثما ان يضيع من يعول فيہمرد کے گناہ کے لئے يہي کافي ہے کہ وہ اپنے (اہل و) عيال کو ضائع کردے


عيال ميں وہ سب لوگ شامل ہيں جن کے اخراجات کسي مرد کے ذمہ ہوں


خاندانوں ميں ہونے والي طلاقيں اور چپقلشوں ميں سے بعض کا تعلق اسي غفلت سے ہے جو مرد گھريلو اخراجات کے معاملے ميں کرتا ہے? چنانچہ مرد کنجوسي، نشہ کي عادت يا جہالت کي وجہ سے اپني آمدن کو گھريلو اخراجات ميں خرچ نہيں کرتا اور گھر کے افراد کو تنگدستي ميں رکھتا ہے جس کے اثرات طويل مدت ميں ايک دھماکے کي صورت ميں مرتب ہوتے ہيں


امام صادق? نے بخيلوں کو خبردار کرتے ہوئے ايک روايت ميں فرمايا ہے:

بے شک انسان کے اہل و عيال اس کے قيدي ہيں? تو جس شخص پر اللہ نے نعمتيں نازل کي ہوں، اسے چاہئے کہ اپنے قيديوں کو سہولتيں فراہم کرے? بصورتِ ديگر ممکن ہے کہ يہ نعمتيں زائل ہو جائيں


امام صادق نے آبادکاري او رخاندان کي آسائشوں کے لئے سعي و کوشش اور جدوجہد کو مادي اور معنوي سعادت کے حصول کے لئے ايک موثر عامل قرار ديا ہے اور اپنے ماننے والوں کو تاکيد کي ہے کہ: سستي اور کاہلي سے پرہيز کريں? امام? نے مزدوروں کي محنت کو مجاہدين اسلام کي اسلامي سرحدوں کے لئے دي جانے والي قربانيوں کے برابر قرار ديا ہے ? علاوہ ازيں، ائمہ طاہرين خود کام کيا کرتے تھے اور اپنے عمل کے ذريعے لوگوں کو محنت اور جدوجہد کي دعوت ديا کرتے تھے

امام صادق نے فرمايا: جو شخص اپنے خاندان کي روزي کے لئے محنت کرتا ہے وہ راہِ خدا ميں جہاد کرنے والے کي طرح ہے

ابوعمرو شيباني کہتا ہے: ميں نے امام صادق? کو ديکھا کہ ان کے ہاتھ ميں بيلچہ اور بدن پر کھردرا لباس ہے اور اپني زمين (باغ) ميں محنت کر رہے ہيں اور ان کي کمر سے پسينہ بہہ رہا ہے? ميں نے عرض کيا: بيلچہ مجھے دے ديجئے تاکہ آپ کا کام انجام دے دوں


فرمايا: ميں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ انسان حصولِ معاش کے لئے سورج کي تمازت کو برداشت کرے
صادقِ آلِ محمد? ايک اور مقام پر تاکيد فرماتے ہيں: اپنے لئے، اپنے بيوي بچوں کے لئے، صلہ رحم، صدقے اور حج و عمرے کے اخراجات کے لئے کوشش کرنا دنيا طلبي نہيں ہے


خاندان ميں عورت کي ذمہ دارياں


عورت مرد کي وزير ہوتي ہے اور خاندان کے اندر مرد کي معاون اور مشير بھي? لہذا مرد کي نسبت اس کي بھي کچھ ذمہ دارياں ہيں اگر وہ انہيں درست طور پر انجام ديدے، تو مرد بھي اپني ذمہ داريوں کي ادائيگي ميں کامياب رہے گا اور دونوں زندگي کا لطف اٹھائيں گے اور گہري جڑوں والے اس مضبوط درخت سے ميٹھے پھل سوسائٹي ميں پہنچيں گے


امام صادق اس روايت ميں فرماتے ہيں:بيوي اپنے شوہر کے ساتھ معاملات ميں تين خصلتوں سے بے نيز نہيں ہے


1 طہارت و پاکيزگي:


اپنے آپ کو ہر قسم کي غلاظت سے پاک رکھے تاکہ اس کا شوہر پسنديدہ اور ناپسنديدہ ہر حال ميں اس سے مطمئن رہے


عفت، عورت کي زينت ہے ايک عورت کو چاہئے کہ اپنے جسم و روح کو ہر قسم کے گناہ اور لغزش سے محفوظ رکھے اور خاندان کي حرمت کو نامحرموں کي نگاہوں اور ہاتھوں سے بچائے مناسب ہے کہ ايک عورت نامحرموں سے گفتگو ميں حدود کي پابندي کرے اور لباس پہننے اور چال ڈھال ميں خودنمائي سے پرہيز کرے اور اپنے حسن و جمال اور مال و دولت کے دکھاوے سے دور رہے کيونکہ اس کي وجہ سے جہاں غريبوں اور ناداروں کو تکليف ہوتي ہے وہاں ايسے لوگ جن کي روح بيمار ہوتي ہے ان کے لئے گھر ميں داخل ہونے کے دروازے کھل جاتے ہيں اور نامحرموں کو بري نظر ڈالنے اور ہاتھ بڑھانے کي جرآت ہونے لگتي ہے


اپني عفت و حجاب کي حفاظت کر کے بيوي اپنے تئيں شوہر کے نزديک عظمت حاصل کرليتي ہے اور مرد اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اس سے مل کر خوش ہوتا ہے اور اپنے آپ کو بہشت بريں ميں محسوس کرتا ہے نيز کبھي بھي بدگماني کو راہ نہيں ديتا.(شيخ سعدي کے اشعار کا ترجمہ)

نيک اور فرمانبردار بيوي اپنے غريب شوہر کو بادشاہ بنا ديتي ہے


اگر وہ تمہارے لئے اچھي دوست ہو تو روزانہ پانچ بار اس کے پاس جاو
اگر دن بھر تم پريشان ہوتے ہو تو بھي غم نہ کرو، کہ رات کو ايک غمگسار تمہارے ساتھ ہے


جس کي باحيا بيوي خوبصورت بھي ہو، وہ اس کے ديدار سے جنت کي خوشبو پاتا ہے


اس شخص نے دنيا سے اپنا حصہ وصول کيا جس کا آرامِ دل اس کے ساتھ ہو


اگر بيوي نيک اور خوش کلام ہو تو اس کي خوبصورتي اور بدصورتي کو ديکھنے کي ضرورت نہيں


اچھي عادات کي مالک بيوي دل ميں گھر کر ليتي ہے اور وہ عيوب پر پردہ ڈالتي ہے


جو عورت احمق، کم عقل اور بري عادات کي مالک ہو اور مشکوک ميل جول سے پرہيز نہ کرتي ہو يا بري محفلوں ميں آمد و رفت رکھتي ہو يا ممکن ہے کہ سادہ لوحي يا اخلاقيات کو نظرانداز کرتے ہوئے مذاق کو خوش اخلاقي کي علامت سمجھتي ہو يا اس نے دوسروں کي نقالي ميں مغرب زدہ ہوکر مادر پدر آزادي اپنا لي ہو، ايسي عورت پر سے مرد کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے? رفتہ رفتہ شک کے کانٹے شوہر کے دل ميں خراشيں ڈالتے ہيں اور پھر محبت کي جگہ کدورت لے ليتي ہے اور مياں بيوي کے درميان ہونے والي معمولي سي تلخ کلامي سے مرد کے دل ميں بدگماني کا شعلہ بھڑک اٹھتا ہے اور يہي خاندان کي بربادي کا پہلا قدم ثابت ہوتا ہے


اسي وجہ سے ائمہ طاہرين نے ہميں ايسے مقامات پر آنے جانے سے روکا ہے جہاں سے تہمت لگنے کا انديشہ ہو? امام علي? نے فرمايا:اياک و مواطن التہم.ايسي جگہ سے پرہيز کرو جو تہمت کا مقام ہو


2خانداني ملکيت کي حفاظت:


و حياطتہ لتکون ذلک عاطفھا عليہا عند زل.


امورِ خانہ ميں عورت کا احتياط کرنا تاکہ غلطي ہو جائے تو مرد کي محبت اسے اپنے سائے ميں لے لے


حياطت، احاطہ سے ہے اور اس کے معني نظارت اور احتياط کے ہيں? ليکن اپنے قسيم کے اعتبار سے اس کے اندر ذاتي عفت اور حرمت سے زيادہ وسيع مفہوم پوشيدہ ہے اور ممکن ہے کہ مقصود يہ ہو کہ عورت کا کردار وزير کا ہے جو گھر کے تمام امور اور شوہر کي ملکيت اور عزت و آبرو کي نگراني کرے اور اس کو خطرات سے محفوظ رکھے اور فضول خرچي، لاابالي پن اور خاندان کے اخراجات ميں اسراف سے بچے اور گھر کے سکون اور رونق ميں اضافے کے لئے اپني کوششيں اور اہتمام کرے? گھر اور شوہر کے لئے عورت کي ہمدردي، شوہر کو بيوي پر مہربان کر ديتي ہے اور وہ اس سے مطمئن ہو جاتا ہے? چنانچہ اگر کبھي وہ اپنے اختيارات ميں غلطي کر بيٹھے اور گھر کو کوئي نقصان پہنچ جائے تو نہ صرف يہ کہ مرد اسے الزام نہيں دے گا بلکہ اس کي حمايت کرے گا اور اس کي غلطي کومعاف کر دے گا


حضرت علي عورت کے بخل کو اس کي خوبي اور مرد کے لئے مفيد شمار کرتے ہيں اور فرماتے ہيں: و اذا کانت بخيل حفظت مالھا و مال بعلھا? يعني جب وہ بخيل ہوگي تو وہ اپنے اور اپنے شوہر کے مال کي حفاظت کرے گي


3 شوہر کے ساتھ اظہارِ عشق:


زوجين کا ايک دوسرے کے ساتھ اظہارِ عشق کرنا دونوں کے درميان محبت پيدا کرنے کے لئے کيميا کا حکم رکھتا ہے? نبي اکرم ? اس بارے ميں فرماتے ہيں کہ شوہر کا کوئي جملہ اس سے بڑھ کر بيوي کے دل ميں جگہ نہيں بناتا کہ ''ميں تم سے محبت کرتا ہوں''


عورت باحيا ہوتي ہے، وہ مرد کے لئے دل ميں موجود جذبات کو ہميشہ چھپا کر رکھتي ہے اور اس کي حيا اسے شوہر کے ساتھ اظہارِ محبت سے روکتي ہے? يہ بھي ممکن ہے کہ کسي خطے ميں اپنے شوہر کے ساتھ اظہارِ محبت کو بھي برا سمجھا جاتا ہو? ليکن اسلامي تہذيب اس سے مختلف ہے اور عورتوں کو اپنے شوہر کے ساتھ اظہارِ عشق کرنا چاہئے تاکہ باہمي تعلق ميں اضافہ ہو? اس روايت ميں امام صادق? عورتوں کو زندگي کے تعلقات ميں بہتري کے لئے تاکيد کرتے ہيں کہ و اظہار العشق لہ بالخلاب? يعني عورت زبان سے شوہر کے ساتھ اپنے عشق کو بيان کرے


خلابہ کا لفظ بتا رہا ہے کہ کسي تکلف اور ريا کے بغير اظہارِ عشق سے معاملہ کہيں بڑھ کر ہے? يہ لفظ رہنمائي کر رہا ہے کہ عورت کي محبت دل نثار کرنے، مہر و محبت سے پيش آنے اور دلفريبي کے ساتھ ہو تاکہ شوہر کا دل اپني مٹھي ميں لے لے اور اپني محبت و وفا و خلوص کے جال ميں جکڑ لے


کيونکہ جس طرح ايک عورت پھول کي طرح مہر و محبت کي محتاج ہوتي ہے اسي طرح مرد بھي روحاني سہارے اور عورت کي مہر و محبت کا نيازمند ہوتا ہے? اور عورت کي جانب سے اظہارِ محبت اسے حوصلہ دلاتي ہے?
جناب فاطمہ زہرا? کو حضرت علي? سے شديد محبت اور مودت تھي اور وہ اظہارِ عقيدت بھي کيا کرتي تھيں? ممکن ہے کہ امام? کي کاميابيوں کي وجوہات ميں سے ايک وجہ يہ بھي رہي ہو? چنانچہ آپ? کے جملوں ميں سے ايک جملہ يادگار کے طور پر محفوظ ہے:روحي لروحک الفدائ و نفسي لنفسک الوقائ.ميري روح آپ کي روح پر فدا اور ميري جان آپ کي جان کے لئے محافظ بن جائے


مرد کے لئے عورت کي آرائش:


امام? نے عورت کي جانب سے اظہارِ محبت کي تاکيد کرنے کے بعد اضافہ فرمايا کہ مرد کے لئے عورت کي آرائش خاندان کے استحکام کا سبب ہے? و الہيئ? الحسن? لھا في عينہ? کيونکہ عورت پھول ہے اور اسے چاہئے کہ ہميشہ اپنے شوہر کے سامنے آرائش کے ساتھ آئے اور معطر و خوش کلام رہے? بعض عورتيں گھر سے باہر ہونے والي دعوتوں کے لئے آرائش کرتي ہيں ليکن گھر کے اندر ہميشہ معمولي اور سادے کپڑوں ميں رہتي ہيں? يہ عورتيں اس بات سے غافل ہوتي ہيں کہ وہ گھر کي ملازمہ ہونے سے پہلے، شوہر کے لئے مونس اور ساتھي ہيں اور اسے مرد کے سکون و اطمينان اور خوشي و مسرت کے لئے ہر کام کرنا چاہئے جس ميں ظاہري حسن و آرائش بھي شامل ہے? البتہ عورت کي اندروني خوشي اور رضامندي بھي اس کے چہرے کي رونق اور خوبصورتي ميں اضافے کا باعث بنتي ہے? لباس کي آراستگي اور چہرے کي رونق کے سبب سے خدا کا ديا ہوا حسن مزيد نکھر جاتا ہے اور شوہر کي نظر ميں عورت زيادہ حسين معلوم ہوتي ہے جس سے وہ گھر ميں زيادہ دلچسپي لينے لگتا ہے


پيامبر اکرم ? نے فرمايا: تم لوگوں ميں بہترين عورت وہ ہے جو ماں بننے والي اور مہربان ہو اور اپنے آپ کو چھپائے اور پاکدامن رہے?? اپنے شوہر کے سامنے زينت کرے اور اجنبي مردوں سے اپني حفاظت کرے


جناب فاطمہ زہرا اپنے آپ کو اور گھر کو ہميشہ معطر رکھا کرتي تھيں اور ہميشہ اپنے پاس عطر رکھا کرتي تھيں
ام سلمہ کہتي ہيں: ميں نے فاطمہ سے عطر مانگا اور کہا: کيا آپ کے پاس کوئي ايسا عطر ہے جسے آپ نے اپنے لئے رکھا ہوا ہو وہ لے کر آئيں اور ميرے ہاتھ پر تھوڑا سا رکھ ديا? اس سے ايسي خوشبو اٹھي جو ميں نے کبھي نہيں سونگھي تھي


اسمائ بنت عميس کہتي ہيں: فاطمہ نے اپني زندگي کے آخري لمحات ميں مجھ سے کہا: ميرا وہ عطر جو ميں ہميشہ لگايا کرتي تھي، لے آو


حوالہ جات:


تحف العقول، تاج العروس، الامام الصادق و المذاہب الاربعہ، مستدرک الوسائل، معاني الاخبار، شرح دعائے مکارم الاخلاق، کافي، مکارم الاخلاق، کليات سعدي، بحار الانوار، نہج البلاغہ، وسائل الشيعہ، کوکب الدري، روض? المتقين، کشف الغمہ

توبه کرنے والوں کے واقعات

(( لَقَدْ کَانَ فِي قَصَصِهـم عِبْرَةٌ لِاٴُوْلِي الْاٴَلْبَابِ---))[1]


توبه کرنے والوں کے واقعات



(( لَقَدْ کَانَ فِي قَصَصِهـم عِبْرَةٌ لِاٴُوْلِي الْاٴَلْبَابِ---))[1]

”يقينا ان کے واقعات صاحبان عقل کے لئے عبرت هـيں---“-

 


ايک نمونہ خاتون

آسيہ ،فرعون کي زوجہ تهـي، وہ فرعون جس ميں غرور و تکبر کا نشہ بهـرا تهـا، جس کا نفس شرير تهـا اور جس کے عقائد اور اعمال باطل وفاسد تهـے-

قرآن مجيد نے فرعون کو متکبر، ظالم ، ستم گر اور خون بهـانے والے کے عنوان سے ياد کيا هـے اور اس کو ”طاغوت“ کا نام ديا هـے-

آسيہ ، فرعون کے ساتهـ زندگي بسر کرتي تهـي، اور فرعوني حکومت کي ملکہ تهـي، تمام چيزيں اس کے اختيار ميں تهـيں-

وہ بهـي اپنے شوهـر کي طرح فرمانروائي کرتي تهـي، اور اپني مرضي کے مطابق ملکي خزانہ سے فائدہ اٹهـاتي تهـي-

ايسے شوهـر کے ساتهـ زندگي، ايسي حکومت کے ساتهـ ايسے دربار کے اندر، اس قدر مال و دولت، اطاعت گزار غلام او رکنيزوں کے ساتهـ ميں اس کي ايک بهـترين زندگي تهـي-

ايک جوان اور قدرتمند خاتون نے اس ماحول ميں پيغمبر الٰهـي جناب موسي بن عمران کے ذريعہ الٰهـي پيغام سنا، اس نے اپنے شوهـر کے طور طريقے اور اعمال کے باطل هـونے کو سمجهـ ليا، چنانچہ نور حقيقت اس کے دل ميں چمک اٹهـا-

حالانکہ اس کو معلوم تهـا کہ ايمان لانے کي وجہ سے اس کي تمام خوشياں اور مقام و منصب چهـن سکتا هـے يهـاں تک کہ جان بهـي جاسکتي هـے، ليکن اس نے حق کو قبول کرليا اور وہ خداوندمهـربان پر ايمان لے آئي،اور اپنے گزشتہ اعمال سے توبہ کرلي اور نيک اعمال کے ذريعہ اپني آخرت کو آباد کرنے کي فکر ميں لگ گئي-
اس کا توبہ کرنا کوئي آسان کام نهـيں تهـا، اس کي وجہ سے اسے اپنا تمام مال و دولت اور منصب ترک کرنا پڑا، اور فرعون و فرعونيوں کي ملامت ضرب و شتم کو برداشت کرنا پڑا،ليکن پهـر بهـي وہ توبہ ، ايمان، عمل صالح اور ہدايت کي طرف قدم آگے بڑهـاتي رهـي-

جناب آسيہ کي توبہ ،فرعون اور اس کے درباريوں کو ناگوار گزري، کيونکہ پورے شهـر ميں اس بات کي شهـرت هـوگئي کہ فرعون کي بيوي اور ملکہ نے فرعوني طور طريقہ کو ٹهـکراتے هـوئے مذهـب کليم اللہ کو منتخب کرليا هـے، سمجهـا بجهـاکر، ترغيب دلاکراور ڈرا دهـمکاکر بهـي آسيہ کے بڑهـتے قدم کو نهـيں روکا جاسکتا تهـا، وہ اپنے دل کي آنکهـوں سے حق کو ديکهـ کر قبول کرچکي تهـي، اس نے باطل کے کهـوکهـلے پن کو بهـي اچهـي طرح سمجهـ ليا تهـا، لہٰذا حق و حقيقت تک پہنچنے کے بعد اس کو هـاتهـ سے نهـيں کهـوسکتي تهـي اور کهـوکهـلے باطل کي طرف نهـيں لوٹ سکتي تهـي-

جي هـاں، يہ کيسے هـوسکتا هـے کہ خدا کو فرعون سے، حق کو باطل سے، نور کو ظلمت سے، صحيح کو غلط سے، آخرت کو دنيا سے، بہشت کو دوزخ سے، اورسعادت کو بدبختي سے بدل لے-

جناب آسيہ نے اپنے ايمان، توبہ و استغفار پر استقامت کي ، جبکہ فرعون دوبارہ باطل کي طرف لوٹا نے کے لئے کوشش کررهـا تهـا-

فرعون نے جناب آسيہ سے مقابلہ کي ٹهـان لي، غضبناک هـوا، اس کے غضب کي آگ بهـڑک اٹهـي، ليکن آسيہ کي ثابت قدمي کے مقابلہ ميں هـار گيا، اس نے آسيہ کو شکنجہ دينے کا حکم ديا، اور اس عظيم خاتون کے هـاتهـ پير کو باندهـ ديا، اور سخت سے سخت سزا دينے کے بعد پهـانسي کا حکم ديديا،اس نے اپنے جلادوں کو حکم ديا کہ اس کے اوپر بڑے بڑے پتهـر گرائے جائيں ،ليکن جناب آسيہ نے دنيا و آخرت کي سعادت و خوشبختي حاصل کرنے کے لئے صبر کيا، اور ان تمام سخت حالات ميں خدا سے لَو لگائے رکهـي-

جناب آسيہ کي حقيقي توبہ، ايمان و جهـاد، صبر و استقامت، يقين اور مستحکم عزم کي وجہ سے قرآن مجيد نے ان کو قيامت تک مومن و مومنات کے لئے نمونہ کے طور پر پہنچوايا هـے،تاکہ هـر زمانہ کے گناهـگار کے لئے عذر و بهـانہ کي کوئي گنجائش باقي نہ رہ جائے اور کوئي يہ نہ کہہ دے کہ توبہ، ايمان اور عمل صالح کا کوئي راستہ باقي نهـيں رهـا تهـا-

(( وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً لِلَّذينَ آمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعُوْنَ اِذْقالَتْ رَبِّ ابْنِ لي عِنْدَکَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ وَ نَجِّنيٖ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِہِ وَنَجِّني مِنَ الْقَوْمِ الظّالِمينَ))-[2]

”اورخد ا نے ايمان والوں کے لئے فرعون کي زوجہ کي مثال بيان کي کہ اس نے دعا کي کہ پروردگار ميرے لئے جنت ميں ايک گهـر بنادے اور مجهـے فرعون اور اس کے درباريوںسے نجات دلادے اور اس پوري ظالم قوم سے نجات عطا فرمادے “-

توبہ، ايمان، صبر اور استقامت کي بنا پر اس عظيم الشان خاتون کا مرتبہ اس بلندي پر پہنچا هـوا تهـا کہ رسول خدا  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے ان کے بارے ميں فرمايا:

”اِشْتاقَتِ الْجَنَّةُ اِلٰي اَرْبَعٍ مِنَ النِّساءِ :مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرانَ،وَآسِيَةَ بِنْتِ مُزاحِمٍ زَوْجَةِ فِرْعَوْنَ،وَخَديجَةَ بِنْتِ خُوَيْلَدٍزَوْجَةِ النَّبِيِّ فِي الدُّنْيا وَالآخِرَةِ،وَ فاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ:“-[3]

”جنت چار عورتوں کي مشتاق هـے، مريم بنت عمران، آسيہ بنت مزاحم زوجہ فرعون، خديجہ بنت خويلد دنيا و آخرت ميں هـمسر پيغمبر، اور فاطمہ بنت محمد -“


” شعوانہ “کي توبہ

مرحوم ملا احمد نراقي اپني عظيم الشان اخلاقي کتاب ”معراج السعادة“ ميں حقيقي توبہ کے سلسلہ ميں ايک عجيب و غريب واقعہ بيان کرتے هـيں:

شعوانہ ايک جوان رقّاصہ عورت تهـي، جس کي آواز نهـايت سريلي تهـي ، ليکن اس کو حلال و حرام پر کوئي توجہ نهـيں تهـي، شهـر بصرہ کے مالداروں کے يهـاں فسق و فجور کي کوئي ايسي محفل نہ تهـي جس ميں شعوانہ بلائي نہ جاتي هـو، وہ ان محفلوں ميں ناچ گانا کيا کرتي تهـي ، يهـي نهـيں بلکہ اس کے ساتهـ کچهـ لڑکياں اور عورتيں بهـي هـوتي تهـيں-

ايک روز اپنے سهـيليوںکے ساتهـ ايسي هـي محفلوں ميں جانے کے لئے ايک گلي سے گزر رهـي تهـي کہ اچانک ديکهـا کہ ايک گهـر سے نالہ و شيون کي آواز آرهـي هـے، اس نے تعجب کے ساتهـ سوال کيا: يہ کيسا شور هـے؟ اور اپني ايک سهـيلي کو حالات معلوم کرنے کے لئے بهـيج ديا، ليکن بهـت دير انتظار کے بعد بهـي وہ نہ پلٹي، اس نے دوسري سهـيلي کو بهـيجا، ليکن وہ بهـي واپس نہ آئي، تيسري کو بهـي روانہ کيا اور ہدايت کردي کہ جلد لوٹ کر آنا، چنانچہ جب وہ گئي اور تهـوڑي دير بعد لوٹ کر آئي تو اس نے بتايا کہ يہ سب نالہ و شيون بدکار اور گناهـگارافراد کا هـے!

شعوانہ نے کهـا:  ميں خود جاکر ديکهـتي هـوں کيا هـورهـا هـے-

جيسے هـي وہ وهـاں پہنچي اور ديکهـا کہ ايک واعظ لوگوں کو وعظ کررهـے هـيں، اور اس آيہ شريفہ کي تلاوت کررهـے هـيں:

(( إِذَا رَاٴَتْهـم مِنْ مَکَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهـا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا - وَإِذَا اٴُلْقُوا مِنْهـا مَکَانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنِينَ دَعَوْا ہُنَالِکَ ثُبُورًا))-[4]

”جب آتش (دوزخ) ان لوگوں کو دور سے ديکهـے گي تو يہ لوگ اس کے بهـڑکتے هـوئے شعلوں کي آوازيں سنيں گے- اور جب انهـيں زنجيروں ميں جکڑ کر کسي تنگ جگہ ميں ڈال ديا جائے گا تو وهـاں موت کي دهـائي ديں گے“-

جيسے هـي شعوانہ نے اس آيت کو سنا اور اس کے معني پر توجہ کي ، اس نے بهـي ايک چيخ ماري اور کهـا: اے واعظ! ميں بهـي ايک گناهـگار هـوں، ميرا نامہ اعمال سياہ هـے، ميں بهـي شرمندہ اور پشيمان هـوں، اگر ميںتوبہ کروں تو کيا ميري توبہ بارگاہ الٰهـي ميں قبول هـوسکتي هـے؟

واعظ نے کهـا: هـاں، تيرے گناہ بهـي قابل بخشش هـيں، اگرچہ شعوانہ کے برابر هـي کيوں نہ هـوں!
اس نے کهـا: وائے هـو مجهـ پر،ارے ميں هـي تو”شعوانہ “هـوں، افسوس کہ ميں کس قدر گناهـوں سے آلودہ هـوں کہ لوگوں نے مجهـے گناهـگار کي ضرب المثل بناديا هـے!!

اے واعظ! ميںتوبہ کرتي هـوں اور اس کے بعدکوئي گناہ نہ کروں گي، اور اپنے دامن کو گناهـوں سے بچاؤں گي اورگناهـگاروں کي محفل ميں قدم نهـيں رکهـوں گي-

واعظ نے کهـا: خداوندعالم تيري نسبت بهـي”ارحم الراحمين“ هـے-

واقعاً شعوانہ نے توبہ کرلي، عبادت و بندگي ميں مشغول هـوگئي،گناهـوں سے پيدا هـوئے گوشت کو پگهـلاديا، سوز جگر، اور دل کي تڑپ سے آہ وبکاکرتي تهـي : هـائے ! يہ ميري دنيا هـے، تو آخرت کا کيا عالم هـوگا، ليکن اس نے اپنے دل ميں ايک آواز کا احساس کيا: خدا کي عبادت ميں مشغول رہ، تب آخرت ميں ديکهـنا کيا هـوتا هـے-


ميدان جنگ ميں توبہ

”نصر بن مزاحم“ کتاب واقعہ صفين ميں نقل کرتے هـيں: هـاشم مرقال کهـتے هـيں: جنگ صفين ميں حضرت علي عليہ السلام کي نصرت کے لئے چند قاريان قرآن شريک تهـے، معاويہ کي طرف سے طائفہ ”غسّان“ کا ايک جوان ميدان ميں آيا، اس نے رجز پڑهـا اور حضرت علي عليہ السلام کي شان ميں جسارت کرتے هـوئے مقابلہ کے لئے للکارا، مجهـے بهـت زيادہ غصہ آيا کہ معاويہ کے غلط پروپيگنڈے نے اس طرح لوگوں کو گمراہ کررکهـا هـے، واقعاً ميرا دل کباب هـوگيا، ميں نے ميدان کا رخ کيا، اور اس غافل جوان سے کهـا: اے جوان! جو کچهـ بهـي تمهـاري زبان سے نکلتا هـے، خدا کي بارگاہ ميں اس کا حساب و کتاب هـوگا، اگر خداوندعالم نے تجهـ سے پوچهـ ليا :

علي بن ابي طالب سے کيوں جنگ کي ؟ تو کيا جواب دے گا؟

چنانچہ اس جوان نے کهـا:

ميں خدا کي بارگاہ ميں حجت شرعي رکهـتا هـو کيونکہ ميري تم سے جنگ علي بن ابي طالب کے بے نمازي هـونے کي وجہ سے هـے!

هـاشم مرقال کهـتے هـيں: ميں نے اس کے سامنے حقيقت بيان کي،معاويہ کي مکاري اور چال بازيوں کو واضح کيا- جيسے هـي اس نے يہ سب کچهـ سنا، اس نے خدا کي بارگاہ ميں استغفار کي، اور توبہ کي، اور حق کا دفاع کرنے کے لئے معاويہ کے لشکر سے جنگ کے لئے نکل گيا-


ايک يهـودي نو جوان کي توبہ

حضرت امام باقر عليہ السلام فرماتے هـيں:
ايک يهـودي نوجوان اکثر رسول خدا  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  کي خدمت ميں آيا کرتا تهـا ، پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  بهـي اس کي آمد و رفت پر کوئي اعتراض نهـيں کيا کرتے تهـے بلکہ بعض اوقات تو اس کو کسي کام کے لئے بهـيج ديا کرتے تهـے، يا اس کے هـاتهـوں قوم يهـود کو خط بهـيج ديا کرتے تهـے-

ليکن ايک مرتبہ وہ چند روز تک نہ آيا، پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے اس کے بارے ميں سوال کيا، تو ايک شخص نے کهـا: ميں نے اس کو بهـت شديد بيماري کي حالت ميں ديکهـا هـے شايد يہ اس کا آخري دن هـو، يہ سن کر پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  چند اصحاب کے ساتهـ اس کي عيادت کے تشريف لئے گئے، وہ کوئي گفتگو نهـيں کرتا تهـا ليکن جب آنحضرت  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  وهـاں پہنچے تو وہ آپ کا جواب دينے لگا، چنانچہ رسول اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے اس جوان کو آواز دي، اس جوان نے آنکهـيں کهـولي اور کهـا: لبيک يا ابا القاسم! آنحضرت  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا: کهـو: ”اشہد ان لا الہ الا الله، واني رسول الله“-

جيسے هـي اس نوجوان کي نظر اپنے باپ کي (ترچهـي نگاهـوں) پر پڑي ، وہ کچهـ نہ کہہ سکا، پيغمبر اکرم  نے اس کو دوبارہ شهـادتين کي دعوت دي ، اس مرتبہ بهـي اپنے باپ کي ترچهـي نگاهـوں کو ديکهـ کر خاموش رهـا، رسول خدا  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے تيسري مرتبہ اس کو يهـوديت سے توبہ کرنے اور شهـادتين کو قبول کرنے کي دعوت دي، اس جوان نے ايک بار پهـر اپنے باپ کي چهـرے پر نظر ڈالي، اس وقت پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے فرمايا: اگر تيري مرضي هـے تو شهـادتين قبول کرلے ورنہ خاموش رہ، اس وقت جوان نے اپنے باپ پر توجہ کئے بغير اپني مرضي سے شهـادتين کہہ ديں اور اس دنيا سے رخصت هـوگيا! پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے اس جوان کے باپ سے فرمايا: اس جوان کے لاشے کو هـمارے حوالے کردو، اور پهـر اپنے اصحاب سے فرمايا: اس کو غسل دو، کفن پہناؤ، اور ميرے پاس لاؤ تاکہ ميں اس پر نماز پڑهـوں، اس کے بعد اس يهـودي کے گهـر سے نکل آئے آنحضرت  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  کهـتے جاتے تهـے:  خدايا تيرا شکر هـے کہ آج تو نے ميرے ذريعہ ايک نوجوان کو آتش جہنم سے نجات ديدي![5]


ايک دهـاتي کي بت پرستي سے توبہ

حضرت امام صادق عليہ السلام فرماتے هـيں: حضرت رسول خدا  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  کسي جنگ کے لئے تشريف لے جارهـے تهـے ، ايک مقام پر اپنے اصحاب سے فرمايا: راستے ميں ايک شخص ملے گا، جس نے تين دن سے شيطان کي مخالفت پر کمر باندهـ رکهـي هـے، چنانچہ اصحاب ابهـي تهـوڑي هـي دور چلے تهـے کہ اس بيابان ميں ايک شخص کو د يکهـا، اس کا گوشت ہڈيوں سے چهـپکا هـوا تهـا، اس کي آنکهـيں دهـنسي هـوئي تهـيں، اس کے هـونٹ جنگل کي گهـاس کهـانے کي وجہ سے سبز هـوچکے تهـے، جيسے هـي وہ شخص آگے بڑهـا، اس نے رسول خدا  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  کے بارے ميں معلوم کيا، اصحاب نے رسول اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کا تعارف کرايا، چنانچہ اس شخص نے پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  سے درخواست کي: مجهـے اسلام تعليم فرمائےے: تو آپ نے فرمايا: کهـو: ”اشہد ان لا الہ الا الله، و اني رسول الله“-چنانچہ اس نے ان دونوں شهـادتوں کا اقرار کيا، آپ نے فرمايا: پانچوں وقت کي نماز پڑهـنا، ماہ رمضان المبارک ميں روزے رکهـنا، اس نے کهـا: ميں نے قبول کيا، فرمايا: حج کرنا، زکوٰة ادا کرنا، اور غسل جنابت کرنا، اس نے کهـا: ميں نے قبول کيا-

اس کے بعد آگے بڑهـ گئے،وہ بهـي ساتهـ تهـا ليکن اس کا اونٹ پيچهـے رہ گيا، رسول اسلام  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  رک گئے، اور اصحاب اس کي تلاش ميں نکل گئے، لشکر کے آخر ميں ديکهـا کہ اس کے اونٹ کا پير جنگلي چوهـوں کے بِل ميں دهـنس گيا هـے اور اس کي اور اس کے اونٹ کي گردن ٹوٹ گئي هـے، اور دونوں هـي ختم هـوگئے هـيں، چنانچہ يہ خبر آنحضرت  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  تک پہنچي-

جيسے هـي آنحضرت  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  کو يہ خبر ملي فوراً حکم ديا، ايک خيمہ لگايا جائے اور اس کو غسل ديا جائے، غسل کے بعد خود آنحضرت خيمہ ميں تشريف لے گئے اور اس کو کفن پہنايا، خيمہ سے باهـر نکلے، اس حال ميں کہ آپ کي پيشاني سے پسينہ ٹپک رهـا تهـا، اور اپنے صحاب سے فرمايا: يہ ديهـاتي شخص بهـوکا اس دنيا سے گيا هـے، يہ وہ شخص تهـا جو ايمان لايا، اور اس نے ايمان کے بعد کسي پر ظلم و ستم نهـيں کيا، اپنے کو گناهـوں سے آلودہ نہ کيا، جنت کي حوريں بہشتي پهـلوں کے ساتهـ اس کي طرف آئيں اور پهـلوں سے اس کا منهـ بهـرديا، ان ميں ايک حور کهـتي تهـي: يا رسول اللہ! مجهـے اس کي زوجہ قرار ديں، دوسري کهـتي تهـي: مجهـے اس کي زوجہ قرار ديں![6]


شقيق بلخي کي توبہ

شقيق ”بلخ“ ايک مالدار شخص کا بيٹا تهـا ،وہ تجارت کے لئے ”روم“جايا کرتا تهـا، اور روم کے شهـروں ميں سير و تفريح کے لئے جايا کرتا تهـا، چنانچہ ايک بار روم کے کسي شهـر ميں بت پرستوں کا پروگرام ديکهـنے کے لئے بت خانہ ميں گيا، ديکهـا کہ بت خانہ کا ايک خادم اپنا سرمنڈوائے هـوئے اور ارغواني لباس پہنے هـوئے خدمت کررهـا هـے، اس سے کهـا: تيرا خدا صاحب علم و حکمت اور زندہ هـے،لہٰذا اسي کي عبادت کر، اور ان بے جان بتوں کي عبادت چهـوڑ دے کيونکہ يہ کوئي نفع يا نقصان نهـيں پہنچاتے- اس خادم نے جواب ديا: اگر انسان کا خدازندہ اور صاحب علم هـے تو وہ اس بات کي بهـي قدرت رکهـتا هـے کہ تجهـے تيرے شهـر ميں روزي دے سکے، پهـر تو کيوںمال و دولت حاصل کرنے کے لئے يهـاں آيا هـے اور يهـاں پر اپنے وقت اور پيسوں کو خرچ کرتا هـے؟

شقيق سادهـو کي باتيں سن کر خواب غفلت سے بيدار هـوگئے، اور دنيا پرستي سے کنارہ کشي کرلي، توبہ و استغفار کيا ، چنانچہ اس کا شمار  زمانہ کے بڑے عرفاء ميں هـونے لگا-

کهـتے هـيں: ميں نے ۷۰۰/ دانشورں سے پانچ چيزوں کے بارے ميں سوال کيا، سب نے دنيا کي مذمت کے بارے ميں هـي بتايا: ميں نے پوچهـا عاقل کون هـے؟ جواب ديا: جو شخص دنيا کا عاشق نہ هـو،ميں نے سوال کيا: هـوشيار کون هـے؟ جواب ديا: جو شخص دنيا (کي دولت) پر مغرور نہ هـو، ميں نے سوال کيا: ثروتمند کون هـے؟ جواب ملا: جو شخص خدا کي عطا پر خوش رهـے، ميں نے معلوم کيا: نادار کون هـے؟ جواب ديا: جو شخص زيادہ طلب کرے، ميں نے پوچهـا: بخيل کون هـے؟ تو سب نے کهـا: جو شخص حق خدا کو غريبوں اور محتاجوں تک نہ پہنچائے-[7]


فرشتے اور توبہ کرنے والوں کے گناہ

سورہ توبہ کي آيات کي تفسير ميں بيان هـوا هـے کہ فرشتے گناهـگار کے گناهـوں کو لوح محفوظ پر پيش کرتے هـيں، ليکن وهـاں پر گناهـوں کے بدلے حسنات اور نيکياں ديکهـتے هـيں، فوراً سجدہ ميں گرجاتے هـيں، اور بارگاہ الٰهـي ميں عرض کرتے هـيں: جو کچهـ اس بندے نے انجام ديا تهـا هـم نے وهـي کچهـ لکهـا تهـا ليکن اب هـم يهـاں وہ نهـيں ديکهـ رهـے هـيں!  جواب آتا هـے: صحيح کهـتے هـو، ليکن ميرا بندہ شرمندہ اور پشيمان هـوگيا اور روتا هـوا گڑگڑاتا هـوا ميرے در پر آگيا، ميں نے اس کے گناهـوں کو بخش ديا اور اس سے درگزر کيا، ميں نے اس پر اپنا لطف و کرم نچهـاور کرديا، ميں ”اکرم الاکرمين“هـوں-[8]

گناهـگار اور توبہ کي مهـلت

جس وقت شيطان لعنت خدا کا مستحق قرار ديا گيا تو اس نے خداوندعالم سے روز قيامت تک کي مهـلت مانگي، اللہ نے کهـا: ٹهـيک هـے مگر يہ مهـلت لے کر تو کيا کرے گا؟ جواب ديا: پروردگارا! ميں آخري وقت تک تيرے بندوں سے دور نهـيں هـوں گا، يهـاں تک کہ اس کي روح پرواز کرجائے، آواز آئي: مجهـے اپني عزت و جلال کي قسم ، ميں بهـي اپنے بندوں کے لئے آخري وقت تک درِ توبہ کو بند نهـيں      کروں گا-[9]


گناهـگار اور توبہ کي اميد

ايک نيک اور صالح شخص کو ديکهـا گيا کہ بهـت زيادہ گريہ و زاري کررهـا هـے ، لوگوںنے گريہ و زاري کي وجہ پوچهـي؟ تو اس نے کهـا: اگر خداوندعالم مجهـ سے يہ کهـے کہ تجهـے گناهـوں کي وجہ سے گرم حمّام ميں هـميشہ کے لئے قيد کردوں گا ، تو يهـي کافي هـے کہ ميري آنکهـوں کے آنسو خشک نہ هـوں، ليکن کيا کيا جائے کہ اس نے گناهـگاروں کو عذاب جہنم کا مستحق قرار ديا هـے، وہ جہنم جس کي آگ کو ہزار سال بهـڑکايا گيا يهـاں تک کہ وہ سرخ هـوئي، ہزار سال تک اس کو سفيد کيا گيا، اور ہزار سال اس کو پهـونکا گيا يهـاں تک کہ سياہ هـوگئي، تو پهـر ميں اس ميں کيسے رہ سکتا هـوں؟ اس عذاب سے نجات کي اميد صرف خداوندعالم کي بارگاہ ميں توبہ و استغفار اور عذر خواهـي هـے-[10]


ايک سچا آدمي اور توبہ کرنے والا چور

”ابو عمر زجاجي “ايک نيک اور صالح انسان تهـے، موصوف کهـتے هـيں کہ ميري والدہ کا انتقال هـوگيا، ان کي ميراث ميں مجهـے ايک مکان ملا، ميں نے اس مکان کو بيچ ديا اور حج کرنے کے لئے روانہ هـوگيا، جس وقت سر زمين ”نينوا“پر پہنچا تو ايک چور سامنے آيا اور مجهـ سے کهـا: کيا هـے تمهـارے پاس؟

چنانچہ ميرے دل ميں يہ خيال پيدا هـوا کہ سچائي اور صداقت ايک پسنديدہ چيزهـے، جس کا خداوندعالم نے حکم ديا هـے، اچهـا هـے کہ اس چور سے بهـي حقيقت اور سچ بات کهـوں، چنانچہ ميں نے کهـا: ميري تهـيلي ميں پچاس دينا ر سے زيادہ نهـيں هـے، يہ سن کر اس چور نے کهـا: لاؤ وہ تهـيلي مجهـے دو، ميں نے وہ تهـيلي اس کو ديدي، چنانچہ اس چور نے ان دينار کو گنا اور مجهـے واپس کردئے، ميں نے اس سے کهـا: کيا هـوا؟ اس نے کهـا: ميں تمهـارے پيسے لے جانا چاهـتا تهـا، ليکن تم تو مجهـے لے چلے، اس کے چهـرے پرشرمندگي اور پشيماني کے آثار تهـے، معلوم هـورهـا تهـا کہ اس نے اپنے گزشتہ حالات سے توبہ کرلي هـے،اپنے سواري سے اترا، اور مجهـ سے سوار هـونے کے لئے کهـا: ميں نے کهـا: مجهـے سواري کي کوئي ضرورت نهـيں هـے، ليکن اس نے اصرار کيا ،چنانچہ ميں سوار هـوگيا، وہ پيدل هـي ميرے پيچهـے پيچهـے چل ديا، ميقات پہنچ کر احرام باندهـا، اور مسجد الحرام کي طرف روانہ هـوئے، اس نے حج کے تمام اعمال ميرے ساتهـ انجام دئے، اور وهـيں پر اس دنيا سے رخصت هـوگيا-[11]


ابو بصير کا پڑوسي

ايک پڑوسي کو اپنے دوسرے پڑوسي کا خيال رکهـنا چاہئے، بالکل ايک مهـربان بهـائي کي طرح ، اس کي پريشانيوں ميں مدد کرے، اس کي مشکلوں کو حل کرے، زمانہ کے حوادث ، بگاڑ سدهـار ميں اس کا تعاون کرے، ليکن جناب ابوبصير کا پڑوسي اس طرح نهـيں تهـا، اس کو بني عباس کي حکومت سے بهـت سا پيسہ ملتا تهـا، اسي طرح اس نے بهـت زيادہ دولت حاصل کرلي تهـي- ابوبصير کهـتے هـيں: هـمارے پڑوسي کے يهـاں چند ناچنے گانے والي کنيزيں تهـي، اور هـميشہ لهـو و لعب اور شراب خوري کے محفليں هـوا کرتي تهـيں جس ميں اس کے دوسرے دوست بهـي شريک هـوا کرتے تهـے، ميں چونکہ اهـل بيت عليهـم السلام کي تعليمات کا تربيت يافتہ تهـا، لہٰذا ميں اس کي اس حرکت سے پريشان تهـا، ميرے ذہن ميں پريشاني رهـتي تهـي، ميرے لئے سخت ناگوار تهـا، ميں نے کئي مرتبہ اس سے نرم لہجہ ميں کهـا ليکن اس نے اَن سني کردي اور ميري بات پر کوئي توجہ نہ دي، ليکن ميں نے امر بالمعروف او رنهـي عن المنکر ميں کوئي کوتاهـي نهـيں کي، اچانک ايک دن وہ ميرے پاس آيا اور کهـا: ميں شيطان کے جال ميں پهـنسا هـوا هـوں، اگر آپ ميري حالت اپنے مولا و آقا حضرت امام صادق عليہ السلام سے بيان کرےں شايد وہ توجہ کريں اور ميرے سلسلہ ميں مسيحائي نظر ڈال کر مجهـے اس گندگي، فساد اور بدبختي سے نجات دلائيں-

ابو بصير کهـتے هـيں: ميں نے اس کي باتوں کو سنا، اور قبول کرليا، ايک مدت کے بعد جب ميں مدينہ گيا اور امام صادق عليہ السلام کي خدمت ميں مشرف هـوا اور اس پڑوسي کے حالات امام عليہ السلام کو سنائے اور اس کے سلسلہ ميں اپني پريشاني کو بهـي بيان کيا-

تمام حالات سن کر امام عليہ السلام نے فرمايا: جب تم کوفہ پہنچنا تو وہ شخص تم سے ملنے کے لئے آئے گا، ميري طرف سے اس سے کہنا: اگر اپنے تمام برے کاموں سے کنارہ کشي کرلو، لهـو و لعب کو ترک کردو، اور تمام گناهـوں کو چهـوڑدو تو ميں تمهـاري جنت کا ضامن هـوں-

ابوبصير کهـتے هـيں: جب ميں کوفہ واپس آيا تو دوست و احباء ملنے کے لئے آئے، اور وہ شخص بهـي آيا، کچهـ دير کے بعد جب و ہ جانے لگا تو ميں نے اس سے کهـا: ذرا ٹهـهـرو! مجهـے تم سے کچهـ گفتگو کرنا هـے، جب سب لوگ چلے گئے، اور اس کے علاوہ کوئي باقي نہ رهـا، تو ميں نے حضرت امام صادق عليہ السلام کا پيغام اس کو سنايا، اور مزيد کهـا: امام صادق عليہ السلام نے تجهـے سلام کهـلوايا هـے!

چنانچہ اس پڑوسي نے تعجب کے ساتهـ سوال کيا: تمهـيں خدا کي قسم! کيا واقعاً امام صادق عليہ السلام نے مجهـے سلام کهـلوايا هـے اور گناهـوں سے توبہ کرنے کي صورت ميں وہ ميرے لئے جنت کے ضامن هـيں!!  ميں نے قسم کهـائي کہ امام عليہ السلام نے يہ پيغام مع سلام تمهـارے لئے بهـيجا هـے-

اس نے کهـا:  يہ ميرے لئے کافي هـے، چند روز کے بعد مجهـے پيغام بهـجوايا کہ ميں تم سے ملنا چاهـتا هـوں، اس کے گهـر پر گيا دق الباب کيا، وہ دروازہ کے پيچهـے آکر کهـڑا هـوگيا درحاليکہ اس کے بدن پر لباس نهـيں تهـا اور کهـا: اے ابوبصير ! ميرے پاس جو کچهـ بهـي تهـا سب کو ان کے مالکوں تک پہنچاديا هـے، مال حرام سے سبکدوش هـوگيا هـوں،اور ميں نے اپنے تمام گناهـوں سے توبہ کرلي هـے-
ميں نے اس کے لئے لباس کا انتظام کيا، اور کبهـي کبهـي اس سے ملاقات کے لئے جاتا رهـا، اور اگر کوئي مشکل هـوتي تهـي تواُس کو بهـي حل کرتا رهـا، چنانچہ ايک روز مجهـے پيغام بهـجوايا کہ ميں بيمار هـوگيا هـوں، اس کي عيادت کے لئے گيا، چند روز تک بيمار رهـا، ايک روز مرنے سے پهـلے چند منٹ کے لئے بے هـوش هـوگيا، جيسے هـي هـوش آيا، مسکراتے هـوئے مجهـ سے کهـا: اے ابوبصير امام صادق عليہ السلام نے اپنے وعدہ کو وفا کرديا، اور يہ کہہ کر اس دنيا سے رخصت هـوگيا-

ابو بصير کهـتے هـيں: ميں اس سال حج کے لئے گيا، اعمال حج بجالانے کے بعد زيارت رسول اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  اور امام صادق عليہ السلام سے ملاقات کے لئے مدينہ منورہ گيا، اور جب امام عليہ السلام سے ملاقات کے لئے مشرف هـوا تو ميرا ايک پاؤں حجرہ کے اندر تهـا اور ايک پاؤں حجرہ سے باهـر اس وقت حضرت امام صادق عليہ السلام نے فرمايا: اے ابوبصير! هـم نے تمهـارے پڑوسي کے بارے ميں کيا هـوا وعدہ پورا کرديا هـے![12]

ايک جيب کترے کي توبہ

حقير (موٴلف) ايک شب قم ميںفقيہ بزرگوار عارف باللہ ،معلم اخلاق مرحوم حاج سيد رضا بهـاء الديني کي نماز جماعت ميں شريک تهـا-

نماز کے بعد موصوف کي خدمت ميں عرض کيا: هـم آپ هـميں کچهـ وعظ و نصيت فرمائےے، چنانچہ موصوف نے جواب ميں فرمايا: هـميشہ خداوندعالم کي ذات پر اميد کرو ،اور اسي پر بهـروسہ رکهـو کيونکہ اس کا فيض و کرم دائمي هـے کسي کو بهـي اپني عنايت سے محروم نهـيں کرتا، کسي بهـي ذريعہ اور بهـانہ سے اپنے بندوں کي ہدايت اور امداد کا راستہ فراهـم کرديتا هـے-

اس کے بعد موصوف نے ايک حيرت انگيز واقعہ سنايا:  شهـر ”اروميہ“ ميں ايک قافلہ سالار هـر سال مومنين کو زيارت کے لئے لے جايا کرتا تهـا:

اس وقت گاڑياں نئي نئي چليں تهـيں، يہ گاڑياں ٹرک کي طرح هـوتي تهـيں جس پر مسافر اور سامان ايک ساتهـ هـي هـوتا تهـا، ايک کونے ميں سامان رکهـا جاتا تهـا اور وهـيں مسافر بيٹهـ جايا کرتے تهـے-

وہ قافلہ سالار کهـتا هـيں: اس سال حضرت امام رضا عليہ السلام کي زيارت کے لئے جانے والے تقريباً۳۰ /مومنين نے نام لکهـوارکهـا تهـا، پروگرام طے هـوا کہ آئندہ ہفتہ کے شروع ميں يہ قافلہ روانہ هـوجائے گا-

ميں نے شب چهـار شنبہ حضرت امام رضا عليہ السلام کو خواب ميں ديکهـا کہ ايک خاص محبت کے ساتهـ مجهـ سے فرمارهـے هـيں: اس سفر ميں ”ابراهـيم جيب کترے “کو بهـي لے کر آنا، ميں نيند سے بيدار هـوا تو بهـت تعجب هـواکہ کيوں امام عليہ السلام اس مرتبہ اس فاسق و فاجر اور جيب کترے کو (جو لوگوں کے درميان بهـت زيادہ بدنام هـے) اپني بارگاہ کي دعوت فرمارهـے هـيں، ميں نے سوچا کہ يہ ميرا خواب صحيح نهـيں هـے، ليکن دوسري رات ميں نے پهـر وهـي خواب ديکهـا، نہ کم نہ زيادہ، ليکن اس دن بهـي ميں نے اس خواب پر توجہ نهـيں کي، تيسري رات ميں نے حضرت امام رضا عليہ السلام کو عالم رويا ميں قدرے ناراحت ديکهـا اور ايک خاص انداز ميں مجهـ سے فرمارهـے هـيں: کيوں اس سلسلہ ميں کوئي قدم نهـيں اٹهـاتے هـو؟

بهـر حال ميں جمعہ کے دن اس جگہ گيا جهـاں پر فاسد اور گناهـگار لوگ جمع هـوتے تهـے ان کے درميان ابراهـيم کو ڈهـونڈا ، سلام کيا اور اس سے مشہد مقدس کي زيارت کرنے کے لئے کهـا، ليکن جيسے هـي ميں نے مشہد کي زيارت کے لئے کهـا تو اس کو بهـت تعجب هـوا اور مجهـ سے کهـا: امام رضا عليہ السلام کا حرم مجهـ جيسے گندے لوگوں کي جگہ نهـيں هـے، وهـاں پر تو پاک وپاکيزہ اور صاحبان دل جاتے هـيں، مجهـے اس سفر سے معاف فرمائيں، ميں نے بهـت اصرار کيا ليکن وہ نہ مانا، آخر کار اس نے غصہ ميں کهـا: ميرے پاس سفر کے اخراجات کے لئے پيسے بهـي تو نهـيں هـيں!! ميرے پاس يهـي ۳۰ / ريال هـيں اور يہ بهـي ايک بڑهـيا کي جيب سے نکالے هـوئے هـيں! يہ سن کر ميں اس سے کهـا: اے برادر!  ميں تجهـ سے سفر کا خرچ نهـيں لوں گا، تمهـارے آنے جانے کا خرچ ميرے ذمہ هـے-

يہ سن کر اس نے قبول کرليا، اور مشہد جانے کے لئے تيار هـوگيا، هـم نے بروز اتوار قافلہ کي روانگي کا اعلان کرديا-

چنانچہ حسب پروگرام قافلہ روانہ هـوگيا، ابراهـيم جيسے جيب کترے کے ساتهـ هـونے پر دوسرے زائرين تعجب کررهـے تهـے، ليکن کسي نے اس کے بارے ميں سوال کرنے کي هـمت نہ کي-

هـماري گاڑي کچي سڑک پر روانہ تهـي، اور جب ”زيدر“ نامي مقام پر پہنچي جوايک خطرناک جگہ تهـي ، اور وهـاںاکثر زائرين پر راہزنوں کا حملہ هـوتا تهـا، ديکهـا کہ راہزنوں نے سڑک کو تنگ کرديا اور هـماري گاڑي کے آگے کهـڑے هـوگئے ،پهـر ايک ڈاکو گاڑي ميں گهـس آيا، اور تمام زائرين کو دهـمکي دي: جو کچهـ بهـي کسي کے پاس هـے وہ اس تهـيلے ميں ڈال دے ، اور کوئي هـم سے الجهـنے کي کوشش نہ کرے،ورنہ تو اس کو مار ڈالوں گا!

وہ تمام زائرين اور ڈرائيور کے سارے پيسے لے کر چلتا بنا-

گاڑي دوبارہ چل پڑي، اور ايک چائے کے هـوٹل پر جارکي، زائرين گاڑي سے اترے اورغم و اندوہ کے عالم ميں ايک دوسرے کے پاس بيٹهـ گئے، سب سے زيادہ ڈرائيور پريشان تهـا، وہ کهـتا تهـا: ميرے پاس نہ يہ کہ اپنے خرچ کے لئے بهـي پيسہ نهـيں رهـے بلکہ پٹرول کے لئے بهـي پيسے نهـيں هـيں، اب کس طرح مشہد تک پہنچا جائے گا، يہ کہہ کر وہ رونے لگا، اس حيرت و پريشاني کے عالم ميں اس ابراهـيم جيب کترے نے ڈرائيور سے کهـا: تمهـارے کتنے پيسے وہ ڈاکو لے گيا هـے؟ ڈرائيور نے بتايا اتنے پيسہ ميرے گئے هـيں، ابراهـيم نے اس کو اتنے پيسے ديدئے ،پهـر اسي طرح تمام مسافروں کے جتنے جتنے پيسہ چوري هـوئے تهـے سب سے معلوم کرکے ان کو ديدئے ، آخر ميں اس کے پاس ۳۰/ ريال باقي بچے، اور کهـا کہ يہ پيسے ميرے هـيں ،جو چوري هـوئے تهـے،سب نے تعجب سے سوال کيا: يہ سارے پيسے تمهـارے پاس کهـاں سے آئے؟ اس نے کهـا:جس وقت اس ڈاکو نے تم سب لوگوں کے پيسے لے لئے اور مطمئن هـوکر واپس جانے لگا ،تو ميں نے آرام سے اس کے پيسے نکال لئے، اور پهـر گاڑي چل دي،اور هـم يهـاں تک پہنچ گئے هـيں، يہ تمام پيسہ آپ هـي لوگوں کے هـيں-

قافلہ سالار کهـتا هـے:ميں زور زور سے رونے لگا، يہ ديکهـ کر ابراهـيم نے مجهـ سے کهـا: تمهـارے پيسے تو واپس مل گئے ، اب کيوں روتے هـو؟!  ميں نے اپنا وہ خواب بيان کيا جو تين دن تک مسلسل ديکهـتا رهـا تهـا او رکهـاکہ مجهـے خواب کا فلسفہ سمجهـ ميں نهـيں آرهـا تهـا ،ليکن اب معلوم هـوگيا کہ حضرت امام رضا عليہ السلام کي دعوت کس وجہ سے تهـي، امام عليہ السلام نے تيرے ذريعہ سے هـم سے يہ خطرہ ڈال ديا هـے-

يہ سن کر ابراهـيم کي حالت بدل گئي، اس کے اندر ايک عجيب و غريب انقلاب پيدا هـوگيا، وہ زور زور سے رونے لگا، يهـاں تک کہ ”سلام“ نامي پهـاڑي آگئي کہ جهـاں سے حضرت امام رضا عليہ السلام کا روضہ دکهـائي ديتا هـے، وهـاں پہنچ کر ابراهـيم نے کهـا: ميري گردن ميں زنجير باندهـ دي جائے، اور حرم امام رضا عليہ السلام ميں اسي طرح لے جايا جائے، چنانچہ جيسے جيسے وہ کهـتا رهـا هـم لوگ انجام ديتے رهـے، جب تک هـم لوگ مشہد ميں رهـے اس کي يهـي حالت رهـي ، واقعاً عجيب طريقہ سے توبہ کي ، اس بڑهـيا کے پيسے امام رضا عليہ السلام کي ضريح ميں ڈال دئے، امام رضا عليہ السلام کو شفيع قرار ديا تاکہ اس کے گناہ معاف هـوجائےں، تمام زائرين اس کي حالت پر رشک کررهـے تهـے، هـمارا سفر بخير و خوشي تمام هـوا، تمام لوگ اروميہ پلٹ گئے ليکن وہ تائب ديا يار ميں رہ گيا!


توسّل اور توبہ

امام صادق عليہ السلام فرماتے هـيں: ميں مسجد الحرام ميں ”مقام ابراهـيم“ کے پاس بيٹهـا هـوا تهـا، ايک ايسا بوڑهـا شخص آيا جس نے اپني سار ي عمر گناهـوں ميں بسر کي تهـي، مجهـے ديکهـتے هـي کہنے لگا:

”نِعْمَ الشْفيعُ اِليَ اللّٰہ لِلْمُذْنِبِيْنَ“-

”آپ خدا کے نزديک گناهـگاروں کے لئے بهـترين شفيع هـيں “-

اور پهـر اس نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑا اور درج ذيل مضمون کے اشعار پڑهـے:

”اے خدائے مهـربان! چهـٹے امام کے جد بزرگوار کا واسطہ، قرآن کا واسطہ، علي کا واسطہ، حسن و حسين کا واسطہ، فاطمہ زهـرا کا واسطہ، ائمہ معصومين  عليہم السلام  کا واسطہ، امام مہدي  عليہ السلام  کا واسطہ ،اپنے گناهـگار بندے کے گناهـوں کو معاف فرما!“

اس وقت هـاتف غيبي کي آواز آئي:

اے پيرمرد!

اگرچہ تيرے گناہ عظيم هـيں ليکن ان ذوات مقدسہ کي عظمت کے طفيل ميں جن کي تونے قسم دي هـے، ميں نے تجهـے معاف کرديا، اگر تو تمام اهـل زمين کے گناهـوں کي بخشش کي درخواست کرتا تو معاف کرديتا، سوائے ان لوگوں کے جنهـوں نے ناقہ صالح اور انبياء و ائمہ کو قتل کيا هـے-[13]


شراب خور اور توبہ

مرحوم فيض کاشاني ،جو خود فيض و دانش کا سر چشمہ اور بصيرت کا مرکز تهـے موصوف اپني عظيم الشان کتاب ”محجة البيضاء“ ميں نقل کرتے هـيں:

ايک شراب خوار شخص تهـا جس کے يهـاں گناہ و معصيت کي محفل سجائي جاتي تهـي ،ايک روز اس نے اپنے دوستوں کو شراب خوري اور لهـوو لعب کے لئے دعوت دي اور اپنے غلام کو چار درهـم دئے تاکہ وہ بازار سے کچهـ کهـانے پينے کا سامان خريد لائے-

غلام راستہ ميں چلا جارهـا تهـا کہ اس نے ديکهـا منصور بن عمار کي نششت هـورهـي هـے، سوچا کہ ديکهـوں منصور بن عمار کيا کہہ رهـے هـيں؟ تو اس نے سنا کہ عمار اپنے پاس بيٹهـنے والوں سے کچهـ طلب کررهـے هـيں اور کہہ رهـے هـيں کہ کون هـے جو مجهـے چار درهـم دے تاکہ ميں اس کے لئے چار دعائيں کروں؟ غلام نے سوچا کہ ان معصيت کاروں کےلئے طعام وشراب خريدنے سے بهـتر هـے کہ يہ چار درهـم منصور بن عمار کو کو ديدوں تاکہ ميرے حق ميں چار دعائيں کرديں-

يہ سوچ کر اس نے وہ چار درهـم منصور کو ديتے هـوئے کهـا:  ميرے حق ميں چار دعائيں کردو، اس وقت منصور نے سوال کيا کہ تمهـاري دعائيں کيا کيا هـيں بيان کرو، اس نے کهـا: پهـلي دعا يہ کرو کہ خدا مجهـے غلامي کي زندگي سے آزاد کردے، دوسري دعا يہ هـے کہ ميرے مالک کو توبہ کي توفيق دے، اور تيسري دعا يہ کہ يہ چار درهـم مجهـے واپس مل جائيں، اور چوتهـي دعا يہ کہ مجهـے اور ميرے مالک اور اس کے اهـل مجلس کو معاف کردے-

چنانچہ منصور نے يہ چار دعائيں اس کے حق ميں کيں اور وہ غلام خالي هـاتهـ اپنے آقاکے پاس چلا گيا-

اس کے آقا نے کهـا:  کهـاں تهـے؟ غلام نے کهـا:  ميں نے چار درهـم دے کر چار دعائيں خريدي هـيں، تو آقا نے سوال کيا وہ چار دعائيں کيا کيا هـيں کيا بيان تو کر؟ تو غلام نے کهـا: پهـلي دعا يہ تهـي کہ ميں آزاد هـوجاؤں، تو اس کے آقا نے کهـا جاؤ تم راہ خدا ميں آزاد هـو، اس نے کهـا: دوسري دعا يہ تهـي کہ ميرے آقا کو توبہ کي توفيق هـو، اس وقت آقا نے کهـا: ميں توبہ کرتا هـوں، اس نے کهـا: تيسري دعا يہ کہ ان چار درهـم کے بدلے مجهـے چار درهـم مل جائيں، چنانچہ يہ سن کر اس کے آقا نے چار درهـم عنايت کردئے ، ’اس نے کهـا: چوتهـي دعا يہ کہ خدا مجهـے، ميرے مالک او راس کے اهـل محفل کو بخش دے ، يہ سن کر اس کے آقا نے کهـا: جو کچهـ ميرے اختيار ميں تهـا ميں نے اس کو انجام ديا، تيري ، ميري اور اهـل مجلس کي بخشش ميرے هـاتهـ ميں نهـيں هـے-چنانچہ اسي رات اس نے خواب ميں ديکهـا کہ هـاتف غيبي کي آوازآئي کہ اے ميرے بندے!  تو نے اپنے فقر وناداري کے باوجود اپنے وظيفہ پر عمل کيا،کيا هـم اپنے بے انتهـا کرم کے باوجود اپنے وظيفہ پر عمل نہ کريں، هـم نے تجهـے، تيرے غلام اور تمام اهـل مجلس کو بخش ديا-[14]

آہ ، ايک سودمند تائب

ايک ولي خدا کے زمانہ ميں ايک شخص بهـت زيادہ گناهـگار تهـا جس نے اپني تمام زندگي لهـو و لعب اور بے ھودہ چيزوں ميں گزاري تھي اور آخرت کے لئے کچھ بھي زادہ راہ جمع نہ کي-

نيک اور صالح لوگوں نے اس سے دوري اختيار کرلي، اور وہ نيک لوگوں سے کوئي سروکار نہ رکھتاتھا، آخر عمر ميں اس نے جب اپنے کارناموں کو ملاحظہ کيا اور اپني عمر کا ايک جائزہ ليا، اسے اميد کي کرن نہ ملي، باغ عمل ميں کوئي شاخ گل نہ تھي، گلستان اخلاق ميں شفا بخش کوئي پھول نہ تھا، يہ ديکھ کر اس نے ايک ٹھنڈي سانس لي اور دل کے ايک گوشے سے آہ نکل پڑي، اس کي آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، توبہ اور استغفار کے عنوان سے بارگاہ خداوندي ميں عرض کيا:

”يَامَنْ لَہُ الدُّنْيَا وَالآخِرَةُ إِرْحَمْ مَنْ لَيْسَ لَہُ الدُّنْيَا وَالآخِرَةُ“-

”اے وہ جودنيا وآخرت کا مالک ھے، اس شخص کے او پر رحم کر جس کے پاس نہ دنيا ھے او رنہ آخرت“-

اس کے مرنے کے بعد شھر والوں نے خوشي منائي اور اس کو شھر سے باھر کسي کھنڈر ميں پھينک ديا اور اس کے اوپر گھاس پھوس ڈال دي-

اسي موقع پر ايک ولي خدا کو عالم خواب ميں حکم ھواکہ اس کو غسل و کفن دو اور متقي افراد کے قبرستان ميں دفن کرو-

عرض کيا:اے دوجھاں کے مالک!  وہ ايک مشھور و معروف گناھگار و بدکار تھا، وہ کس چيز کي وجہ سے تيرے نزديک عزيز اور محبوب بن گيا اور تيري رحمت و مغفرت کے دائرہ ميں آگيا ھے؟ جواب آيا:

اس نے اپنے کو مفلس اور درد مند ديکھا تو ھماري بارگاہ ميں گريہ و زاري کيا، ھم نے اس کو اپني آغوش رحمت ميں لے ليا ھے-

کون ايسا درد مند ھے جس کے درد کا ھم نے علاج نہ کيا ھو اور کون ايسا حاجت مند ھے جو ھماري بارگاہ ميں روئے اور ھم اس کي حاجت پوري نہ کريں، کون ايسا بيمارھے جس نے ھماري بارگاہ ميں گريہ و زاري کيا ھو اور ھم نے اس کو شفا نہ دي ھو؟[15]


توبہ کے ذريعہ مشکلات کا دور ھونا

”جابر جعفي“ مکتب اھل بيت عليھم السلام کے معتبر ترين راويوں ميں سے تھے، وہ حضرت رسول اکرمسے روايت کرتے ھيں: تين مسافر سفر کرتے ھوئے ايک پھاڑ کي غار ميں پہنچے، وھاں پر عبادت ميں مشغول ھوگئے ، اچانک ايک پتھر اوپر سے لڑھک کر غار کے دھانے پر آلگا اسے ديکھ کر ايسا معلوم ھوتا تھا جيسے وہ دروازہ بند کرنے کے لئے ھي بنايا گيا ھو ، چنانچہ ان لوگوں کو وھاں سے نکلنے کا کوئي راستہ دکھائي   نہ ديا!
پريشان ھوکر يہ لوگ ايک دوسرے سے کہنے لگے: خدا کي قسم يھاں سے نکلنے کا کوئي راستہ نھيں ھے، مگر يہ کہ خدا ھي کوئي لطف و کرم فرمائے، کوئي نيک کام کريں ، خلوص کے ساتھ دعا کريں اور اپنے گناھوں سے توبہ کريں-

ان ميں سے پھلا شخص کھتا ھے: پالنے والے!  تو(تو جانتا ھے)کہ ميں ايک خوبصورت عورت کا عاشق ھوگيا تھا بھت زيادہ مال و دولت اس کو ديا تاکہ وہ ميرے ساتھ آجائے، ليکن جونھي اس کے پاس گيا، دوزخ کي ياد آگئي جس کے نتيجہ ميں اس سے الگ ھوگيا؛ پالنے والے ! اسي عمل کا واسطہ ھم سے اس مصيبت کو دور فرما اور ھمارے لئے نجات کا سامان فراھم فرمادے ، بس جيسے ھي اس نے يہ کھا تو وہ پتھر تھوڑا سا کھسک گيا ھے -

دوسرے نے کھا:  پالنے والے!  تو جانتا ھے کہ ايک روز ميں کھيتوں ميں کام کرنے کے لئے کچھ مزدور لايا، آدھا درھم ان کي مزدوري معين کي، غروب کے وقت ان ميں سے ايک نے کھا: ميں نے دو مزدورں کے برابر کام کيا ھے لہٰذا مجھے ايک درھم ديجئے، ميں نے نھيں ديا، وہ مجھ سے ناراض ھوکر چلا گيا، ميں نے اس آدھے درھم کا زمين ميں بيج ڈالديا، اور اس سال بھت برکت ھوئي- ايک روز وہ مزدور آيا اور اس نے اپني مزدوري کا مطالبہ کيا، تو ميں نے اس کو اٹھارہ ہزار درھم دئے جو ميں نے اس زراعت سے حاصل کئے تھے، اور چند سال تک اس رقم کو رکھے ھوئے تھا، اور يہ کام ميں نے تيري رضا کے لئے انجام ديا تھا، تجھے اسي کام کا واسطہ ھم کو نجات ديدے- چنانچہ وہ پتھر تھوڑا اور کھسک گيا-

تيسرے نے کھا:  پالنے والے!  (تو خوب جانتا ھے کہ) ايک روز ميرے ماں باپ سورھے تھے ميں ان کے لئے کسي ظرف ميں دودھ لے کر گيا، ميں نے سوچا کہ اگر يہ دودھ کا ظرف زمين پر رکھ دوں تو کھيں والدين جاگ نہ جائےں، اور ميں نے ان کو خود نھيں اٹھايا بلکہ وہ دودھ کا ظرف لئے کھڑارھا يھاں تک کہ وہ خود سے بيدار ھوں-پالنے والے توخوب جانتا ھے کہ ميں نے وہ کام اور وہ زحمت صرف تيري رضا کے لئے اٹھائي تھي، پالنے والے اسي کام کے صدقہ ميں ھميں اس مصيبت سے نجات ديدے- چنانچہ اس شخص کي دعا سے پتھر او رکھسکا اور يہ تينوں اس غار سے باھر نکل آئے-[16]


عجيب اخلاق اور عجيب انجام

دور حاضر کي گرانقدر تفسير”الميزان“کے فارسي مترجم استاد بزرگوار حضرت آقاي سيد محمد باقر موسوي ھمداني صاحب نے۱۶/شوال بروز جمعہ ۹/بجے صبح اس خاکسار سے بيان فرمايا:

”گنداب“  (ھمدان ) علاقہ ميں ايک شرابي اور بدمعاش شخص تھا جس کا نام علي گندابي تھا-

اگرچہ يہ ديني مسائل پر کوئي توجہ نھيں رکھتا تھا اور ھميشہ بدمعاشوں اور گناھگاروں کے ساتھ رھتا تھا، ليکن بعض اخلاقي چيزيں اس ميں نماياں تھي-

ايک روز شھر کے بھترين علاقے ميں اپنے ايک دوست کے ساتھ چائے کے ھوٹل ميں بينچ پر چائے پينے کے لئے بيٹھا ھوا تھا-

اس کے صحت مند جسم اورخوبصورت چھرہ ميں نھايت کشش پائي جاتي تھي-

مخملي ٹوپي لگائے ھوئے تھا جس سے اس کي خوبصورتي ميں مزيد نکھار آيا ھوا تھا، ليکن اچانک اس نے اپني ٹوپي سر سے اتاري اور پيروں کے نيچے مسلنے لگا، اس کے دوست نے کھا: ارے ! تم يہ کيا کررھے ھو؟ جواب ديا: ذرا ٹھھرو ،اتنے بے صبرے مت بنو، بھر حال تھوڑي دير بعد اس نے ٹوپي کو اٹھايا اور پھر اوڑھ لي- اور کھا: اے ميرے دوست ابھي ايک شوھر دار جوان عورت يھاں سے گزر رھي تھي اگر مجھے اس ٹوپي کے ساتھ ديکھتي تو شايد يہ سوچنے پر مجبور ھوجاتي کہ يہ شخص تو ميرے شوھر سے بھي زيادہ خوبصورت ھے، اور وہ اپنے شوھر سے خشک رويہ اختيار کرتي، ميں يہ نھيں چاھتا تھا کہ اپني اس چمک دار ٹوپي کي وجہ سے ايک مياں بيوي کے تعلقات کو تلخ کردوں-


ھمدان ميں ايک مشھور و معروف ذاکر جناب ”شيخ حسن“ بھي تھے جوواقعاً ايک متقي اور ديندار شخصيت تھے، موصوف فرماتے ھيں: حقير عاشور کے دن عصر کے وقت ”حصار“ نامي محلہ ميں مجلس پڑھنے کے لئے گيا ھوا تھا ليکن واپسي ميں دير ھوگئي شھر کے دروازہ پرپہنچا تو دروازہ بند ھوچکا تھا، ميں نے دروزاہ کھٹکھٹايا تو علي گندابي کي آواز سني جو شراب کے نشہ ميں مست تھا اور زور زور کہہ رھا تھا: کون ھے کون ھے؟

ميں نے کھا: ميں شيخ حسن ذاکرحسين  عليہ السلام   ھوں ، چنانچہ اس نے دروازہ کھولا اور چلاکر کھا: اتنے وقت کھاں تھے؟ ميں نے کھا: حصار محلہ ميں امام حسين عليہ السلام کي مجلس پڑھنے کے لئے گيا ھوا تھا، يہ سن کر اس نے کھا: ميرے لئے بھي مجلس پڑھو، ميں نے کھا: مجلس کے لئے منبر اور سننے والے مجمع کي ضرورت ھوتي ھے، اس نے کھا: يھاں پر سب چيزيں موجود ھيں، اس کے بعد وہ شخص سجدہ کي حالت ميں ھوا اور کھا: ميري پيٹھ منبر ھے اور ميں سننے والا ھوں ،ميري پيٹھ پر بيٹھ کر قمر بني ھاشم حضرت عباس کے مصائب پڑھو!

خوف کي وجہ سے کوئي چارہ کار نہ تھا اس کي پيٹھ پر بيٹھا اور مجلس پڑھنے لگا، چنانچہ اس نے بھت گريہ کيا، اس کا روناديکھ کر ميري بھي عجيب حالت ھوگئي، زندگي بھر ايسي حالت نھيں ھوئي تھي، مجلس ختم ھوتے ھي اس کي مستي بھي ختم ھوگئي، اس کے اندر ايک عجيب و غريب انقلاب پيدا ھوچکا تھا!

اس مجلس ،گريہ و زاري اور توسل کي برکت سے وہ شخص عتبات عاليہ کي زيارت کے لئے عراق گيا، ائمہ عليھم السلام کي زيارت کي اور اس کے بعد نجف اشرف پہنچا-

اس زمانہ ميں مرزا شيرازي ( جنھوں نے تنباکو کي حرمت کا فتويٰ صادر کيا تھا) نجف اشرف ميں قيام پذير تھے، علي گندابي مرزا شيرازي کي نماز جماعت ميں شرکت کيا کرتا تھااور بالکل انھيں کے پيچھے اپنا مصليٰ پچھايا کرتاتھا، اور مدتوں تک اس عظيم الشان مرجع تقليد کي نماز جماعت ميں شرکت کرتا رھا-

ايک روز نماز مغرب و عشاء کے درميان مرزا شيرازي کو خبر دي گئي کہ فلاں عالم دين کا انتقال ھوگيا، چنانچہ يہ خبر سن کر موصوف نے حکم ديا کہ حرم امام علي  عليہ السلام  سے متصل دالان ميں ان کو دفن کيا جائے، فوراً ھي ان کے لئے قبر تيار کي گئي، ليکن نماز عشاء کے بعد لوگوں نے آکر مرزا شيرازي کو خبر دي: گويا اس عالم دين کو سکتہ ھواتھا اور اب الحمد للہ ھوش آگيا ھے، ليکن اچانک علي گندابي جانماز پر بيٹھے بيٹھے اس دنيا سے چل بسے، يہ ديکھ کر مرزا شيرازي نے کھا: علي گندابي کو اسي قبر ميں دفن کرديا جائے!(شايد يہ اسي کے لئے يہ قبر بني تھي-)


ايک کفن چور کي توبہ

معاذ بن جبل روتے ھوئے رسول اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  کي خدمت ميں حاضر ھوئے اور آنحضرت کو سلام کيا، آپ نے جواب سلام ديتے ھوئے فرمايا: تمھارے رونے کي وجہ کيا ھے؟ تو انھوں نے کھا: ايک خوبصورت جوان مسجد کے پاس کھڑا ھوا اس طرح رورھا ھے جيسے اس کي ماں مرگئي ھو، وہ چاھتا ھے آپ سے ملاقات کرے، چنانچہ يہ سن کر آنحضرت  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے فرمايا: اس کو مسجد ميں بھيج دو، وہ جوان مسجد ميں داخل ھوا اور رسول اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  کو سلام کيا، آنحضرت نے جواب سلام ديا اور فرمايا: اے جوان ! رونے کي وجہ کيا ھے؟ اس نے عرض کيا: ميں کيوں نہ روؤں حالانکہ ميں نے ايسے ايسے گناہ انجام دئے ھيں کہ خدا وندعالم ان ميں سے بعض کي وجہ سے مجھے جہنم ميں بھيج سکتا ھے، ميں تو يہ مانتا ھوں کہ مجھے ميرے گناھوں کے بدلے دردناک عذاب ديا جائے اور خداوندعالم مجھے بالکل معاف نھيں کرسکتا-

پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے فرمايا: کيا تو نے خدا کے ساتھ شرک کيا ھے؟ اس نے کھا: نھيں، ميں شرک سے پناہ چاھتا ھوں، آنحضرت  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے فرمايا: کيا کسي نفس محترمہ کا قتل کيا ھے؟ اس نے کھا: نھيں، آپ نے فرمايا: خداوندعالم تيرے گناھوں کو بخش دے گا اگرچہ بڑے بڑے پھاڑوں کے برابر ھي کيوں نہ ھو، اس نے کھا: ميرے گناہ بڑے بڑے پھاڑوں سے بھي بڑے ھيں، اس وقت پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے فرمايا: خداوندعالم تيرے گناھوں کو ضروربخش دے گا چاھے وہ ساتوں زمين ،دريا ، درخت ، ذرات اور زمين ميں دوسري موجوات کے برابر ھي کيوں نہ ھوں، بے شک تيرے گناہ قابل بخشش ھيں اگرچہ آسمان، ستاروں اورعرش و کرسي کے برابر ھي کيوں نہ ھوں! اس نے عرض کيا: ميرے گناہ ان تمام چيزوں سے بھي بڑے ھيں! پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے غيض کے عالم ميںاسے ديکھا اور فرمايا: اے جوان! تيرے اوپر افسوس ھے! کيا تيرے گناہ زيادہ بڑے ھيں يا تيرا خدا؟

يہ سن کر وہ جوان سجدے ميں گرپڑا اور کھا: پاک و پاکيزہ ھے ميرا پروردگار، يا رسول اللہ ! اس سے بزرگتر تو کوئي نھيں ھے، ميرا خدا تو ھر عظيم سے عظيم تر ھے، اس وقت آنحضرت  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے فرمايا: کيا بڑے گناھوں کو خدائے بزرگ کے علاوہ بھي کوئي معاف کرسکتا ھے؟ اس جوان نے کھا: نھيں يا رسول اللہ! قسم بخدا نھيں، اور اس کے بعد وہ خاموش ھوگيا-

پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے اس سے فرمايا: اے جوان وائے ھو تجھ پر! کيا تو مجھے اپنے گناھوں ميں سے کسي ايک گناہ کو بتاسکتا ھے؟ اس نے کھا: کيوں نھيں، ميں سات سال سے قبروں کو کھول کر مردوں کو باھر نکالتا ھوں اور ان کا کفن چوري کرليتا ھوں!


قبيلہ انصار سے ايک لڑکي کا انتقال ھوا ، جب لوگ اس کو دفن کرکے واپس آگئے، ميں رات ميں گيا، اس کو باھر نکالا، اور اس کا کفن نکال ليا، اس کو برہنہ ھي قبر ميں چھوڑديا، جب ميں واپس لوٹ رھا تھا شيطان نے مجھے ورغلايا، اور اس کے لئے ميري شھوت کو ابھارا، شيطاني وسوسہ نے اس کے بدن اور خوبصورتي نے مجھے اپنے جال ميں پھنسا ليا يھاں تک نفس غالب آگيا اور واپس لوٹا اور جوکام نھيں کرنا چاہئے تھا وہ کربيٹھا!!

اس وقت گويا ميں نے ايک آواز سني: اے جوان! روز قيامت کے مالک کي طرف سے تجھ پر وائے ھو! جس دن تجھے اور مجھے اس کي بارگاہ ميں پيش کيا جائے گا، ھائے تونے مجھے مردوں کے د رميان برہنہ کرديا ھے، مجھے قبر سے نکالا، ميرا کفن لے چلا اور مجھے جنابت کي حالت ميں چھوڑ ديا، ميں اسي حالت ميں روز قيامت محشور کي جاؤں گي، واے ھو تجھ پر آتش جہنم کي!

يہ سن کر پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  نے بلند آواز ميں پکارا: اے فاسق! يھاں سے دور چلاجا، ڈرتا ھوں کہ تيرے عذاب ميں ميں بھي جل جاؤں! تو آتش جہنم سے کتنا نزديک ھے؟!

وہ شخص مسجد سے باھر نکلا، کچھ کھانے پينے کا سامان ليا اور شھر سے باھر پھاڑ کي طرف چل ديا، حالانکہ موٹا اور کھردرا کپڑا پہنے ھوئے تھا، اور اپنے دونوں ھاتھوں کو اپني گردن سے باندھے ھوئے تھااور پکارتا جاتا تھا: خداوندا!  يہ بھلول تيرا بندہ ھے، ھاتھ بندھے تيري بارگاہ ميں حاضر ھے- پالنے والے!  تو مجھے جانتا ھے، ميرے گناھوں کو بھي جانتا ھے، ميں آج تيرے پشيمان بندوں کے قافلہ ميں ھوں، توبہ کے لئے تيرے پيغمبر کے پاس گيا تھا ليکن اس نے بھي مجھے دور کردياھے، پالنے والے تجھے تيري عزت و جلال اور سلطنت کا واسطہ کہ مجھے نااميد نہ کرنا، اے ميرے مولا و آقا! ميري دعا کو ردّ نہ کرنا اوراپني رحمت سے مايوس نہ کرنا-

وہ چاليس دن تک دعا و مناجات اورگريہ و زاري کرتا رھا، جنگل کے درندے اور حيوانات اس کے رونے سے روتے تھے! جب چاليس دن ھوگئے تو اپنے دونوں ھاتھوں کو بلند کرکے بارگاہ الٰھي ميں عرض کيا: پالنے والے ! اگر ميري دعا قبول اور ميرے گناہ بخش دئے گئے ھوں تو اپنے پيغمبر کو اس کي خبر دےدے، اور اگر ميري دعا قبول نہ ھوئي ھو اور ميرے گناہ بخشے نہ گئے ھوں نيز مجھ پر عذاب کرنے کا ارادہ ھو تو ميرے اوپر آتش نازل فرما تاکہ ميں جل جاؤں يا کسي دوسري عقوبت ميں مبتلا کردے تاکہ ميں ھلاک ھوجاؤں، بھر حال قيامت کي ذلت و رسوائي سے مجھے نجات ديدے-

چنانچہ اس موقع پر درج ذيل آيات نازل ھوئيں:

((وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً اٴَوْ ظَلَمُوا اٴَنْفُسَھم ذَکَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِھم وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَي مَا فَعَلُوا وَھم يَعْلَمُونَ))-[17]

”اور يہ وہ لوگ ھيں کہ جب کوئي نماياں گناہ کرتے ھيں يا اپنے نفس پر ظلم کرتے ھيں تو خدا کو ياد کرکے اپنے گناھوں پر استغفار کرتے ھيں اور خدا کے علاوہ کون گناھوں کو معاف کرنے والاھے اور وہ اپنے کئے پر جان بوجھ کر اصرار نھيں کرتے “-

((اٴُوْلَئِکَ جَزَاؤُھم مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّھم وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِھا الْاٴَنْھارُ خَالِدِينَ فِيھا وَنِعْمَ اٴَجْرُ الْعَامِلِينَ))-[18]

”يھي وہ لوگ ھيں جن کي جزا مغفرت ھے اور وہ جنت ھے جس کے نيچے نھريں جاري ھيں -وہ ھميشہ اسي ميں رہنے والے ھيں اور عمل کرنے کي يہ جزا بھترين جزاھے“-

ان دونوں آيتوں کے نزول کے بعد پيغمبر اکرم  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  مسکراتے ھوئے ان دو آيتوں کي تلاوت فرماتے ھوئے باھر تشريف لائے اور فرمايا: کوئي ھے جو مجھے اس توبہ کرنے والے جوان تک پہنچائے؟

معاذ بن جبل کھتے ھيں: يا رسول اللہ  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم !ھميں خبر ملي ھے کہ وہ جوان مدينہ سے باھر پھاڑوں ميں چھپا ھوا ھے، رسول خدا  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  اپنے اصحاب کے ساتھ پھاڑ تک گئے ليکن جب وہ نہ ملا تو پھر پھاڑ کي بلندي پر پہنچے تو اس کو دو پتھروں کے درميان ديکھا کہ اپنے دونوں ھاتھ گردن سے باندھے ھوئے ھے، گرمي کي شدت سے اس کے چھرہ کا رنگ سياہ ھوگيا ھے، زيادہ رونے سے اس کي پلکيں گرچکي ھيںاور کھتا جاتا ھے: اے ميرے مولا و آقا!  ميري پيدائش اچھي قرار دي، ميراچھرہ خوبصورت بنايا، ميں نھيں جانتا کہ ميرے متعلق تيرا کيا ارادہ ھے، کيا مجھے آتش جہنم ميں جگہ دے گا يا اپنے جوار رحمت ميں جگہ   دے گا؟

خدايا !  پروردگار!  تو نے مجھ پر بھت احسان کئے ھيں اس ناچيز بندے پر تيري نعمتيں سايہ فگن ھيں، ميں نھيں جانتا کہ ميرا انجام کيا ھوگا، کيا مجھے بہشت ميں رکھے گا يا آتش جہنم ميں ڈالے گا؟

خدايا ! ميرے گناہ زمين و آسمان، عرش و کرسي سے بڑے ھيں، ميں نھيں جانتا ميرے گناہ کو بخش ديگا ،يا روز قيامت مجھے ذليل وخوار کرے گا-اس کي زبان پر يھي کلمات جاري ھيں، آنکھوں سے آنسو بہہ رھے ھيں، اور اپنے سر پر خاک ڈالتا جاتا ھے، حيوانات اس کے اردگرد جمع ھيں، پرندوں نے اس کے اوپر سايہ کيا ھوا ھے، اور اس کے ساتھ رورھے ھيں-

آنحضرت  صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  اس کے نزديک آئے اس کے ھاتھوں کو کھولا، اس کے چھرہ کو صاف کيا اور فرمايا: اے بھلول ! تجھے بشارت ھو کہ خداوندعالم نے تجھے آتش جہنم سے آزاد کرديا ھے، اور اس کے بعد اصحاب کي طرف رخ کيا اور فرمايا: جس طرح بھلول نے گناھوںکي تلافي کي ھے تم بھي اسي طرح اپنے گناھوں کا جبران اور تلافي کرو، اور اس کے بعدان دونوں آيات کي تلاوت کي، اور بھلول کو بہشت کي بشارت دي-[19]


فضيل عياض کي توبہ

فضيل اگرچہ شروع ميں ايک راہزن تھا اور اپنے ساتھيوں کي مدد سے قافلوں کو روک کر ان کا مال و دولت چھين ليا کرتا تھا، ليکن فضيل کي مروت و ھمت بلند تھي، اگر قافلہ ميں کوئي عورت ھوتي تھي تو اس کا سامان نھيں ليتا تھا، اسي طرح اگر کسي کے پاس کم مال ھوتا تھا اس کو بھي نھيں ليتا تھا، اور جن سے مال و دولت ليتا بھي تھا ان کے پاس کچھ چيزيں چھوڑ ديتا تھا، اسي طرح خدا کي عبادت سے بھي منھ نھيں موڑتا تھا، نماز و روزہ سے غافل نھيں تھا، فضيل کے توبہ کے سلسلہ ميں يوں رقمطرازھے:

فضيل ، ايک عورت کا عاشق تھا ليکن اس تک رسائي نہ ھوتي تھي، کبھي کبھي اس عورت کے گھر کے پاس کي ديوار کے پاس جاتا تھا اور اس کي خاطر گريہ و زاري اور نالہ و فرياد کيا کرتا تھا، ايک رات کا واقعہ ھے کہ ايک قافلہ وھاں سے گزرھا تھا اور اس قافلہ ميں ايک شخص قرآن پڑھ رھا تھا چنانچہ اس نے جب يہ آيت پڑھي:

((اٴَلَمْ يَاٴْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا اٴَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُھم لِذِکْرِ اللهِ ---))-[20]

”کيا صاحبان ايمان کے لئے ابھي وہ وقت نھيں آيا ھے کہ ان کے دل ذکر خدا اور اس کي طرف سے نازل ھونے والے حق کے لئے نرم ھو جائيں “-

فضيل اس آيت کو سن کر ديوار سے گرپڑے اور کھا: پالنے والے! کيوں نھيں وہ وقت آگيا بلکہ اس کا وقت گزر گيا ھے، شرمندہ، پشيمان، حيران و پريشان اور گريہ و زاري کرتے ھوئے ايک ويرانہ کي طرف نکل پڑا، اس ويرانہ ميں ايک قافلہ رکا ھوا تھا، جھاں پر لوگ آپس ميں کہہ رھے تھے : چلو چلتے ھيں، سامان تيار کرو، دوسرا کھتا تھا: ابھي چلنے کا وقت نھيں ھوا ھے، کيونکہ ابھي فضيل راستہ ميں ھوگا ،وہ ھمارا

راستہ روک کر سارا مال و اسباب چھين لے گا، اس وقت فضيل نے پکارا: اے قافلہ والو! تم لوگوں کو بشارت ھے کہ اس خطرناک چور اور کم بخت راہزن نے توبہ کرلي ھے!

غرض اس نے توبہ کي اور توبہ کے بعد ان لوگوں کو تلاش کرنا شروع کيا جن کا مال چھينا يا چوري کيا تھااور ان سے معافي مانگي[21]

چنانچہ ايک مدت کے بعد وہ بھت بڑے اور حقيقي عارف بن گئے اور لوگوں کي تعليم و تربيت ميں مشغول ھوگئے جن کے حکمت آميز کلمات اب بھي تاريخ ميں موجود ھيں-

[1] سورہٴ يوسف آيت ۱۱۱-
[2] سورہٴ تحريم آيت ۱۱-
[3] کشف الغمہ:۱/۴۶۶:بحار الانوار: ۴۳ص۵۳، باب ۳، حديث ۴۸، عبارت کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ-
[4] سورہٴ فرقان آيت ۱۲-۱۳-
[5] امالي شيخ صدوق عليہ الرحمہ، ص ۳۹۷، مجلس ۶۲ حديث ۱۰؛ بحار الانوار ج ۶ص ۲۶ باب ۲۰ حديث ۲۷-
[6] خرائج:ج ۱ص۸۸، فصل من روايات الخاصة؛ بحار الانوار: ۶۵ص۲۸۲، الاخبار، حديث ۳۸-
[7] روضات الجنات : ۴ ،ص۱۰۷-
[8] روضات البيان: ۲،ص۱۷۹-
[9] روح البيان: ۲،ص ۱۸۱-
[10]روضات البيان: ۲،ص۲۲۵-
[11] روضات البيان ،ج ۲،ص ۲۳۵-
[12] کشف الغمہ،ج۲،ص ۱۹۴؛ بحار الانوار ج ۴۷ /۱۴۵، باب ۵، حديث ۱۹۹-
[13] بحار الانوار: ۹۱/ ۲۸، باب ۲۸، حديث: ۱۴؛ مستدرک الوسائل: ۵/ ۲۳۰، باب ۳۵، حديث ۵۷۶۲-
[14] محجة البيضاء: ۷،ص ۲۶۷، کتاب الخوف والرجاء-
[15] منہج الصادقين ،ج۸ص ۱۱۰-
[16] نور الثقلين، ج۳ ص ۲۴۹-           
[17] سورہٴ آل عمران آيت ۱۳۵-
[18] سورہٴ آل عمران آيت ۱۳۶-
[19] امالي شيخ صدوق:۴۲،مجلس ۱۱، حديث۳؛ بحار الانوار: ۶/۳ ۲۳، باب ۲۰، حديث ۲۶-
[20] سورہٴ حديد آيت ۱۶-
[21] تذکرة الاولیاء ،ص۷۹-

صحابه اور کربلا

 صحابہ اور کربلا


حضرت امام حسین علیہ السلام کاانقلاب پوری امت اسلامیہ کی نجات، توحید کی سربلندی اورانسانیت کی آزادی کاپیغام لے کرآیا تھا لیکن صدافسوس کہ اس انقلاب سے پوری امت اسلامیہ نے وہ فائدہ حاصل نہ کیا جس کے امام حسین علیہ السلام خواہشمند تھے ۔اس کی ایک وجہ دشمن کی جانب سے اس مقدس انقلاب کے خلاف مذموم الزام تراشیاں ہیں جن کے ذریعے مقاصدواہداف امام حسینؑ کوغلط رنگ دے کرسادہ لوح مسلمانوں کواس نورالٰہی سے دوررکھنے کی ناجائزکوشش کی گئی۔بنی امیہ کے حامیوں اورظالم حکومتوں کے آلۂ کار افراد نے انقلاب حسینؑ پرغیرآئینی اقدام کاالزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کی نوعیت خلیفۃ المسلمین کے خلاف بغاوت اورلشکرکشی کی ہے چنانچہ ’’شوکانی‘‘نقل کرتے ہیں:

’’کچھ علماء حد سے گذرگئے اوروہ فرزند رسولؐ حضرت امام حسینؑ کے اقدام کوشرابی، نشے باز اورحرمت شریعت مطہرہ کی ہتک کرنے والے یزید بن معاویہ(ان پرخدا کی لعنت ہو) کے خلاف بغاوت سمجھتے ہیں!!‘‘(۱)

اس الزام کاایک جواب یہ ہے کہ یہ بات سلف صالح کی روش کے متضاد ہے چنانچہ تاریخ شاہدہے کہ ا س وقت کے علماء ، صحابہ، تابعین اورسیاست دان سب اس بات پرمتفق تھے کہ حضرت امام حسین ؑ حق پرہیں انھوں نے یزید کے اس غیرانسانی اقدام کی مذمت کی اورکسی نے بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقدام کوخلیفہ المسلمین کے خلاف بغاوت نہیں سمجھا چنانچہ مولانا مودودی لکھتے ہیں:

’’اگرچہ ان(حسین ؑ ) کی زندگی میں اوران کے بعد بھی صحابہ وتابعین میں سے کسی ایک شخص کابھی یہ قول ہمیں نہیں ملتا کہ آپؑ کاخروج ناجائز تھااوروہ ایک فعل حرام کاارتکاب کرنے جارہے تھے۔‘‘(۲)

ہم ثابت کریں گے کہ صحابہ وتابعین کا مخالفت کرنا توکجا کثیرتعداد میں صحابہ کرام اورتابعین نے انقلاب حسینؑ کی حمایت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کردیں بعض مادہ پرست لوگوں نے اس واقعہ کودوخاندانوں کی جنگ قرار دینے کی مذموم کوشش کی اوربعض افراد نے امام حسینؑ کے مقصد کو’’حکومت طلبی‘‘ سے تعبیر کیاان اعتراضات کے جواب مدلل انداز میں مفصل کتب میں پیش کئے گئے ہیں اس مقالہ میں کوشش کی گئی ہے کہ ان پاکیزہ اذہان جنھیں ’’حقائق‘‘ کی تلاش رہتی ہے پرایک خاص زاویہ سے انقلاب امام حسینؑ کے مقدس ہونے اوریزید کی اسلام دشمنی کوواضح کیاجائے۔

امام حسین علیہ السلام ایک فرد نہیں تھے جنہوں نے یزید بن معاویہ کی باطل حکومت کے خلاف قیام کیا بلکہ آپؑ اس مقدس تحریک کے عظیم راہبر تھے جواس وقت کی باطل ،اسلام دشمنی اورناجائز حکومت کے خلاف وجود میں آئی امام حسینؑ کوپیغمبر اسلامؐ نے ’’ہدایت کاچراغ‘‘قرار دیا تھا:(انّ الحسینؑ مصباح الھدی وسفینۃ النجاۃ)اس وقت جب امت گمراہی کی تاریکیوں میں ڈوب رہی تھی امام حسینؑ ہادی وراہنما بن کرایسی تحریک کاآغاز کرتے ہیں جس کا ہراسلام خواہ، غیرت منداوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت ومحبت رکھنے والے شخص نے ساتھ دیا۔

ہاں البتہ اس تحریک کی حمایت کرنے والوں کی نوعیت مختلف تھی بعض نے زبانی کلامی حمایت کی اوربعض افراد جن میں اصحاب رسولؐ کی ایک خاص تعداد تھی نے اپنی جان کی بازی لگا کراس انقلاب کوپائیدار کرنے میں مدد کی۔

امید ہے یہ مقالہ’’حق‘‘کے ہرمتلاشی مخصوصاً ان افراد کے لئے جوصحابہ کرام رضوان اللہ علیھم سے خاص عقیدت ومحبت رکھتے بہترین راہنما ثابت ہوگا اس لئے کہ امام حسین ؑ کی پیروی میں صحابہ کرامؓ کی کثیر تعداد نے قربانیاں پیش کی ہیں بعض اصحاب کربلا میں پہنچ کرعلی الاعلان یزید کے باطل نظریات کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے بعض کربلا سے قبل کوفہ یادیگر مقامات پرامام حسین علیہ السلام کی حمایت کے جرم میںیزیدی کارندوں کے ہاتھوں شہید کردیئے گئے نیز بعض اصحاب جوکچھ وجوہات کی بناپرواقعہ کربلا میں شریک نہ ہوسکے تھے امام حسینؑ کی شہادت کے بعدیزیدکے مظالم کے خلاف اورامام حسینؑ کی حمایت میں قیام کرتے ہیں اورجانیں قربان کرکے ثابت کرتے ہیں کہ اس راہ میں موت شہادت وسعادت کی موت ہے۔

اس تحریر میں صرف ان اصحاب رسول اللہؐ کے احوال و واقعات کودرج کیاگیا ہے جوکربلا میں نواسۂ رسول اللہؐ کی حمایت کرتے ہوئے شہادت کے مقام پرفائزہوئے۔شہداء کربلا اصحاب کومختلف معتبر منابع سے ذکر کرنے کی کوشش کی گئی ہے بعض ان صحابہ کرامؑ کے اسمائے گرامی درج کرنے سے اجتناب کیاگیا ہے جومعتبر کتب میں درج نہ تھے یہ بات بھی بیان کرناضروری ہے کہ’’ صحابی‘‘ کی تعریف میں اختلاف نظر کومدنظر رکھتے ہوئے اس نظریہ کے مطابق اصحاب کودرج کیا گیا ہے جوصحابی رسولؐ کے مفہوم میں وسعت کا قائل ہے چنانچہ اس نظریہ کے حامی افراد میں ہم صرف ابن حجرعسقلانی کی عبارت کونقل کرتے ہیں:

’’واصحُّ ما وقفت علیہ من ذالک انّ الصحابی من لقی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومناً بہ ومات علی الاسلام ، فیدخل فی من لقیہ من طالت مجالستہ اوقصرت ، ومن رویٰ عنہ اولم یرْو، ومن غزا معہ اولم یغر ومن رأہُ رویۃً ولو لم یجالسہ ومن لم یرٰہ لعارضٍ کالعمی۔۔۔۔۔۔‘‘

’’صحیح ترین تعریف یہ ہے کہ حالت ایمان میں پیغمبر ؐ کی زیارت کرنے والے اوراسلام کی حالت پرفوت ہونے والے کوصحابی کہتے ہیں اس تعریف کے مطابق ہروہ شخص صحابی ہوگا جوطولانی مدت یاکم مدت پیغمبرؐ کی صحبت میں رہا ،جنگ میں شریک ہوا یانہ ،باقاعدہ زیارت کی یاکسی مجبوری (جیسے نابینا ہونے)کی وجہ سے زیارت سے محروم رہا۔۔۔۔‘‘

اسی تعریف کے مطابق شہداء کربلا صحابہ میں بعض ایسے افراد کوبھی ذکرکیاگیا ہے جو’’صحابہ ادراکی‘‘ ہیں یعنی زیادہ مدت پیغمبرؐ کی خدمت میں موجود نہ تھے گرچہ بعض صحابہ ایسے بھی ہیں جورسول اللہؐ کے ساتھ غزوات میں شریک ہونے کے باوجود شہادت سے محروم رہے پھر ۶۱ ؁ ھ میں نواسۂ رسولؐ کا ساتھ دے کرشہادت کی آرزو تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

-1اسلم بن کثیر الازدی(یامسلم بن کثیر):

زیارت ناحیہ میں ان کانام’’اسلم‘‘ذکرہوا ہے جبکہ کتب رجال میں بجائے’’اسلم‘‘کے ’’مسلم بن کثیر الازدی الاعرج‘‘بیان ہوا ہے زیارت ناحیہ کے جملات یوں ہیں:’’السلام علیٰ اسلم بن کثیر الازدی الاعرج ۔۔۔۔۔۔‘‘ (۴) مرحوم زنجانی نے نقل کرتے ہیں کہ یہ صحابی رسولؐ تھے (۵)مرحوم شیخ طوسیؒ اورمامقانی ؒ نے اپنی کتب رجال میں نقل کرتے ہیں کہ جنگ جمل میں تیرلگنے سے پاؤں زخمی ہوگیا تھا جس کی وجہ سے’’اعرج‘‘(ایک پاؤں سے اپاہج)ہوگئے انھوں نے صحبت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودرک کیاتھا۔

عسقلانی لکھتے ہیں:’’ مسلم بن کثیر بن قلیب الصدفی الازدی الاعرج۔۔۔الکوفی لہ ادراک للنبیؐ ‘‘ مذید اضافہ کرتے ہیں فتح مصر میں بھی یہ صحابی رسولؐ حاضرتھے طبری اورابن شھرآشوب نے ان کاذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کربلا میں جملۂ اولیٰ میں شہید ہوئے۔(۶)

مسلم بن کثیر’’ازد‘‘ قبیلہ کے فرد تھے جب امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے ہجرت کی توان دنوں یہ صحابی رسولؐ کوفہ میں قیام پذیر تھے یہی وجہ ہے امام حسین علیہ السلام کوکوفہ میں آنے کی دعوت دینے والوں میں یہ شامل ہیں پھرحضرت مسلم بن عقیل ؑ جب کوفہ میں سفیرحسینؑ بن کرپہنچے توانھوں نے حضرت مسلم بن عقیل کی حمایت کی لیکن حضرت مسلمؑ کی شہادت کے بعد کوفہ کوترک کیااورکربلا کے نزدیک حضرت امام حسین علیہ السلام سے جاملے اورپہلے حملہ میں جام شہادت نوش کیا۔(۷)

حضرت رسول اکرمؐ نے اپنے اس صحابی کے متعلق جوایک جنگ میں ’’اعرج‘‘ہونے کے باوجود شریک ہوئے اوراپنی جان کی قربانی پیش کی فرمایا:’’والذی نفسی بیدہ لقد رأیت عمروبن الجموح یطأُ فی الجنہ بعرجتہ۔۔۔۔۔۔‘‘ یعنی مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبض ۂ قدرت میں میری جان ہے دیکھ رہا ہوں عمرو بن الجموح کو کہ لنگڑا ہوکربھی جنت میں ٹہل رہا ہے اس بنا پرحضرت مسلم بن کثیر کابھی وہی مقام ہے کہ اگرچہ قرآن فرماتا ہے:(لیس علی الاعمی خرج ولا علی الاعرج حرج)(۸)یعنی جہاد میں شرکت نہ کرنے میں اندھے پرکوئی حرج نہیں اورنہ ہی لنگڑے پرکوئی مؤاخذہ ہے لیکن اس فداکاراسلام نے نواسہ رسولؐ کی حمایت میں اپنی اس اپاہج حالت کے باوجود جان قربان کرکے ثابت کیا کہ اسلام کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے یہی وجہ ہے’’صاحب تنقیح المقال ‘‘ کے یہ جملے ہیں:’’شہیدالطف غنی عن التوثیق‘‘فرماتے ہیں چونکہ کربلا کے شھداء میں شامل لہذا وثاقت کی بحث سے بے نیاز ہیں۔

-2انس بن حارث:

حضرت پیغمبر ؐ کے صحابی تھے جنگ بدروحنین میں شرکت بھی کی(۹)مرحوم مامقانی فرماتے ہیں:’’(انس)بن حارث صحابی نال بالطف الشھادۃ ‘‘(۱۰)(صحابی رسولؐ تھے اورکربلا میں شہادت کے مقام پرفائز ہوئے)ابن عبدالبراپنی کتاب الاستیعاب میں یوں رقمطراز ہیں ’’انس بن حارث رویٰ عنہ والد اشعث بن سلیم عن النبیؐ فی قتل الحسین وقتل مع الحسین رضی اللہ عنھما‘‘(۱۱)

’’انس بن حارث کے واسطہ سے اشعث بن سلیم کے والد نے نبی اکرمؐ سے امام حسینؑ کی شہادت سے متعلق روایت نقل کی ہے کہ یہ (انس بن حارث) حضرت حسینؑ کے ہمراہ شہیدہوئے۔‘‘

الاستیعاب نے جس روایت کاذکر کیا ہے وہ یوں ہے کہ حضرت انس بن حارث نے رسول خدا(ص) سے سنا تھا کہ آپؐ نے فرمایا:’’میرابیٹا(حسین) کربلا کی سرزمین پرقتل کیاجائے گا جوشخص اس وقت زندہ ہواس کے لئے ضروری ہے کہ میرے بیٹے کی مددونصرت کوپہنچے۔‘‘ روای کہتا ہے کہ انس بن حارث نے پیغمبرؐ کے اس فرمان پرلبیک کہتے ہوئے کربلا میں شرکت کی اورامام حسینؑ کے قدموں پراپنی جان نچھاور کردی۔(۱۲)

اس حدیث نبوی ؐ کی اہمیت کے پیش نظر ضروری سمجھتے ہیں کہ اسے کامل سند کے ساتھ ذکر کردیا جائے:’’سعد(سعید)بن عبدالملک بن واقد الحرانی بن عطا بن مسلم الخقاف عن اشعث بن سلیم عن ابیہ قال سمعت انس بن حارث یقول:سمعت رسول اللہؐ یقول:ان ابنی ھذا(یعنی الحسین)یُقتل بارض یقال لھا کربلا فمن شھد منکم فلینصرہ۔‘‘

قال(العسقلانی):’’فخرج انس بن الحرث الی کربلا فقتل مع الحسین۔‘‘

صاحب فرسان نے ابن عساکر سے یوں نقل کیا ہے :’’وقال ابن عساکر انس بن الحرث کان صحابیاً کبیرا ممن رأی النبیؐ وسمع حدیثہ وذکرہ عبدالرحمٰن السلمی فی اصحاب الصفہ۔۔۔۔۔۔‘‘(۱۳)

’’ابن عساکر لکھتے ہیں کہ انس بن الحرث ان عظیم اصحاب رسولؐ میں سے تھے جنھیں حضرت پیغمبرؐ کی زیارت نصیب ہوئی انھوں نے آپؐ سے حدیث بھی سنی تھی عبدالرحمٰن سلمی نے انھیں اصحاب صفہ میں شمار کیا ہے۔۔۔‘‘

بلاذری لکھتے ہیں کہ حضرت انس کوفہ سے نکل پڑے ایک مقام پرامام حسینؑ اورعبیداللہ بن حرجعفی کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی فوراً امام حسینؑ کی خدمت حاضرہوئے اورقسم کھانے کے بعد عرض کی ’’کوفہ سے نکلتے وقت میری نیت یہ تھی کہ عبیداللہ بن حر کی طرح کسی کاساتھ نہ دونگا(نہ امامؑ کانہ دشمن کا) یعنی جنگ سے اجتناب کرونگا لیکن خدواند نے میری مدد فرمائی کہ آپؑ کی مدد ونصرت کرنے کومیرے دل میں ڈال دیا اورمجھے جرأت نصیب فرمائی تاکہ اس حق کے راستے میں آپؑ کاساتھ دوں۔‘‘حضرت امام حسین علیہ السلام نے انھیں ہدایت اورسلامتی ایمان کی نوید سنائی اورانھیں اپنے ساتھ لے لیا۔(۱۷)

یہ صحابی رسولؐ نواسۂ رسولؐ کے دشمنوں سے جنگ کرنے کی غرض سے کربلا میں موجود ہیں حضرت امام حسینؑ نے اپنے اس وفادار ساتھی کویہ ذمہ داری سونپی کہ عمربن سعد کوحضرت ؑ کاپیغام پہنچائے اوراس ملعون کونصیحت کرے کہ شاید وہ ہوش میں آجائے اورقتل حسینؑ سے باز رہے جب حضرت انس ، عمربن سعد کے پاس پہنچے تواس کوسلام نہ کیا عمربن سعد نے اعتراض کیا کہ مجھے سلام کیوں نہیں کیا، آیاتومجھے کافراورمنکر خدا سمجھتا ہے؟حضرت انس نے فرمایا:’’توکیسے منکر خداورسولؐ نہ ہوجبکہ توفرزندرسولؐ کے خون بہانے کاعزم کرچکا ہے!‘‘یہ جملہ سن کرعمربن سعد سرنیچے کرلیتا ہے اورپھرکہتا ہے کہ میں بھی جانتا ہوں کہ اس گروہ(گروہ حسینؑ ) کاقاتل جہنم میں جائے گا لیکن عبیداللہ بن زیاد کے حکم کی اطاعت ضروری ہے۔(۱۸)

ابتدائے ملاقات سے حضرت انس تکلیف دہ حالات اپنی نظروں سے دیکھ رہے تھے لہذا جب دشمن کی طرف سے جنگ شروع ہوئی تو حضرت انسؓ بھی دیگر اصحاب حسین علیہ السلام کی طرح حضرت امام ؑ سے اجازت طلب کرکے عازم میدان ہوئے یہ مجاہد جوان نہیں تھا گوایمان جوان تھا نقل کرتے ہیں کہ حضرت انس کی حالت یہ تھی کہ سن پیری(بڑھاپے) کی وجہ سے خمیدہ (جھکی ہوئی)کمر کوشال(رومال) سے باندھ کرسیدھا کرتے ہیں ، سفیدابرو،آنکھوں پرپڑرہے تھے ، رومال پیشانی پرباندھ کراپنی آنکھوں سے ان بالوں کو ہٹاتے ہیں اور میدان کارزار میں روانہ ہوتے ہیں ۔حضرت امام حسینؑ نے جب اپنے اس بوڑھے صحابی کودیکھا توحضرت کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اورفرمایا:’’خدا تجھ سے یہ قربانی قبول کرے اے پیرمرد۔‘‘(۱۹)

ہرمجاہد جنگ کرتے وقت رجز(مجاہدانہ اشعار)پڑھا کرتا تھا جورجز حضرت انس نے پڑھا ہے نہایت پرمعنی تھا پہلے اپنا تعارف کرایا پھرکہا:

’’واستقلبوا لقوم بغرٍالآن آل علی شیعۃ الرحمٰن،وآل حرب شیعۃ الشیطان‘‘(۲۰)

کاہل ودان نسب جانتے ہیں کہ میراقبیلہ دشمن کو نابود کرنے والا ہے اے میری قوم شیرغراں کی طرح دشمن کے مقابلے میں جنگ کرو کیونکہ آل علیؑ رحمان کے پیروکارجبکہ آل حرب(بنوسفیان)شیطان کے پیروکار ہیں ۔بڑھاپے کے باوجود سخت جنگ کی ۱۲ یا۱۸ دشمنوں کوقتل کرنے کے بعد جام شہادت نوش کیا زیارت ناحیہ کے جملات یہ ہیں:’’السلام علی ٰ انس بن الکاھل الاسدی‘‘ (۲۱)

-3بکربن حی:

علامہ سماوی نے اپنی کتاب ابصارالعین میں حدایق الوردیہ سے نقل کیا ہے کہ ’’بکربن حی‘‘ کوفہ سے عمربن سعد کے لشکر میں شامل ہوکرکربلا پہچا لیکن جب جنگ شروع ہونے لگی توحضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکرعمربن سعد کے خلاف جنگ کرتے ہوئے پہلے حملے میں شہیدہوگئے منھی الآمال میں ان کاذکر ان شہداء میں موجود ہے جوحملہ اولیٰ میں شہیدہوئے۔(۲۲)تنقیح المقال نے ’’بکربن حی‘‘ کوشہدائے کربلا میں شمار کیاہے عبارت یوں ہے:’’بکربن حی من شھدالطف بحکم الوثاقۃ‘‘ ابن حجر عسقلانی نے’’ بکربن حی‘‘ کے ترجمہ میں لکھا ہے:’’بکربن حی بن علی تمیم بن ثعلبہ بن شھاب بن لام الطائی۔۔۔۔۔۔لہ ادراک ولولدہ مسعود ذکربالکوفہ فی زمان الحجاج وکان فارساً شجاعاً۔۔۔۔۔۔‘‘(۲۳)

(بکربن حی۔۔۔نے حضرت پیغمبرؐ کے محضر مبارک کودرک کیا اوران کے بیٹے مسعود کے بارے میں ملتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں کوفہ میں مقیم تھا۔)

’’الاصابہ‘‘میں’’ بکربن حی‘‘ کے صحابی رسولؐ ہونے کی گواہی ملتی ہے گوبیان نہیں کیا کہ یہ صحابی کربلا میں شہید ہوئے یانہ؟لیکن دیگر منابع رجال ومقاتل میں انھیں شہدائے کربلا میں شمار کیاگیاہے۔

-4جابربن عروہ غفاری:

کتاب’’شہدائے کربلا‘‘ میں بیان ہوا ہے کہ متاخرین کے نزدیک یہ صحابی رسول خداؐ تھے جوکربلا میں شہید ہوئے جنگ بدر اوردیگر غزوات میں رسول اکرمؐ کے ہمراہ شریک ہوئے یہ بوڑھے صحابی روز عاشورا رومال باندھ کراپنے ابروؤں کوآنکھوں سے ہٹاتے ہیں اورعازم میدان جنگ ہوتے ہیں جب امام علیہ السلام کی نظر پڑی توفرمایا:اے پیرمرد!خداتجھے اجردے۔‘‘(۲۴)

ذبیح اللہ محلاتی نے مقتل خوارزمی سے درج ذیل عبارت نقل کی ہے:’’ثم یرز جابر بن عروۃ الغفاری وکان شیخاً کبیراً وقد شھد مع رسول اللہ بدراً او حنیناً وجعل یشد وسطہ بعمامعتہ ثم شدحاجبیہ بعصابتہ حتی رفعھما عن عینیہ والحسین ؑ ینظر الیہ وھویقول شکراللہ سعیک یاشیخ فحمل فلم یزل یقاتل حتی قتل ستین رجلاً ثم استثھد رضی اللہ عنہ‘‘(۲۵)

بعض کتب جیسے تنقیح المقال، مقتل ابی مخنف اوروسیلۃ الدارین میں صحابی رسولؐ اورشہیدکربلا کے عنوان سے بیان ہوا ہے البتہ دیگر معتبر منابع میں ان کاذکر موجود نہیں اس وجہ سے بعض محققین ان کے بارے میں مردد ہیں۔’’تنقیح ‘‘کے جملات یہ ہیں ’’جابر بن عمیر الانصاری ،صحانی مجہول ‘‘(۲۶) جبکہ وسیلۃ الدارین کی عبارت کے مطابق یہ صحابی رسول تھے اور جنگ بدر کے علاوہ دیگر جنگوں میں بھی شریک رہے۔

’’انّ جابر بن عروہ کان اصحاب رسول اللہؐ یوم بدر وغیرھا۔۔۔‘‘(۲۷)جب دشمن کے مقابلہ میں آئے تویہ رجز پڑھا:

قد علمت حقاً بنوغفار وخندف ثم بنو نزار

ینصرنا لاحمدمختار یاقوم حاموا عن بنی الاطہار

الطیبین السادۃ الاخیار صلی علھم خالق الابرار

’’یہ بنوغفار وخندف نزا ر قبائل جانتے ہیں کہ ہم یاور محمدمصطفیٰ ؐ ہیں اے لوگو آل اطہارؑ جوسیدوسردار ہیں ان کی حمایت کرو کیونکہ خالق ابرار نے بھی ان پردرودوسلام بھیجا ہے۔‘‘

ان الفاظ کے ساتھ دشمن پرآخری حجت تمام کرتے ہوئے چندافراد کوواصل جہنم کرنے کے بعد جام شہادت نوش کیا۔(۲۸)

-5جنادۃ بن کعب الانصاری:

جنادہ بن کعب وہ صحابی رسولؐ ہیں جوحضرت امام حسینؑ کی نصرت کے لئے کربلا میں اپنی زوجہ اورکم سن فرزند کے ساتھ شریک ہوئے خود کواپنے بیٹے سمیت نواسۂ رسولؐ کے قدموں پرقربان کردیا علامہ رسولی محلاتی نقل کرتے ہیں جنادہ صحابی رسول خداؐ اورحضرت علی علیہ السلام کے مخلص شیعہ تھے جنگ صفین میں حضرت علی ؑ کے ساتھ شریک ہوئے(۲۹)اورکوفہ میں حضرت مسلم بن عقیل کے لئے بیعت لینے والوں میں شامل تھے حالات خراب ہونے کی وجہ سے کوفہ کوترک کیااورامام حسینؑ سے جاملے۔

تنقیح المقال نے جنادہ کے ترجمہ کواس طرح بیان کیا ہے:’’جنادۃ بن (کعب)بن الحرث السلمانی الازدی الانصاری الخزرجی من شھداء الطف۔۔۔وقدذکراھل السیرانہ کان من اصحاب رسول اللہؐ ۔۔۔۔۔۔‘‘(۳۰)

صاحب کتاب فرسان نے تاریخ ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے:ابن مسعود روایت کرتے ہیں’’ حضرت پیغمبر اکرمؐ نے جنادۃ بن الحارث کوایک مکتوب میں بیان فرمایا کہ یہ مکتوب محمدرسول اللہؐ کی جانب سے جنادہ اوراس کی قوم نیز ہراس شخص کے لئے ہے جوا س کی پیروی کرے گا کہ نماز قائم کریں اورزکوۃٰ ادا کریں اورخداورسول ؐ کی اطاعت کریں جواس حکم پرعمل کرے گا خداورسولؐ کی حفظ وامان میں رہے گا۔‘‘(۳۱)اس فداکارصحابی رسولؐ نے اپنے راہبر کے حکم پرعمل کرکے نہ فقط مال کی زکوۃٰ ادا کی بلکہ اپنی جان اوراولاد کی زکوۃٰ بھی دیتے ہوئے دنیاوآخرت کی سعادت حاصل کرلی حضرت جنادہ کی زوجہ ’’مسعود خزرجی‘‘کی بیٹی اوربڑی شجاع وفداکار خاتون تھی جب جنادہ شہیدہوچکے تواس مجاہدہ عورت نے اپنے خوردسال بیٹے عمروبن جنادہ کو(جوگیارہ یانوسال (۳۲)کی عمرمیں تھا)کوحکم دیا کہ جاؤ جہاد کرو یہ باادب بچہ ماں کی اجازت کے باوجود اپنے مولاوآقا حضرت امام حسینؑ کی خدمت میں آیا اوربڑے احترام سے عرض کی مجھے جہاد کی اجازت عطافرمائیں۔حضرت ؑ نے اجازت دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ شاید تیری ماں راضی نہ ہو (کیونکہ تیرا سن چھوٹاہے اورتیری ماں بوڑھی ہے) یہ جملات سننے تھے کہ اس ننھے مجاہد نے عرض کی کہ’’انّ امّی قدامرتنی‘‘(میری ماں تومجھے اجازت دے چکی ہیں)میری ماں نے نہ فقط اجازت دی ہے بلکہ مجھے لباس جنگ اس نے خود پہنایا ہے اورحکم دیا ہے آپؑ پرجان قربان کردوں امام حسینؑ نے جب اس کاجذبۂ جہاد دیکھا تواجازت دی میدان جنگ میں آکر صحابی رسولؐ کے اس کمسن فرزند نے اپناتعارف بڑے نرالے انداز میں کرایاخلاف معمول اپنانام یاوالد اورقبیلہ کاذکر نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ اس کمسن بچے کے بارے میں مؤرخین میں اختلاف ہے کہ یہ کس کافرزند ہے بعض کتب میں یہ جملہ ملتا ہے کہ ’’خرج شباب قتل ابوہ فی المعرکہ‘‘(۳۳)دشمن کوللکار کرکہتا ہے:

امیری حسینٌ ونعم الامیر سرور فواد البشیرالنذیر

علیٌ وفاطمہ والداہ فھل تعلمون لہ من نظیر

لہ طلعۃ مثل شمس الضحیٰ لہ غُرّہ مثل بدرالمنیر(۳۴)

’’میرے آقا وسردار اوربہترین سردار حسینؑ ہیں بشیرالنذیر(پیغمبراکرمؐ)کے دل کاچین ہیں علی ؑ وفاطمہؑ جس کے والدین ہوں کیا اس کی مثال(دنیا میں) کہیں مل سکتی ہے؟چمکتے سورج کی مانند نورافشانی کرنے والا اورچودھویں کے چاند کی مانند (تاریکیوں میں) روشنی دینے والا راہنماامام ہیں۔‘‘

میدان جنگ میں شہید ہوجانے کے بعد دشمن نے سرجدا کرکے ماں کی طرف پھینکا ماں نے سراٹھا کرکہا:’’مرحبا‘اے نورعین‘‘اورپھر دشمن کودے مارااورعمودخیمہ اٹھا کردشمن کی فوج پرحملہ کرناچاہا لیکن حضرت امام حسینؑ نے واپس بلالیااوراس باوفا خاتون کے حق میں دعافرمائی۔حضرت جنادہ کانام بعض منابع میں ’’جابر‘‘(۳۵)یا’’جبار‘‘یا’’جیاد‘‘ درج ہوا ہے ان کے والد کے نام کوبھی بعض نے ’’حارث‘‘(۳۶)اوربعض نے ’’حرث‘‘(۳۷) ذکرکیا جبکہ قاموس(۳۸)میں ’’جنادہ‘‘ کے نام سے موجود ہے ان کے قبیلہ کانام’’سلمانی‘‘(۳۹)یا’’سلمانی ازدی‘‘(۴۰)بیان ہوا ہے یہ صحابی رسولؐ ’’عذیت الھجانات‘‘کے مقام پرامام حسینؑ کے حضورشرفیاب ہوئے اسی دوران’’حر‘‘امام حسینؑ کاراستہ روک کرانھیں گرفتار کرناچاہتا تھا جبکہ امامؑ کی شدیدمخالفت کی وجہ سے اس کام سے باز رہا امام علیہ السلام ان تازہ شامل ہونے والے افراد (جیسے جنادہ بن حارث)کے ذریعے کوفہ کے حالات سے مطلع ہوئے اس وقت سے لے کر روزعاشور تک ساتھ رہے صبح عاشور جنادہ بعض دیگر افراد کے ساتھ تلوار ہاتھ میں لے کردشمن کے لشکر پرحملہ آور ہوئے دشمن کے نرغہ میں جانے کی وجہ سے تمام افراد ایک مقام پردرجۂ شہادت پرفائز ہوئے۔(۴۱)زیارت رجبیہ وناحیہ میں ان پر’’سلام ‘ ‘ ذکرہوا ہے۔

-6جندب بن حجیر الخولانی الکوفی:

’’جندب بن حجیر کندی خولانی‘‘یا’’جندب بن حجر‘‘(۴۲)پیغمبر اکرم ؐ کے عظیم صحابی اوراہل کوفہ میں سے تھے یہ ان افراد میں سے ہیں جنھیں حضرت عثمان نے کوفہ سے شام بھیجا تھا جنگ صفین میں بھی شرکت کی اورحضرت علی علیہ السلام کی طرف سے قبیلہ’’ کندہ اورازد‘‘ کے لشکر کے سپہ سالار مقرر ہوئے اورواقعہ کربلا میں امام حسینؑ کے ہمرکاب جنگ کرتے ہوئے شہیدہوئے۔(۴۳)

صاحب وسیلۃ الدارین لکھتے ہیں:’’قال ابن عساکر فی تاریخہ ھوجندب بن حجیر بن جندب بن زھیر بن الحارث بن کثیر بن جثم بن حجیر الکندی الخولانی الکوفی یقال لہ صحبۃ مع رسول اللہ وھو من اھل الکوفہ وشھد مع النبیؐ۔۔۔۔۔۔وقال علماء السیر ومنھم الطبری:انہ قاتل جندب بن حجیربین یدیہ الحسینؑ حتی قتل فی اول القتال۔۔۔۔۔۔‘‘(۴۴)

مندرجہ بالا ترجمہ کے مطابق یہ صحابی رسولؐ اورشہدائے کربلا میں سے تھے۔

جندب بن حجیر کے صحابی رسولؐ ہونے میں اتفاق ہے لیکن مقام شہادت میں اختلاف ہے ابن عساکر انھیں جنگ صفین کے شہداء میں ذکرکرتے ہیں۔(۴۵)لیکن بعض دیگر معتبر منابع انھیں شہدائے کربلا میں شمار کرتے ہیں تنقیح المقال میں ان کاترجمہ اس طرح ہے:’’۔۔۔شھد الطف۔۔۔وعدہ الشیخ من رجالہ من اصحاب الحسینؑ واقول ھوجندب بن حجیرالکندی الخولانی الکوفی وذکراھل السیر انّ لہ صحبۃ و۔۔۔‘‘(۴۶)

نیز رجال طوسی ’’اقبال‘‘اور’’اعیان الشیعہ‘‘میں بھی شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکر کیاگیا ہے۔(۴۷)

جندب کوفہ کے نامداراورمعروف شیعہ افراد سے تعلق رکھتے تھے کوفہ کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے وہاں سے نکل پڑے عراق میں حرکالشکر پہنچنے سے قبل حضرت امام حسینؑ سے مقام ’’حاجر‘‘میں ملاقات کی اورامام ؑ کے ہمراہ وارد کربلا ہوئے جب روز عاشور(عمرسعد کی طرف سے)جنگ شروع ہوئی یہ دشمن کامقابلہ کرتے ہوئے پہلے حملہ میں مقام شہادت پرفائز ہوئے۔(۴۸)

-7حبیب بن مظاہر الاسدی:

خاندان بنی اسد کے معروف فرد حضرت رسول اکرمؐکے صحابی اور امام علی ، امام حسن وامام حسین علیھم السلام کے وفادار ساتھی تھے(۴۹)عسقلانی ان کاترجمہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ’’حبیب بن مظاہر بن رئاب بن الاشتر۔۔۔الاسدی کان صحابیاً لہ ادراک وعمرحتی قتل مع الحسینؑ یوم الطف مع ابن عمہ ربیۃ بن خوط بن رئاب مکنی اباثور‘‘(۵۰)

معتبر منابع میں ان کے حالات زندگی اورکربلا میں جہاد کاذکر مفصل ملتا ہے حبیب بن مظاہر حضرت علی علیہ السلام کے شاگردخاص اوروفادار صحابی تھے اپنے مولاعلیؑ کے ساتھ کئی جنگوں میں شرکت کی بہت سے علوم پردسترس تھی زہدوتقویٰ کے مالک تھے ان کاشمار پارسان شب اورشیران روز میں ہوتا ہے ہرشب ختم قرآن کرتے تھے۔(۵۱)

صاحب رجا ل کشی (اختیار معرفۃ الرجال) ،فضیل بن زبیر کے حوالہ سے حضرت حبیب بن مظاہر اورمیثم تمار کے مابین ہونے والے مکالمے کونقل کرتے ہیں جس میں یہ دونوں حضرات اپنی شہادت سے متعلق پیش آنے والے حالات سے ایک دوسرے کوآگاہ کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے یہ تربیت شدہ شاگرد’’علم باطن‘‘اور’’علم بلایا ومنایا‘‘(آئندہ آنے والی مشکلات ومصائب)پرکس قدر تسلط رکھتے تھے تفصیلی مکالمہ ملاحظہ ہو۔ ’’رجال کشی ص۷۸‘‘

حضرت حبیب بن مظاہر کاشمار راویان حدیث میں بھی ہوتا ہے روایت میں ہے کہ حبیب ایک مرتبہ امام حسینؑ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ حضرات قبل از خلقت آدمؑ کس صورت میں تھے؟حضرت امام حسینؑ نے فرمایا:’’ہم نورکی مانند تھے اورعرش الٰہی کے گردطواف کررہے تھے اورفرشتوں کوتسبیح وتمحید وتھلیل سکھاتے تھے۔(۵۲)

حضرت حبیب ان افراد میں شامل تھے جنھوں نے سب سے پہلے امام حسینؑ کوکوفہ آنے کی دعوت دی(۵۳)پھرجب حضرت مسلم بن عقیل کوفہ پہنچے توسب سے پہلاشخص جس نے حضرت مسلم کی حمایت اوروفاداری کااعلان کیا عابس بن ابی شبیب شاکری تھے اس کے بعد حبیب بن مظاہر کھڑے ہوئے اورعابس شاکری کی بات کی تائید کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے:’’خدا تم پررحم کرے کہ تونے بہترین انداز میں مختصر الفاظ کے ساتھ اپنے دل کاحال بیان کردیا خدا کی قسم میں بھی اسی نظریہ پرپختہ یقین رکھتا ہوں جیسے عابس نے بیان کیا ہے۔(۵۴)

اس طرح حبیب حضرت مسلم کے بہترین حامی تھے اورمسلم بن عوسجہ کے ساتھ مل کرحضرت مسلم بن عقیل کے لئے لوگوں سے بیعت لیتے تھے (۵۵)لیکن جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کے بعداہل کوفہ کی بے وفائی کی وجہ سے ان کے قبیلہ والوں نے مجبوراً ان دونوں(حبیب اورمسلم بن عوسجہ)کو مخفی کردیا لیکن جونہی حبیب بن مظاہر کوامام حسین علیہ السلام کے کربلا پہنچنے کی خبر ملی تورات کے وقت سے فائدہ اٹھا کرحضرت ؑ سے جاملے حالت یہ تھی کہ دن کومخفی ہوجاتے اوررات کوسفر کرتے یہاں تک کہ اپنی دلی آرزو کوپالیا۔(۵۶)

اگرچہ بعض منابع نے ذکر کیا ہے کہ حضرت امام حسینؑ کوجب جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی توآپؑ نے حبیب بن مظاہر کوخط لکھ کر بلایا(۵۷)لیکن یہ مطلب معتبر ذرائع کی روسے ثابت نہیں۔(۵۸)

کربلا پہنچنے کے بعد جب عمرسعد کے لشکر میں اضافہ ہوتا دیکھا توامام ؑ سے اجازت لے کر اپنے قبیلہ ’’بنی اسد‘‘ کے پاس گئے اورمفصل خطاب کے بعد انھیں امام حسینؑ کی مدد ونصرت کے لئے درخواست کی جس کاخلاصہ ملاحظہ فرمائیے:’’۔۔۔میں تمہارے لئے بہترین تحفہ لایا ہوں وہ یہ کہ درخواست کرتا ہوں فرزند رسولؐ کی مدد کے لئے تیار ہوجاؤ۔۔۔نواسۂ رسولؐ آج عمرسعد کے بائیس ہزار لشکر کے محاصرہ میں ہے آپ لوگ میرے ہم قبیلہ ہیں میری بات پرتوجہ کریں تاکہ دنیا وآخرت کی سعادت تمہیں نصیب ہوسکے خدا کی قسم تم میں سے جوبھی فرزند رسول خداؐ کے قدموں میں جان قربان کرے گا مقام اعلیٰ علیین پرحضرت رسول خداؐ کے ساتھ محشور ہوگا۔(۵۹)حضرت حبیب کی تقریر اتنی موثر تھی کہ بہت سے لوگوں نے اس آواز پرلبیک کہا اورحضرت امام حسین علیہ السلام کاساتھ دینے کے لئے آمادہ وتیارہوگئے لیکن ’’ارزق بن حرب صیدادی‘‘ ملعون نے چارہزار سپاہیوں کے ساتھ ان افراد پرحملہ کرکے انھیں منتشر کردیا حبیب نے یہ اطلاع حضرت امامؑ کوپہنچائی جب حضرت امام حسینؑ اپنے خدا سے رازونیاز کرنے کے لئے عصرتاسوعا(نہم محرم)کودشمن سے مہلت طلب کی تواس دوران ’’حبیب ‘‘ نے لشکر عمرسعد کوموعظہ ونصیحت کرتے ہوئے کہا:’’خدا کی قسم!کتنی بری قوم ہوگی کہ جب فردائے قیامت اپنے پیغمبرؐ کے حضور حاضر ہوں گے توایسے حال میں کہ اسی رسولؐ کے نواسہ اور ان کے یاروانصار کے خون سے اس کے ہاتھ آلودہ ہوں گے۔‘‘

شہادت کی موت سے محبت کایہ عالم ہے کہ جب شب عاشور اپنے ساتھ ’’یزید بن حصین ‘‘سے مزاح کرتے ہیں تویزید بن حصین نے کہا کہ یہ کیسا وقت ہے مزاح کاجبکہ ہم دشمن کے محاصرے میں ہیں اورہم موت کے منہ میں جانے والے ہیں توحبیب نے کہا اے دوست اس سے بہتر کونسا خوشی کاوقت ہوگا جبکہ ہم بہت جلد اپنے دشمن کے ہاتھوں شہید ہوکربہشت میں پہنچنے والے ہیں۔(۶۰)

ایک روایت کے مطابق شب عاشور جب ہلال بن نافع نے حبیب بن مظاہر کوبتایا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا پریشان ہیں کہ میرے بھائی حسینؑ کے صحابی کہیں بے وفائی نہ کرجائیں توآپ تمام اصحاب کوجمع کرکے درخیمہ پرلائے اورحضرت زینب ؑ کی خدمت میں صمیم دل سے اظہار وفاداری کیااوراپنی جانوں کانذرانہ پیش کرنے کادوبارہ عہد کیاتاکہ حضرت زینبؑ کی یہ پریشانی ختم ہوسکے۔(۶۱)

صبح روز عاشور حضرت امام حسینؑ نے اپنے لشکر کومنظم کیا دائیں طرف موجود لشکر کی کمانڈ زہیربن قین اوربائیں طرف حبیب بن مظاہر جبکہ قلب لشکر کی سربراہی حضرت ابوالفضل العباس ؑ کے سپرد کی اسی اثنا میں دشمن کے سپاہی وارد میدان ہوکرمبارزہ طلب کرتے ہیں توحبیب مقابلہ کے لئے آمادہ ہوئے لیکن حضرت امام ؑ نے روک لیا اس طرح ظہرعاشور جب امام ؑ نے لشکر عمرسعد سے نماز ادا کرنے کی خاطر جنگ بندی کے لئے کہا توایک ملعون نے گستاخی کرتے ہوئے کیا کہ تمہاری نماز قبول نہیں ہوگی(نعوذباللہ)اس وقت حضرت حبیب سے برداشت نہ ہوا اورفوراً یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے ’’اے حمار(گدھے)!تیرے خیال باطل میں آل پیغمبرؐ کی نماز قبول نہیں؟! اورتمہاری نماز قبول ہے؟!!‘‘اس طرح دونوں کامقابلہ ہوا حبیب نے اس ملعون کوزمین پرگرادیا پھرباقاعدہ رجز پڑھتے ہوئے وارد میدان ہوئے شدید جنگ کی دشمن کے کئی افراد کوواصل جہنم کیا لیکن ایک تیمی شخص نے تلوار کاوار کیاجس کی تاب نہ لاکرآپ شہید ہوگئے اس نے آپ کے سرکوجداکرلیااسی سرکوبعد میں گھوڑے کی گردن میں باندھ کرکوفہ میں پھرایا گیا گویا کوفہ کانامور مجاہد اہل کوفہ سے یہ کہہ رہاتھا دیکھو یہ سرآل رسولؐ کی خاطر کٹ سکتا ہے لیکن دشمن کے سامنے جھک نہیں سکتا (۶۲)السلام علیک یاحبیب بن مظاھرالاسدی۔

-8زاھر بن عمروالاسلمی:

’’زاھر‘‘شجاع اوربہادر شخص تھے صحابی رسولؐ اوراصحاب شجرہ میں سے تھے اورمحبین اہل بیت علیھم السلام میں ان کا شمار ہوتا ہے حضرت رسول خداؐ کے ہمراہ غزوہ حدیبیہ اورجنگ خیبرمیں شریک ہوئے۔

ذبیح اللہ محلاتی وسیلۃ الدارین کی عبار نقل کرتے ہیں:’’قال العسقلانی فی الاصابہ ھوزاھر بن عمرو بن الاسود بن حجاج بن قیس الاسدی الکندی من اصحاب الشجرۃ وسکن الکوفہ وروی عن النبیؐ وشھدالحدیبیہ وخیبر۔۔۔۔۔۔‘‘(۶۳)

’’۔۔۔۔۔۔زاھر درحقیقت زاھر بن عمرو۔۔۔الکندی ہیں جواصحاب شجرہ میں سے تھے کوفہ میں مقیم تھے اورحضرت رسول خداؐ سے روایت بھی نقل کی ہے حدیبیہ اورخیبر میں شریک تھے۔‘‘

ان کے بیٹے ’’مجزأۃ‘‘نے اپنے باپ کے واسطہ سے پیغمبر اکرمؐ سے روایت بیان کی ہے فوق الذکر مطلب مختصر فرق کے ساتھ دیگر منابع میں بھی موجو د ہے(۶۴) لیکن بعض محققین کے خیال میں زاھر اورزاھر اسلمی دوالگ الگ افراد ہیں۔(۶۵)

البتہ تنقیح کی عبارت میں انھیں اصحاب شجرہ اورشہدائے کربلا میں شمار کیاگیا ہے’’ زاھر اسلمی والدمجزأۃ من اصحاب الشجرہ‘‘ نیز فرماتے ہیں:’’زاھر صاحب عمرو بن الحمق شھید الطف فوق الوثاقہ وعدہ الشیخ فی رجالہ من اصحاب ابی عبداللہ واقول ھوزاھر بن عمروالاسلمی الکندی من اصحاب الشجرہ روی عن النبیؐ وشھد الحدیبیہ وخیبر وکان من اصحاب عمربن الحمق الخزاعی کمانص علی ذالک اھل السیرو۔۔۔‘‘(۶۶)

مذکورہ بالا عبارت سے ظاہرہوتا ہے کہ ’’زاھر‘‘نام کے دواشخاص ہیں لیکن مرحوم مامقانی کی نظرمیں زاھر بن عمرواسلمی کاشمار اصحاب شجرہ اورشہدائے کربلا میں ہونا ثابت ہے نیز بیان کرتے ہیں کہ یہ محب اہل بیتؑ تھے بہت بڑاتجربہ کارپہلوان اوربہادرشخص تھا امام علیؑ کی شہادت کے بعد ’’عمربن حمق‘‘کے ساتھ مل کر معاویہ کی ظالمانہ حکومت اورابن زیاد کے خلاف برسرپیکار رہا جب معاویہ نے ان کی گرفتاری اورقتل کاحکم صادر کیاتویہ دونوں شہرسے فرار کرگئے پہاڑوں اورجنگلوں میں زندگی بسرکرنے لگے یہاں تک کہ ’’عمروبن حمق‘‘حکومتی کارندوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعدشہید کردیاگیا لیکن زاھر زند ہ رہا آخرکار ۶۰ ؁ ھ میں حج کے موقعہ پرامام حسینؑ کی خدمت میں شرفیاب ہوا اورآپؑ کے ساتھ مل کرکربلا کی جنگ میں شرکت کی عاشورا کے دن پہلے حملے میں جام شہادت نوش کیا۔(۶۷)

زیارت ناحیہ اوررجبیہ میں سلام ان الفاظ میں ذکرہوا السلام علی زاھر مولیٰ عمروبن حمق(۶۸)

-9زیاد بن عریب ابوعمرو:

قدیم محققین نے ان سے متعلق کوئی مطلب بیان نہیں کیا لیکن بعض معاصر نے ان کاترجمہ اس طرح درج کیا ہے:’’زیاد بن عریب بن حنظلہ بن دارم بن عبداللہ بن کعب الصائدبن ھمدان‘‘(۶۹)ابوعمروزیاد بن عریب نے حضرت پیغمبرؐ کے محضر مبارک کودرک کیا ان کے والدبزرگوار بھی صحابی رسول تھے ابوعمروشجاع، عابد وزاھداورشب زندہ دار شخص تھے زیادہ نمازگزار تھے زہدوتقویٰ کی وجہ سے عزت دینی نے آرام سے نہ بیٹھنے دیالہذا واقعہ کربلا میں اپنا کردار اداکرنے کی غرض سے حضرت امام حسینؑ کی خدمت میں پہنچے اوردشمن کے خلاف جہادومبارزہ کرنے کے بعد درج ۂ شہادت پرفائز ہوئے۔(۷۰)

-10سعد بن الحارث مولی امیرالمؤمنینؑ :

سعدبن حرث خزاعی کے نام سے معروف ہیں قدیم منابع میں ان کانام شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکرنہیں لیکن بعض متاخرین نے شہیدکربلا کے عنوان سے ان کے حالات زندگی قلمبندکیے ہیں سعد بن حرث خزاعی نے محضر پیغمبراکرمؐ کودرک کیااس لحاظ سے صحابی رسولؐ ہیں پھرامیرالمؤمنینؑ کے ہمراہ رہے حضرت نے انھیں کچھ عرصہ کے لئے سپاہ کوفہ کی ریاست سونپی تھی نیز کچھ مدت کے لئے انھیں آذربائیجان کاگورنر بھی منصوب کیا صاحب فرسان نے’’ حدایق الوردیہ‘‘ ،’’ ابصارالعین‘‘،’’ تنقیح المقال‘‘ اور’’الاصابہ‘‘ جیسی معتبر کتب سے ان کے حالات نقل کیے ہیں۔(۷۱) نیز الاصابہ سے سعد کاترجمہ یوں نقل کیا ہے لیکن الاصابہ میں مراجع کرنے سے یہ مطلب نہیں ملا۔

’’سعید بدل سعد بن الحارث بن شاربہ بن مرۃ بن عمران بن ریاح بن سالم بن غاضر بن حبشہ بن کنجب الخزاعی مولیٰ علی بن ابی طالبؑ لہ ادارک وکان علی شرطۃٍ علی ؑ فی الکوفہ وولاۃ آذربایجان ۔۔۔۔۔۔‘‘(۷۲)

وسیلۃ الدارین نے بھی ص۱۲۸ پر صحابی اورشہیدکربلا کے عنوان سے ذکرکیا ہے تنقیح المقال کی عبارت میں بھی اس طرح موجود ہے:

’’سعد بن الحارث الخزاعی مولیٰ امیرالمؤمنین صحابی امامی شہید الطف ثقہ‘‘ مذید لکھتے ہیں کہ سعد بن الحارث لہ ادراک الصحبۃ النبیؐ وکان علی شرطۃ امیرالمؤمنین فی الکوفہ وولاۃ آذربائیجان(۷۳)

مذید تفصیلات ان کتب میں موجو د نہیں البتہ اتنا ضرور ملتا ہے کہ’’ سعد‘‘ امیرالمؤمنین ؑ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن وامام حسین ؑ کاہرمیدان میں یارومددگار رہا جب حضرت امام حسینؑ نے قیام کیاتو ابتداء میں اپنے مولا کی خدمت میں مکہ میں جاملے پھرمکہ سے کربلا آئے اورروزعاشور جنگ کرتے ہوئے جان قربان کردی۔(۷۴)

اس بات کاذکرضروری ہے کہ’’ مرحوم محقق شوشتری‘‘ نے اپنی کتاب میں ان کے صحابی ہونے پرتنقید کی ہے اس دلیل کی بنا پرکہ اگرصحابی ہوتے توقدیم منابع نے کیوں ذکر نہیں کیا(۷۵)لیکن مذکورہ بالا بعض معتبر منابع میں ان کاذکر صحابی رسولؐ ہونے کے عنوان سے آجانا ہمارے مطلب کے اثبات کے لئے کافی ہے۔

-11شبیب بن عبداللہ مولیٰ الحرث:

’’شبیب بن عبداللہ بن شکل بن حی بن جدیہ‘‘حضرت رسول اکرمؐ کے صحابی اورکوفہ کی معروف ومشہور شخصیت اوربڑے بافضیلت انسان تھے(۷۶)جہاں بھی ظلم وستم دیکھا اس کے خاتمہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے یہی وجہ ہے کہ جنگ جمل وصفین ونہروان میں بھی شرکت کی اورحضرت علیؑ کے وفادار یارومددگار رہے (۷۷)

مختلف معتبرمنابع میں ان کاذکر موجود ہے جیسے’’ رجال طوسی‘‘،’’ استرآبادی‘‘،’’ تنقیح‘‘، ’’ مقتل ابی مخنف‘‘، ’’ تاریخ طبری‘‘ وغیرہ۔’’تنقیح‘‘ میں ان کاترجمہ اس طرح درج ہے:

’’شبیب بن عبداللہ مولی الحرث صحابی شہیدالطف ،فوق الوثاقہ ‘‘شبیب سیف بن حارث اورمالک بن عبداللہ کے ہمراہ کربلا پہنچے اوراپنے مولااما م حسینؑ کی اطاعت میں جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔کتاب روضۃ الشھداء ص۲۹۵ میں ان پرسلام نقل ہوا ہے :السلام علی شبیب بن عبداللہ مولیٰ بن سریع ۔

-12شوذب بن عبداللہ الھمدانی الشاکری:

جناب شوذب صحابی رسول اورحضرت علیؑ کے باوفا ساتھی تھے مرحوم’’ زنجانی‘‘ نے علامہ’’ مامقانی‘‘ سے ان کاترجمہ نقل کیا ہے :’’ذکرالعلامہ مامقانی فی رجالہ شوذب بن عبداللہ الھمدانی الشاکری ان بعض من لایحصل لہ ترجمہ تخیل انّہ شوذب مولی عابس والحال ان مقامہ اجل من عابس من حیث العلم والتقویٰ وکان شوذب صحابیاً واشترک مع امیرالمؤمنینؑ ۔۔۔‘‘(۷۸)

شوذب علم وتقویٰ کے اعتبار سے بلندپایہ شخصیت تھے کوفہ کی معروف علمی شخصیت ہونے کی وجہ سے اہل کوفہ کے لئے حضرت امیرالمومنین ؑ کی احادیث نقل کرتے تھے امام علیؑ کے ساتھ تینوں جنگوں میں شریک رہے۔

جب حضرت مسلم بن عقیل کوفہ میں پہنچے توان کی بیعت کرنے کے بعد حضرت امام حسینؑ تک اہل کوفہ کے مذید خطوط پہنچانے میں عابس شاکری کے ہمراہ رہے۔نہایت مخلص اورعابد وزاھد انسان تھے بڑھاپے کے عالم میں بھی ظلم کے خلاف عملی کردار ادا کیا کوفہ میں حضرت مسلم کی شہادت کے بعد عابس شاکری کے ہمراہ حضرت امام حسینؑ کی خدمت میں کربلا پہنچتے ہیں جب حنظلہ بن سعد شبامی شہید ہوگئے توعابس نے شوذب سے پوچھا کہ کیاخیال ہے ؟کہتے ہیں تیرے ہمراہ فرزند رسول خداؐ کی نصرت کے لئے جنگ کرنا چاہتا ہوں تاکہ شہادت کامقام حاصل کرسکوں عابس نے کہا اگر یہ ارادہ ہے توامام ؑ کے پاس جاکر اجازت طلب کروحضرت امام ؑ کی خدمت میں حاضر ہوکراجازت جہاد حاصل کی اورواردجنگ ہوئے چند دشمنوں کوواصل جہنم کیا آخر میں شہید ہوگئے(۷۹) ان الفاظ میں زیارت رجبیہ اورزیارت ناحیہ میں ان پرسلام بھیجا گیاہے السلام علی شوذب مولی شاکر(۸۰)

قابل توجہ امریہ ہے کہ بعض خیال کرتے ہیں کہ’’ شوذب ‘‘،’’عابس شاکر ‘‘کے غلام تھے جبکہ اہل علم حضرات سے پوشیدہ نہیں کہ لفظ مولی صرف غلام کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ’’ ہم پیمان‘‘ کے معنی بھی استعمال کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض محققین نے لکھا ہے کہ چونکہ شوذب مقام علمی ومعنوی کے اعتبار سے عابس پربرتری رکھتے تھے لہذا انھیں غلام عابس نہیں کہہ سکتے بلکہ عابس اوراس کے قبیلہ کے ہم پیمان وہم عہد تھے(۸۱)یہی دلیل علامہ مامقانی سے نقل شدہ ترجمہ میں بیان کی گئی ہے۔

-13عبدالرحمٰن الارحبی:

حضرت رسول اکرمؐ کے بزرگ صحابی تھے تمام معتبرمنابع میں ان کاذکرموجود ہے جیسے ’’رجال شیخ طوسی‘‘،’’ رجال استرآبادی‘‘، ’’ مامقانی‘‘ ،نیز ’’الاستیعاب‘‘،’’ الاصابہ‘‘ اور’’وسیلۃ الدارین‘‘ نے بھی نقل کیاہے تاریخ طبری اورالفتوح میں ان کے بعض واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔

’’الاستیعاب‘‘ کی عبارت اس طرح ہے:’’۔۔۔ھوعبدالرحمن بن عبداللہ بن الکدن الارحبی۔۔۔۔۔۔‘‘انہ کان من اصحاب النبیؐ لہ ھجرۃ۔۔۔

معاویہ بن ابی سفیان کی وفات کی خبر جب کوفہ پہنچی توکچھ لوگ’’ سلمان بن صرد خزاعی‘‘ کے گھرجمع ہوئے تاکہ اجتماعی طور پرحضرت امام حسین ؑ کوخط لکھ کردعوت دیں اورخلافت کوان کے سپرد کریں نیز کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر کوکوفہ سے باہرنکال دیں ان خطوط کو’’قیس مسہرصیداوی‘‘ ، عبدالرحمٰن ارحبی اورعمارۃ بن عبداللہ السلولی لے کرحضرت امام حسینؑ کی خدمت میں ہوئے اس طرح یہ گروہ دوم تھا جوحضرت ؑ کودعوت دینے کے لئے آیا کیونکہ پہلا گروہ عبداللہ بن سمیع کی قیادت میں حضرت کی خدمت میں حاضرہوا تھا۔

عبدالرحمٰن ارحبی شجاع تجربہ کار فاصل اورفصیح وبلیغ صحابی تھے (۸۲)۵۰ یا ۵۳(۸۳)ددعوت نامے لے کر۱۲ رمضان المبارک ۶۰ ؁ ھ کومکہ کی طرف روانہ ہوئے بعض مورخین نے لکھا ہے کہ عبدالرحمٰن ارحبی ۱۵۰ افراد پرمشتمل ایک وفد کے ہمراہ حضرت امام حسینؑ کی خدمت اقدس میں پہنچے۔(۸۴)

مکہ میں حضرت امام ؑ کواپنی وفاداری کایقین دلایا پھر حضرت کے نمائندہ خاص جناب امیرمسلم کے لئے کوفہ میں انقلابی سرگرمیوں میں مشغول رہے کوفہ میں حالات خراب ہونے کے بعد کربلا میں دشمنان دین کے خلاف جنگ میں شرکت کی جب عمربن سعد نے امام حسینؑ کے قتل کاپختہ ارادہ کرلیا تواس صحابی رسولؐ نے اپنی جان کی بازی لگاکربھی اپنے مولا وآقا کی حمایت کااعلان کیا اپنی شجاعت کے کارنامے دکھا نے کے علاوہ فصاحت وبلاغت کے ذریعے بھی حسین ابن علیؑ کی حقانیت اوربنوامیہ کے بطلان کواپنے اشعارمیں واضح کیا تاریخ میں اس وفادار صحابی کے جورجز بیان ہوئے ہیں اس زمانہ کی بہترین عکاسی کرتے ہیں کیونکہ بنوامیہ نے اسلام کے نام پراسلام کی نابودی کاتہیہ کررکھا تھااس لئے وہ اصحاب کرام جواب پیغمبر اکرمؐ کے قول وفعل کے ذریعے حقیقی اسلام کے راہبر کی شناخت کرچکے تھے آج دشمنان دین کواسلام کے حقیقی راہبر کی اطاعت وفرمانبرداری کی طرف دعوت دینا اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں عبدالرحمٰن کے رجز کاایک مصرعہ یوں ہے:

انی لمن ینکرنی ابن الکدن انی علی دین حسین وحسن(۸۵)

اس طرح امام حسینؑ کو’’دین حق‘‘ کاعلمبردار سمجھتے ہوئے ان کے قدموں میں اپنی جان کانذرانہ پیش کرتے ہیں اس شہید باوفا پرزیارت ناحیہ میں ان الفاظ میں سلام پیش کیاگیا ہے:السلام علی عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کدرالارحبی(۸۶)

-14عبدالرحمٰن بن عبدربہ الخزرجی:

مختلف منابع نے ان کے لئے صحابی رسولؐ ہونے کی گواہی دی ہے انھیں بعض نے انصاری بھی لکھا ہے اصل میں مدینہ میں مقیم تھے جب پیغمبراسلامؐ نے مدینہ میں ہجرت فرمائی تواوس وخزرج قبائل نے اسلام قبول کیااس وقت سے ان سب کوانصاری کہاجاتا تھا صاحب قاموس الرجال نقل کرتے ہیں کہ ’’عبدالرحمٰن بن عبدربہ الانصاری الخزرجی کان صحابیاً لہ ترجمۃ ورویۃ وکان من مخلص اصحاب امیرالمؤمنین علیہ السلام‘‘(صحابی رسولؐ تھے جن سے روایت بھی نقل ہوئی ہے اورحضرت امیرعلیہ السلام کے مخلص اصحاب میں سے تھے)

جس روایت کاتذکرہ کیاگیا ہے یہ درحقیقت ’’غدیرخم‘‘ کے مقام پرپیغمبراسلامؐ کی جانب سے ولایت علیؑ کاواضح اعلان کرنا ہے پھرجب وفات پیغمبر ؐ کے بعد اکثر افراد جن میں بعض نے دنیاوی مقاصد اوربعض نے خوف کی وجہ سے علی علیہ السلام خلیفۂ بلافصل تسلیم نہ کیا توایک مرتبہ رحبہ کے مقام حضرت علیؑ نے لوگوں کوقسم دے کر پوچھا کہ جس نے پیغمبرؐ سے میرے بارے میں کوئی حدیث فضیلت سنی ہوتوبلند ہوکربیان کرے اسی اثنا میں عبدالرحمٰن خاموش نہ بیٹھ سکے اوراٹھ کرکہا کہ میں نے غدیر خم کے مقام پررسول خداؐ کویہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ فرمایا:’’من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ‘‘(جس جس کامیں مولا وسردار ہوں اس کایہ علیؑ مولاوسردار ہے)

مناسب ہوگا کہ الاصابہ فی تمیز الصحابہ کی عبارت نقل کی جائے العسقلانی یوں رقمطراز ہیں:

’’عبدالرحمٰن بن عبدرب الانصاری ذکرہ ابن عقدہ فی کتاب المولاۃفی من روی حدیث:من کنت مولاہ فعلیٌّّ مولاہ وساق من طریق الاصبغ بن نباتہ قال لما نشدعلیٌّ الناس فی الرحبہ من سمع النبی ؐ یقول یوم غدیر خم ماقال الاقام ، ولایقوم الامن سمع ، فقام بضعۃ عشررجلاً منھم :’’ابوایوب‘‘،’’ ابوزینب‘‘ و’’عبدالرحمٰن بن عبدرب‘‘ فقالوا نشھد انا سمعنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول ’’ان اللہ ولی وانا ولی المومنین ؛فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘(۸۷)

اس عظیم محقق کی عبارت کے مطابق دس سے زیادہ افراد کھڑے ہوئے اورگواہی دی کہ ہم نے سنا تھا کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:بے شک اللہ ولی ہے میں بھی مومنین کاولی ہوں پس جس کامیں مولا ہوں اس کاعلی ؑ مولا ہے۔

ابصارالعین نے بھی بیان کیا ہے کہ’’کان ھذا صحابیاً وعلمہ امیرالمؤمنین القرآن ورباہ وھواحدرواۃ حدیث من کنت مولاہ۔۔۔حین طلب علیہ السلام۔۔۔۔۔۔‘‘

یعنی یہ صحابی پیغمبرؐ تھے حضرت علیؑ نے ان کی تربیت کی اورانھیں قرآن مجید کی تعلیم دی اورمن کنت مولاہ کی حدیث کو اس صحابی نے اس وقت بیان کیا جب حضرت علیؑ نے گواہی طلب کی تھی(۸۸)

پیغمبرؐ کی وفات کے بعدکوفہ میں سکونت اختیار کرلی اورکوفہ کی معروف شخصیت تھے یہی وجہ ہے کہ کوفہ میں امام حسینؑ کے لئے لوگوں سے بیعت طلب کرتے تھے لیکن جب کوفہ میں امام حسینؑ کے لئے راہ ہموار کرنے میں ناکام ہوئے تو کربلا میں امام ؑ سے ملحق ہوکردشمن کیخلاف جنگ لڑتے ہوئے پہلے حملہ میں یابعداز ظہر (۸۹) شہید ہوگئے۔

-15عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب:

کتاب’’ شہدائے کربلا ‘‘نے درج ذیل عبارت’’ الاصابہ‘‘ سے نقل کی ہے:’’ابوالھیاج عبداللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بن ھاشم الھاشمی(۹۰) لیکن جب مراجع کیاتوہمارے ہاں موجود’’ الاصابہ‘‘ کی عبارت اس طرح تھی:’’عبداللہ بن الحارث بن عبدالمطلب بن ھاشم الھاشمی ابن عم النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وکان اسمہ عبدشمس فغیرہ النبیؐ(۹۱)

ان کاباپ حضرت رسول اکرمؐ کاعموزاد اوربرادررضاعی تھا یہ صحابی رسولؐ ؐ ،عظیم شاعربھی تھے اورانھوں نے پیغمبرؐ سے روایت بھی نقل کی ہے اپنے بعض اشعار میں حضرت علیؑ کی مدح وثنا بھی بیان کی ہے۔

حضرت رسول اکرمؐ کی وفات کے بعدامام علیؑ کے ساتھ رہے انھیں کے ہمرکاب مختلف جنگوں میں شرکت کی ایک مرتبہ جب حضرت عبداللہ کوعلم ہواکہ عمروعاص نے بنی ھاشم پرطعن وتشنیع اورعیب جوئی کی ہے تو عمروعاص پرسخت غصہ ہوئے اوراسے موردعتاب قرار دیا آخر تک اہل بیتؑ کے ہمراہ رہے کربلا میں جب حضرت امام حسینؑ کامعلوم ہواتو ان کی خدمت میں پہنچ کراپنی وفاداری کاعملی ثبوت دیا۔اس طرح عاشور کے دن رسول خداؐ کے نواسہ کی حمایت کرتے ہوئے یزیدی فوج کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔(۹۲)

-16عمرو بن ضبیعۃ:

مختلف منابع رجال ومقاتل میں ذکر ہوا ہے کہ یہ صحابی پیغمبرؐ تھے اورکربلا میں حضرت امام حسینؑ کے ہمرکاب شہادت پائی۔کتاب فرسان میں الاصابہ سے نقل کیاگیا ہے کہ ’’ھوعمروبن ضیبعۃ بن قیس بن ثعلبہ الضبعی التمیمی لہ ذکرفی المغازی۔۔۔‘‘نیز’’رجال استرآبادی‘‘ سے بھی نقل کرتے ہوئے یوں بیان ہوا ہے:’’قال المحقق استرآبادی فی رجالہ ھوعمروبن ضبیعہ۔۔۔وکان فارساً شجاعاً لہ ادراک(۹۳)

جناب مامقانی نے بھی انھیں صحابی ادراکی نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ تجربہ کار اورماہر جنگجو شخص تھا کئی ایک جنگوں میں شرکت کی نیز شجاعت میں شہرت رکھتا تھا(۹۴)

ابتدا میں عمرسعد کے لشکر کے ساتھ وارد کربلا ہوالیکن جب دیکھا کہ عمرسعد نواسہ رسولؐ کے قتل کاارادہ رکھتا ہے توفوراً حضرت امام حسینؑ کے ساتھ ملحق ہوگئے حملہ اولیٰ میں شہادت پائی زیارت ناحیہ میں عمر کے نام سے ذکرہوا ہے:السلام علی عمربن ضبیعہ الضجی(۹۵)

-17عون بن جعفر طیار:

کنیت ابوالقاسم ہے حضرت جعفربن ابیطالبؑ کے بیٹے ہیں اگرچہ سن ولادت واضح بیان نہیں ہوا لیکن چونکہ واقعہ کربلا میں ۵۴ یا۵۷ سال کے تھے لہذا امکان ہے کہ ۴ ؁ ھ یا ۵ ؁ ھ کوحبشہ میں ولادت ہوئی ہوگی۔

یعقوبی کے نقل کے مطابق حضرت رسول اکرمؐ نے جنگ موتہ میں حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد سال ہشتم ہجری میں عون اوران کے بھائی عبداللہ ومحمد کواپنی گود میں بٹھایا اورپیارکرتے رہے(۹۶) ایک روایت کے مطابق رسول اکرمؐ نے حضرت جعفرطیار کے بیٹوں کوبلایا اورسلمانی کو بلاکر کہا کہ ان بچوں کے سر کی اصلاح کرے اورپھرفرمایا:عون خلقت اوراخلاق میں میری شبیہ ہے الاصابہ میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے(۹۷)

جناب عون کا شمار حضرت علی ؑ کے یاروانصار میں ہوتا ہے حضرت علیؑ کے ہمراہ جنگوں میں بھی شریک رہے حضرت ام کلثومؑ (حضرت زینب صغری) کاعقد حضرت علی ؑ نے عون سے کردیا(۹۸)

حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد ہمیشہ امام حسن وحسین علیھاالسلام کے ساتھ رہے یہاں تک کہ جب حضرت امام حسینؑ یزیدبن معاویہ کے مظالم کی وجہ سے مدینہ سے روانہ ہوئے حضرت عون بھی اپنی زوجہ محترمہ کے ہمراہ اپنے مولا کے اس جہاد میں شریک رہے اورروز عاشور حضرت علی اکبرؑ کی شہادت کے بعد حضرت امام ؑ کی اجازت سے وارد میدان ہوئے ۳۰ سوار اور۱۸ پیادہ سپاہ یزید کوواصل جہنم کیا لیکن زیدرقاد جہنمی نے آپ کے گھوڑے کوزخمی کردیا جس کی وجہ سے آپ گھوڑے پرنہ سنبھل سکے پھر اس ملعون نے تلوار کاوار کرکے شہیدکردیا۔

ان کے رجز کوتاریخ نے یوں نقل کیا ہے:

ان تنکرونی فانا بن جعفر شھید صدق فی الجنان ازھر

یطیر فیھا بجناح اخضر کفی بھذٰا شرفاً فی المحشر(۹۹)

-18کنانہ بن عتیق:

جناب کنانہ کوفہ کے شجاع اورمتقی وپرہیزگار افراد میں سے تھے اوران کاشمار قاریان کوفہ میں ہوتا ہے(۱۰۰)

جناب کنانہ اوران کاباپ عتیق حضرت رسول اکرمؐ کے ہمرکاب جنگ احدمیں شریک ہوئے(۱۰۱)وسیلۃ الدارین نے کنانہ کے ترجمہ کورجال ابوعلی سے یوں نقل کیا ہے :’’قال ابوعلی فی رجالہ کنانۃ بن عتیق الثعلبی من اصحاب الحسینؑ قتل معہ بکربلا وقال العسقلانی فی الاصابہ ھوکنانۃ بن عتیق بن معاویہ بن الصامت بن قیس الثعلبی الکوفی شھداء احداً ھووابوہ عتیق فارس رسول اللہ(ص) وقدذکرہ ابن منذہ فی تاریخہ۔۔۔۔۔۔‘‘(۱۰۲)



خلاصہ کلام یہ ہے کہ ’’جناب کنانہ‘‘ بھی ان اصحاب رسول خداؐ میں سے ہیں جوحضرت امام حسین علیہ السلام کی مدد ونصرت کے لئے کربلا تشریف لائے اوراپنی جانوں کونواسہ رسولؐ کے قدموں میں نچھاور کیا زیارت رجبیہ اورناحیہ میں ان پرسلام پیش کیاگیاہے:السلام علی کنانۃ بن عتیق(۱۰۳)

-19مجمّع بن زیاد جھنّی:

حضرت رسول اکرمؐ کے اصحاب میں سے تھے جنگ بدرواحد میں شریک رہے مختلف منابع نے ان کوصحابی رسولؐ اورشھیدکربلا کے عنوان سے ذکرکیا ہے جیسے ذخیرۃ الدارین، حدایق ،ابصارالعین ،تنقیح المقال، اوروسیلۃ الدارین وغیرہ

کتاب’’ الدوافع الذایتہ‘‘ نے ’’الاستعیاب ‘‘سے عبارت نقل کی ہے کہ’’ ھومجمّع بن زیاد بن عمروبن عدی بن عمروبن رفاعہ بن کلب بن مودعۃ الجھنی شھدا بدراً واحداً

اس کے عبارت کے نقل کرنے کے بعدخود تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اَی انّہ صحابیٌ جلیل بناءً علی ذالک۔۔۔

تنقیح المقال نے بھی الاصابہ اورالاستعیاب سے اس طرح کی عبارت نقل کی ہے کہ یہ صحابی رسولؐ تھے بدرواحدمیں شریک بھی رہے لیکن ہمارے ہاں موجود الاصابہ میں یہ عبارت موجود نہیں۔

بہرحال جناب مجمع نے کوفہ میں حضرت مسلم کی بیعت کی سب لوگ حضرت مسلم کوچھوڑ گئے لیکن حضرت مجمع ان افراد میں سے تھے جوڈٹے رہے اورکوفہ میں حالات سازگار نہ ہونے کیوجہ سے کربلا میں حضرت امام حسینؑ سے ملحق ہوکریزیدی ارادوں کوخاک میں ملانے کی خاطر حضرت امام حسینؑ کاساتھ دیا یہاں تک کہ اپنی جان قربان کردی دشمن کربلا میں اس مجاہد کوآسانی سے شکست نہ دے سکا توان کامحاصرہ کرلیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شہیدہوجاتے ہیں۔(۱۰۴)

-20مسلم بن عوسجہ:

شیعہ وسنی کے تمام معتبر ترین منابع جیسے الاستعیاب، الاصابہ، طبقات بن سعد، تنقیح، تاریخ طبری وغیرہ میں ان کاذکر موجود ہے کہ یہ صحابی رسول خداؐ تھے اورصدراسلام کے بزرگ اعراب میں شمار ہوتے تھے ابتدائے اسلام کی بہت سی جنگوں میں شریک رہے غزوہ آذربائیجان اورجنگ جمل وصفین ونہروان میں بھی شرکت کی حضرت علیؑ کے باوفا یارومددگار تھے(۱۰۵)نیز مختلف صفات کے مالک بھی تھے شجاع وبہادر ہونے کے ساتھ ساتھ قاری قرآن ،عالم علوم اورمتقی وپرہیزگار ،باوفا اورشریف انسان تھے۔(۱۰۶)

حضرت مسلم بن عقیل کے کوفہ وارد ہوتے ہی ان کی مددونصرت میں پیش پیش تھے اوران کی حمایت میں لوگوں سے بیعت لیتے تھے نیز مجاہدین کے لئے اسلحہ کی فراہمی اوردیگر امدادی کاروائیوں میں مصروف رہے(۱۰۷)

حضرت مسلم وجناب ہانی بن عروہ کی شہادت کے بعد مخفی طورپررات کے وقت اپنی زوجہ کوساتھ لے کر حضرت امام حسینؑ کی خدمت میں پہنچے سات یاآٹھ محرم کومسلم کوفہ سے کربلا پہنچ گئے اورسپاہ یزید کے خلاف ہرمقام پرپیش پیش رہے۔جب امام ؑ نے حکم دیا کہ خیمہ کے اطراف میں آگ روشن کی جائے توشمرملعون نے آکر توہین آمیز جملات کہے جس پرمسلم بن عوسجہ نے حضرت امام حسینؑ سے عرض کی کہ اگراجازت دیں تواسے ایک تیرسے ڈھیر کردوں لیکن حضرتؑ نے فرمایا نہیں کیونکہ میں پسند نہیں کرتا کہ ہماری طرف سے جنگ کاآغاز ہو۔(۱۰۸)

شب عاشور جس وقت امام حسینؑ نے اپنے اصحاب کوچلے جانے کی اجازت دی توجہاں بعض دیگر اصحاب امام ؑ نے اپنی وفاداری کایقین دلایا وہاں حضرت مسلم بن عوسجہ نے جوتاثرات بیان کئے وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں عرض کی:’’خدا کی قسم!ہرگزنہیں چھوڑ کے جاؤں گا یہاں تک کہ اپنے نیزہ کودشمن کے سینہ میں توڑ نہ دوں‘خداکی قسم اگرستر بارمجھے قتل کردیاجائے پھرجلاکرراکھ کردیاجائے اورذرہ ذرہ ہوجاؤں پھراگرزندہ کیاجاؤں توبھی آپؑ سے جدانہیں ہونگا۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ ہربار آپؑ پراپنی جان قربان کرونگا اس لئے کہ جان توایک ہی جائے گی لیکن عزت ابدی مل جائے گی۔‘‘(۱۰۹)

حضرت مسلم بن عوسجہ عظیم صحابی رسول ؐوامامؑ ہیں کہ جن کوحضرت امام حسینؑ نے ایک آیت قرآنی کا مصداق قراردیا جب مسلم بن عوسجہ پچاس دشمنوں کوہلاک کرنے کے بعد شہید ہوگئے توحضرت امامؑ فوراً ان کی لاش پر پہنچے اورفرمایا:’’خداتم پررحمت کرے اے مسلم‘‘پھر سورۂ احزاب کی آیت ۲۳ کی تلاوت کی :(فمنھم من قضٰی نحبہ ومنھم من ینتظر ومابدلواتبدیلاً) اس طرح امام ؑ نے اپنے نانا رسول اللہؐ کے صحابی کوالوداع کہا :السلام علی مسلم بن عوسجہ الاسدی۔۔۔وکنت اول من اشتری نفسہ واول شھید شھداللہ

-21نعیم بن عجلان:

ایک روایت کے مطابق نعیم اوران کے دوبھائیوں نظرونعمان نے حضرت رسول اکرمؐ کودرک کیا اس طرح یہ صحابی ادرکی ہیں خزرح قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے حضرت رسول اللہ ؐ کی وفات کے بعد امام علی علیہ السلام کے ساتھ جنگ صفین میں حضرت کاساتھ دیاحضرت علیؑ نے ان کے بھائی نعمان کوبحرین کے علاقے کاوالی بنایا(۱۱۰)

نعیم کے دونوں بھائی حضرت امام حسن ؑ کے زمانہ میں انتقال کرگئے جبکہ نعیم کوفہ میں زندگی بسرکررہے تھے کہ مطلع ہوئے کہ حضرت امام حسینؑ عراق میں وار د ہوچکے ہیں کوفہ کوترک کرتے ہیں اورحضرت امام ؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر غیرت دینی کاعملی ثبوت پیش کرتے ہیں اورنواسۂ رسولؐ کے ساتھ اپنی وفاداری کااعلان کرتے ہوئے سپاہ یزید کے خلاف جنگ میں اپنے خون کاآخری قطرہ بھی قربان کردیتے ہیں۔(۱۱۱)کتاب مناقب کے مطابق روزعاشوراولین حملہ میں جام شہادت نوش کیا ۔(۱۱۲)زیارت ناحیہ اوررجبیہ میں ان پرسلام ذکرہواہے:السلام علی نعیم بن العجلان الانصاری(۱۱۳)

حوالہ جات:

(۱) نیل الاوطار،ج۷، ص۱۲۷ از ثورۃ العین ص۳۲۔

(۲) خلافت وملوکیت ،ص ۱۷۹۔

(۳) الاصابہ فی تمیز الصحابہ۔ ج۱۔ ص۶۔

(۴)اقبال الاعمال، ج۳، ص۷۹۔

(۵) وسیلۃ الدارین، ص۱۰۶۔

(۶) فرسان الھیجاء، ذبیح اللہ محلاتی، ص۳۶۔

(۷) شہدائے کربلا، گروہ مصنفین، ص۳۵۸۔

(۸) سورۂ فتح، آیت ۱۷۔

(۹) تنقیح المقال، مامقانی، ج۱، ص۱۵۴۔

(۱۰)مقتل الحسین ،مقرم ،ج۲ص۲۵۳۔

(۱۱)الاستعیاب،ابن عبداللہ، ج۱، ص۱۱۲۔

(۱۲)یہ مطلب درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے:اسد الغابہ،ابن اثیر،ج۱،ص۱۲۲۔تاریخ الکبیر،بخاری،ج۲، ص۳۰۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ،ابن جواھر العسقلانی، ج۱، ص۲۷۰۔

(۱۳)فرسان الھیجاء، محلاتی، ص۳۷۔

(۱۴)تاریخ الکبیر، بخاری، ج۲، ص۲۰۔

(۱۵)مثیرالاحزان،ص۷۱۔

(۱۶)اسد الغابہ، ابن اثیر، ج۱، ص۱۲۳۔

(۱۷)انساب الاشراف، بلاذری، ج۳، ص۱۷۵ (دارالتعارف)

(۱۸)فرسان الھیجاء،ص۳۷۔

(۱۹)حیاۃ الامام الحسینؑ ،ج۳، ص۲۳۴۔

(۲۰)الفتوح، ج۵، ص۱۹۶۔

(۲۱)الاقبال، ج۳، ص۳۴۴۔

(۲۲)منتھی الآمال،ج۱،ص

(۲۳)الاصابہ، ج۱،ص۳۴۹۔

(۲۴)ایضاً،ص۱۱۸۔

(۲۵)فرسان الھیجاء، ص۵۴۔

(۲۶)تنقیح المقال، ج۱، ص۱۹۸۔

(۲۷)وسیلۃ الدارین، زنجانی، ص۱۱۲۔

(۲۸)مقتل الحسینؑ ، ابی مخنف، ص۱۱۵،۱۱۶۔

(۲۹)زندگانی امام حسینؑ ، رسول محلاتی، ص۲۵۲۔

(۳۰)تنقیح المقال،مامقانی،ج۱،ص۲۳۴(تین مجلد)

(۳۱)فرسان الھیجاء، ص۷۶۔

(۳۲)تنقیح المقال، ج۲، ص۳۲۷۔

(۳۳)حماسہ حسینی ،استاد شہید مطہری ؒ ج۲،ص۳۲۷۔

(۳۴)شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص۲۸۲۔

(۳۵)تاریخ طبری ،ج ۵،ص۲۲۶۔

(۳۶)ایضاً

(۳۷)انساب الاشراف ،البلاذری ،ج۳،ص۱۹۸۔

(۳۸)قاموس الرجال ،ج۲،ص۷۲۴۔

(۳۹)الکامل فی التاریخ ،ابن اثیر ،ج۴،۷۴۔

(۴۰)تنقیح المقال، ج۱، ص۲۳۴۔

(۴۱)شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص۱۱۵۔

(۴۲)اقبال الاعمال ،ج۳،ص۷۸۔

(۴۳)شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص۱۳۶۔

(۴۴)وسیلۃ الدارین ،ص ۱۱۴۔

(۴۵)تاریخ اسلام ،ابن عساکر ،ج۱۱،ص۳۰۳۔

(۴۶)تنقیح المقال، ج۱، ص۲۳۶۔

(۴۷)رجال ،شیخ طوسی ؒ ،ص۷۲،اقبال ،ج۳،ص۳۴۶۔

(۴۸)شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص۱۳۶۔

(۴۹)رجال ،شیخ طوسی ؒ ،ص۳۸،۶۸۔

(۵۰)الاصابہ ،حرف ’’حا‘‘(حبیب بن مظاہر )

(۵۱)سفینۃ البحار،ج۲، ص۲۶۔

۵۲۔بحارالانوار،مجلسی،ج۴۰، ص۳۱۱۔(تسبیح یعنی سبحان اللہ‘تمحید یعنی الحمداللہ، اورتھلیل یعنی لاالہ الا اللہ کہنا)

(۵۳)تاریخ الطبری،ج۵،ص۳۵۲۔

(۵۴)ایضاً، ج۵، ص۳۵۵۔

(۵۵)ابصارالعین، سماوی، ص۷۸۔

(۵۶)اعیان الشیعہ، ج۲، ص۵۵۴۔

(۵۷)اسرا الشھادہ، ص۳۹۶۔

(۵۸) شہدائے کربلا،ص۱۳۴۔

(۵۹)الفتوح، ج۵، ص۱۵۹۔

(۶۰)اخیارالرجال، الکشی، ص۷۹۔

(۶۱)الدّمعۃ الساکبہ، ج۴، ص۲۷۴۔

(۶۲)شہدای کربلا ، ص۱۳۵۔

(۶۳)فرسان الھیجاء ص۱۳۸ از وسیلۃ الدارین ،ص۱۳۷۔

(۶۴)اسد الغابہ، ابن اثیرعلی بن محمد، ج۲، ص۱۹۲، الاصابہ،ج۱، ص۵۴۲۔

(۶۵)قاموس الرجال، شوشتری، ج۲، ص۴۰۲،۴۰۶

(۶۶)تنقیح المقال، ج۱، ص۴۳۸۔

(۶۷)شہدای کربلا، ص۱۶۴، ازتنقیح ، ج۱، ص۴۳۷ تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۵، ص۵۰۲۔

(۶۸)اقبال، ص۷۹۔

(۶۹) جمھرۃ انساب العرب، ص۳۹۵۔

(۷۰)ابصارالعین، سماوی، ص۱۳۴، عنصرشجاعت، ج۲، ص۹۴۔

(۷۱) فرسان الھیجاء ،ص۱۵۴۔

ّ(۷۲) ایضاً

(۷۳) تنقیح المقال، ج۲، ص۱۲۔

(۷۴) شہدای کربلا ،ص ۱۸۰۔

(۷۵) قاموس الرجال، شوشتری، ج۵، ص۲۷،۲۸۔

(۷۶) وسیلۃ الدارین، ص۱۵۵ نقل از الاصابہ، ج۳، ص۳۰۵۔

(۷۷) فرسان الھیجاء، ص۱۶۷۔

(۷۸) وسیلۃ الدارین، ص۱۵۴۔

(۷۹) شہدائے کربلا، ص۱۹۸۔

(۸۰)اقبال، ص۳۴۶۔

(۸۱) عنصرشجاعت، ج۱، ص۱۳۰۔

(۸۲) یاران پائیدار، ص۹۷۔

(۸۳) تاریخ الطبری، ج۵، ص۳۵۲۔

(۸۴) الفتوح، ج۵، ص۴۸۔

(۸۵) انساب الاشراف،ج ۳، ص۱۹۶۔

(۸۶) الاقبال، ج۳، ص۷۹۔

(۸۷) الاصابہ، ج۲، ص۳۲۸۔

(۸۸) ابصارالعین فی انصارالحسینؑ ، ص۹۲۔

(۸۹) ذخیرالدارین، ص۲۷۰۔

(۹۰) شہدائے کربلا، ص۲۲۸ نقل از الاصابہ ، ج۷، ص۱۵۱۔

(۹۱) الاصابہ، ج۴، ص۲۷۔

(۹۲) شہدائے کربلا، ص۲۲۹۔

(۹۳)فرسان الھیجاء، ج۲، ص۷۔

(۹۴) تنقیح المقال، ج۲، ص۳۳۲

(۹۵) الاقبال، ج۳، ص۷۸۔

(۹۶) تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۶۵۔

(۹۷) الاصابہ، ج۴، ص۷۴ نمبرشمار۶۱۱۱۔

(۹۸) تنقیح المقال، ج۲، ص۳۵۵۔

(۹۹) مقتل الحسینؑ ، خوارزمی، ج۲، ص۳۱۔

(۱۰۰)ابصارالعین، ص۱۹۹۔

(۱۰۱) تنقیح المقال، ج۲، ص۴۲۔

(۱۰۲) وسیلۃ الدارین، ص۱۸۴۔

(۱۰۳) الاقبال، ص۷۸۔

(۱۰۴) ابصارالعین، ص۲۰۱۔

(۱۰۵) فرسان الھیجاء، ج۲، ص۱۱۶۔

(۱۰۶) تنقیح المقال، ج۳، ص۲۱۴۔

(۱۰۷) الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۳۔

(۱۰۸) تاریخ الطبری، ج۵، ص۴۲۴۔

(۱۰۹) ایضاً،ج۵، ص۴۱۹۔

(۱۱۰) تنقیح المقال، ج۳، ص۲۷۴۔

(۱۱۱)ایضاً۔

(۱۱۲)مناقب آل ابی طالبؑ ، ج۴، ص۱۲۲۔

(۱۱۳) الاقبال، ج۳، ص۷۷۔

میاں بیوی کے باہمی حقوق



درحقیقت خاندان ایک چھوٹامعاشرہ ہے جودوافراد یعنی میاں بیوی کے ذریعے قائم ہے اورمعاشرہ لوگوں کی کثرت کانام نہیں ہے بلکہ ان باہمی تعلقات کانام ہے جن کا ہدف ایک ہو۔

قرآن کریم نے ان کے درمیان محبت والفت کاہدف اطمینان اورسکون کوقراردیاہے فرماتاہے :

ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودة ورحمة ان فی ذلک لآیات لقوم یتفکرون۔

”اوراس کی آیات میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہارے نفوس سے تمہاری بیویاں پیداکیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون حاصل کرسکو اورتمہارے درمیان محبت ورحمت پیداکردی بیشک اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لئے جوسوچتے ہیں“[38]۔

اوریہ معاشرہ ایک ایسے عقد کے ذریعے وجودمیں آتاہے کہ جس میں نہایت واضح الفاظ کے ساتھ طرفین کی طرف سے اس بات کااظہارہوتاہے کہ وہ اس عقد کے مفہوم اوراس کے حقوق وفرائض کوقبول کرتے ہیں ۔

اللہ تعالی فرماتاہے :

فانکحوھن باذن اھلھن وآتوھن اجورھن بالمعروف محصنات غیر مسافحات

”پس مالکوں کی اجازت سے لونڈیوں سے نکاح کرو اوران کامہرحسن سلوک سے انہیں دے دوان سے جوعفت کے ساتھ تمہاری پابند رہیں کھلے عام زنانہ کریں“ [39]۔

اس اوردیگرآیات کی روشنی میں فقہا کے نزدیک باکرہ لڑکی کے لئے سرپرست کی اجازت شرط ہے تاکہ عورت کاشوہرکواختیارکرنے کاحق محفوظ رہے اوریہ اجازت اسکی ہتک حرمت کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ ایک احتیاطی تدبیرہے تاکہ لڑکی کسی شخص سے نفسیاتی طورپرمتاثرہوکریاجذباتی لگاؤکی وجہ سے شادی کرنے میں جلدی نہ کرے۔ اجازت کے بعد عورت کادوسراحق مہرہے تاکہ اسے یہ احساس رہے کہ وہ مطلوبہ ہے نہ طالبہ یہ احساس اسے اس حیاسے بھی حاصل رہتاہے جواس کی جبلت میں ودیعت کی گئی ہے اوربیوی کومہردینے کامطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شوہرکی غلام بن گئی ہے بلکہ اللہ تعالی فرماتاہے :

وآتوالنساء صدقاتھن نحلة۔

”اورعورتوں کوان کے مہرخوشی خوشی دیدو“ [40]۔

بیوی ایسی شریک حیات ہے جس نے مرد کے ساتھ حقوق وفرائض پرمبنی مشترک زندگی کاعہد کررکھاہے ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف…) اورعورتوں کے لئے شریعت کے مطابق اس کی مثل حق ہے جوان پرہے [41]۔

عورت کے حقوق کے سلسلے میں قرآن کے اس واضح موقف کے باوجود بعض دشمنان قرآن اس بارے میں قرآن پربعض ناروااتہامات لگاتے ہیں۔

مثال کے طورپرکہتے ہیں قرآن نے عورت پرپردہ واجب کرکے اس کی آزادی کو محدود کردیاہے، گھرکی سرداری مرد کے ہاتھ میں دے دی ہے اوروراثت میں مرد کوعورت سے دوگناحصہ دیاہے یہ لوگ جوحقوق زن کے سلسلے میں مگرمچھ کے آنسوبہاتے ہیں درحقیقت قرآن کے آسمانی کتاب اورشریعت اسلامیہ کامنبع ہونے پرطعن کرتے ہیں اوراشاروں میں کہتے ہیں یہ کتاب مقدس فرسودہ ہوچکی ہے اورترقی یافتہ دورکے تقاضے پورے نہیں کرتی ۔ لیکن تھوڑا ساغوروفکر کریں تویہ اعتراضات تارعنکبوت سے بھی زیادہ کمزور نظرآنے لگیں گے۔

لیکن اس کے لئے قرآن، اس کے طرزکلام اورعترت طاہرہ کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے کہ جوقرآن کے حقیقی ترجمان ہیں۔

آپ دیکھیں گے کہ قرآن نے اس وقت عورت کوانسانی حق دیاجب اسے بہت ہی پست اورگھٹیا سمجھاجاتاتھا اوراس میں کسی وشک شبہ کی گنجائش نہیں ہے جب کہ ادیان سماویہ کے علاوہ دیگرادیان عورت کوایک پست مادہ سے پیداہونے والی مخلوق سمجھتے تھے اورمرد کواعلی عنصرسے پیداہونے والا، بعض لوگ تویہاں تک کہنے لگے عورت پلیدگی سے پیداہوئی ہے اوراس کاخالق، خالق شرہے اوردورجاہلیت میں عرب عورت کوجانورسمجھتے تھے اوراسے انسانی صورت میں اس لئے پیداکیاگیاتاکہ مرد کی خدمت کرسکے اوراس کی جنسی خواہشات کوپوراکرسکے۔


خلقت میں مساوی ہونا اور ذمہ داریاں

قرآن حکیم نے ان کھوکھلے عقائد کورد کیاہے اورزوردے کرکہاہے کہ اصل خلقت میں مرد وعورت برابرہیں نہ تومردہی اعلی عنصرسے پیداہواہے اورنہ عورت گھٹیا عنصرسے بلکہ ایک ہی عنصریعنی مٹی سے اورایک نفس سے پیداہوئے ہیں چنانچہ فرماتاہے :

یاایھاالناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدة وخلق منھا زوجھا وبث منھما رجالاکثیرا ونساء [42]۔

”اے لوگوں اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیداکیااوراسی سے جوڑا خلق کیااوران دوسے بہت سارے مرد اورعورتیں پھیلادئیے“۔

یوں قرآن کریم نے اصل پیدائش میں عورت کومرد کے برابرقراردے کراس کی شان بڑھادی اوراسے انسانی عزت فراہم کی۔

نیزقرآن ذمہ داری کے لحاظ سے بھی مرد اورعورت کومساوی سمجھتاہے۔ فرماتا ہے :

من عمل صالحا من ذکراوانثی وہومومن فلنحییہ حیاة طیبة…)۔

”جوبھی نیک عمل کرے مردہویاعورت درحالیکہ وہ مومن ہوپس ہم ضروراسے پاکیزگی عطاکریں گے [43]۔

لیکن مرد اورعورت کے پیدائش،شرافت اورذمہ داری میں برابرہونے کے باوجودان کے درمیان طبیعی اختلاف موجودہے جوان کے حقوق وفرائض کے اختلاف کاسبب بنتاہے لذا عدل کاتقاضایہ ہے کہ مرد اوراس کے فرائض کے درمیان مساوات ہونہ مرد اورعورت کے حقوق وفرائض کے درمیان، وراثت میں مرد کوترجیح دیناعدالت کے خلاف نہیں بلکہ عین عدالت ہے مرد کے اوپرشادی کے آغازہی میں مہرہے اورپھرآخرتک اس کے اوپرنان ونفقہ واجب ہے اسی قرآن نے عورت پرحجاب کوواجب کرکے اس کی آزادی کومحدود نہیں کیابلکہ خود اسے اورمعاشرے میں اس کے احترام کومحفوظ کیاہے قرآن چاہتاہے کہ جب عورت معاشرے میں نکلے تومردوں کے جذبات کوبرانگیختہ نہ کرے لذا اپنی حفاظت کرے اوردوسروں کونقصان نہ پہنچائے۔

اورقرآن نے عورت کوفکر وعمل کاحق بھی دیاہے اورسے ممکن حقوق دئیے ہیں لہذا عورت کوحق ہے کہ مالک نے،ھبہ کرے، رہن رکھے، بیچے خریدے وغیرہ وغیرہ اسی طرح اسے حق تعلیم بھی حاصل ہے پس عورت اعلی علمی مراتبے تک پہنچ سکتی ہے اورقرآن نے عورت پرظلم وزیادتی کوبھی ناحق قراردیاہے۔

قرآن ہمارے لئے فرعون کی بیوی آسیہ کی مثال پیش کرتاہے جس نے تنگ فضا کے باوجود اپنے عقیدہ توحید کی حفاظت کی اورقابل تقلید نمونہ ٹھہریں۔

فرماتاہے :

وضرب اللہ مثلا للذین آمنوا، امراة فرعون اذ قالت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنة ونجنی من فرعون وعملہ ونجنی من القوم الظالمین

” اوراللہ نے مومنین کے لئے مثال بیان کی ہے فرعون کی بیوی کی جب اس نے کہا میرے پروردگار میرے لئے اپنے وہاں جنت میں ایک گھربنااورمجھے فرعون اوراس کے عمل سے نجات دے اورمجھے ظالم قوم سے بخش“ [44]۔

یہ ایسا قطعی موقف ہے جس میں کوئی لچک نہیں ہے اوریہ مومن آل فرعون کے نرم اورمتواضع موقف سے مختلف ہے۔

یوں قرآن نے ہمیں یہ بھی بتایاہے اگرعورت ایمان اورفکرسلیم رکھتی ہوتوکس قدرمضبوط اورپختہ ارادے کی مالک ہوسکتی ہے اوراس کے برعکس نوح کی بیوی کی مثال ذکرکی ہے جوراہ ہدایت سے بھٹک کرجذبات وخواہشات کاشکارہوگئی۔ اورسنت نبویہ نے بھی عورت کے ماں یابیوی کی حیثیت والے حقوق کوخاص اہمیت دی ہے پیغمبر فرماتے ہیں :

مازال جبرئیل یوصینی بالمراة حتی ظننت انہ لاینبغی طلاقھاالامن فاحشة مبینة۔

”جبرئیل مجھے مسلسل عورت کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں یہ سمجھنے لگاکہ اسے طلاق دیناجائزنہیں ہے مگرکھلی بے حیائی کے بعد“ [45]۔

اورپھرشوہرپرعورت کے تین بنیادی حقوق بیان کئے گئے ہیں اسے وافرخوراک مہیاکرنا، اس کے شایان شان لباس دینااوراس کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔

حدیث میں ہے :

حق المراة علی زوجھا: ان یسد جوعھا وان یسترعورتھاولایقبح لھاوجھا۔

”عورت کاشوہرپرحق ہے کہ اس کی بھوک کاسدباب کرے اس کے جسم کوڈھانپے اوراس کے ساتھ ترش روئی سے پیش نہ آئے“ [46]۔

دیکھئے اس حدیث نے بیوی کے حقوق کولباس اورخوراک جیسی مادی ضروریات تک محدود نہیں کیابلکہ اس کے ساتھ سات اسے حسن سلوک کاحق بھی دیا ہے اورعورت شریک حیات ہے لذااس کے ساتھ وسیلہ خدمت جیسا سلوک کرنایاتحکمانہ رویہ اپنانا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔

اورپیغمبر نے عورت کے ساتھ انسانی سلوک کرنے کاحکم دیاہے اوریہ کہ اگرشوہراس کی رائے کوقبول نہ کرناچاہتاہوتب بھی اس سے مشورہ کرے اورعقل وشرع دونوں اس پرزوردیتے ہیں۔

عورت کاایک اورمعنوی حق جواس کے مادی حقوق کی تکمیل کرتاہے یہ ہے کہ اس کااحترام کرے اس کی قدردانی کرے، اس سے بات کرتے وقت مہذب جملوں کاانتخاب کرے،گھرکے اندراطمینان کی فضاقائم کرے اورمحبت کی شمع روشن کرے پیغمبر فرماتے ہیں :

قول الرجل للمراة: انی احبک، لایذھب من قلبھاابدا۔

”مرد کاعورت سے یہ کہناکہ میں تم سے محبت کرتاہوں عورت کے دل سے کبھی نہیں جاتا“۔

امام زین العابدین اوپرذکرکئے گئے حقوق کی تاکیدکرتے ہوئے فرماتے ہیں :

واما حق زوجتک، فان تعلم انااللہ عزوجل جعلھالک سکنا وانسا، فتعلم ان ذلک نعمة من اللہ عزوجل علیک،فتکرمھا،وترفق بھا، ان کان حقک علیھا اوجب، فان لھا علیک ان ترحمھا، لانھا اسیرتک ،وتطعمھاوتکسوھا،واذا جھلت عفوت عنھا [47]۔

”بہرحال بیوی کاحق تومعلوم ہی ہوناچاہئے کہ اللہ تعالی نے اسے تمہارے لئے باعث انس وسکون بنایاہے اوروہ تم پراللہ کی ایک نعمت ہے اس کااحترام کرو اوراس کمے ساتھ نرمی سے پیش آؤاگرچہ تمہارا حق اس پرزیادہ ضروری ہے لیکن عورت کابھی حق ہے کہ تم اس پررحم کرو کیونکہ وہ تمہاری مطیع وپابند ہے،اس لباس وطعام فراہم کرو اوراگرکسی جہالت کاارتکاب کرے تواسے معاف کرو“۔

اورعورت کااحترام کرنا،اس کی معمولی لغزشوں کومعاف کردیناہی رشتہ زوجیت کوبرقراررکھنے کی واحدضمانت ہے اوریہی اس کے لئے مثالی راستہ ہے اوران چیزوں کاخیال رکھنے بغیرخاندانی عمارت ریت کے گھروندے کی طرح بے ثبات ہے اوراسی وجہ سے طلاق کے اکثرواقعات کاسبب معمولی ہوتاہے چنانچہ ایک قاضی نے میاں بیوی کے چالیس ہزرا اختلافی واقعات کونمٹانے کے بعدکہاتھا”میاں بیوی کے دل میں ہرقسم کی بدبختی دونوں کاکردار ہوتاہے“۔

اگرمیاں بیوی صبرکادامن تھامے رکھیں اورلاشعوری طور پرسرزد ہونے والی غلطیوں سے چشم پوشی کرلیں توازدواجی زندگی کوبرباد ہونے سے بچایاجاسکتاہے۔ امام زین العابدین اپنے رسالہ حقوق میں اس پرمزید روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:

واماحق رعیتک بملک النکاح، فان تعلم ان اللہ جعلھا سکناومستراحا وانساوواقیة، وکذالک کل واحدمنکما یجب ان یحمداللہ علی صاحبہ، ویعلم ان ذلک نعمة منہ علیہ، ووجب ان یحسن صحبة نعمة اللہ ویکرمھاویرفق بھا،وان کان حقک علیھا اغلظ وطاعتک بھاالزم،فیما احببتوکرھت مالم تکن معصیة فان لھا حق الرحمة والموانسة ولاقوة الاباللہ [48]۔

”نکاح کے ذریعے تمہاری رعایہ بننے والی کاحق تویہ تمہیں معلوناہوناچاہئے کہ اللہ تعالی نے اسے تمہارے لئے سکون،استراحت،انس اوراطمینان کاذریعہ بنایاہے لذا تم میں سے ہرایک کواپنے ساتھی کے حصول پرخدائے تعالی کی حمدکرنی چاہئے اورباورکرناچاہئے کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے اس پرایک نعمت ہے پس اللہ کی نعمت کے ساتھ حسن سلوک کرناچاہئے، اس کی عزت اورقدردانی کرنی چاہئے اوراس کے ساتھ اچھارویہ اپناناچاہئے اگرچہ اس پرتمہارا حق زیادہ ہے اورپسند ناپسندمیںمعصیت الہی کومدنظررکھتے ہوئے اس کے لئے تمہاری اطاعت کرناضروری ہے کیونکہ اس کابھی انس وشفقت کاحق ہے اوراللہ کے سواکوئی صاحب قدرت نہیں ہے“۔

ان سطروں میں غورکرنے سے پتہ چلتاہے کہ رشتہ ازدواج ایک عظیم نعمت ہے اوراس پرہمیں شکرخداوندی کرناچاہئے اوراس کے ساتھ نرمی اورحقیقی صداقت کارویہ اپناکرشکرکاعملی ثبوت فراہم کیاجاناچاہئے۔

اوراگراس کے ساتھ ترش روئی سے پیش آئے اورہروقت اسے جھڑکتارہے توآہستہ آہستہ محبت ومودت کی رگیں کٹتی چلی جائیں گی اورآخرکار یہ چیز چھری کی دھار کی طرح ازدواج کے اس مقدس رشتے کوکاٹ دے گی۔

امام صادق اس روش کوبیان کرتے ہیں :

”جس کے ذریعہ شوہراپنی بیوی کوخوش رکھ سکتاہے اورمحبت کی رسی کوٹوٹنے سے بچاسکتاہے فرماتے ہیں :

لاغنی بالزوج عن ثلاثة اشیاء فیما بینہ وبین زوجتہ،وہی : الموافقة، لیجتلب بھاموافقتھا ومحبتھا وھواھا، وحسن خلقہ معھا، واستعمالہ استعمالة قلبھا بالھیة الحسنة فی عینھا وتوسعتہ علیھا [49]۔

شوہرکے لئے اپنے اوربیوی کے معاملات میں تین چیزوں کاخیال رکھناضروری ہے ہم آھنگی تاکہ اس کے ذریعے بیوی کی محبت اوردلی جھکاؤ کوحاصل کرسکے،اس کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنا اوراپنے دلی میلان کااس طرح استعمال کرناجواسے اچھالگے اوراس پرکھلے دل سے خرچ کرنا“۔

اس چیزپرتنبیہ کرناضروری ہے کہ یہ فرامین ہوامیں بکھرے ہوئے خالی الفاظ نہیں ہیں کہ جنہیں آئمہ نصیحت کرتے وقت زبان پرجاری کرتے تھے بلکہ انہوں نے عملی طورپرانجام دے کربتایاہے اوران کے یہاں علم وعمل میں کوئی جدائی نہیں ہے۔

حسن بن جہم روایت کرتاہے کہ میں نے امام ابوالحسن کوخضاب لگائے ہوئے دیکھا توعرض کیاآپ پرقربان ہوجاؤں آپنے خضاب لگایاہے :

فقال : نعم، ان التھیة ممایزیدفی عفة النساء، ولقدترک النساء العفہ بترک ازواجھن التھیة… ایسرک ان تراھا علی ماتراک علیہ اذا کنت علی غیرتہیة؟ قلت: لا، قال : فھوذلک۔

”توفرمایاہاں ایسی چیزوں کواہمیت دینے سے عورت کی پاکدامنی میں آضافہ ہوتاہے اورشوہروں کے ان چیزوں کوترک کردینے کی وجہ سے بیویاں اپنی عفت ترک کردیتی ہیں کیاتجھے اچھالگے گاکہ اگرتوتیارنہ ہوتووہ بھی تیارنہ ہواورگندی ہومیں نے کہانہیں فرمایا: وہ بھی ایسے ہی ہے [50]۔

توامام درک کرچکے تھے کہ ازدواجی زندگی کامرکزی نقطہ دلی میلان ہے لہذا بیوی کے حق کاخیال رکھتے ہوئے اس کے قلبی میلان کوحاصل کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ عدم توافق ازدواجی زندگی میں رخنہ اندازی کاایک بڑاسبب ہے صحیح ہے کہ اسلام میں شادی محض جنسی شہوت کوسیرکرنے کانام نہیں ہے بلکہ اس کا ہدف ایسی صالح اولاد کاپیداکرناہے جس کی وجہ سے زندگی مستمررہے ورنہ توجنسی خواہشات کاسیرکرنااس کے لئے ایک ذریعہ ہے لیکن اس کامطلب یہ بھی نہیں ہے کہ بیوی کے حق میں کوتاہی کرے بلکہ شریعت اسلامی چارماہ سے زیادہ عرصے تک مباشرت نہ کرنے کوجائز قرار نہیں دیتی۔



شوہرکے حقوق

کشتی ازدواج کوکامیابی کے ساحل تک پہنچانے کے لئے اس کے ناخدا کوپورے پورے حقوق دیناضروری ہیں اورشاید خدائے تعالی کی طرف سے شوہرکو عطاکیاگیاپہلاحق حاکم ہوناہے فرماتاہے :

الرجال قوامون علی النساء بمافضل اللہ بعضھم علی بعض وبماانفقوا من اموالھم۔

”مرد عورتوں پرحاکم ہیں کیونکہ خدانے بعض آدمیوں (مردوں) کو بعض آدمیوں (عورتوں) پرفضیلت دی ہے اورمردوں نے اپنامال خرچ کیاہے“ [51]۔

اورمرد کویہ حق حاکمیت اس کی پیدائشی بالادستی اوراخراجات برداست کرنے کی وجہ سے حاصل ہواہے لیکن مرد کے حاکم ہونے کامطلب یہ نہیں ہے کہ کلی طور پر عورت پرمسلط ہو تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کوچھوڑ کراس کے ساتھ بے جاسختی کرنے لگے کیونکہ یہ چیزعورت کے حسن سلوک والے حق سے متصادم ہے کہ جسے قرآن نے صراحت کے ساتھ ذکرکیاہے :

وعاشروھن بالمعروف [52]۔”اوران کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو“۔

بلاشک اسلام نے عقلی اورشرعی لحاظ سے جائز تمام کاموں میں بیوی کوشوہرکی اطاعت کرنے کاحکم دیاہے لیکن اسلام اس چیزکوپسند نہیں کرتاکہ حاکمیت کوبیوی کوذلیل کرنے اوراس کی ہتک حرمت کے لئے ہتھیار کے طورپراستعمال کرے۔

صحیح ہے کہ عورت پرسب سے زیادہ حق شوہرکاہے لیکن اس حق کی صحیح تشریح کرنی چاہئے اوراس کی ایسی تشریح نہیں کرنی چاہئے کہ جس کانتیجہ بیوی کوذلیل کرنا ہو۔ عورت ایک نرم ونازک پھول ہے ہرقسم کی سختی اوردر شتی سے یہ مرجھاجاتاہے اوراسے ایک ایسی باڑ کی ضرورت ہے جوآندھیوں سے محفوظ رکھے تاکہ یہ خوشبو پھیلاتارہے اورمہکنے کے موسم میں بے رونق نہ ہوجائے وہ باڑ وہ مردہے جس میں قربانی کی قوت ہے اورہمہ وقت اس کے لئے تیاررہتاہے۔

شوہرکادوسراحق یہ ہے کہ وہ جب چاہے بیوی اسے اپنے آپ پرقدرت دے سوائے ان استثنائی طبیعی حالات کے جوحواکی ہربیٹی پرآتے ہیں۔

پیغمبر فرماتے ہیں :

… ان من خیر(نسائکم)الولود الودود،والستیرة(العفیفہ)،العزیزة فی اھلھاالذلیلة مع بعلھا، الحصان مع غیرہ، التی تسمع لہ وتطیع امرہ، اذا خلابھا بذلت مااراد منھا۔

”بہترین بیوی وہ ہے جوبچے پیداکرے۔ محبت کرے اپنے گھرمیں عزیزاورشوہرکی فرمانبردارہو،نیز شوہرکے سامنے پاکدامن ہو، شوہرکی بات سنتی ہو اوراس کی اطاعت کرتی ہواورجب شوہرکے ساتھ تنہائی میں ہوتووہ جو چاہے اسے دیدے“ [53]۔

نیزفرماتے ہیں : خیرنسائکم التی اذا دخلت مع زوجھا خلعت درع الحیاء۔

”بہترین بیوی وہ ہے جوشوہرکے ساتھ ہوتوحیاکی چادراتاردے“ [54]۔

اوردیگرایسی احادیث ہیںجن میں بیوی کوشوہرکے بسترسے الگ ہونے سے منع کیاگیاہے اورایساکرنے پردنیاہی میں اسے اس کابدلہ ملتاہے اوروہ جب تک شوہرکے پاس نہیں آجاتی فرشتے اس پرلعنت کرتے رہتے ہیں۔

نیز بیوی کے لئے ضروری ہے کہ شوہرکااحترام کرے اورعہد عشق ومحبت میں اس کے ساتھ پوری طرح شریک رہے پیغمبر فرماتے ہیں :

لوامرت احدا ان یسجد لاحد لامرت المراة ان تسجد لزوجھا [55]۔

”اگرمیں کسی کوکسی دوسرے کاسجدہ کرنے کاحکم دیتاتوبیوی کواپنے شوہر کا سجدہ کرنے کاحکم ضروردیتا“۔

پیغمبر کے ان فرامین کی روشنی میں بیوی کے لئے ضروری ہے کہ شوہرکے ساتھ بہت لطیف اورنرم رویہ رکھے اورایسے ایسے الفاظ سے مخاطب کرے جواس کے دل میں اترکراس کے چہرے پررونق بکھیردیں بالخصوص جب وہ سارے دن کے کام کاج سے تھکاماندا واپس آتاہے توبیوی کواس کایوں استقبال کرناچاہئے کہ اس کاچہرہ ہشاس بشاش ہوجائے اوراس پراپنی سب خدمات نچھاور کردینی چاہئے،یوں عورت شوہرکی خشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے پیغمبر کافرمان ہے کہ :

(فطوبی لامراة یرضی عنھا زوجھا)

”اس عورت کے لئے خوشخبری ہے جس کاشوہراس سے راضی ہو“ [56]۔

اوراس سلسلے میں امام باقر فرماتے ہیں :

لاشفیع للمراةانجح عندربھا من رضازوجھا،ولماماتت فاطمة قام علیھا امیرالمومنین وقال : اللھم انی راض عن ابنة نبیک، اللھم انھا قداوحشت فانسھا … [57]۔

”بیوی کے لئے پروردگارکے یہاں شوہرکی خوشنودی سے بڑھ کرکوئی سفارش نہیں ہے اورجب حضرت فاطمة دنیاسے رخصت ہوئیں توحضرت علی نے آپ کے پاس کھڑے ہوکرفرمایاتھا ”میرے اللہ میں تیرے نبی کی بیٹی سے راضی ہوں میرے اللہ یہ وحشت زدہ ہے اسے انس عطافرما“۔

گذشتہ بحث کاخلاصہ یہ ہوا کہ شوہرکوحاکمیت اورتمکین وتسلط کاحق حاصل ہے اس سے بھی بڑھ کرچونکہ شوہرکے ہاتھ میں گھرکی قیادت ہے لذا جائز حد تک اسے حق اطاعت بھی حاصل ہے پس بیوی اس کی اجازت کے بغیرگھرسے باہرنہیں جاسکتی ہے حدیث میں آیاہے:

(ولاتخرج من بیتہ الاباذنہ فان فعلت لعنتھا ملائکة السماوات وملائکة الارض، وملائکة الرضا وملائکة الغضب…)۔

”بیوی شوہرکی اجازت کے بغیرگھرسے باہرقدم نہیں رکھ سکتی اوراگرایساکرے توزمین وآسمان اوررضاوغضب کے سب فرشتے اس پرلعنت کرتے ہیں“ [58]۔

کیونکہ عورت ایک ایسی قیمتی شی ٴ ہے جسے پرامن جگہ کی ضرورت ہے اوروہ جگہ گھرہے جواس کی حفاظت کرسکتاہے۔ قرآن عورتوں کومخاطب کرتے ہوئے فرماتاہے:

وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیة الاولی [59]۔

اوراپنے گھروں میں بیٹھی رہواورپہلے زمانہ جاہلیت کی طرح اپنابناؤاورسنگھارنہ دکھاتی پھرو“۔

اس کے علاوہ شوہرکے دیگرحقوق بھی ہیں جیسے اس کی عزت کی حفاظت کرنااس کی عدم موجودگی میں اس کے اموال کاخیال رکھنا اس کے راز کوافشانہ کرنا اور بیوی شوہرکی اجازت کے بغیرمستحب روزہ بھی نہیں رکھ سکتی۔

عام طورپرازدواجی زندگی کے پھلنے پھولنے کے لئے باہمی رضا،احترام اورخدمت کی ضرورت ہے جیسے پھول کوکھلے رہنے کے لئے روشنی، پانی اورہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس نکتے کی طرف اشارہ کرنابھی ضروری ہے کہ میاں بیوی کاایک دوسرے کے حقوق کاخیال رکھنا فقط ذمہ داری کواداکرنانہیں ہے بلکہ اس پرعظیم ثواب بھی ہے۔

پس اگرمرد اپنی بیوی کوپانی پلائے تواسے اس کابھی اجرملے گا [60]۔

اورجوشخص اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرے اللہ تعالی اس کی عمرمیں اضافہ کرتاہے [61]۔

اوراس کے مقابلے میں جوعورت سات دن تک اپنے شوہرکی خدمت کرے اللہ تعالی اس پرجہنم کے سات دروازے بندکردیتاہے اورجنت کے آٹھ دروازے کھول دیتاہے جس سے چاہے داخل ہوجائے [62]۔

اورجوعورت شوہرکے گھرکی ایک چیزکوایک جگہ سے اٹھاکردوسری جگہ رکھے مرتب کرنے کی خاطر، اللہ تعالی اس کی طرف نظررحمت سے دیکھتاہے اورجس کی طرف اللہ نظررحمت کرے اسے عذاب نہیں دیتا [63]۔

نیزاس بات کی طرف اشارہ کرناضروری ہے کہ انسان کے بنائے گئے قوانین کی نسبت الہی قوانین میں کہیں زیادہ حقوق کی ضمانت دی گئی ہے کیونکہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین میں کسی بھی شخص کے لئے حیلے، رشوت،دھونس ودھمکی اورزبردستی وغیرہ کے ذریعے حقوق سے بچ نکلنا ممکن ہوتاہے۔

لیکن قوانین الہیہ توان کے نافذکرنے کے لئے نہ فقط خارجی اسباب موجود ہیں جیسے عدالتیں وغیرہ بلکہ داخلی اسباب بھی ہیں جیسے عذاب الہی اورخداکی ناراضگی یہ عوامل انسان کوان حقوق کے اداکرنے پرمجبورکرتے ہیں آورہرمسلمان دوسروں کے حقوق اداکرکے خدائے متعال کی خشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے اورقرآن کریم دوسروں پرظلم کوآخرکاراپنے پرظلم شمارکرتاہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے :

ولاتمسکوھن ضرارا لتعتدوا ومن یفعل ذلک فقدظلم نفسہ ۔

”خبردارنقصان پہنچانے کی غرض سے انہیں (بیویوں) نہ روکناکہ ان پرظلم کروکہ جوایساکرے گاوہ خود اپنے نفس پرظلم کرے گا“۔

یوں ایک دینی ماحول حقوق وفرائض کی ادائیگی سے مانع ہرقسم کے شیطانی مکرکولگام دینے کاذریعہ ہے لیکن قانون سازانسان کے یہاں اپنے افکارکو لگام دینے کے فقط دوداخلی عوامل ہیں ضمیراوراخلاق اوریہ بھی اکثراوقات مختلف وجوہات کی بناپرسید ھے راستے سے منحرف ہوجاتے ہیں، اس کے یہاں معیار بدل جاتے ہیں اور برائی نیکی بن جاتی ہے اورنیکی بدی۔

اس کے علاوہ اسلام میں جتماعی اورعبادی پہلوؤں کے درمیان بہت گہرا تعلق ہے لہذا دوسروں کے حقوق کی پروانہ کرکے اجتماعی پہلومیں ہرقسم کی سستی عبادت والے پہلوپربھی منفی اثرڈالتی ہے حدیث نبوی میں اس کی یون وضاحت کی گئی ہے:

من کان لہ امراة تؤذیہ،لم یقبل اللہ صلاتھا، ولاحسنة من عملھا حتی تعینہ وترضیہ وان صامت الدھر… وعلی الرجل مثل ذلک الوزر، اذا کان لھا مؤذیا ظالما [64]۔

”جوبیوی اپنے شوہرکواذیت دے اللہ تعالی اس وقت تک اس کی نماز اورکسی دوسری نیکی کوقبول نہیں کرتاجب تک وہ اس کی مددنہ کرے اوراسے راضی نہ کرے چاہے ساری زندگی روزے رکھتی رہے اوراگرمرد اس پرظلم کرے اوراسے اذیت دے تواس پربھی ایساہی بوجھ ہوگا“۔

خلاصہ یہ کہ میاں بیوی کے ایک دوسرے پرحقوق ہیں جن میں کسی قسم کی غفلت خاندان پرمہلک اثرات ڈالتی ہے اورانہیں اداکرنا اجتماعی وحدت فراہم کرتاہے۔


خلاصہ :

اس کتاب کی پہلی فصل سے مندرجہ ذیل نتائج برآمدہوتے ہیں :

۱۔ مکتب اسلام نے دیگرتمام مکاتب سے پہلے حقوق انسانی کوکماحقہ اہمیت دی ہے چنانچہ پیغمبر نے حجة الوداع کے موقع پرانسانوں کے درمیان مساوات کااعلان کیا امیرالمومنین نے اپنے عند حکومت میں مالک اشترکوتاریخی دستاویزتحریرکی اورامام زین العابدین نے پہلی صدی ہجری میں حقوق کے بارے میں ایک جامع رسالہ رقم فرمایا:

اس سب کامقصد ایسے پرامن معاشرے کاقیام تھا جس کی بنیاد حق وعدالت پرہو۔

۲۔ قرآن کریم نے معاشرے کے اجتماعی پہلوکواتنی ہی اہمیت دی ہے جتنی کسی انسان کے اپنے رب کے ساتھ تعلق کواسی لئے افراد کے اوپرایسے بنیادی حقوق عائد کردئیے ہیں جن کاتعلق ان کے وجود اورعزت کے ساتھ ہے۔

مثال کے طورپرحیات،امن سے استفادہ کرنا،عزت،تعلیم،فکراور اظہاررائے جیسے حقوق جوانسان کی انسانیت اورحریت کوبرقراررکھنے کے لئے ضروری ہیں۔

۳۔ مکتب اہل بیت کمزورلوگوں کے مادی اورمعنوی(جیسے عزت واحترام)حقوق اداکرنے پربہت زوردیتاہے۔

۴۔ مکتب اہل بیت نے اخلاقی حقوق اداکرنے پربھی بڑا زوردیاہے جیسے استاد، شاگرد، بھائی،ساتھی اورناصح کے حقوق اوریہ ایسے حقوق ہیں کہ جن سے دیگر مکاتب نے تجاہل برتاہے یاانہیں خاص اہمیت نہیں دی ہے۔

۵۔ اسلام نے معاشرے کے اندرخاندانی تعلق کے بعدہمسائگی کوسب سے زیادہ اہمیت دی ہے چنانچہ جبرئیل نے پیغمبر کوپڑوسی کے حقوق کے بارے میں مسلسل وصیتیں کیں، اہل بیت کی کثیراحادیث پڑوسی کے حقوق کے بارے میں ہیں اور امام زین العابدین کے رسالہ حقوق میں خاص طورپر۔

اورحسن جوارکے بارے میں آئمہ کی دقیق نظرکے بارے میں ہم بھی پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ وہ فقط اذیت کاروکنانہیں ہے بلکہ اذیت پرصبرکرنا بھی ہے اورآئمہ نے اسے عملی کرکے دکھایاہے۔

اوردوسری فصل میں ہم نے تفصیل کے ساتھ خاندانی حقوق کاذکرکیااوراس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمدہوتے ہیں :

۱۔ اسلام خاندان کے افراد کے درمیان قائم تعلق اوراجتماعی رشتے کومضبوط کرنے کاخواہشمند ہے چنانچہ والدین کاحق ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیاجائے اوران کاحق اللہ تعالی کے حق کے بعد دوسرے درجے میں رکھاگیاہے۔

۲۔ آئمہ نے حقوق والدین کوبیان کرے کے لئے کئی محوروں پرکام کیاچنانچہ اس سلسلے میں واردہونے والی قرآن کی آیات کی تفسیرکی۔ اولاد کے لئے والدین کے سامنے اخلاقی فضابرقرارکی، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی شرعی حدودکوبیان کیااوراسے سب سے بڑا فریضہ قراردیا اوراس کے فلسفے کے طورپردوام نسل اورصلہ رحمی کاقطع نہ کرناذکرکیا، والدین کی نافرمانی کے دنیوی اوراخروی منفی اثرات کوبیان کیااوراس بارے میں اپنی عملی روش کوبہترین نمونے کے طورپرپیش کیا۔

۳۔ اسلام نے بچے کی ولادت سے پہلے اوربعد کے حقوق کوبیان کیاہے لذا لڑکیوں کوزندہ درگورکرنے سے ممانعت کرکے انہیں حق وجود کی ضمانت دی، شادی کرنے اورباپ بننے کی ترغیب دلائی اورغیرشادی شدہ رہنے اوررہبانیت اختیارکرنے سے منع کیااورپھرصالح اولادپیداکرنے کے لئے شوہرکوصالح بیوی انتخاب کرنے کاحکمم دیااوربیٹے کے باپ کی طرف منسوب ہونے کے حق کومحفوظ کرنے کے لئے ماں پرتمام رذائل سے دوررہنا لازم قراردیا اسی طرح اسلام نے بچے کوولادت کے بعد کے حقوق کی بھی ضمانت دی ہے جیسے زندہ رہنے کاحق چنانچہ اسلام کسی بھی صورت میں اورکسی بھی ذریعے سے ان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

۴۔ اسلام نے اولاد کویہ حق دیاہے کہ ان کے درمیان عدل ومساوات قائم کی جائے اورلڑکے اورلڑکی کے درمیان امتیاز نہ کیاجائے اورآئمہ کی سیرت بھی اس کی گواہ ہے چنانچہ انہوں نے ہمیشہ لڑکے کے مقابلے میں لڑکی کوکم اہمیت دینے کی فکرکوختم کرنے کے لئے کام کیا۔

۵۔ بچے کی تربیت میں اسلام نے دیگرمکاتب پرسبقت کرنے دئے مرحلہ اورتربیت کی روش کواختیارکیااوربچے کی عمرکوتین حصوں میں تقسیم کیااورہرمرحلے میں بچے کی طاقت کے مطابق اس کی خاص قسم کی تربیت کرنے کاحکم دیا۔

۶۔ لڑکے اورلڑکی کے درمیان وراثت کے فرق والے شبہے کاآئمہ نے یوں جواب دیاکہ یہ فرق عین دل ہے کیونکہ لڑکی پرنہ جہاد ہے اورنہ نان ونفقہ بلکہ اس کا اپناخرچ بھی مرد کے ذمے ہے۔

۷۔ آئمہ نے اولاد کووصیت کرنے کوآنے والی نسلوں تک اپنی روشن افکاراورکامیاب تجارب کے منتقل کرنے کااس مستقل ذریعہ قراردیا۔

اورتیسری فصل جومیاں بیوی کے باہمی حقوق کے بارے میں تھی سے مندرجہ زیل نتائج برآمدہوتے ہیں :

۱۔ اسلام نے بڑی دقت کے ساتھ میاں بیوی کے عقد اورباہمی عہد سے پیداہونے والے حقوق وفرائض کوبیان کیاہے۔

۲۔ بیوی جواصل خلقت اورذمہ داری کے لحاظ سے مرد کے مساوی ہے بعض بنیادی حقوق کی مالک ہے ان میں سے بعض مادی ہیں جومعشیت سے متعلق ہیں اوربعض معنوی ہیں جوحسن معاشرت سے متعلق ہیں۔

۳۔ شوہرکے بھی بیوی پرحقوق ہیں اورسب سے بڑاحق حاکمیت والاہے لیکن اسلام اسے بیوی کوذلیل کرنے کاذریعہ بنانے کوپسند نہیں کرتا اوراجازت نہیں دیتا کہ حاکمیت کے بل بوتے پربیوی کے مقام کوپست کرے اوراس کے حقوق کی پائمالی کرے نیزشوہرکاحق ہے کہ بیوی اس کی اجازت کے بغیرگھر سے نہ نکلے اوراسے اپنے آپ پرکامل تسلط اورتمکین دے۔

اورآخرمیں ہم نتیجہ کے طورپریہ بات عرض کرناچاہتے ہیں کہ قوانین الہی انسان کے بنائے ہوئے قوانین کی نسبت حقوق کی پاسداری کی ضمانت زیادہ دیتے ہیں کیونکہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین سے انسان بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتاہے لیکن الہی قوانین میں افراد کوکنٹرول کرنے کے لئے داخلی عوامل ہیں جسے عذاب الہی اورخدا کی ناراضگی اورخارجی عوامل ہیں جیسے سزاکے قوانین ۔

نیزہم نے یہ بھی بیان کیاتھا کہ اسلام اجتماعی اورعبادی پہلوؤں کے درمیان گہرے ارتباط کاقائل ہے اوراجتماعی پہلو میں ہرقسم کی غفلت عبادی پہلوپرمنفی اثرڈالتی ہے۔

والحمدللہ علی ھدایتہ والصلاة والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین محمد وعلی آلہ الطیبین الطاہرین وصحبہ المخلصین ومن سارعلی نہجھم الی یوم الدین وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین


[38] - سورہ روم ۳۰:۲۱۔

[39] - سورہ نساء ۴: ۲۵۔

[40] - سورہ نساء ۴: ۴۔

[41] - سورہ بقرہ ۲: ۲۲۸۔

[42] - سورہ نساء ۴:۱۔

[43] - سورہ نحل ۱۶:۹۷۔

[44] - سورہ تحریم ۶۶:۱۱۔

[45] - بحار ج۱۰۳ص۲۵۳۔

[46] - بحار ج۱۰۳ص۲۵۳۔

[47] - وسائل الشیعہ ۶: ۱۳۴۔


[48] - میزان الحکمة ۱:۱۵۷۔

[49] - بحارالانورا ۷۸:۲۳۷،تحف العقول :۲۳۸۔

[50] - وسائل الشیعہ ۱۴:۱۸۳/باب ۱۴۱ازابواب مقدمات النکاح وآدابہ۔

[51] - سورہ نساء ۴: ۳۴۔

[52] - النساء ۴: ۱۹۔

[53] - مستدرک الوسائل ابواب مقدمات النکاح باب ۵،۱۴:۱۶۱/۱۰۔

[54] - مستدرک الوسائل ابواب مقدمات النکاح باب ۵،۱۴:۱۶۰/۶۔

[55] - وسائل الشیعہ ابواب مقدمات النکاح باب ۸۱،۱۴:۱۱۵/۱۔

[56] ۔بحارالانوارج۱۰۳ص۱۴۶۔

[57] ۔بحارالانوارج۱۰۳ص۲۵۷۔

[58] ۔ مستدرک الوسائل : ابواب مقدمات النکاح باب ۶۰،۱۴:۲۳۷/۱۔

[59] ۔ الاحزاب ۳۳:۳۳۔

[60] ۔ بحارالانوارج۱۰۳ص۲۲۵۔

[61] ۔ امام صادق کے فرمان کااقتباس بحارالانوار ج۱۰۳ ص۲۲۵۔

[62] ۔ امام علی کے فرمان کااقتباس(وسائل الشیعہ ابواب مقدمات النکاح باب ۸۹،۱۴:۱۲۳/۲۔

[63] ۔ امام صادق کے فرمان کااقتباس بحارالانوارج۱۰۳ ص۲۵۱۔

[64] ۔ وسائل الشیعہ ابواب مقدمات النکاح ۱۴،۱۱۶/۱باب ۸۲۔

ولادت امام علی (ع) در کعبہ اور مولانا اسحاق کا رد  

ولادت امام علی (ع) در کعبہ اور مولانا اسحاق کا رد


           

ولادت امام علی (ع) در کعبہ اور مولانا اسحاق کا رد  

یہ مسلمہ امر ہے کہ خانہ کعبہ کی افضلیت بیت المقدس سے زیادہ ہے . خانہ کعبہ کے فضائل کی احادیث سے کتب اسلام جھلک رہی ہیں اس کی ذرا سی بے حرمتی سے ابرہہ اپنی افواج سمیت برباد ہوگیا. تمام قرائن و شواھد سے خانہ کعبہ کا افضل ہونا عیاں ہے . ان تمام حقائق کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو جو بچہ اس مقدس مقام پر پیدا ہوا اس کا مرتبہ و مقام کیا ہو گا. محقیقین اسلام نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا ہے کہ یہ شرف صرف امام علی (ع) ہی کے لئے ذات احدیت نے مخصوص فرمایا کہ جوف کعبہ کو آپ (ع) کا مولد قرار دیا . مگر ناصبیت جن کا مذہب امام علی (ع) سے دشمنی ہے ، وہ ہمیشہ اس کا بغض علی (ع) میں انکار کرتے رہے ہیں ، اور حال ہی میں کچھ عرصہ پہلے اھل حدیث مکتب فکر کے عالم جناب مولانا محمد اسحاق فیصل آبادی نے اپنی جمعہ کی تقریر میں ولادت علی (ع) در کعبہ کا انکار کیا ہے . ہم انشاء اللہ ، مولانا کا مکمل رد پیش کریں گے ، مگر سب سے پہلے ہم مولانا کی تقریر کا وہ حصہ نقل کرتے ہیں جس میں مولانا نے اس کا انکار کیا ہے . تقریر پنجابی میں ہے ہم اس کا اردو میں ترجمہ نقل کر رہے ہیں  

مولانا اسحاق کہتے ہیں کہ  

ولادت علی (ع) کے حوالے سے ایک بات بہت مشہور ہے ، شاہ ولی اللہ نے بھی لکھا کہ اس بارے میں متواتر روایات ہیں کہ حضرت علی (رضی اللہ) کعبہ میں پیدا ہوئے . اس کے متعلق لوگوں نے نتیجے نکالے کہ کعبہ میں کوئی پیدا نہیں ہوا سوائے علی (ع) کے مگر یہ بات بے اصل ہے . حقیقت کوئی نہیں .پھیلی بہت زیادہ مگر اصل نہیں .جس بندے کا کعبہ میں پیدا ہونا ثابت ہے وہ حضرت خدیجہ کا بھتیجا حکیم بن حزام ہیں . ان کے بارے میں صحیح ثابت ہے کہ وہ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور یہ کوئی شرف کی بات نہیں . اگر شرف کی بات ہوتی تو رسول اللہ (ع) کعبہ میں پیدا ہوتے . ......

اس کے بعد مولوی اسحاق نے حکیم بن حزام کے فضائل بیان کئے جو کہ ہماری بحث سے خارج ہیں  

اب ہم امام علی (ع) کی ولادت ، خانہ کعبہ میں ، کے ثبوت پیش کریں کتب اھل سنت و اھل حدیث سے اور ساتھ میں مولانا کا رد بھی پیش کریں گے  

پہلا ثبوت  

امام المحدثین ، ابو حاکم نیشاپوری ، حدیث کی شہرہ آفاق تصنیف مستدرک میں لکھتے ہیں  

آخری بات میں معصب نے وہم کیا ہے حالانکہ متواتر اخبار سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد (رض) نے علی بن ابی طالب (ع) کو عین کعبہ کے اندر جنم دیا ہے  

المستدرک//حاکم//ج 4// ص 197// طبع پاکستان    

اھم بات    

امام حاکم مصعب کے اس قول کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس بات میں معصب سے غلطی ہوئی ہے کہ وہ حکیم بن حزام کے علاوہ کسی کی ولادت خانہ کعبہ میں نہیں مانتے حالانکہ متواتر روایات سے خانہ کعبہ میں مولا علی (ع) کی ولادت ثابت ہوتی ہے . امام حاکم نے چونکہ مصعب کے قول کا رد کرنا تھا اس لئے مولا علی (ع) کی ولادت کا یہاں ذکر کیا اور فضائل والے باب میں ذکر نہیں کیا. قول مصعب کا رد کرنے کے لئے اصل موقع یہی تھا کہ مولا علی (ع) کی ولادت کا ذکر کر دیا جائے . اور یہ بھی یاد رہے کہ امام حاکم اھل حدیث و اھل سنت دنوں مکاتب فکر میں معتبر عالم شمار کئے جاتے ہیں  

علامہ ذہبی کا اقرار    

حافظ ذہبی نے تلخیص مستدرک میں امام حاکم کا قول نقل کیا ہے کہ ولادت مولا علی (ع) کعبہ میں ہوئی ہے . چنانچہ ذہبی کے نزدیک بھی ولادت مولا علی (ع) کعبہ میں ہونا تواتر سے ثابت ہے  

تلخیص المستدرک//ذہبی//ج 4// ص 197//حاشیہ 5// طبع پاکستان    

دوسرا ثبوت  

امام المحدثین ملا علی قاری اپنی تصنیف " شرح الشفاء" میں لکھتے ہیں  

مستدرک حاکم میں ہے کہ مولا علی (ع) خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے  

شرح شفاء // ملا علی // ج 1// ص 327// طبع بیروت    

ملا علی قاری جیسے محقق و محدث نے امام حاکم کے قول پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کو قول متواتر کو قبول کرتے ہوئے امام علی (ع) کی ولادت کعبہ میں قبول کیا ہے  

تیسرا ثبوت  

محدث ابن اصباغ مالکی اپنی کتاب الصصوص المھمہ میں لکھتے ہیں کہ  

مولا علی (ع) ماہ رجب 13 تاریخ کو مکہ شریف میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ، آپ کے علاوہ کوئی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا . یہ آپ کی فضیلت ہے  

الفصول المھمہ// ابن صباغ مالکی // ص 29// طبع بیروت  

چوتھا ثبوت  

علامہ حسن بن مومن شبلنجی اپنی مشہور تصنیف نورالابصار میں لکھتے ہیں  

حضرت علی مرتضی (ع) رسول اللہ (ص) کے چچا زاد بھائی اور تلوار بے نیام ہیں . آپ (ع) عام الفیل کے تیسویں سال جمتہ المبارک کے دن 13 رجب کو خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے اور اس سے پہلے آپ کے علاوہ کعبہ میں کسی ولادت نہیں ہوئی  

نورالابصار//شبلنجی//ص 183//طبع بیروت    

پانچواں ثبوت  

برصغیر پاک وہند کے عظیم محدث و فقیہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب ازالتہ الخفاء میں لکھتے ہیں  

امام علی (ع) کی ولادت کے وقت آپ (ع) کے جو مناقب ظاھر ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ کعبہ معظمہ کے اندر آپ (ع) کی ولادت ہوئی . امام حاکم نے فرمایا متواتر اخبار سے ثابت ہے کہ بے شک امیرالمومنین امام علی (ع) کو آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد نے خانہ کعبہ کے اند جنم دیا  

ازالتہ الخفاء// ج 4 // ص 299// طبع بیروت  

شاہ ولی اللہ اپنی ایک اور کتاب قرۃ العینین میں بھی ولادت مولا علی (ع) کا ذکر اس طرح کرتے ہیں  

امام علی (ع) کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں آپ پہلے ہاشمی ہیں جن کی والدہ ماجدہ بھی ہاشمیہ ہیں . آپ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی اور یہ ایک ایسی فضیلت ہے جو آپ (ع) سے پہلے کسی حصے میں نہیں آئی  

قرۃ العنین بتفضیل الشخین // ص 138// طبع دہلی  

چھٹا ثبوت    

اھل حدیث عالم اور مولانا اسحاق کے بھی ممدوح عالم ، جناب نواب صدیق حس خان بھوپالی نے خلفائے راشدین کے مناقب میں ایک قابل قدر کتاب لکھی ہے اس میں لکھتے ہیں  

ذکر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ابن عم رسول و سیف اللہ المسلول ، مظہر العجائب و الغرائب اسد اللہ الغالب ، ولادت ان کی مکہ مکرمہ میں اندر بیت اللہ کے ہوئی ، ان سے پہلے کوئی بیت اللہ کے اندر مولود نہیں ہوا  

تکریم المومنین بتویم مناقب الخلفاء الراشدین // نواب صدیق حسن // ص 99 // طبع لاہور  

نیز علامہ بھوپالی نے اپنی دوسری تصنیف " تقصار جنود الاحرار ، ص 9 ، طبع بھوپال میں مولا علی (ع) کی ولادت کعبہ میں کا ذکر کیا ہے  

ساتواں ثبوت  

ملا عبد الرحمان جامی اپنی کتاب شواھد النبوت میں لکھتے ہیں  

امام علی (ع) کی ولادت مکہ معظمہ میں ہوئی اور بقول بعض آپ (ع) کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی  

شواھد النبوۃ // جامی// ص 280// طبع پاکستان  

آٹھواں ثبوت    

مورخ جلیل علامہ مسعودی اپنی تصنیف مروج الذہب میں لکھتے ہیں کہ مولا علی (ع) کعبے کے اندر پیدا ہوئے  

مروج الذہب//مسعودی//ج 2// ص 311//طبع بیروت  

نواں ثبوت  

علامہ عبدالرحمان صفوری الشافعی لکھتے ہیں کہ  

امام علی (ع) شکم مادر سے کعبہ کے اندر پیدا ہوئے اور یہ فضیلت خاص طور پر آپ (ع) کے لئے اللہ تعالیٰٰ نے مخصوص فر ما رکھی تھی  

نزہتہ المجالس// ج 2// ص 404//طبع پاکستان  

دسواں ثبوت  

عظیم محدث شاہ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ  

محدثین اور سیرت نگاروں نے بیان کیا ہے کہ مولا علی (ع) کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ہے  

مدارج النبوت// عبدالحق محدث دہلوی// ج 2 //ص 531// طبع پاکستان  

گیارھواں ثبوت    

علامہ گنجی شافعی نے اپنی کتاب کفایتہ الطالب میں بھی مولا علی (ع) کی پیدائش کو خانہ کعبہ میں تسلیم کیا ہے  

کفایتہ الطالب // گنجی // ص 407// طبع ایران  

بارھواں ثبوت  

علامہ سبط ابن الجوزی اپنی کتاب تذکرۃ الخواص میں لکھتے ہیں  

روایت میں ہے کہ فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھیں جبکہ علی (ع) ان کے شکم میں تھے . انھیں درد زہ شروع ہوا تو ان کے لئے دیوار کعبہ شق ہوئی پس وہ اندر داخل ہوئیں اور وہیں علی (ع) پیدا ہوئے  

تذکرۃ الخواص// سبط ابن جوزی// ص 30 // طبع نجف عراق    

ہم یہاں بارہ ثبوتوں پر ہی اکتفاء کرتے ہیں ، ورنہ ہمارے پاس علمائے اھل سنت کے کثیر اقوال کا دفتر موجود ہے جس میں انھوں نے مولا علی (ع) کی ولادت خانہ کعبہ میں نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اس کو فضیلت مانا ہے کہ جس میں صرف مولا علی (ع) ہی اکیلے ہیں اور کسی کو یہ شرف حاصل نہ ہوا. ان اقوال کو اگر دیکھنا ہو تو اھل علم جناب مولانا سید عظمت حسین شاہ گیلانی کی کتاب " قبلتہ الارواح فی قبلتہ الاشباح تذکرہ ولادت سیدنا علی المرتضیٰٰ " ملاحظہ کریں جس میں شاہ صاحب نے دلائل اور ثبوت کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ مولا علی (ع) کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی ہے . ہم یہاں پر کتاب کا پہلا صفحی دیکھا دیتے ہیں

عورت کی بھلائی

عورت کی بھلائی 

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں ایک دن ایک جماعت کے ساتھ جناب رسول خدا (ص) کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا آنحضرت (ص) نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کہ عورت کی مصلحت کس میں ہے ؟ آپ (ص) کو کوئی صحیح جواب نہ دے سکا ،جب اصحاب چلے گئے اور میں بھی گھر گیا تو میں نے، پیغمبراسلام (ص) کے سوٴال کو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سامنے پیش کیا ،جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:کہ میں اس کا جواب جانتی ہوں ،عورت کی مصلحت اس میں ہے کہ وہ اجنبی مرد کو نہ دیکھے اور اسے اجنبی مرد نہ دیکھے میں جب جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی کہ آپ (ص) کے سوٴال کے جواب میں جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے یہ فرمایا ہے۔پیغمبر (ص) نے آپ سلام اللہ علیہا کے اس جواب سے تعجب کیا اور فرمایا:کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا میرے جسم کا ٹکڑا ہے ۔ ” فٰاطِمَۃُ بَضْعَۃُ مِنّیٖ“(کشف الغمہ ،ج/۲ص/۹۲ )
اس میں کوئی شک نہیں کہ دین مقدس اسلام نے عورتوں کی ترقی اور پیشرفت کے لئے بہت صحیح و مناسب اقدامات کئے ہیں اور ان کے حقوق پورا کرنے کے لئے ان کے لئے عادلانہ قوانین اور احکام وضع کئے ہیں ، اسلام نے عورت کو علم حاصل کرنے کی آزادی دی ہے ،اس کے مال اور کام کو محترم قرار دیا ہے ،اجتماعی قوانین وضع کرتے وقت عورتوں کے واقعی منافع اور مصالح کی پورا خیال رکھاہے ۔
لیکن یہ بات قابل بحث ہے کہ آیا عورت کی مصلحت سماج اور معاشرے میں اجنبی مردوں کے ساتھ مخلوط رہنے میں ہے یا عورت کی مصلحت اس میں ہے کہ وہ بھی مردوں کی طرح عمومی مجالس اور محافل میں نامحرموں کے ساتھ گھل مل کر پھرتی رہے ؟ کیا یہ مطلب واقعا ًعورتوں کے فائدے میں ہے کہ وہ زینت کر کے بغیر کسی روک ٹوک کے مردوں کی مجالس میں شریک ہو اور اپنے آپ کوکھلے عام رکھے ؟ کیا یہ عورتوں کے لئے مصلحت ہے کہ وہ بیگانوں کے لئے آنکھ مچولی کرنے کا موقع فراہم کرے اور مردوں کے لئے ایسے مواقع فراہم کرے کہ جس سے دیدنی لذت جو مفت کی گناہ بے لذت حاصل کرتے رہےں ؟ کیا یہ عورتوں کی منفعت میں ہے کہ کسی پابندی کو اپنے لئے جائز قرار نہ دیں اور پوری طرح اجنبی مردوں کے ساتھ گھل مل کر رہیں اور آزادانہ طور سے ایک دوسرے کو دیکھیں ؟ کیا عورتوں کی مصلحت اسی میں ہے کہ وہ گھر سے اس طرح نکلے کہ اس کا تعاقب اجنبی لوگوں کی نگاہیں کر رہی ہوں یا نہ ؟؟۔
بلکہ عورتوں کی مصلحت معاشرے میں اس میں ہے کہ اپنے آپ کو مستور کرکے سادہ طریقے سے گھر سے باہر آئیں اور اجنبی مردوں کے لئے زینت ظاہر نہ کریں نہ خود بیگانوں کو دیکھیں اور نہ کوئی بیگانہ انھیں دیکھے۔
آیا پہلی کیفیت میں تمام عورتوں کی مصلحت ہے اور وہ ان کے منافع کو بہتر طور پر محفوظ کرسکتی ہے یا دوسری کیفیت میں ؟ آیا پہلی کیفیت عورتوں کی روح اور ترقی اور پیشرفت کے بہتر اسباب فراہم کر سکتی ہے یا دوسری کیفیت ؟ پیغمبر اکرم (ص) نے اس اہمیت کے ساتھ اجتماع اور معاشرے کے اساسی مسئلہ کو اپنے اصحاب کے افکار عمومی کے سامنے پیش کیا اور ان کی اس میں رائے طلب کی لیکن اصحاب میں سے کوئی بھی اس کا پسندیدہ جواب نہ دے سکا جب اس کی اطلاع حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کو ہوئی تو آپ سلام اللہ علیہانے اس مشکل موضوع میں اس طرح اپنا نظریہ بیان کیا کہ عورتوں کی معاشرے میں مصلحت اس میں ہے کہ نہ وہ اجنبی مردوں کو دیکھیں اور نہ اجنبی مرد انھیں دیکھیں وہ زہرا سلام اللہ علیہا جو وحی اور ولایت کے گھر میں تربیت پاچکی تھیں اس کا اتنا ٹھوس اور قیمتی جواب دیا اور اجتماعی موضوع میں سے ایک حساس اور مہم موضوع میں اپنے نظرئے اور عقیدے کا اظہار کیا کہ جس سے رسول خدا (ص) نے تعجب کیا اور فرمایا: فاطمہ سلام اللہ علیہا میرا ایک ٹکڑا ہے ۔” فاطمۃ بضعۃ منی“
اگر انسان اپنے ناپختہ احساسات کو دور رکھ کر غیر جانبدارانہ اس مسئلے کو سوچے اور اس کے نتائج اور انجام پر خوب غورو فکر کرے تو اس بات کی تصدیق کرے گا کہ جو جواب جناب سیدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے دیا ہے وہ ایسا بہترین دستور العمل ہو سکتا ہے جو عورتوں کے منافع کا ضامن ہو ۔اور اس کے مقام اورمرتبے کو معاشرے میں محفوظ کر ے گا کیوں کہ اگر عورتیں گھر سے اس طرح نکلیں اور اجنبیوں کے ساتھ اس طرح میل جول رکھیں کہ مرد ان سے ہر قسم کی تمتعات حاصل کر سکیں اور عورتیں ہر جگہ مردوں کے لئے آنکھ مچولی کے اسباب فراہم کریں تو پھر جوان دیر سے شادی کریں گے اور وہ اپنے گھر بسانے کی ذمہ داری محسوس نہیں کریں گے ہر روز لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد میں جو بے شوہر ہوں گی اضافہ ہوتا جائے گا اور یہ بات معاشرے کے لئے مضر ہے اور ماں ، باپ کے لئے مشکلات اوربدنامی کا سبب ہوگا خود عام عورتوں کے سماجی زندگی کے لئے بھی ضرر رساں ہوگا اور اگر عورتیں اپنی خوبصورتی کو تمام نگاہوں کے لئے عام قرار دے دیں اور اجنبیوں میں دلربائی کرتی رہیں تو ایک بہت بڑے گروہ کا دل اپنے ساتھ لئے پھریں گی اور چوں کہ مرد محرومیت سے دو چار ہوں گے اور ان تک رسائی اورمیل جول بلا قید و شرط کے حاصل نہ کر سکیں گے یقینااً ان میں نفسیاتی بیماریاں اور ضعف اعصاب اور خود کشی اور زندگی سے مایوسی عام ہو جائے گی۔
اس کا نتیجہ بلا واسطہ خود عورتوں کی طرف لوٹے گایہی عام لطف نگاہ ہے کہ بعض مرد مختلف حیلے اور فریب کرتے ہیں اور معصوم اور سادہ لوح کو دھوکا دیتے ہیں ان کی عفت و آبرو کے سرمائے کو برباد کردیتے ہیں اور انھیں بدکاری تباہی کی وادی میں ڈھکیل دیتے ہیں ۔
جب شوہر دار عورت دیکھے کہ اس کا شوہر دوسری عورتوں کے ساتھ آتا جاتا ہے اور عمومی مجالس اور محافل میں ان سے ارتباط رکھتا ہے تو غالبا عورت کے غیرت کی حس اسے اکساتی ہے کہ اس میں بدگمانی اور سوء ظن پیدا ہوجائے اور وہ بات بات پر اعتراض شروع کردے ،بلا کسی وجہ عمدہ اورخوشحال زندگی کو خر اب و برباد بناکر رکھ دے گی اور نتیجہ ،جدائی اور طلاق کی صورت میں ظاہر ہوگا یا اسی نا گوار حالت میں گھر کے سخت قید خانہ میں زندگی گزار تے رہے گی اور قید خانہ کی مدت کے خاتمہ کا انتظار کرنے میں زندگی کے دن شمار کرتی رہے گی اور میاں ،بیوی دو سیپاہیوں کی طرح ایک دوسرے کی مراقبت میں لگے رہیں گے ۔
اگر مرد اجنبی عورتوں کو آزادانہ دیکھ سکتا ہو تو قہر اً ان میں ایسی عورتیں دیکھ لے گا جو اس کی بیوی سے خوبصورت اور جاذب نظر ہوں گی اور بسا اوقات زبان کے زخم اور سرزنش سے اپنی بیوی کے لئے ناراضگی کے اسباب فراہم کرے گا اور مختلف اعتراضات اور بہانوں سے خوشحال و لطیف زندگی کو جلانے والی جہنم میں تبدیل کر دے گا ۔
جس مرد کو آزاد فکری سے کارو بار اور اقتصادی فعالیت میں مشغول ہونا چاہئے جب آنے جانے میں یا کام کی جگہ نیم عریاں اور آرائش کی ہوئی عورتوں سے ملے گا تو قہراً غریزہٴ جنسی سے مغلوب ہو جائے گا اور اپنے دل کو کسی دل ربا کے سپرد کر دے گا ،ایسا آدمی کبھی آزاد فکری سے کارو بار میں یا تحصیل علم میں مشغول نہیں ہو سکتا اور اقتصادی فعالیت میں پیچھے رہ جائے گا اس قسم کے ضرر میں خود عورتیں بھی شریک ہوگی اور یہ ضرر ان پر بھی وارد ہوگا ۔
اگر عورت پردہ نشیں ہو تو وہ اپنی قدر و قیمت کو اچھی طرح مرد کے دل میں بسا سکتی ہے اور عورتوں کے عمومی فوائد کو سماج کے لئے محفوظ کر سکتی ہے اور معاشرے کے نفع کے لئے قدم اٹھا سکتی ہے ۔
اسلام چوں کہ عورت کو معاشرے کا ایک اہم جزو جانتا ہے اور اس کی روش و سرگرمی کو معاشرے میں موثر جانتا ہے لہٰذا اس سے یہ بڑی ذمہ داری لی گئی ہے کہ وہ پردے کے ذریعہ بدکاری اور بد چلن ہونے کے اسباب کو روک سکے اور قومی ترقی کے ساتھ عوامی صحت و سلامتی کے باقی رکھنے میں مدد گار ثابت ہو۔ اسی لئے اسلام کی نمونہ اور مثالی خاتون نے جو وحی کے گھر کی تربیت یافتہ تھیں ۔عورتوں کے معاشرے کے متعلق اس قسم کے عقیدہ کا اظہار کیا ہے کہ عورت کی مصلحت اس میں ہے کی وہ اس طرح سے زندگی بسر کریں کہ نہ انھیں اجنبی مرد دیکھ سکیں اور نہ وہ اجنبی مردوں کو دیکھیں۔

'عزّت کے نام پر قتل میں صرف رسوائی ہے

'عزّت کے نام پر قتل میں صرف رسوائی ہے

عرب ممالک خصوصاً مِصر اور تیونس میں جمہوریت کے لئے ہونے والے مظاہروں میں خواتین کی موجودگی بہت واضح رہی ہے۔ تاہم انہیں اب بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے جن میں سے بہت سوں پر سٹاک ہوم میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رائے عامہ تشکیل دینے والی شخصیات کے لئے منعقدہ تربیتی پروگرام میں سیر حاصل بحث ہوئی۔ قاہرہ سے ا?نے والی صحافی کے طور پر مجھے مشرقِ وسطیٰ اور سویڈن سے آنے والے مختلف لوگوں سے ملاقات کرنے اور یہ جاننے کا موقع ملا کہ خواتین کو مختلف حوالوں سے کس قسم کے حالات درپیش ہیں۔

خواتین کو آج جن اہم مسائل کا سامنا ہے ان میں سے ایک 'عزّت کے نام پر قتل' ہے۔ دنیا بھر میں بہت سی عورتیں اپنے مرد رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہو چْکی ہیں کیونکہ انہوں نے 'ناقابلِ قبول' تعلقات قائم کرکے اپنے خاندان کی 'بے عزّتی' کی تھی۔

جب 'بے عزّتی' کی بات ہوتی ہے تو ذہن میں عموماً شادی کے بغیر جنسی تعلقات رکھنے کا تصوّر ہی ا?تا ہے لیکن اس زمرے میں کِسی دوسرے مذہب یا فرقے بلکہ یہاں تک کہ کِسی ایسے ا?دمی سے شادی کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے جو خاندان والوں کو پسند نہ ہو۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ'عزّت کے نام پر جرائم' عورتوں کے بارے میں منفی رویّوں کے علاوہ بنیادی طور پر اس لئے جاری ہیں کہ اس سلسلے میں مؤثر قوانین موجود نہیں ہیں اور جو قوانین موجود ہیں انہیں صحیح طرح نافذ نہیں کیا جاتا۔

لیکن آہستہ آہستہ حکومتیں اس صورت حال کو درست کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے 'معان' کے مطابق مئی میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے 'عزّت کے نام پر قتل' کے موجودہ قانون میں ایک ترمیم کرنے کا حْکم جاری کیا تھا جس کے تحت 'خاندان کی عزّت کے دفاع میں' میں جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ اب کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ یہ فیصلہ معان نیوز ایجنسی کی طرف سے ہیبرون کی 20 سالہ خاتون ا?یہ برادیہ کے قتل کو منظرِ عام پر لانے کے بعد کیا گیا تھا جسے اس کے چچا نے پانی میں ڈبو کر مار ڈالا تھا کیونکہ اْسے وہ شخص پسند نہیں تھا جسے ا?یہ نے شادی کے لئے منتخب کیا تھا۔

اس سے پہلے 2009 میں شامی صدر بشار الاسد نے بھی تعزیراتِ شام کی ایک دفعہ میں ترمیم کرکے عزّت کے نام پر جرائم کی سزاؤں کو مزید سخت کیا تھا۔

قبلِ ازیں تعزیراتِ شام کی دفعہ 548 میں یہ درج تھا کہ غیرت کے نام پر جْرم کا ارتکاب کرنے والے کو عْمر، ذہنی استعداد اور دیگر عوامل کی بنیاد پر سزا میں رعایت دی جاسکتی ہے۔ تاہم ترمیم شْدہ دفعہ میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ 'خاندان کی عزّت' کے نام پر قتل کی سزا دو سال قید سے کم نہیں ہو گی۔

جنوری 2011 میں دفعہ 548 میں دوبارہ ترمیم کی گئی اور اب اس سزا کو دو سال سے بڑھا کر 5 تا 7 سال کر دیا گیا ہے۔

تاہم شام میں حقوقِ نسواں کے کام کرنے والی ایک اہم تنظیم 'شامی خواتین ا?بزرویٹری (ایس ڈبلیو او) کی ڈائریکٹر بسام القاضی کا کہنا ہے کہ "اس شِق میں ترمیم نہیں بلکہ اسے منسوخ کرنا چاہیے"۔ ان کی یہ رائے خواتین کے حقوق کے بہت سے ایکٹوسٹوں کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے جن کا خیال ہے کہ یہ سزا زیادہ سخت نہیں ہے۔

بہت سے افراد اور ادارے ان جرائم کو ختم کرنے کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔ اس قسم کے فعل پر خاموشی کو توڑنا ان کے سب سے اہم طریقوں میں سے ایک ہے۔

اردن کی صحافی اور ایکٹوسٹ رَنا الحسینی کی 2009 میں شائع ہونے والی کتاب 'عزّت کے نام پر قتل' ایسی ہی ایک کوشش ہے جس کا مقصد ان واقعات کی ہولناکی کے بارے میں لوگوں کی آگہی میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ کتاب عورتوں پر تشدد کی کہانیوں کو بے نقاب کرنے کے لئے الحسینی کے 15 برسوں پر محیط کام پر مبنی ہے اور اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ یہ رجحان صرف عرب یا مْسلم کمیونٹیز میں نہیں پایا جاتا بلکہ ایک عالمی وبا ہے۔

مصری خواتین کی قانونی معاونت کے مرکز (سی ای ڈبلیو ایل اے) نے چار سال پہلے بالائی مِصر کے چار صوبوں میں ایک منصوبے کا ا?غاز کیا تھا۔ اس گروپ نے عزّت کے نام پر ہونے والے جرائم کے گرد چھائی 'چْپ' توڑنے کے لئے مقامی ریڈیو پر پروگرام اور مختلف سرگرمیاں شروع کی تھیں جن میں سامعین فون کرکے سوال پوچھ سکتے تھے اور اپنی کہانیوں سے دوسروں کو ا?گاہ کر سکتے ہیں۔

فیس بْک کے ایک گروپ 'جْرم میں کوئی عزّت نہیں' بھی اس موضوع پر ا?گہی میں اضافہ کرنے کے لئے کام کر رہا ہے اور ایسے مثبت اقدامات پر بحث کرتا ہے جن سے غیرت کے نام پر جرائم کا سدّباب کیا جا سکتا ہے۔

اْردن کے اس گروپ نے جو دنیا کے تمام ممالک میں موجود عرب ایکٹوسٹوں سے رابطہ کرتا ہے، غیرت اور انسانی حقوق پر توجہ دینے کی بجائے 'عزّت' کے تصوّر پر بحث کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایسی جگہیں تخلیق کرکے جہاں 'عزّت' پر بحیثیت ایک تصوّر بحث کی جاتی ہے، شرکا کو عزّت وحرمت کے بارے میں اپنی تفہیم کو منطق اور استدلال پر پرکھنے کے لئے پیش کرنا اور یْوں اس موضوع پر زیادہ ناقدانہ رویّہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ اس گروپ کا مشن یہ بن گیا ہے کہ 'عزت وحرمت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے سارے معاشرے میں اس پر گفتگو کی جائے۔'

لیکن عورتوں کی زندگیوں میں ایک اور ایسا عامل ہے جس کا اثر سب سے گہرا ہو سکتا ہے۔ ستمبر 2005 میں جاری ہونے والی پاپولیشن ریفرنس بیورو رپورٹ کے مطابق عرب خواتین بالخصوص مِصر، اْردن، لبنان اور فلسطین میں رہنے والی عورتوں میں تعلیم کی سطح ان کے شوہروں کے برابر یا اْن سے بلند ہے۔ خواتین تیزی سے زیادہ تعلیم یافتہ ہو رہی ہیں اور معلومات کا حصول بااختیاری کا ایک اہم وسیلہ ہے کیونکہ تعلیم خواتین کو کام کرنے اور مالی طور پر خود مختار بننے کے مزید مواقع فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں ا?ئندہ چند سال کے دوران مزید خواتین ایسے قوانین کا مطالبہ کر سکتی ہیں جن سے ان کے حقوق کا تحفظ ہو سکے جب کہ بہت سے ممالک کا مزید پالیسیاں وضع کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خواتین کی بات غور سے سْن رہے ہیں.

یوم عاشورا اور عزاداری

یوم عاشورا اور عزاداری


    This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it


آنسو ترجمان محبت ہے، آنسوعشق اور سوزش دل کی دلیل ہے ، آنسو کبھی فراق محبوب کا نتیجہ ہوتا ہے تو کبھی وصال محبوب کا ، یعنی کبھی غم کی وجہ سے حلقۂ چشم میں نمودار ہوتا ہے تو کبھی خوشی کے نتیجہ میں صحن چشم میں رقص کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ بہر حال محبوب جس قدر محترم و مقدس ہوگا یقیناً اسکی یاد و فراق میں بہنے والا آنسو بھی اس قدر ہی مقدس ہوگا ۔
آنسو کا عزاداری سے بہت گہرا رابطہ ہے اس لئے کہ جیسے ہی ذہن میں عزاداری کا تصور آتا ہے اسکے ساتھ ہی آنسو کی تصویر بھی سامنے آجاتی ہے یعنی آنسو اور عزاداری ایک دوسرے کا لازمہ ہیں۔
عزاداری اور سوگواری ایک عمومی اور انسانی امر ہے جو تمام قوموںکے درمیان پایا جاتا ہے ۔ ہر فرد ،ہر گروہ اور ہر قوم دردناک اور جانسوز حوادث و مصائب پیش آنے کی صورت میں اپنی تسلی ، روحی سکون اور تمام غموں کے مداوا کی خاطر مخصوص آداب کے ساتھ رسم عزاداری برپا کرتے ہیں ۔ اگرچہ اسکے انعقاد کے طور طریقہ میں اقوام و ملل کے درمیان کم و بیش فرق پایا جاتا ہے لیکن کسی عزیز کے فراق میں اظہار غم کرنے پر سب کا اتفاق ہے ۔
محمد و آل محمدۖ کے دوستدار شیعہ بھی معصومین  اور بالاخص شہید راہ انسانیت ، سید الشہداء ، کشتہ کربلا حضرت امام حسین  کی یاد میں عزاداری برپا کرتے ہیں ۔ امام حسین  اور شہدائے کربلا کی یاد میں عزاداری برپا کرنا صرف شیعوں ہی سے مخصوص نہیں بلکہ کثیر تعداد میں غیر شیعہ قومیں بھی یا تو مستقل طور پر عزاداری برپا کرتی ہیں یا پھر شیعوںکی عزاداری میں ہی شرکت کرتی ہیں ۔
اس پر آشوب زمانے میں ہر طرف سے مذہب تشیع پر مختلف طریقوں سے حملے کئے جارہے ہیں اور ڈاکٹر موسوی جیسے، اسلام دشمن عناصر کے ہاتھوں بکے ہوئے افراد ،شیعیت کے مذہبی مظاہر و شعائر کو مٹانے کی ناکام کوششوںمیںمصروف ہیں ۔
عزاداری سید الشہدائ جو مذہب تشیع کے اہم ترین شعائر میں سے ہے اور جس نے دنیا کے تمام مذاہب و ادیان کو اپنی طرف جذب کر رکھا ہے ، اس زمانہ میں سب سے زیادہ مورد حملہ قرار پارہی ہے ۔
احمد بن تیمیہ ، محمد بن عبد الوہاب ، احمد کسروی ،علی محمد باب اور ایسے ہی کچھ دیگر افراد نے پوری کوشش کی کہ ان مراسم و شعائر کی قدرواہمیت ختم ہوجائے ۔ کبھی کہا کہ گریہ و زاری اور سینہ زنی عیسائیوں کی ایجاد ہے ، کبھی کہا کہ مجالس عزا اور اس سے مربوط دیگر مراسم کو صوفیوں نے رائج کیا ہے ۔ ڈاکٹر موسوی نے نیا اتہام یہ لگایا کہ حسینی جلوسوں کی مالی امدا د برطانوی حکومت کرتی ہے ۔
بہر حال اس طرح کے بے شمار تہمتیں عزاداری شہید کربلا کو نابود کرنے کے لئے لگائے گئے لیکن بحمد اللہ ان تمام اسلام دشمن عناصر کے ہاتھوں بکے ہوئے افراد کی سازشیں ہمیشہ نقش بر آب ہوئیں ہیں اور ہوتی رہیں گی ۔(انشاء اللہ)
عزاداری اور امام حسین  پر گریہ حضرت آدم کے زمانہ سے حضرت خاتم المرسلین  ۖ کے زمانہ تک اور حضور اکرم ۖاور ائمہ معصومین  کے زمانہ سے آج تک برقرار ہے اور برقرار رہے گا اور انشا ء اللہ لمحہ بہ لمحہ اسکی وسعت، عظمت، اور شان و شوکت میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔
آئیے اب ہم عزاداری کے بارے میں اسلام کے موقف کو دیکھیں تاکہ متلاشیان حق و حقیقت کے لئے مشعل راہ بن سکے اور ساتھ ہی تمام شبہات و اوہام کی ظلمتیں نور ہدایت کے ذریعہ زائل ہوجائیں ۔
   عزاداری قرآن کی روشنی میں
بہت سے افر اد کے اذہان میں شاید یہ سوال موجود ہو کہ احکام و معارف کی جامع کتاب قرآن مجید میں عزاداری کا ذکر ہوا ہے یا نہیں ؟ اور اگر ذکر ہوا ہے تو اسکی موافقت میں  یا مخالفت میں ؟ کیا قرآن کریم میں کوئی ایسا قرینہ یا کوئی ایسا واقعہ موجود ہے جو عزاداری کے جوازیا رجحان پر دلیل ہو ؟
قرآن کریم میں ایسی کئی آیات موجود ہیں جو سوگواری اور عزاداری کے شرعی جواز کوواضح طور پر بیان کررہی ہیں لیکن نمایاں اور واضح ترین آیات جو عزاداری و سوگواری کو ثا بت کررہی ہیں وہ سورۂ یوسف کی آیات ہیں جن میں حضرت یوسف کے فراق کے بعد حضرت یعقوب کی حالت کو بیان کیا گیا ہے ۔ حضرت یوسف کے فراق میں حضرت یعقوب کے بے پناہ حزن اور شدید گریہ کو قرآن کریم اس طرح بیان کر رہا ہے :
(وَتَوَلَّی عَنْہُمْ وَقَالَ یَاَسَفَی عَلَی یُوسُفَ وَابْیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الْحُزْنِ فَہُوَ کَظِیم قَالُوا تَاﷲِ تَفْتَُ تَذْکُرُ یُوسُفَ حَتَّی تَکُونَ حَرَضًا َوْ تَکُونَ مِنْ الْہَالِکِینَ قَالَ ِنَّمَا َشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی ِلَی اﷲِ وََعْلَمُ مِنْ اﷲِ مَا لاَتَعْلَمُونَ  )(١) 
''یعقوب نے اپنے بیٹوں سے منہ پھیر لیا اور کہا یوسف کے فراق کا افسوس ہے اور انکی آنکھیں غم کی وجہ سے سفید ہوگئیں پھر بھی وہ تحمل سے کام لیتے رہے فرزندان یعقوب نے کہا:آپ اسقدر یوسف کو یاد کررہے ہیں کہ نزدیک ہے بیمار ہوجائیں یا مرجائیں ۔ یعقوب نے کہا اپنے غم و اندوہ کا شکوہ میں فقط اپنے خدا سے کروں گا جو اللہ کی عطاسے میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ''
اہل سنت کے مشہور محقق اور عالم دین جناب عمر عبد السلام گریہ و زاری اور عزاداری کے جواز کو
قرآن مجید کی نظر سے آشکار اور بالکل درست جانتے ہیں اور اسکو ذکر شدہ آیات سے ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں '' قرآن کریم اور سنت متواترہ میں کسی کے فراق میں گریہ کرنے کے بارے میں بہت سے آشکار شواہد موجود ہیں اور قرآن کریم میں جو اس بارے میں واضح ترین آیت وارد ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا یوسف کے فراق میں یعقوب کی حالت کو اس طرح بیان کررہا ہے '' (پھر انہوں نے یہی مذکور آیات ذکر کی ہیں) ۔(٢)  
ان آیات میں حضرت یعقوب کا طولانی گریہ انکی زندگی کی ایک اہم خصوصیت کے عنوان سے بیان ہوا ہے ۔ روایات میں بھی انکے گریہ کو انکی اچھی صفت کے طور پر ذکر کیا گیاہے ۔
سنی عالم دین علامہ زمخشری روایت کرتے ہیں کہ حضرت یوسف نے حضرت جبرئیل سے اپنے والد بزرگوار کے گریہ کی مدت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ حضرت یعقوب نے ستر( ٧٠)سال گریہ کیا پھر انکے گریہ کی جزاکے بارے میں سوال کیا تو جواب دیا کہ انکا گریہ ستر شہیدوں کی جزا کے برابر ہے ۔(٣) 
یعقوب اپنے فرزند یوسف کے فراق میں شب و روز گریہ کرتے تھے اور اس قدر روتے تھے کہ نابینا ہوگئے ۔ یوسف کے لئے آتش عشق اس قدر شعلہ ور ہوچکی تھی کہ قرآن کے مطابق حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کی بو استشمام کرنے میں دوریاں حائل نہیں ہوتی تھیں۔
حضرت یعقوب جیسا عظیم پیغمبر اگر کسی وہابی حکومت میں ہوتا تو اسکے بارے میںکس طرح قضاوت کی جاتی ؟ ابن تیمیہ اور ڈاکٹر موسوی جیسے افراد انکے لئے کیسا فتویٰ جاری کرتے ؟ یقیناً یہ تمام مفسد اور اسلام دشمن لوگ انھیں مشرکین میں شمار کرتے ہوئے سزائے موت سنا دیتے ۔کیونکہ جن کا ہدف ہی یہ ہو کہ دین خدا زمین پر باقی نہ رہے اسکوکسی پیغمبر یا خدا کے برگزیدہ فرد کا کیا پاس و لحاظ ہوگا۔
 اسی لئے تویہ لوگ پیغمبر کو جائز الخطا اور غیر معصوم بتا کر انکے قول ،فعل اور انکی پوری شریعت کو مشکوک بتانا چاہتے ہیں ۔
بہر حال قرآن کی نظر سے گریہ و زاری بالکل ثابت ہے اوراس میںکسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ مذکورہ آیات و روایات سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ غم و اندوہ اور گریہ و زاری کتنا ہی طولانی ہوجائے کوئی مانع نہیں رکھتا بلکہ جائز اور مثبت عمل شمار کیا جاتا ہے ۔
عزاداری کے بارے میں قرآن میں وارد شدہ آیات و روایات سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ مجالس عزا اور عزاداری کو بر پا کرنا نہ صرف یہ کہ قرآن سے مخالفت نہیں رکھتا بلکہ شعائر الہٰی ،مودت اہل بیت اور ظلم و ستم سے مقابلہ کرنے کے مصادیق میں سے بہترین مصداق ہے جسکی طرف قرآنی آیات اشارہ کرتی ہیں ۔ (٤) 
عزاداری اور سیرت رسولۖ
سنت پیغمبر اسلام ۖاحکام و شریعت کی شناخت کے لئے دوسرا منبع ہے ۔ قرآن کریم نے بھی اسکی وضاحت کردی ہے :
(َمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا)(٥)
 '' رسول ۖ جوتمہیں دے دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اسے ترک کردو''
پھر ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے :
( لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اﷲِ ُسْوَة حَسَنَة )
''بتحقیق تمہارے لئے رسول اللہ بہترین اسوۂ عمل ہیں '' ۔
 اسکے علاوہ ایک مقام پر رسولۖ کی تمام رفتار، گفتار اور کردار کو خدا اپنی طرف نسبت دیتے ہوئے فرماتا ہے :
(وَمَا یَنْطِقُ عَنْ الْہَوَی ِنْ ہُوَ ِلاَّ وَحْی یُوحَی ٰ)
''رسولۖ اپنی ہوا و ہوس سے کلام نہیں کرتے بلکہ جوکہتے ہیں وہ وحی منزَل ہوا کرتی ہے ''
 تمام فرزندان توحید رسول اکرم ۖ کی رفتار و گفتار وکردار کو شعار زندگی اور سرمشق حیات تسلیم کرتے ہیں لہٰذا عزاداری کے مسئلے میں بھی ہمیں یہ دیکھنا لازم ہے کہ نبی اکرم ۖ نے مجالس گریہ و زاری اور عزاداری سے روکا ہے یا خود عمل کر کے یا امر فرماکر اسکے جواز و رجحان کو ثابت کیا ہے ؟
شیعہ اور سنی کتابوں میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جن میں رسولۖ نے خود عزاداری کی ہے یا اسکا حکم فرمایا ہے ۔ ہم اس مقام پر معتبر سنی کتابوں سے صرف چند روایات و واقعات کو نقل کررہے ہیں :
١۔حضرت رقیہ کی وفات کے بعد پیغمبر اسلامۖ نے جنازہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: تم ہمارے نیک اسلاف سے جا ملی ۔ عثمان بن مظعون کہتے ہیں کہ وہاں عورتیں گریہ کرنے لگیں تو عمر بن خطاب نے انھیں تازیانہ مارنا شروع کیا تاکہ وہ گریہ کرنے سے باز رہیں تو پیغمبر اسلامۖ نے اپنے دست مبارک سے عمر کو پکڑا اور کہا اے عمر ! انکو انکے حال پر چھوڑ دو اور فرمایا شیطان سے بچو اور جان لو کہ جب بھی چشم و دل روئے تو وہ خدا کی طرف سے رحمت ہے ۔ عثمان بن مظعون کہتے ہیں جناب فاطمہ زہرا قبر رقیہ پر رورہی تھیں اور رسول اکرم ۖاپنے دامن سے انکے آنسوؤں کو خشک کررہے تھے ۔(٦)
٢۔سید الشہدا جناب حمزہ  کی شہادت کے بعد رسول خدا ۖ مدینہ میں آئے تو انصار کے گھروں سے عورتوں کے رونے اور نوحہ کرنے کی آوازیںآرہی تھیں جو اپنے شہیدوں پر رو رہی تھیں تو آپ کی آنکھیں بھی آنسوؤں سے بھر گئیں پھر آپ ۖنے فرمایا :میرے چچا حمزہ  پر کوئی رونے والا نہیں ہے پھر
کچھ عورتیں آئیں اور انہوں نے جناب حمزہ کے لئے عزاداری کی ۔ (٧)
واقدی لکھتے ہیں حادثۂ احد کے بعد جناب حمزہ کی بہن صفیہ رسولۖ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور جب وہ روتی تھیں تو آنحضرتۖ بھی روتے تھے اور جب وہ تیز آواز سے روتی تھیںتو پیغمبر اکرمۖ بھی بلند آواز سے روتے تھے اور اسی طرح جب بھی جناب فاطمہ گریہ کرتی تھیں تو آپ بھی گریہ کرتے تھے۔ (٨)
حضرت حمزہ پر رسول  ۖ کے گریہ کرنے کی مختلف روایات انکے علاوہ بھی بہت سی کتب اہل سنت میں موجود ہیں ۔(٩) 
٣۔پیغمبر اکرم ۖ نے اپنی مادر گرامی کی قبر کی زیارت کی اور بہت روئے یہاں تک کہ آپ کے اصحاب بھی رونے لگے ۔(١٠)
٤۔نبی اکرمۖ اپنے فرزند ابراہیم کی وفات پر زار و قطارر وئے اور رونے کو رحمت سے تعبیر کیا ۔(١١)
٥۔ جب پیغمبر اسلامۖ نے حضرت جعفر طیار  کی غزوہ موتہ میں شہادت کی خبر سنی تو آپ بہت روئے ۔(١٢)
 ٦۔نبی اکرم  ۖنے اپنے صحابی عثمان بن مظعون کی وفات پر گریہ کیا ۔ (١٣)
٧۔پیغمبر اسلام  ۖ نے اپنے صحابی سعد بن خولہ کی وفات پر مرثیہ پڑھا ۔(١٤)
امام حسین کے لئے رسول ۖاور اصحاب رسول ۖکی عزاداری
مظلوم کربلا کی مظلومیت پرصرف انکی شہادت کے بعد سے عزاداری شروع نہیں ہوئی ہے بلکہ عزائے امام حسین  قدیم زمانہ سے ہوتی آرہی ہے ۔ آدم سے لیکر خاتمۖ تک سبھی نے ان پر گریہ کیا ہے اور عزائے مظلوم کربلا برپا کی ہے ۔
لہٰذا ہم اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے اس مقام پر صرف چند روایات کو معتبر سنی کتابوں سے نقل کررہے ہیں جن میں یہ صریحاً ذکر ہے کہ رسول اکرم  ۖاور صحابہ نے امام حسین  پر گریہ کیا ہے ۔
١۔حضرت عائشہ کہتی ہیں '' ایک روز جبرئیل  رسول خداۖپر وحی لیکر نازل ہوئے اسی اثناء میں حسین  پیغمبر ۖکے پاس آئے اور انکے جسم پر سوار ہوکر کھیلنے لگے ۔ جبرئیل نے کہا : اے محمد ! بہت جلد آپکی امت میں فتنہ اٹھے گا اور آپ کے اس فرزند کو آپ کے بعد قتل کردیا جائیگا ۔ پھر جبرئیل نے ہاتھ اٹھایا اور حضورۖ کو سفید مٹی دی اور عرض کیاآپ کا بیٹا اسی سر زمین پر مارا جائیگا ۔ اس جگہ کا نام ''طف ''ہے پھر جبرئیل چلے گئے ۔ رسول اکرمۖ مٹی کو ہاتھ میں لیکر روتے ہوئے ایک جگہ تشریف لے گئے جہاں ابو بکر ،عمر ، علی، حذیفہ ،عمار، ابو ذر موجود تھے اور آپۖ نے فرمایا : جبرئیل نے مجھکوخبر دی ہے کہ میرے بیٹے حسین کو میرے بعد طف نامی سر زمین پر قتل کردیا جائیگا اور اس خاک کو مجھے دیا ہے جس میں جائے شہادت اور اسکی قبر ہوگی ۔ (١٥)

 اسکے علاوہ بہت سی روایات موجود ہیں جو امام حسین  پر رسول اکرم ۖکے گریہ کی حکایت کرتی ہیں اور کتب اہل سنت ایسی روایتوں سے بھری ہوئی ہیں جنکو خوف طول کی وجہ سے بیان نہیں کیا جارہا ہے بلکہ فقط بعض حوالے بیان کئے جارہے ہیں تاکہ تفصیل کے خواہاں حضرات رجوع کرسکیں ملاحظہ ہوں :
مستدرک حاکم ٣  ١٧٦، تاریخ ابن عساکر، حدیث ٦٣١ ، فصول المہمة ١٤٥، کنز العمال ١٢٣١٢، خصائص کبری ١٢٥٢، مجمع الزوائد ١٧٩٩ ، صواعق محرقہ ١١٥، مقتل خوارزمی٨٨١، ذخائر العقبیٰ١١٩باب ٩،مستدرک حاکم ج٣،ص١٧٦ کنز العمال حدیث ٢٤٣٠٠،المصنف ابن ابی شیبة ٦٩٧٢ ، سنن ابن ماجة ٥١٨٢ ، تاریخ ابن کثیر ١٩٩٨، طبقات ابن سعد ٢٦٩ وغیرہ …
٢۔حافظ ابو یعلی زینب بنت جحش سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں : ایک دن رسول خداۖ میرے گھر میں موجود تھے ۔ امام حسین جنھوں نے ابھی ابھی چلنا سیکھا تھا وہ بھی موجود تھے ۔  آپ رسول خدۖا کے حجرہ میں وارد ہوئے تو میں نے انکو پکڑ لیا تو حضورۖ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ،  میں نے انکو چھوڑدیا پھر حضورۖ نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگے درحالیکہ حسین کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے تھے جب بھی آپ رکوع میں جاتے تو حسین کو زمین پر رکھ دیتے ۔ نماز کے بعد آپ بیٹھ گئے اور رونے لگے جب یہ ماجرا تمام ہوا تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آج میں نے ایسی چیز دیکھی جسکا میں نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا تھا ۔ آپ نے فرمایا: جبرئیل نے آکر مجھے خبر دی ہے کہ میری امت اس بچہ کو قتل کردے گی ۔ میں نے جبرئیل سے کہا کہ مجھے اس خاک کو دکھاؤ تو جبرئیل میرے لئے سرخ رنگ کی خاک لے کر آئے ۔ (١٦)
٣۔ابن عباس کہتے ہیں کہ وہ لوگ حضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں سر زمین نینوا سے گذررہے تھے کہ آ پ نے فرمایا : اے ابن عباس ! اس سر زمین کو پہچانتے ہو؟ میں نے عرض کی نہیں اے امیر المؤمنین !فرمایا : اگر تم میری طرح اس زمین کو پہچانتے ہوتے تو یہاں سے نہ گذرتے مگر یہ
کہ میری طرح گریہ کرتے ۔ پھر آپ نے رونا شروع کیا اور اتنا روئے کہ آپ کی ڈاڑھی آنسووں سے تر ہوگئی اور آپ کے سینہ تک آنسو پہو نچ گئے ۔ ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ رونے لگے اور آپ فرماتے تھے ہمیں آل ابو سفیان اور آل حرب جیسے شیطانی گروہ اور کفر کے سرپرستوں سے کیا مطلب ہے ۔پھر آپ نے فرمایا : اے ابا عبد اللہ  !  صبر سے کام لینا اور استقامت کرنا یہ کہہ کر آپ بہت روئے اور ہم لوگ بھی انکے ساتھ روئے یہاں تک کہ آپ منہ کے بل زمین پر گرپڑے اور بیہوش ہوگئے اور کچھ مدت بعد ہوش میں آئے ۔ (١٧)
 ٤)سبط ابن جوزی لکھتے ہیں : امام حسین  کی شہادت کے بعد حضرت ابن عباس ہمیشہ روتے رہتے تھے یہاں تک کہ نابینا ہوگئے ۔(١٨ )
 ٥۔ ابن ابی الدنیا نقل کرتے ہیں کہ زید ابن ارقم، ابن زیاد (لعنة)  کے پاس کھڑے ہوئے تھے ،انہوں نے اس سے کہا اے ابن زیاد ! چھڑی کو حسین  کے لب و دندان سے اٹھا لے قسم خدا کی بارہا میں نے دیکھا ہے کہ رسول خدا ۖان لبوں کا بوسہ لیا کرتے تھے یہ کہہ کر آپ نے رونا شروع کردیا ۔(١٩)
٦۔ابن حجر روایت کرتے ہیں کہ جب سر امام حسین، ابن زیاد کے پاس آیا تو اس نے سر مبارک کو ایک طشت میں رکھا پھر وہ آپ کی ناک اوردندان مبارک کی ایک چھڑی سے بے حرمتی کرنے لگا اور کہہ رہا تھا کہ اس سے اچھا نہیں دیکھا تھا ۔ اس جلسہ میں انس ابن مالک بھی تھے جب انہوں نے یہ ماجرا دیکھا تو رونے لگے اور کہا کہ کوئی بھی حسین سے زیادہ رسولۖ سے مشابہ نہیں ہے ۔(٢٠)
٧۔ ام المؤمنین ام سلمہ نے خواب میں دیکھا کہ رسول خداۖ نے انکو امام حسین  کی شہادت کی خبر دی آپ خواب سے بیدار ہوئیں اور گریہ کرنے لگیں اور فرمانے لگیں اے عبد المطلب کے بیٹو ! آئو  میرے ساتھ گریہ کرو رسول خداۖ کا نواسہ شہید کردیا گیا ہے اس لئے کہ میں نے رسول خداۖ کو خواب
میں دیکھا ہے کہ انکا چہرہ غبار آلود تھا اور کہہ رہے تھے کہ میرا نواسہ اور اسکے اہل بیت قتل کردئیے گئے۔(٢١)
مذکورہ دلائل سے واضح ہوجاتا ہے کہ کسی کی وفات پر گریہ کرنا حقیقتاً جائز ہے اولیاء اللہ پر رونا بالخصوص امام حسین پر رونا رجحان رکھتا ہے ، یہ سنت رسول ۖہے اور عزاداری امام حسین رسولۖ کے علاوہ حضرت علی  اور صحابہ کرام  نے بھی کی ہے ۔

حوالے

(١) سورہ یوسف ٨٤۔ ٨٦
(٢)مخالفة الوھابیة للقرآن و السنة ،ص٥٥
(٣)تفسیر کشاف، ج٢، ص٤٩٧و تفسیر کبیر فخر رازی،ج١٨،ص١٩٣
(٤)رجوع کریں بالترتیب سورہ حج ٣٢وسورۂ شوریٰ ٢٣و سورہ نساء ١٤٨
(٥)سورہ حشر ٧
(٦)مخالفة الوہابیة للقرآن و السنة ، ص ٥٧ ، سنن بیہقی کتاب جنائز ،ج٥،ص٤٣٥۔ ٤٣٦، سنن ابن ماجہ باب ٥٣،ص٣٧٢،ط۔دار الفکر
(٧) المستدرک حاکم کتاب جنائز ج١،ص ٣٨١، منتخب کنزالعمال ج٢،ص ٤٠، سیرہ حلبیہ ،ج٢ ، ص٢٦٠
(٨)مغازی، ج١،ص٣١٥
(٩)مسند احمد ، ج٢ ، ص ٤٠ ، استیعاب ابن عبد اللہ ، ج١ ،ص٤٢٦و تاریخ طبری ، ج٢ ،ص ٢٧و طبقات ابن سعد،ج٣ ،ص ١١۔و امتاع الاسماع ،ج١ ،ص ١٦٣
(١٠)  مسند احمد ،ج٢، ص ٤٤١ و صحیح مسلم ، ج٢ ،ص ٦٧١و سنن ابن ماجہ ، ج١ ،ص ٥٠١
(١١)سنن ابن ماجہ کتاب جنائز، ج١ ، ص ٤٧٣و٥٠٧و صحیح بخاری ، ج ١ ، باب ٨٢٨و صحیح مسلم ، کتاب فضا ئل باب رحمت ،ص ٩٤٧،ح٢٣١٥ط۔دار الفکار الدولیة سنن ابن داؤد کتاب جنائز ، ج٣، ص ١٩٣
(١٢)طبقات ابن سعد ، ج ٨ ، ص ٢٨٢ ، سیرہ ابن ہشام ، ج٤ ،ص ٢٢ ، مغازی واقدی ، ج٢ ص٧٦٦، اصابة ، ج٢ ، ص ٢٣٨، استیعاب ، ج١ ،ص ٣١٣، اسد الغابة ، ج١ ،ص ٢٤١، تاریخ کامل ، ج ٢ ،ص ٤٢٠ ، صحیح بخاری ، ج ٢ ،ص ٢٠٤ ، سنن بیہقی ، ج٤ ، ص ٧٠ ، البدایة و النہایة ، ج٤ ، ص ٢٨٠ ، انساب الاشراف ، ج٢ ،ص ٤٣
(١٣) سنن ترمذی ، ج٣ ، ص ٣١٤و مجمع الزوائد ، ج٣، ص ٢٠و سنن ابی داؤود ، ج٣ ، ص ٢٠١ و سنن ابن ماجہ ، ج١ ، ص ٤٦٨ و فتح الباری ، ج٣ ، ص ١١٥ و جامع الاصول ابن اثیر ، ج١١ ، ص ١٠٥ و مستدرک حاکم ، ج١ ، ص ٣٦١
(١٤)ارشادالساری احمد بن محمد باب رثیٰ النبی ، ج٢ ، ص ٤٠٦
(١٥)صواعق محرقہ ،١٩٢و مقتل خوارزمی ،ج١  ص ١٥٩
(١٦) کنز العمال ٢٢٣٦، مجمع الزوائد ١٨٨٩
(١٧) مقتل خوارزمی ١٦٢، کتاب صفین نصر بن مزاحم ٥٨ ، تذکرة الخواص ٢٢٥
(١٨)تذکرة الخواص ١٥٢
(١٩) اسد الغابة ٢١٢
(٢٠)الصواعق المحرقہ ١٩٨
(٢١)تاریخ ابن اثیر  ج ٤ ص ٤٠٥

 

غیر شیعہ جواب دیں

غیر شیعہ جواب دیں

سوال نمبر (١) شیخین دور اندیش شخصیتیں تھیں لیکن پیغمبر اکرمۖ؟
جو چیز ہر مسلمان کے ذہن کو جھنجوڑتی ہے وہ یہ ہے کہ اکثر مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرمۖ دنیا سے رخصت ہوگئے اور اسلامی معاشرہ کی رہبر ی کے لیے اپنے بعد کسی کو جانشین معین نہیں کیا ! جبکہ تاریخ میں غور وفکر کرنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ابوبکر و عمر نے اپنے بعد امت کو تنہا نہیں چھوڑا اور امت اسلامی کے لیے رہبر معین کرکے گئے ، یقینا  دوراندیشی کا  لازمہ بھی یہی ہے!۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم  پیغمبر اکرمۖ کو ہر اعتبار سے تمام مسلمانوں سے برتر و افضل مانتے ہیںتو کیا وہ ابوبکر و عمر کے برابر بھی تدبیر نہیں رکھتے تھے اور کیا اسلامی معاشرہ کی رہبری کی حساسیت اور اسلام کے مستقبل کے لیے ایک لازمی تدبیر کو بھی نہ سمجھ سکے!۔

دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ اگر اسلامی معاشرے اور نظام کے لیے رہبر و خلیفہ کا معین کرنا ایک اچھا اور پسندیدہ فعل ہے تو پھر کیوں بعض مسلمان معتقد ہیں کہ پیغمبر اکرم ۖ نے اپنے لیے کوئی جانشین معین نہیں کیا ، اور اگر یہ کام ناپسندیدہ  ہے تو شیخین کیوں اپنے بعد کے لیے جانشین کی فکر میں رہے؟
سوال نمبر(٢) تعیین خلیفہ کے سلسلے میں قرآن کریم کی کیا نظر ہے ؟

وہ لوگ کہ جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول اکرمۖ اپنے بعد کے لیے کسی کو خلیفہ بناکر نہیں گئے اور یہ اہم کام لوگوں کے ذمہ چھوڑ گئے تو انہوںنے اب تک قرآن کریم کا بغور مطالعہ کیا ہے جبکہ خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے :

(انی جاعلک للناس اماما) (١)

بیشک میں نے آپ کو لوگوں کا امام بنایا

(یا داؤد انا جعلناک خلیفة فی الارض)  (٢)

اے داؤد ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ قرار دیا

(واجعل لی وزیرا من اھلی ) (٣)

حضرت موسی نے فرمایا : خدا وندا میرے لیے میری اہل میں  سے وزیر قرار دے

ان آیات اور انہی کی طرح دوسری آیات پر غور کرنے سے اور خصوصا کلمہ( جعل ) کہ جو نصب و تعین کے معنی میں ہے اور ان تمام آیات میں اس فعل کی نسبت خداوندعالم کی جانب دی گئی ہے ، واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم کی نظر یہ ہے کہ رسول اکرمۖ کے لئے جانشین و خلیفہ خداوندعالم معین فرماتاہے نہ کہ عوام الناس۔

تو کیا یہ عقیدہ رکھنا کہ خلیفہ پیغمبر کو معین کرنا لوگوں کی ذمہ داری ہے صریح قرآن کی مخالفت نہیں ہے ؟

ــــــــــــــــــــــ

(١)  سورہ بقرہ  آیت ١٢٤

(٢)  سورہ  ص  آیت ٢٦

(٣)  سورہ  طہ  آیت ٢٩
سوال نمبر (٣)  کیا بیعت کے مسئلے میں اختیا ر شرط نہیں ہے؟

قرآن کریم کی مذکورہ آیات سے چشم پوشی کرتے ہوئے اور دوسرے مدارک کو بھی نہ دیکھتے ہوئے ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ رسول خدا ۖ کا خلیفہ معین کرنا لوگوں کی ذمہ داری ہے تو کیا  لوگوں کو ڈرا  دھمکا کر بیعت پر مجبور کرنے سے بیعت صحیح ہوگی۔

امام بخاری ، عایشہ سے نقل کرتے ہوئے واقعہ سقیفہ کو یوں نقل کرتے ہیں:

لقد خوف عمر الناس(١)

عمر نے لوگوں کو ڈرایا دھمکایا

اس عبارت سے کم از کم جو چیز سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ ابوبکر کی بیعت کرنے میں آزاد  و با اختیار نہ تھے اور بیعت ڈر و خوف میں بیعت انجام دی ۔

اب انصاف سے فرمائیے کہ کسی کو کسی کام کے لیے مجبور کرنے سے کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ شخص اس کام میں آزاد ہے اور اس نے اپنی واقعی رائے کو پیش کیا ہے؟  اور کیا اس طرح کے حالات بنانا اور طاقت کے بل بوتے پر انتخاب کرنا ، لوگوں کے آزاد انتخاب کا نتیجہ کہا جاسکتا ہے؟

ــــــــــــــــــــــ

(١) 
صحیح بخاری ،ج٥، ص٦٧،حدیث١٩٠،کتاب فضائل اصحاب النبیۖ ، فضائل ابی بکر.
سوال نمبر (٤)  حضرت امیر المؤمنین علی کی نظر کس قدر معتبر ہے ؟

بر فرض محال ابوبکر کی خلافت پر اگر اجماع بھی ہوگیا ہو تو کیا آپ کو معلوم ہے کہ اہل سنت کے ایک عظیم عالم دین ابن حزم نے کیا تحریر کیا ہے ؟!

ولعنة اللہ علی کل اجماع یخرج عنہ علی بن ابی طالب و من بحضرتہ من الصحابة (١)

ہر اس اجماع پر خدا کی لعنت ہو جس میں حضرت علی بن ابی طالب اور ان کے طرف دار صحابہ موجود نہ ہوں ۔

مگر کیا آپ کو یہ علم نہیں ہے کہ حضرت علی ، سقیفہ کے سرسخت ترین مخالفین میں سے تھے۔

ـــــــــــــــــــ

(١)  المحلی، ابن حزم ، ج٨، ص٣٩٨، مسئلہ ١٧٧٠، کتاب الوصایا ، اقوال المتاخرین فی حکم الوصیة بعتق اکثر من الثلث۔
سوال نمبر (٥)  بیعت کس قیمت تک لی جاسکتی ہے ؟

خلافت کے مقابلے میں نہ صرف یہ کہ حضرت علی سے مشورہ نہ لیا گیا اور آپ کو کسی طرح کی دخالت کا موقع نہ دیا گیا بلکہ امام بخاری کے استاد ، جناب ابن ابی شیبہ کے بقول ،انہوں نے اپنی کتاب المصنف میں اعتراف کیا ہے کہ حاکم گروپ نے ، خاندان وحی و نبوت کے ساتھ بہت سختی سے برتاؤ کیا وہ لکھتے ہیں  :

''جس وقت خلیفہ دوم کو یہ اطلاع ملی کہ حضرت علی اور کچھ دیگر افراد نے حاکم گروپ پر اعتراض کرتے ہوئے حضرت فاطمہ زہرا کے بیت الشرف میں تحصن کیا  ہے  (پڑاؤ ڈالدیا)  تو وہ در سیدہ پر آئے اور قسم کھائی کہ اگر اس گھر میں موجود لوگوں نے ابوبکر کی بیعت نہ کی تو فاطمہ کے گھر کو آگ لگادوں گا ''(١)

اب ظاہر ہے کہ جس دور میں پیغمبر اکرم ۖ کے اہل بیت کے ساتھ یہ برتاؤ ہوتو دوسروں کو مخالفت کی کیا جرئت ہوسکتی ہے ؟

ـــــــــــــــــ
(١)  المصنف ، ابن ابی شیبہ، ج٨، ص٥٧٢، کتاب المغازی باب ماجاء فی خلافة ابی بکر۔
سوال نمبر (٦)  حضرت فاطمہ زہرا کے خانہء اقدس کو آگ لگانا بھی مناسب ہے !؟

اس مقام پر تمام مسلمانوں کو اشک بہانا چاہئے ، ابن عبد ربہ اپنی کتاب عقد الفرید میں لکھتے ہیں:

'' حضرت علی، عباس اور زبیر ، حاکم گروپ پر اعتراض کے صورت میں حضرت فاطمہ زہرا کے بیت الشرف میں جمع ہوگئے ، ابو بکر نے ،عمر کو ان لوگوں کی طرف بھیجا تاکہ ان کو بیعت کے لیے گھر سے باہر نکالے اور عمر کو حکم دیا کہ اگر وہ لوگ بیعت سے انکار و سرپیچی کریں تو ان کو قتل کردینا ، عمر آگ کا شعلہ لے کر حضرت فاطمہ زہرا کے خانہ ء اقدس پر آئے تاکہ گھر کو آگ لگائے حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا اے عمر کیا ہمارے گھر میں آگ لگانے آئے ہو ؟!

عمر نے کہا : ہاں اگر ابوبکر کی بیعت نہ کی ۔(١)

ــــــــــــــــــــ

العقد الفرید، ابن عبد ربہ، ج٥، ص١٢ کتاب العسجدة الثانیة فی الخلفاء و تواریخھم و ایامھم الذین تخلفوا عن بیعة ابی بکر
سوال نمبر (٧) پیغمبر اکرمۖ کے دین کو کن چیزوں سے تقویت ملتی ہے ؟

کیا پیغمبر اکرمۖ کے دین کو تقویت پہونچانے کے لیے آپ کی دختر حضرت فاطمہ زہرا کے گھر کو آگ لگائی جاسکتی ہے؟  یہ وہی گھر ہے کہ جس کے بارے میں علامہ جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر در منثور میں جناب انس بن مالک سے نقل کرتے ہیں:

قرء رسول اللہ ھذہ الآیة (فی بیوت اذن اللہ ان ترفع  و یذکر فیھا اسمہ) فقام رجل فقال ای بیوت ھذہ یا رسول اللہ ؟ قال بیوت الانبیاء فقام الیہ ابوبکر فقال یا رسول اللہ ھذا البیت منھا بیت علی و فاطمة قال نعم من افاضلھا ۔(١)

پیغمبر اکرمۖ نے مذکورہ آیت کی تلاوت فرمائی

یہ پررونق چراغ ان گھروں میں منور ہیں کہ جن کے بارے میں خدا وندعالم نے اجازت دی ہے کہ ان کی دیواروں کو بلند کیا جائے یہ وہ گھر ہیں کہ جن میں صبح و شام نام خدا لیا جاتا ہے۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور معلوم کیا اے رسول خدا یہ کون سے گھر ہیں ؟ پیغمبراکرمۖ نے فرمایا پیغمبروں کے گھر ۔

اسی وقت ابوبکر کھڑے ہوئے اور کہا اے رسول خدا ۖ کیا علی و فاطمہ کا گھر بھی انہیں میں سے ہے ؟ رسول خدا ۖ نے فرمایا جی ہاں یہ ان سب سے افضل ہے ۔

بلاذری نے عون سے نقل کیا ہے:

ان ابابکر ارسل الی علی یرید البیعة فلم یبایع فجاء عمر و معہ قبس فتلقتہ فاطمة علی الباب فقالت فاطمة یابن الخطاب اتراک محرقا علی بابی ؟ فقال نعم ذالک اقوی فیما جاء بہ ابوک۔(٢)

 

ابوبکر نے کسی شخص کو حضرت علی کے پاس بیعت کی غرض سے بھیجا لیکن حضرت علی نے بیعت نہ کی تو عمر  آگ  کا  شعلہ لے کر حضرت فاطمہ زہرا کے گھر کے دروازے پر حاضر ہوئے حضرت فاطمہ نے عمر سے فرمایا اے خطاب کے بیٹے کیا آپ ہمارے گھر کو ہمارے اوپر جلانے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ عمر نے کہا ہاں یہ آپ کے باباجان کے دین کے لیے بہتر ہے اور تقویت پہچانے کے لیے ہے !۔

ــــــــــــــــــــــــ

(١)  در المنثور ، سیوطی، ج٥، ص٩١، سورہ نور آیت ٣٦کے ذیل میں۔

(٢)  الانساب الاشراف ،ج٢، ص٢٦٨، امر السقیفہ۔
سوال نمبر (٨)  کیا دھمکیا ں پوری ہوگئیں ؟

افسوس اس بات پر ہے کہ یہ دھمکیا ں پوری ہوگئیں اور طاقت کے زور پر در فاطمہ کو کھولدیا گیا ۔

طبری نے لکھا ہے کہ ابوبکر نے اپنی وفات کے وقت کہا :

فوددت انی لم اکشف بیت فاطمة(١)

میری خواہش تھی کہ میں کاش خانہ فاطمہ کو نہ کھولتا ۔

کیا اس آرزو بھرے جملے کے بعد بھی صحیح ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ صرف دھمکیا ں تھیں اور کوئی ہجوم نہیں کیا گیا ۔

اگر خلیفہ دوم کے ذریعہ خلیفہ اول کے حکم کے مطابق کوئی اقدام نہیں ہوا تو پھر ابوبکر وقت وفات اس قدر کیوں اس کام سے مضطرب و پریشان تھے۔

ــــــــــــــــــــ

(١)  تاریخ طبری ، ج٢،ص٦١٩، حوادث سال١٣ہجری ذکر اسماء قضاتہ و کتابہ و عمالہ علی الصدقات۔  عقد الفرید ، ابن عبد ربہ، ج٥، ص١٩، العسجدة الثانیة  خلافة ابی بکر ، استخلاف ابی بکر لعمر۔
سوال نمبر (٩)حضرت فاطمہ زہرا  رات میں کیوں دفن ہوئیں ؟

اس روایت میں غور و فکر کرنے سے کچھ اسرار فاش ہوتے ہیں امام بخاری تحریر فرماتے ہیں :

فلما توفیت دفنھا زوجھا علی لیلا و لم یوذن بھا ابابکر و صلی علیھا۔(١)

جس وقت حضرت فاطمہ زہرا کا انتقال ہوا تو آپ کے شوہر نامدار حضرت علی نے آپ کو رات میں دفن فرمایا اور آپ ہی نے نماز جنازہ پڑھی اور ابوبکر کو خبر تک نہ دی گئی ۔

کبھی اس بارے میں فکر کیا کہ پیغمبر اکرم ۖ کی اکلوتی بیٹی اور آپ کی تنہا یادگار کو غریبانہ و مظلومانہ رات کی تاریکی میں کیوں سپردخاک کیا گیا اور ابوبکر کہ جو ظاہرا مسلمانوں کے خلیفہ اور حاکم وقت تھے ، تشیع و نماز جنازہ میں شرکت کی خبر تک نہ دی گئی !

کیا واقعا اگر حضرت فاطمہ زہرا خلیفہ اور ان کے طرفداروں سے رنجیدہ خاطر نہ ہوتیں اور خلیفہ سے ناراض دنیا سے نہ جاتیں تو کیا پھر بھی حضرت علی آپ کو شبانہ دفن فرماتے ؟۔

ــــــــــــــــــــــ

(١)  صحیح بخاری ،ج٥، ص٢٥٢، حدیث ٧٠٤ کتاب المغازی اواخر باب غزوة خیبر۔
سوال نمبر (١٠)  کیا عمر، ابوبکر کے خلیفہ بننے کو صحیح سمجھتے تھے ؟

عمر بن خطاب ، ابوبکر کے خلیفہ ہونے کے طریقے کو صحیح نہیں جانتے تھے اور اس طرح خلیفہ ہونے کو ممنوع اعلان کیا ہے۔ امام بخاری خلیفہ دوم سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

انما کانت بیعة ابی بکر فلتة ۔۔۔ ولکن اللہ وقی شرھا۔۔۔ من بایع  رجلا من غیر مشورة من المسلمین فلایبایع ھو والذی بایعہ تغرة ان یقتلا۔(١)

عبارت کا مطلب یہ ہے کہ

ابوبکر کی بیعت ناگہانی اور بغیرمشورہ کے انجام پائی ہے خدا وند عالم نے اس کے شر سے محفوظ رکھا ، اس کے بعد اگر کوئی شخص مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر کسی کی بیعت کرے تو اس کی بیعت باطل ہے اور بیعت کرنے والے اور بیعت لینے والے دونوں کو قتل کردیا جائے گا ۔

اب سوال یہی ہے کہ اگر یہ بیعت صحیح و مشروع ہے تو پھر بیعت لینے والے اور بیعت کرنے والے کیوں قتل کیے جائیں ؟  اور اگر مشروع و صحیح نہیں ہے تو ابوبکر نے ایسا کیوں کیا ؟

یہ مطلب بھی قابل غور ہے کہ خلیفہ دوم نے ان جملات سے اپنی حکومت پر بھی انگلی اٹھائی ہے اس لیے کہ ابوبکر نے اپنے بعد عمر کو تعین کرتے ہوئے مسلمانوں سے مشورہ نہیں لیا۔

ـــــــــــــــــــــ

(١)  صحیح بخاری ، ج٨، ص٥٨٧، کتاب المحاربین من اھل الکفر و الردة ،باب رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت۔
سوال نمبر (١١)  کیوں حضرت علی نے فورا ہی بیعت نہ کی ؟

صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ حب تک حضرت فاطمہ زہرا حیات رہیں حضرت علی نے ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی! (١)

حضرت علی اگر حاکم گروپ کو صحیح و صالح سمجھتے تو کیوں بیعت کرنے سے گریز فرماتے؟

ـــــــــــــــــ

(١)  صحیح بخاری، ج٥، ص٢٥٢، حدیث ٧٠٤، کتاب المغازی باب غزوة خیبر ۔

صحیح مسلم ، ج٣، ص١٣٨، حدیث ٥٢، کتاب الجھاد و السیر باب قول النبی لا نورث ما ترکناہ صدقة۔

تذکر : یہ روایت صحیحین کی ہے جبکہ مذہب شیعہ کا عقیدہ یہ کہ حضرت علی نے بعد وفات پیغمبر ۖ مادام العمر کسی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔
سوال نمبر (١٢) حضرت فاطمہ زہرا کو کس شخص نے اذیت پہونچائی ؟

صحیح بخاری میں عایشہ سے روایت بیان کی گئی ہے :

فوجدت فاطمة علی ابی بکر فھجرتہ فلم تکلمہ حتی نوفیت (١)

حضرت فاطمہ زہرا ابوبکر پر غضب ناک ہوئیں اور اس سے ناراض ہو کر قطع تعلق کرلیا اور جب تک قید حیات رہیں ابوبکر سے گفتگو نہیں کی۔

یہ وہی فاطمہ ہیں کہ جن کے بارے میں مسلم اپنی صحیح میں حضرت رسول اکرم ۖ سے روایت نقل کرتے ہیں :

فاطمة بضعة منی یوذینی من آذاھا (٢)

فاطمہ میرا ٹکڑا ہے  جس نے اس کو اذیت کی گویا مجھ کو اذیت دی ہے ۔

اب جبکہ حضرت فاطمہ زہرا کو اذیت پہنچانا خود حضرت رسول اکرم کو اذیت پہونچانا ہے تو آئیے دیکھیے قرآن کریم اس شخض کے بارے میں کہ جو رسول اکرمۖ کو اذیت پہونچائے کیا کہتا ہے ۔

قرآن کریم کا ارشاد گرامی ہے :

(ان الذین یوذون اللہ و رسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا و الآخرة و اعدلھم عذابا مھینا)۔(٣)

وہ لوگ کہ جو خدا اور رسول کو اذیت کرتے ہیں ان پر خداوندعالم دینا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے بہت ذلت و خواری کا عذاب مھیا کررکھا ہے ۔

حضرت فاطمہ زہرا کہ جو تمام مسلمانوں کے اعتراف سے نص اور آیة تطہیر کے مطابق معصوم ہیں تو کیا ممکن ہے وہ اپنی خواہش نفس کو مدنظر کسی سے قطع تعلق فرمائیں اور اس سے غضبناک و نارض دنیا سے جائیں۔

ـــــــــــــــــــــــــ

(١)  صحیح بخاری، ج٥، ص٢٥٢، حدیث ٧٠٤، کتاب المغازی باب غزوة خیبر ۔

(٢)  صحیح مسلم ، ج٤، ١٩٠٣ ، حدیث ٩٤، کتاب الفضائل  باب مناقب فاطمہ۔

(٣)  سورہ اخزاب ، آیت ٥٧۔
سوال نمبر (١٣) کونسا راستہ اختیار کرنا چاہیئے؟

حضرت رسول اکر مۖ  کا ارشاد گرامی ہے :

ان رائت علیا قد سلک وادیا و سلک الناس وادیا غیرہ فاسلک مع علی فانہ لن یخرجک من ھدی۔(١)

اگر آپ نے دیکھا کہ علی کسی ایک راستہ پر گامزن ہیں اور دوسرے افراد ان کے خلاف کسی اور راستے پر ہیں تو آپ علی کی راہ کو اختیار کریں چونکہ علی آپ کو  ہدایت و حق سے باہر نہیں کرسکتے۔

اس حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا وہ لوگ کہ جو مسئلہ خلافت میں حضرت علی کو چھوڑ کر دوسروں کی راہ پر چلے ،  ہدایت یافتہ ہیں ؟۔

ــــــــــــــــــــــــ

(١) تاریخ بغداد ، خطیب بغدادی ، ج١٣،ص١٨٧، حدیث٧١٦٥، شرح حال معلی بن عبد الرحمن الواسطی۔

تاریخ دمشق ، ابن عساکر،ج٤٢،ص٤٧٢،حدیث ٤٩٣٣، شرح حال علی بن ابی طالب۔
سوال نمبر (١٤)  کیا حضرت کی خلافت کی تبلیغ حضرت رسول اکرم ۖ کے ہمراہ نہیں ہوئی؟

حن حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اکرم نے اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین معین نہیں فرمایا اور مسئلہ خلافت کو لوگوں کے ذمہ چھوڑگئے تو کیا انہوں نے کبھی اپنی معتبر کتابوں میں مراجعہ کیا ہے ؟

محمد بن جریر طبری اور دوسرے مورخین نے نقل کیا ہے کہ جس وقت پیغمبر اکرمۖ  کو پہلی ہی مرتبہ تبلیغ اسلام کا حکم ہوا تو آپ نے اسی روز اپنی نبوت کے ساتھ حضرت امیرالمؤمنین علی کی خلافت کا بھی اعلان فرمایا ۔

طبری پیغمبر اکرم ۖ سے نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہے :

فایکم یوازرنی علی ھذا لامر علی ان یکون اخی و وصیی و خلیفتی فیکم۔(١)

تم میں سے کون ہے کہ جو اس امر رسالت میں میری مدد کرے تا کہ وہ میرا بھائی اور وصی و خلیفہ قرار پائے۔

اس واقعہ میں سوائے حضرت امیرالمؤمنین کے کسی نے مثبت جواب نہ دیا تب رسول اکرم ۖ نے حضرت علی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :

ان ھذا اخی و وصیی و خلیفتی فیکم

بیشک حضرت علی میرے بھائی اور تمہارے درمیان میرے وصی و خلیفہ ہیں ۔

ـــــــــــــــــــــــ

(١) تاریخ طبری،ج٢، ص٦٣ ذکر الخبر عما کان من امر نبی اللہ۔
سوال نمبر (١٥)  کیا پھر بھی معتقد ہوکہ پیغمبر اکرمۖ نے کسی کو اپنا خلیفہ معین نہیں فرمایا؟

احمد ابن حنبل نے روایت بیان کی ہے کہ رسول اکرم ۖ نے حضرت علی سے فرمایا :

انہ لا  ینبیغی ان اذھب الا و انت خلیفتی ۔(١)

یہ مناسب نہیں ہے کہ میں لوگوں کے درمیان سے چلا جاؤں اور آپ میرے خلیفہ نہ ہوں (یعنی میں اپنی زندگی ہی میں آپ کو اپنا خلیفہ بناکر جاؤں گا)

ــــــــــــــــــــــ

(١)  مسند احمد ابن حنبل ، ج١،ص٣٣١، مسند ابن عباس۔
سوال نمبر (١٦)  ایک اہم علامت!

حضرت رسول اکرم ۖ کا ارشاد گرامی ہے :

خلقت انا و علی من نور واحد قبل ان یخلق اللہ تعلی آدم باربعة عشر عام ، فلما خلق اللہ تعلی آدم رکب ذالک النور فی صلبہ فلم یزل فی شٔ واحد حتی افترقا فی صلب عبد المطلب ففیّ النبوة  و علی الخلافة۔(١)

میں اور علی ایک ہی نور سے خلق ہوئے ہیں آدم کی خلقت سے چودہ ہزار سال پہلے ، اور آدم کی خلقت کے بعد خداوندعالم نے اس نور کو آدم کی صلب میں رکھا پھر ہم مسلسل ایک ہی تھے یہاں تک کہ صلب عبد المطلب میں آکر جدا ہوئے پس مجھ میں نبوت قرار دی گئی اور علی میں خلافت۔

 

ــــــــــــــــــــــــ

(١)  مناقب ابن مغازلی ،ص٨٨،حدیث ١٣٠ باب قولہ کنت انا و علی نورا بین یدی اللہ ۔

فردوس دیلمی، ج٢، ص١٩١، حدیث ٢٩٥٢ باب الخائ۔
سوال نمبر (١٧)  ایک اور ثبوت

کیا نہیں سنا ہے کہ حاکم حسکانی اور دوسرے علماء نے اس حدیث کو نقل کیا ہے ؟:

عن انس قال انقض کوکب علی عھد رسول اللہ فقال النبی انظروا الی ھذا الکوکب فمن انقض فی دارہ فھو الخلیفة من بعدی ، فنظرنا فاذا ھو انقض فی منزل علی بن ابی طالب  فقال جماعة من الناس قد غوی محمد فی حب علی فانزل اللہ (والنجم اذا ھوی ، ما ضل صاحبکم وما غوی) (١)

انس کا بیان ہے کہ پیغمبر اکرمۖ کے زمانے میں ایک ستارہ نیچے اترا پیغمبراکرمۖ نے فرمایا اس ستارے کو دیکھو یہ جس کے دروازے پر اتر جائے وہ ہی میرے بعد میرا خلیفہ ہے ، ہم نے دیکھا تو اتفاق سے وہ ستارہ علی بن ابی طالب کے گھر پر اترا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ محمد ، علی کی محبت میں دیوانے ہوگئے ہیں۔ تب یہ آیات نازل ہوئیں۔

ان احادیث کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا پھر بھی معتقد ہو کہ پیغمبر اکرمۖ اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر فرماکر نہیں گئے۔

ــــــــــــــــــــــــ

(١) شواہد التنزیل ، حاکم حسکانی ، ج٢، ص٢٧٦،حدیث ١٦٣، سورہ نجم کی آیت نمبر ١کے ذیل میں ۔

کفایت الطالب ، گنجی شافعی ،ص٢٦٠، باب ٦٢۔

مناقب ابن مغازلی ،ص٢٦٦، حدیث ٣١٣، باب قولہ انظروا الی ھذا الکوکب ۔
سوال نمبر (١٨)  پیغمبر اکرمۖ  کس چیزکی وصیت کرنا چاہتے تھے ؟

عمر بن الخطاب نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ رسول اکرمۖ اپنے آخری وقت میں حضرت علی کی خلافت کی تصریح و وضاحت کرنا چاہتے تھے لیکن وہ مانع ہوگئے ۔

ابن ابی الحدید عمر بن الخطاب سے نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہے:

ولقد اراد فی مرضہ ان یصرح باسمہ فمنعت من ذالک اشفاقا  و حیطة علی الاسلام ۔(١)

رسول اکرمۖ اپنی عمر کے آخری دور میں یہ چاہتے تھے کہ حضرت علی کی خلافت کے بارے میں وضاحت و تصریح فرمائیں لیکن میں حفظ اسلام اور دلسوزی کی خاطر مانع ہوگیا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی اور شخص بھی پیغمبراکرمۖ سے زیادہ اسلام ومسلمین کی مصلحت کو سمجھ سکتا ہے ؟

مقام تعجب ہے کہ جو شخص اس قدر اسلام کے لیے دلسوز ہویہاں تک کہ پیغمبراکرم ۖ سے زیادہ اسلام و مسلمین کی مصلحت کو سمجھتا ہو تو شاید وہی حقیقی پیغمبر ہے!!! اور شاید جبرئیل نے وحی پہنچانے میں خیانت کی ہے یہ کہ اس شخص پر وحی نازل کرنے کے بجائے رسول اکرمۖ پر وحی کو لے آئے ہیں !!!؟۔

ـــــــــــــــــــــ

(١)  شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ، ج١٢،ص٢٠، خطبہ٢٢٣، نکت من کلام عمر و سیرتہ۔
سوال نمبر (١٩)  پیغمبر اکرم ۖ  کی توہین کی کیا سزا ہے ؟

کیا کبھی سنا ہے کہ پیغمبر اکرمۖ  کی زندگی کے آخری ایام میں آپ کے بستر کے نزدیک کیا حادثہ پیش آیا ؟

کیا یہ بھی جانتے ہو کہ اس درد ناک واقعہ کو امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے !؟۔

امام بخاری  ابن عباس سے نقل کرتے ہیں : کہ پیغمبر اکرمۖ نے اپنی عمر کے آخری ایام میں قلم دوات کا مطالبہ فرمایا تاکہ کچھ تحریر فرمائیں جس سے کہ آپ کے بعد امت گمراہ نہ ہوسکے اس دوران عمر بن الخطاب نے کہا : ان النبی غلبہ الوجع و عندنا کتاب اللہ حسبنا ، فاختلفوا و کثر اللغط ،قال قوموا عنی ولا ینبغی عندی التنازع ۔(١)

عمر نے کہا کہ پیغمبر اکرم ۖپر درد کا غلبہ ہوگیا ہے (یعنی ہزیان کہہ رہے ہیں اور آپ کے کلام کا اعتبار نہیں ہے )  اور ہمارے لیے کتاب خدا کافی ہے اس وقت  لوگوں میں اختلاف ، توتو میں میں اور سر وصدا بہت زیادہ ہوئی تو رسول اکرم ۖ نے فرمایا میرے پاس سے چلے جاؤ میرے پاس اختلاف کرنا صحیح نہیں ہے ۔

اس واقعہ میں اچھی طرح غور کیجیے اب تک بہت زیادہ تاکید رہی ہے کہ جو شخص پیغمبر اکرم ۖ کے صحابہ کی توہین کرے اس کا حکم کیا ہے !

تو کیا آج تک کبھی غور کیا ہے کہ جب صحابہ کی توہین کرنے والے کا حکم کفر و نفاق ہے تو اگر کوئی شخص خود پیغمبراکرمۖ  کی توہین کرے تو اس کا حکم کیا ہوگا ؟

کیا یہ رسول اکرمۖ  کی توہین ہوئی ہے یا امام بخاری جھوٹ بول رہے ہیں ؟

کیا رسول اکرمۖ پر ہزیان کی نسبت دینا توہین نہیں ہے ؟

کیا وہ پیغمبر کہ جس کی خداوندعالم اس طرح تو صیف فرماتا ہے :

وماینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی(٢)

انکشاف حقیقت  ٣٢

 

یہ اپنی خواہشات نفس کے مطابق کلام نہیں کرتا بلکہ جو کچھ کہتا ہے وہ وحی ہے تو پھر کوئی یہ کہے کہ درد و بیماری کی وجہ سے آپ کا کلام مورد قبول نہیں ہے تو کیا آپ کی نظر میں یہ توہین نہیں ہے ؟

مقام تعجب ہے قرآن کریم پیغمبر اسلام ۖ کے تمام ارشادات کو وحی جانتا ہے لیکن کچھ لوگ آپۖ کے کلام مبارک کو بیماری کی وجہ سے بے اعتبار سمجھتے ہیں ۔

قرآن کریم اوامر و نواہی پیغمبرۖ  کی اطاعت کو واجب جانتا ہے لہذا ارشاد ہے :

وماآتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا(٣)

پیغمبر جو کچھ بھی تم کو دیں اس کو لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔

لیکن کچھ لوگ اپنے آپ کو پیغمبرۖ  کی گفتگو اورفرمان سے بے نیاز سمجھتے ہیں اور قرآن کو اپنے معاشرے کے لیے کافی سمجھتے ہیں !۔

ـــــــــــــــــــــــــ

(١)  صحیح بخاری ، ج١، ص١٢٠، حدیث ١١٢، کتاب العلم باب کتابة العلم۔

(٢)  سورہ نجم ، آیت ٣ـ٤۔

(٣)  سورہ حشر آیت ٧۔
سوال نمبر (٢٠)  پیغمبر اکرم ۖ  کی وصیت اہم ہے یا وصیت ابو بکر ؟!

ہم جو کچھ صحیح بخاری سے نقل کرچکے ہیں کہ پیغمبر اکرم ۖ کے بستر کے کنارے خلیفہ دوم نے پیغمبر اکرمۖ  کووصیت کرنے نہیں دی لیکن جس وقت ابوبکر نے وصیت کرنا چاہی تو نہ صر ف یہ کہ منع نہیں کیا بلکہ لوگوں کو ابھارا اور آمادہ کیا کہ خلیفہ رسول کی وصیت کو غور سے سنیں !(١)

مقام شگفت ہے کہ اگر قرآن مسلمانوں کے ہدایت کے لیے کافی ہے اور پیغمبر اکرم ۖ  کی وصیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو پھریہاں کیوں مسلمان قرآن کے علاوہ ابو بکر کی وصیت کے ضرورت مند ہوگئے؟!

مذکورہ منابع اور اس کے علاوہ بھی تاریخ میں مراجعہ سے ابوبکر کی وصیت کا متن واضح ہے یہ وہی وصیت ہے کہ جس کے منتشر ہونے میں خلیفہ دوم بڑی حرص وطمع کے ساتھ کوشش کررہے تھے !

ابوبکر نے وصیت کی کہ اس کے بعد خلیفہ عمر بن خطاب ہوں اور پیغمبر اکرم ۖ  بھی جیسا کہ خلیفہ دوم سے نقل ہوچکا ہے چاہتے تھے کہ آپۖ کے بعد خلیفہ علی بن ابی طالب ہوں اور خلافت کی وصیت فرمائیں۔

کمال ہے جس وقت پیغمبراکرم ۖ حضرت علی کی خلافت کی وضاحت و تصریح کرنا چاہتے ہیں تو ہزیان ہے اور قرآن کافی ہے !۔ لیکن جب ابوبکر عمر کی خلافت کی وضاحت و تصریح کرنا چاہتے ہیں تو نہ ہزیان ہے اور نہ ہی قرآن کافی ہے بلکہ اس وصیت کی تبلیغ اور انتشار بھی ضروری ہے !۔

ــــــــــــــــــــــــ

(١)  تاریخ طبری ، ج٢ ، ص ٦١٨ حوادث  ١٣ھ۔

تاریخ ابن خلدون ، ج٢، ٨٦ـ٨٥ خلافة عمر۔
سوال نمبر (٢١)  خلیفہ معین کرنے کا معیار  بیعت ہے یا تعیین یا شوری؟

کیا آج تک کبھی سوچا ہے کہ رسول اکرمۖ  کا جانشین کس طرح معین ہونا چاہیے؟

کیا بیعت اور لوگوں کی رائے معیار ہے یا گذشتہ خلیفہ کا تعین و نصب کرنا ، یا پھر شوری کی نظر؟

پس اگر خلیفہ کے تعین میں بیعت عمومی اور اکثر یت کی رائے معیار ہے تو عمر اور عثمان کی خلافت باطل ہے چونکہ یہ دونوں اکثریت کی رائے سے خلیفہ نہیں ہوئے ، بلکہ عمر  ابوبکر کی تعیین و نصب سے اور عثمان شوری کی نظر سے خلیفہ بنے ۔

اور اگر خلیفہ کے تعین میں گذشتہ خلیفہ کی تعیین و نصب کرنا معیار ہے تو ابوبکر و عثمان کی خلافت باطل ہے چونکہ دونوں کے دونوں گذشتہ خلیفہ کی تعیین و نصب سے خلیفہ نہیں بنے ۔

اور اگر خلیفہ کے تعین میں نظر شوری معیار ہے تو خلافت شیخین باطل ہے چونکہ یہ دونوں شوری کی رائے و نظر سے خلیفہ نہیں ہوئے۔

لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ اتنا اہم کام جیسے رسول اکرم ۖ  کی جانشینی بغیر کسی مشخص معیار و ملاک کے انجام پائے کھبی بیعت کے ذریعہ تو کھبی تعیین و نصب کے ذریعہ اور کبھی شوری کی نظر سے!؟۔
سوال نمبر (٢٢)  کیا ہمیشہ اہل حق کامیاب ہیں؟

عمر بن الخطاب کا بیان ہے :

ما اختلف امة بعد نبیھا الا ظھر اھل باطلھا علی اھل حقھا(١)

کسی بھی امت میں اپنے نبی کے بعد اختلاف نہیں ہوا مگراس میں اہل باطل ، اہل حق پر کامیاب رہے ۔

اس حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے سقیفہ کے اختلاف اور ابوبکر وعمرکی کامیابی کے بارے میں کیا توجیہ پیش کرسکتے ہیں؟۔

ـــــــــــــــــــــــ

(١)  کنزالعمال ، متقی ہندی، ج١،ص١٨٣، حدیث ٩٢٩، کتاب الاعتصام بالکتاب و السنة۔
سوال نمبر (٢٤)  حضرت علی کس قدر عمر کے ارادتمند تھے ؟

جو حضرات حضرت علی اور خلفاء کے درمیان اچھے روابط کے قائل ہیں کیا انہوں نے کبھی صحیح بخاری و صحیح مسلم کا مطالعہ کیا ہے ؟

جیسا کہ مذکور ہے :

فارسل الی ابی بکر ان ائتنا ولا یاتنا احد معک کراھیة لمحضر عمر۔(١)

حضرت علی نے ابوبکر کو بلانے کے لیے بھیجا کہ میرے پاس آؤ اور اپنے ساتھ کسی کو نہ لانا چونکہ آپ عمر کو دیکھنا نہیں چاہتے تھے!۔

ــــــــــــــــــــ

(١)  صحیح بخاری ، ج٥، ص٢٥٢، حدیث ٧٠٤ کتاب المغازی باب غزوة خیبر ۔

صحیح مسلم ، ج٣، ص١٣٨٠ ،حدیث ٥٢، کتاب الجھاد و السیر باب قول النبی (لانورث ما ترکنا فھو صدقة)
سوال نمبر (٢٣)  کیا حضرت علی کا خلفاء کے ساتھ رابطہ اچھا تھا؟

اس بات پر اصرار کیوں ہے کہ حضرت علی کے خلفاء کے ساتھ اچھے روابط پر زور دیا جائے مگر کیا آپ نہیں جانتے کہ صحیح مسلم میں خلیفہ دوم کے قول سے ایک طولانی روایت کے ذیل میں حضرت علی اور رسول اکرمۖ کے چچا جناب عباس کی نظر ابوبکر و عمر کے بارے میں نقل ہوئی ہے ۔

فقال ابوبکر قال رسول اللہ  '' ما نورث ما ترکنا ہ صدقة '' فرائتما ہ کاذبا آثما غادرا خائنا واللہ یعلم انہ لصادق بار راشد تابع للحق ثم توفی ابوبکر وانا ولی رسول اللہ ولی ابی بکر فرائتمانی کاذا آثما غادرا خائنا۔۔۔(١)

عمر نے حضرت علی و جناب عباس سے کہا ابو بکر نے آپ کے لیے پیغمبر اکرمۖ  کی حدیث نقل کی کہ ہم پیغمبروں کی میراث باقی نہیں رہتی اور جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے ، لیکن آپ حضرات نے ابوبکر کو جھوٹا ، گنہگار ،مکار  اور خائن سمجھا اور ابوبکر کے بعد میں برسرکار آیا اور آپ مجھ کو بھی جھوٹا ، گنہکار ، مکار اور خائن سمجھتے ہو!

تو کیا یہ کلمات اچھے روابط کی نشاندہی کرتے ہیں؟

ــــــــــــــــــــــــــــ

(١)  صحیح مسلم ،ج٣، ص١٣٧٩ حدیث ٤٩، کتاب الجھاد و السیرة باب حکم الفئی۔
سوال نمبر (٢٥)  کیا امام بخاری کا بھی خلفاء پر اعتماد ہے ؟

جو حضرات خلفاء راشید ین کے معتقد ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول اکرم ۖ کے خلفاء بالترتیب ابوبکر ، عمر ، عثمان اور حضرت علی فضیلت وکمالات کے حامل ہیں ، کیا انہوں نے کبھی صحیح بخاری کا مطالعہ کیا ہے اس نے ایک حدیث کے ذکر سے اس نظریہ کو باطل ثابت کیا ہے ؟

بخاری ابن عمر سے نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہے :

کنا فی زمن النبی لانعدل بابی بکر احد ثم عمر ثم عثمان ثم نترک اصحاب النبی لانفاضل بینھم ۔(١)

ہم عصر پیغمبرۖ میں کسی کا بھی ابوبکر سے مقایسہ و مقابلہ نہیں کرتے تھے پھر ان کے بعد عمر اور پھر عثمان اور ان کے بعد اصحاب رسول کو چھوڑ دیتے تھے اور کسی کو کسی پر بھی فضیلت نہیں دیتے تھے ۔

اسی طرح امام بخاری نے ایک اور جگہ ابن عمر سے ایک اور روایت نقل کی ہے :

کنا نخیر بین الناس فی زمن النبی فخیر ابا بکر ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان ۔(٢)

ہم عصر پیغمبرۖ میں اختیار کرتے تو پہلے ابوبکر کو پھر عمر بن الخطاب کو اور پھر عثمان کو انتخاب کرتے تھے ۔

ان دونوں روایتوں میں کہیں بھی حضرت علی کا نام نہیں آیا ہے ۔ جبکہ اہل تسنن حضرات ، حضرت علی کو چوتھے خلیفہ کی حیثیت سے فضیلت دیتے ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــ

(١)  صحیح بخاری ، ج٥، ص٧٦، حدیث ٢١٦ ، کتاب فضائل اصحاب النبی باب مناقب عثمان ۔

(٢)  صحیح بخاری ، ج٥، ص٦٣، حدیث ١٧٨ کتاب فضائل اصحاب النبی  فضل ابی بکر بعد النبی۔
سوال نمبر (٢٦)  کیا حضرت علی نے اپنے حق کا مطالبہ نہیں کیا ؟

جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ اگر حضرت علی کا خلافت میں کوئی حق ہوتا تو کیوں آپ نے اس سلسلے میں کچھ نہ فرمایا ؟ تو کیا انہوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کا مطالعہ کیا ہے؟ جہاں پر  حضرت علی سے مروی ہے کہ آپ نے ابو بکر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :

ولکنا کنا نری لنا فی ھذا الامر نصیبا فاستبد علینا ۔(١)

امر خلافت میں ہمارا حق تھا لیکن آپ لوگوں نے ہم سے زبر دستی چھین لیا۔

ـــــــــــــــــــــــــ

(١)  صحیح بخاری، ج٥ ،ص٢٥٣، کتاب المغازی ، باب غزوة خیبر۔

صحیح مسلم ، ج٣، ص١٣٨٠، حدیث ٥٢، کتاب الجھاد و السیر باب قول النبی (لانورث ما ترکنا فھو صدقة)
سوال نمبر(٢٧)  کیا غیر اختیاری عمل ، فضیلت کا حامل ہے ؟

کیا صحابی ہونا امر اختیاری ہے یا نہیں؟  اگر یہ عمل اختیاری نہیں تو پھر کس لیے صحابہ کا کام ایک غیر اختیاری امر کی بناء پر دوسروں کی بنسبت چندین برابر قابل ارزش ہو ؟

امام بخاری نے حضرت رسول اکرمۖ سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا :

لاتسبو اصحابی فلو ان احدکم انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم ولا نصفیہ۔(١)

میرے اصحاب کو گالیاں نہ دو چونکہ اگر تم میں سے کوئی بھی احد کے پہاڑ کی برابر بھی راہ خدا میں سونا خرچ و خیرات کرے تو بھی میرے کسی صحابی کے برابر یا اس کی آدھی فضیلت کا بھی حامل نہیں ہوسکتا ۔

کیا یہ اعتقاد حکمت الہی سے سازگاری رکھتا ہے کہ کسی کو ایک غیر اختیاری عمل کی وجہ سے یہ فضیلت دی جائے۔

ـــــــــــــــــــ

(١)  صحیح بخاری ، ج٥، ص٦٨، حدیث ١٩٣، کتاب فضائل اصحاب النبی باب قول  النبی ( لو کنت متخذا خلیلا)
سوال نمبر(٢٨)  کیا پیغمبر اکرم ۖ  کو تنہا چھوڑ دینا مناسب ہے ؟

جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ تمام صحابہ عادل ہیںاور ان میں سے ہر ایک کی پیروی باعث

ہدایت ہے تو کیا آج تک صحیح بخاری کبھی اس حدیث کو سنا ہے :

عن جابر قال اقبلت عیر و نحن نصلی مع النبی الجمعة فانفض الناس الا اثنی عشر رجلا فنزلت ھذہ الآیة  (واذا راؤ تجارة او لھوا انفضوا الیھا و ترکوک قائما) (١)

جابر کہتے ہیں ایک تجارتی قافلہ آیا اور ہم حضرت رسول اکرمۖ کے ہمراہ نماز جمعہ کی برگذاری میں مشغول تھے تو تمام صحابہ سوائے ١٢ افراد کے پیغمبراکرمۖ  کو چھوڑکر اس قافلہ کی طرف چلے گئے تب مذکورہ آیت نازل ہوئی ۔

ـــــــــــــــــــــــ

(١)  صحیح بخاری ، ج٣، ص١١٩، حدیث ٣١١، کتاب البیوع باب قولہ تعالی(واذا راؤ تجارة او لھوا انفضوا الیھا و ترکوک قائما)
سوال نمبر(٢٩) کیا وہ صحابہ کہ جنہوں نے عایشہ پر تہمت لگائی تھی سچے تھے ؟

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ تمام صحابہ سچے تھے اور ان کے ہر قول کی بغیر تحقیق کے پیروی کرنی چاہیے ، کیا انہوں نے قرآن کریم کی اس آیت کی قرائت نہیں کی :

(ان الذین جاؤوا بالافک عصبة منکم) (١)

جن حضرات نے عایشہ پر تہمت لگائی ہے وہ خود تم ہی اصحاب میں سے ہیں ۔ تو کیا یہ صحابہ جھوٹے تھے یا سچے ؟ اگر جھوٹے تھے تو عادل نہیں ہیں اور اگر سچے ہیں تو ۔۔۔؟
سوال نمبر(٣٠)  کیا بعض صحابہ جھوٹے ہیں یا قرآن کریم؟

قرآن کا ارشاد ہے : (یا ایھا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنباء فتبینوا)(١)

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلو ۔

اس آیت کے ذیل میں مفسرو محدث حضرات کا بیان ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ صحابی کے پیغمبراکرمۖ سے جھوٹ بولنے پر نازل ہوئی ۔(٢)

کیا جھوٹ بولنے سے عدالت پرکوئی آنچ نہیں آتی۔

ــــــــــــــــــــــ

(١)  سورہ حجرات  آیت ٦۔

(٢)  تفسیر القرآن العظیم ، ابن کثیر ، ج٤، ص١٨٥، ذیل آیت ٦ سورہ حجرات۔
سوال نمبر(٣١)   آیات نفاق سے کون لوگ مراد ہیں ؟
جو حضرات ، حضرت پیغمبراکرم ۖ  کے صحابہ کو عادل ، سچے اور اہل بہشت سمجھتے ہیں تو سورہ منافقین اور آیات نفاق کن لوگوں کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔
کیا ان آیات سے مراد ،ان افراد کے علاوہ کوئی اور ہیں کہ جو پیغمبر اکرمۖ  کے ارد گرد بیٹھتے اور صحابہ کہلاتے تھے ۔
کیا اب بھی کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اکرمۖ کے تمام صحابہ کے اعمال و رفتار پر بغیر تحقیق کے اطمینان کیا جائے۔
ـــــــــــــــــــــــــ
 
سوال نمبر(٣٢)  کون لوگ پیغمبر اکرم ۖ کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے ؟
کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ بعض صحابہ ، پیغمبراکرمۖ کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے ۔
مسند احمدحنبل(١) اور تفسیر فخر رازی (٢) اور دیگر معتبر منابع میں مراجعہ کیجیے اور دیکھیے کہ کس طرح اس افسوس ناک واقعہ کو بیان کیا گیا ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
(١)  مسند احمد بن حنبل ،ج٥، ص٤٥٣، مسند ابی طفیل عامر بن وائلہ ۔
(٢)  تفسیر الکبیر ، فخر رازی ، ج١٦، ص١٣٦، سورہ توبہ آیت ٧٤ کے ذیل میں ۔
سوال نمبر(٣٢)  کون لوگ پیغمبر اکرم ۖ کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے ؟
کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ بعض صحابہ ، پیغمبراکرمۖ کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے ۔
مسند احمدحنبل(١) اور تفسیر فخر رازی (٢) اور دیگر معتبر منابع میں مراجعہ کیجیے اور دیکھیے کہ کس طرح اس افسوس ناک واقعہ کو بیان کیا گیا ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
(١)  مسند احمد بن حنبل ،ج٥، ص٤٥٣، مسند ابی طفیل عامر بن وائلہ ۔
(٢)  تفسیر الکبیر ، فخر رازی ، ج١٦، ص١٣٦، سورہ توبہ آیت ٧٤ کے ذیل میں
سوال نمبر(٣٣)  کیا حضرت پیغمبر اکرمۖ کے دستورات  سنت نہیں ہیں؟
کیا آپ کو یہ خبر بھی ہے کہ یہی صحابہ کہ جن کے بارے میں آپ اس قدر فضائل بیان کرنے میں افراط کرتے ہیں صلح حدیبیہ کے موقع پر کیا کارنامہ انجام دیا ، ہجرت کے چھٹے سال پیغمبر اکرم ۖ  نے ارادہ کیا کہ عمرہ کی غرض سے مکہ کی طرف روانہ ہوں لیکن کچھ مصلحت کی بنا پر یہ ارادہ کیا کہ اس عمرہ کی خاطر مکہ میں وارد نہ ہوں اور کفار کے ساتھ صلح نامہ پر دستخط کردیئے۔
رسول خدا کا یہ ارادہ اکثر صحابہ کو ناگوار گزرا چونکہ ان کا ارادہ جنگ کا تھا لہذا جس وقت صلحنامہ پر دستخط ہوگئے تو امام بخاری کی نقل کردہ روایت کے مطابق حضرت پیغمبراکرم ۖ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا:
قوموا فانحروا ثم احلقوا قال فواللہ ما قام منھم رجل حتی قال ذالک ثلاث مرات فلما لم یقم منھم احد دخل علی ام سلمة فذکر لھا مالقی الناس۔(١)
اٹھیے اور اونٹوں کو ذبح کیجئے اور پھر اپنے اپنے سروں کو تراشیے ۔ راوی کہتا ہے قسم بخدا صحابہ میں سے ایک بھی نہ اٹھا یہاں تک کہ رسول اکرمۖ نے تین مرتبہ اپنے فرمان کی تکرار کی اور اس کے بعد آپ نے دیکھا کہ کوئی اطاعت نہیں کررہا تب آپ ام سلمہ کے پاس تشریف لے گئے اور اس واقعہ کو دل سوزی و درددل کے طور پر ان سے بیان فرمایا ۔
مسلمانو! کیا پیغمبر اکرمۖ کے دستورات و فرامین ، سنت پیغمبرمیںشمار نہیں کیے جاتے ؟
کیوں وہ افرادکہ جو خود کو اہل سنت جانتے ہیں ایسے افراد کی پیروی و فرمانبرداری کرتے ہیں کہ جو خود رسول اکرمۖ  کی سنت کا اعتبار نہیں کرتے اور اوامر و دستورات پیغمبرۖ سے سرپیچی کرتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــ
(١)  صحیح بخاری ،ج٤، ص٩٣٢، کتاب الشروط فی الجھاد و المصالحہ مع اھل الحرب۔

سوال نمبر(٣٤)  جو شخص پیغمبراکرمۖ  کی نبوت میں شک کرے اس کا کیا حکم ہے ؟
کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ خلیفہ دوم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر پیغمبر اسلام ۖ  کی نبوت میں شک کیا!؟
امام بخاری صلح حدیبیہ کے واقعہ کو نقل کرتے ہوئے عمر بن الخطاب سے روایت کرتے ہیں۔
فاتیت نبی اللہ فقلت الست نبی اللہ حقا قال بلی قلت السنا علی الحق و عدونا علی الباطل قال بلی قلت فلم نعطی الدنیة فی دیننا اذا قال انی رسول اللہ و لست اعصیہ۔۔۔(١)
میں (عمر بن الخطاب) پیغمبر اکرمۖ  کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے عرض کی کیا آپ حقیقتا و واقعا اللہ کے نبی نہیں ہیں ؟ حضرت نے فرمایا  کیوں نہیں
میں نے عرض کی کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟  حضرت نے فرمایا ایسا ہی ہے ،  میں نے کہا تو پھرکیوں ہم کو ہمارے دین میں حقیر و ذلیل کر رہے ہو؟
اس وقت حضور اکرمۖ نے فرمایا میں خدا کا رسول ہوں اس کی معصیت نہیں کرتا۔
غور کیجئے اگر کوئی شخص پیغمبراکرمۖ  کی نبوت پر کامل طور پر یقین رکھتا ہو تو وہ کیا اس طرح شک و تردید کے ساتھ سوال کرے گا ؟۔
خود پیغمبر اکرمۖ  کا جواب بھی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ سوال کرنے والا آپ کی رسالت میں شک و تردید میں مبتلا ہے چونکہ آپ نے جواب میں اپنی رسالت کی تاکید فرمائی کہ میں خدا کا رسول ہوں ۔
 
اور پھر کمال یہ ہے کہ عمر کوپھر بھی رسول اللہ ۖ کے جواب پر اطمینان حاصل نہ ہوسکا اور اسی سوال کو لے کر ابوبکر کے پاس گئے اور وہی سوال ابوبکر سے پوچھنے لگے ۔
فاتیت ابابکر فقلت یا ابابکر الیس ھذا نبی اللہ حقا ۔۔۔ اذا قال ایھا الرجل انہ لرسول اللہ و لیس یعصی ربہ۔
عمر کا بیان ہے کہ میں اس کے بعد ابوبکر کے پاس آیا اور کہا اے ابوبکر کیا یہ شخص واقعا و حقیقتا خدا کا رسول نہیں ہے ، ابوبکر نے کہا کیوں نہیں ۔۔۔ یہاں تک کہ ابوبکر نے مجھ سے کہا
اے مرد وہ خدا کا رسول ہے اور خدا کی معصیت نہیں کرتا۔
جو شخص اس طرح رسول اکرمۖ سے سوال کرے اور جواب پانے کے بعد بھی قانع و مطمئن نہ ہو اور دوبارہ  ابوبکر کے پاس جائے اور وہی سوال کرے تو کیا اس شخص کا پیغمبراکرمۖ  کی نبوت پر یقین ہے ؟
جلال الدین سیوطی اور دوسرے حضرات نے بھی خلیفہ دوم سے ان کے کلمات نقل کئے ہیں :
فقال عمر بن الخطاب :  واللہ ما شککت منذ اسلمت الا یومئذ۔(٢)
عمر نے کہا خدا کی قسم میں جس روز سے اسلام لایا ہوں آج تک نبوت میں شک نہیں کیا مگر آج۔
اسلام کی نظر میں اگر کوئی شخص رسول اکرمۖ  کی نبوت پر شک کرے اس کا کیا حکم ہے ؟۔
ــــــــــــــــــــــــ
(١)  صحیح بخاری ، ج٤، ص ٣٨١، حدیث ٩٣٢، کتاب الشروط ، باب الشروط فی الجھاد و مصالحہ مع اھل الحرب۔
(٢)  تفسیر الدرالمنثور ، سیوطی ، ج٦، ص٧٤، سورہ فتح آیت ٢٥ کے ذیل میں۔
تفسیر جامع البیان ، طبری، ج٢٥، ص١٢٩، مذکورہ آیت کے ذیل میں۔
سوال نمبر(٣٥)  کیا صحابہ نے میدان جنگ سے فرار نہیں کیا ؟
بعض اصحاب پیغمبر مختلف جنگوں میں رسول اکرمۖ  کو تنہا چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے
ہیں!۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں ابوقتادہ سے جنگ حنین کی تشریح کرتے ہوئے نقل کیا ہے ۔
وانھزم المسلمون و انھزمت معھم فاذا بعمر بن الخطاب فی الناس ۔۔۔ ثم تراجع الناس الی رسول اللہ۔(١)
جنگ حنین میں تمام صحابہ فرار کرگئے اور میں بھی ان کے ساتھ فرار کرگیا تو میں نے بھاگنے والوں کے درمیان عمر بن الخطاب کو بھی دیکھا اس سے معلوم کیا لوگوں کے کیا حال ہیں اس نے کہا امر خدا ہے ، پھر بھاگنے والے رسول اللہ ۖ کے پاس واپس آگئے ۔
ـــــــــــــــــــــــ
(١) صحیح بخاری ، ج ٥، ص٢٧٣، حدیث ٧٧١، کتاب المغازی باب قولہ تعالی  ( ویوم حنین اذا اعجبتکم ۔۔)
سوال نمبر(٣٦)  پھر بھی فرار!
صحابہ کرام جنگ حنین کے علاوہ بھی دوسرے مقامات پر رسول اکرمۖ  کو تنہا چھوڑ کرے فرار کرگئے۔
امام بخاری تحریر فرماتے ہیں :
واقبلوا منھزمین ۔۔۔ ولم یبق مع النبی ۖ غیر اثنی عشر رجلا ۔(١)
جنگ احد میں تمام صحابہ فرار کرگئے اور صرف بارہ افراد کے علاوہ کوئی پیغمبراکرمۖ کے پاس باقی نہ رہا۔
ـــــــــــــــــــــــــ
(١)  صحیح بخاری ، ج٦، ص٩٦٥، حدیث کتاب التفسیر سورہ آل عمران ، باب قولہ تعالی
( والرسول یدعوکم فی اخراکم)

سوال نمبر(٣٧)  قرآن کریم فرار کرنے والوں کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
جیسا کہ امام بخاری نے صحابہ کرام کے جنگوں سے بھاگنے کے متعلق تحریر کیا ہے  اس کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم کا ارشاد گرامی ہے :
(و من یولھم یومئذ دبرہ الا متحرفا لقتال او متحیزا الی فئة فقد باء بغضب من اللہ و ماواہ جھنم  و بئس المصیر)۔(١)
اور جس شخص نے بھی روز جنگ فرار اختیار کیا اور رسول و اطرافیان رسو ل کی طرف پشت پھرائی اس نے خدا وندعالم کے غضب اور غصہ کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اس کا مقام جہنم ہے کہ جو بدترین منزل ہے۔
کیا اس صورت میں تمام صحابہ کو عادل جانا جا سکتا ہے و بغیر تحقیق و جستجو کے ان کے تمام اقوال و کردار کو دین سمجھ لیا جائے اور آنکھ بند کرکے ان اطاعت کی جائے۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
(١)  سورہ انفال آیت ١٦۔

سوال نمبر(٣٨)  کیا بعض صحابہ مرتد ہوگئے یا امام بخاری جھوٹ بولتے ہیں؟
جو حضرات ، صحابہ کرام کی بنسبت بہت زیادہ تعصب رکھتے ہیں اور تمام صحابہ کو عادل
مانتے ہیں تو کیا انہوں نے صحیح بخاری کے اس حصہ کا مطالعہ کیا ہے؟
جہاں پر رسول اکرمۖ سے روایت نقل کی گئی ہے :
ان اناسا من اصحابی یوخذ بھم ذات الشمال فاقول اصحابی اصحابی فیقال انھم لم یزالوا مرتدین علی اعقابھم منذ فارقتھم۔(١)
میرے کچھ اصحاب کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور میں کہوں گا یہ میرے اصحاب ہیں ،  میرے اصحاب ہیں  تو کہا جائے گا کہ یہ آپ کے بعد مرتد ہوگئے ۔
کیا اس روایت کے بعد بھی تمام صحابہ کی بنسبت خوش بین رہا جاسکتا ہے اور جو کچھ  انہوں نے کیا ہے اور کہا ہے بغیر تحقیق کے قبول کرلیا جائے۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
(١) صحیح بخاری، ج٤، ص٥٩٦، حدیث١٥٠٥ کتاب الانبیاء باب قولہ تعالی( واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا)
سوال نمبر(٣٩)  کیا تمام صحابہ کی پیروی  و اتباع باعث ہدایت ہے ؟
بعض افراد معتقد ہیں کہ پیغمبراکرمۖ نے ایک حدیث کے ذیل میں فرمایا ہے :
اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم
میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی اقتداء و اتباع کروگے ہدایت پاجاؤگے ۔
امام بخاری نے تحریر کیا ہے کہ ولید بن عقبہ نے شراب پی اور عثمان نے اس کو اسی کوڑے
لگانے کا حکم دیا ۔(١)
کیا آپ کی نظر میں اگر کوئی ولید بن عقبہ صحابی رسول کی پیروی کرے گا تو بھی ہدایت یافتہ ہے۔
ــــــــــــــــــــــ
(١)  صحیح بخاری ، ج٥ ، ص٧٥، کتاب فضائل اصحاب النبی باب مناقب عثمان
سوال نمبر(٤٠)  کیا صحابہ بھی  شراب نوشی کرتے تھے ؟
اہل سنت کا معتبر اور بہت بزرگ عالم دین محمد بن جریرطبری رقمطراز ہے آیہ تحریم خمر (شراب کو حرام بیان کرنے والی آیت )  تین مرتبہ نازل ہوئی اور ہر مرتبہ کچھ صحابہ شراب نوشی کرتے تھے اور پھر جب دوسری مرتبہ آیہ تحریم خمر نازل ہوئی تو رسول اکرمۖ  کو خبر دی گئی کہ ایک صحابی نے شراب نوش کی ہے اور جنگ بدر میں قتل ہونے والے کفار پر نوحہ سرائی کی ہے ۔
حتی شربھا رجل فجعل ینوح علی قتلی بدر فبلغ ذالک رسول اللہ فجاء فزعایجر ردائہ من الفزع حتی انتھی الیہ ۔۔۔فرفع رسول اللہ شیئا کان بیدیہ لیضربہ قال اعوذ باللہ و رسولہ فانزل اللہ تحریمھا ( یاایھا الذین آمنوا انما الخمر ۔۔۔الی قولہ  فھل انتم منتھون) فقال عمر بن الخطاب ، انتھینا انتھینا۔(١)
دوسری مرتبہ شراب حرام ہونے کے بعد بھی ایک صحابی نے شراب نوش کی اور جنگ بدر کے قتل شدہ کفار پر نوحہ سرائی کی ، یہ خبر رسول اکرمۖ  تک پہونچی آپ بہت غصہ کی حالت میں روانہ ہوئے اس طرح کہ آپ کی عبا غصہ کی شدت کی وجہ سے زمین پر گھسٹتی ہوئی جارہی تھی
یہاں تک کہ آپ اس شخص کے پاس پہونچے اس کو مارنے کے لیے کوئی چیز اٹھائی اس نے کہا کہ میں خدا اور رسول خداۖ سے پناہ مانگتا ہوں یہی وہ مقام تھا کہ تیسری مرتبہ آیہء تحریم نازل ہوئی یہاں تک کہ خداوند عالم نے فرمایا کیا شراب نوشی سے باز نہ آؤ گے ؟
عمر نے کہا ہم شراب نوشی سے باز آگئے  ہم باز آگئے۔
ـــــــــــــــــــــــ
(١) تفسیر جامع البیان ، محمد بن جریر طبری ، ج٢،ص٤٩٢، حدیث ٣٣٠٧ ، سورہ بقرہ آیت ٢١٩ کے ذیل میں۔
تفسیر ثعلبی ،ج٢، ص١٤٢، مذکورہ آیت کے ذیل میں۔


سوال نمبر(٤١)  پیغمبر اکرم ۖ  کس صحابی کی پٹائی کرنا چاہتے تھے؟
کیا آج تک آپ نے لوگوں کو خبردار کیا کہ اہل سنت کے عظیم القدر عالم دین زمخشری نے اس صحابی رسول کا نام فاش کردیا جس کی شرب خمر کی وجہ سے حضور اکرمۖ پٹائی کرنا چاہتے تھے ۔
وہ تحریر کرتے ہیں:
فشربھا من شرب من المسلمین حتی شربھا عمر بن الخطاب۔۔۔ ثم قعد ینوح علی قتلی بدر۔۔۔ فبلغ ذالک رسول اللہ فخرج مغضبایجر ردائہ فرفع کان فی یدیہ لیضربہ قال اعوذ باللہ من غضب اللہ و رسولہ فانزل اللہ تعالی ( انما یرید الشیطان۔الی قولہ  فھل انتم منتھون) فقال عمر ، انتھینا(١)
آیہ ء تحریم خمر دوسری مرتبہ نازل ہونے کے بعد بھی بہت سے صحابہ مسلسل شراب نوش کرتے رہے یہاں تک کہ عمر بن الخطاب نے بھی شراب نوشی کی اورمستی و بے ہوشی کی حالت
میں جنگ بدر کے قتل شدہ کفار پر نوحہ سرائی کی ، یہ خبر رسول اکرمۖ  کی خدمت میںپہنچی،حضرت اس قدر غضبناک و ناراض ہوئے کہ آپ کے چلتے ہوئے ردا  زمین پر گھسٹتی ہوئی جارہی تھی عمر کو مارنے کے لیے کوئی چیز اٹھائی اس نے کہا کہ میں خدا اور رسول خداۖ کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں پھر یہ آیت نازل ہوئی یہاں تک کہ خداوند عالم کا ارشاد گرامی ہے کیا شراب نوشی سے باز نہ آؤ گے ؟
عمر نے کہا ہم شراب نوشی سے باز آگئے ۔
ــــــــــــــــــــــــــ
(١)  ربیع الابرار ، زمخشری، ج٥ ،ص ٥١، باب اللھو و اللعب  واللذات و القصف وذکر التبذیر و ما یتصل بہ۔
سوال نمبر(٤٢)  کیا دوسرے خلیفہ بھی؟
احمد بن حنبل نے اپنی کتاب مسند میں عبداللہ بن عمر سے روایت نقل کی ہے ۔
فقال سالم فسمعت عبداللہ بن عمر یقول : قال عمر ارسلوا الی طبیبنا ینظر جرحی ھذا قال فارسلوا الی طبیب من العرب فسقی عمر نبیذا فشبہ النبیذ بالدم من الطعنة الی تحت السرة۔ (١)
سالم کا بیان ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا کہ اس نے کہا میرے باپ عمر بن الخطاب نے اپنے زخم کے علاج کے لیے طبیب کو بلا بھیجا تاکہ ان کے زخم کا علاج کرے (یہ وہی زخم ہے کہ جو ابولولو نے وارد کیا تھا) طبیب نے عمر کوشراب پیش کی انہوں نے نوش کی تو اس شراب نوشی سے ان کی زیر ناف زخم میں سے شراب  خون کے ساتھ نکل آئی ۔
کیا عمر کی آخری عمر تک بھی آیہء تحریم خمر نازل نہیں ہوئی تھی؟!۔
ـــــــــــــــــــــــ
(١)  مسند احمد بن حنبل ،ج١ ، ص٤٢، مسند عمر بن الخطاب۔
الطبقات الکبری، ابن سعد، ج٣ ، ص٢٦٧ـ٢٧٠، طبقات البدریین من ال مھاجرین طبقة الاولی ، ذکر استخلاف عمر ۔
تاریخ مدینة دمشق ، ابن عساکر، ج٤٤، ص٤١٤ ،رقم ٥٢٠٦ شرح حال عمر بن الخطاب
سوال نمبر(٤٣)  کیا شراب نوشی ہدایت کا سبب ہے ؟!
اس حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جو نقل کرتے ہو اور تمام صحابہ کی پیروی کو ہدایت کا سبب مانتے ہو بعض صحابہ کی اس رفتار و گفتار اور اعمال کے پیش نظر کہ جو کبھی کبھی شرب خمر بھی کرتے رہے ۔
تو کیا اس طرح اصحاب کے اعمال کی پیروی و اتباع میں ہدایت شامل ہے ؟۔
سوال نمبر(٤٤)  ام المؤمنین عایشہ نے خلیفہ کی کیوں توہین کی ہے ؟
جو حضرات، صحابہ کی توہین کے سلسلہ میں زیادہ حساس نظر آتے ہیںاور توہین کرنے والے کو کافر جانتے ہیں کیا ان کو یہ خبر ہے کہ ام المؤمنین عایشہ نے عثمان بن عفان خلیفہ کی توہین کی ہے اور ان کو نعثل کہکر خطاب کیا ہے ۔!(١)
ــــــــــــــــــــــ
(١)  تاریخ طبری ،ج٣، ٤٧٧، حوادث سال ٣٦ھ  قول عایشہ  واللہ لاطلبن بدم عثمان۔
سوال نمبر(٤٥)   خلیفہ دوم سے بعید ہے !۔
صحیح مسلم میں تحریر ہے :
عمر بن الخطاب نے خاطب بن بلتعہ جلیل القدر اہل بدر صحابی رسول کو برا بھلا کہا اور ان کو منافق جانا۔(١)
کیا اس طرح کی صورت حال میں جناب خلیفہ کی اقتداء مناسب ہے کہ صحابہ کرام کی ہم بھی توہین کریں؟۔
ــــــــــــــــــــــــ
صحیح مسلم ،ج٤، ص١٩٤١، حدیث ٢٤٩٤ کتاب فضائل الصحابہ باب من فضائل اہل البدر و قصة خاطب بن ابی بلتعہ1.

سوال نمبر(٤٦)  تیسرے خلیفہ اور اس قدر تند مزاج !
کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان بن عفان کیا کیا گالیاں و فحش بعض صحابہ رسول کو دیتے تھے ۔
کیا آپ نے نہیں سنا
کہ عثمان بن عفان نے عمار یاسر کو کہا : یا عاض ایر ابیہ۔(١)
کلام کے خلاف ادب ہونے کے سبب ترجمہ سے معذور ہیں۔
ــــــــــــــــــــــ
(١)  انساب الاشراف ، بلاذری ، ج٦، ص ١٦٩، امر ابی ذر

سوال نمبر(٤٧)  خلفاء کی آپس میں مار پٹائی اور دست و گریبان ہونے کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
صحابہ کرام خود پیغمبراکرمۖ  کے حضور میں بھی آپس میں مار پٹائی و دست و گریبان رہا کرتے تھے !۔
بخاری ان واقعات کو یوں بیان کرتا ہے :
پیغمبر اکرمۖ  کے حضور میں بعض صحابہ آپس میں مار پٹائی  دست وگریبان اور ڈنڈا ، جوتا خوب چلاتے تھے ۔(١)
کیا پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبراکرم ۖ نے یہ فرمایا ہے کہ میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پاجاؤگے ۔
ــــــــــــــــــــــ
(١)  صحیح بخاری ، ج٤، ص٣٦١، حدیث ٨٩٧ ، کتاب الصلح باب  ماجاء فی الاصلاح بین الناس۔
سوال نمبر(٤٨)  کیا عایشہ نے معاویہ پر لعنت نہیں کی ؟
عایشہ ہر نماز کے بعد معاویہ پر لعنت کرتی تھیں  ابن اثیر نے اس ماجرے کو اس طرح بیان کیا ہے ۔
فلما بلغ ذالک (قتل محمد بن ابی بکر)  عائشہ جزعت علیہ جزعا شدیدا و قنتت فی دبر الصلاة تدعو علی معاویة۔ (١)
جس وقت محمد بن ابی بکر کے قتل کی خبر عایشہ کو ملی ہے تو بہت ناراض ہوئیں اور ہر نماز کے بعد معاویہ پر لعنت کرتی تھیں۔
ــــــــــــــــــــــــــ
(١)  الکامل فی التاریخ ، ابن اثیر ، ج٣، ص٣٥٧، حوادث سال ٣٨ھ ذکر قتل محمد بن ابی بکر۔
اب تک جو کچھ نقل ہوچکا ہے تو کیا پھر بھی بعض صحابہ کی توہین پر غصہ کریں گے اور کفر و قتل کا فتوی صادر کریں گے ؟۔
تو کیا خود آپ ہی نے یہ حدیث نقل نہیں کی ہے کہ پیغمبر اکرمۖ  کے تمام صحابہ کی پیروی باعث ہدایت ہے ۔
اگر بعض صحابہ کو گالیاں دینا کفر ہے تو کیا آپ جرئت کرسکتے ہیں کہ عمر بن الخطاب ، ام المؤمنین عایشہ و عثمان اور دوسرے صحابہ کہ جو کبھی کبھی ایک دوسرے کو گالیاں ، سب و لعن کرتے تھے ان کے بارے میں کفر کا فتوی صادر کریں؟۔
آخر گفتگو میں اس نکتہ کی طرف بھی اشارہ ضروری ہے کہ ہم اس بات کے معتقد نہیں ہیں
کہ مسلمان بے لگام و بے مہار ہمیشہ صحابہ کرام کی توہین کرتے رہیں بلکہ صرف ان حضرات
سے تبرا کریں کہ جن کے بارے میں قرآن کریم اور پیغمبراکرمۖ  کی قطعی احادیث سے ان کے لیے لعنت و نفرین ثابت ہے ۔
ــــــــــــــــــــــــــ

اگر ''بحرینیوں'' پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

اگر ''بحرینیوں'' پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

گذشتہ کئی ماہ سے عرب دنیا میں برپا انقلابی لہر سے متاثر ممالک میں بحرین ایک اہم ملک ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی آبادی تقریباً 12 لاکھ 34 ہزار ہے۔ 1932ء  میں تیل کی دریافت کے بعد سے بحرین تیل اور موتیوں کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ 1783ء سے یہاں الخلیفہ خاندان کی حکمرانی ہے۔ موجودہ عوامی تحریک کا آغاز بحرین میں 14 فروری 2011ء  کو ہوا، جو قومی ایکشن چارٹر کی دسویں سالگرہ کا دن تھا۔ یہ وہی چارٹر ہے جس کا اعلان موجودہ بادشاہ نے کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔ صدر مقام مناما شہر میں احتجاجیوں نے اسی چارٹر کے تحت مزید حقوق اور آزادیوں کے علاوہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات کرتے ہوئے جلوس نکالے اور احتجاج کیے، کیونکہ بحرین کی مقامی آبادی میں 80 فیصد آبادی شیعہ ہے اس لیے اسے فوراً ہی سنی مخالف احتجاج اور فرقہ وارانہ رنگ دے کر میڈیا نے اس تحریک کا رخ بھی بدل دینے کی کوشش کی، جس کا جواب عوام نے یوں دیا کہ ممتاز سنی راہنما اور عوام بھی اس میں شامل ہو گئے۔

حکمرانوں کے نقطہ نظر سے حالات کے معمول پر نہ آنے کے نتیجے میں سعودی عرب نے 14 مارچ کو اپنی ایک ہزار افواج کو اسلحے اور ٹینکوں کے ساتھ بحرین میں داخل کر دیا۔ 16 مارچ کی صبح ہوتے ہی عوام سے نمٹنے والی پولیس فورس ان پر وحشیانہ طریقے سے ٹوٹ پڑی اور پْرامن مظاہرین کی قتل و غارت شروع کر دی۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں پر کسی بھی ملک کا دوسرا ملک پر حملہ یا اس میں فوجی مداخلت غیرقانونی اور جارحیت شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر اس کی مذمت کی جاتی ہے، اس جارحیت کے خلاف مہر بلب ہے۔ ستم بالائے ستم تو یہ کہ عرب لیگ اس جارحیت کی تائید پر کمر بستہ ہے کیونکہ ابھی تک عرب لیگ انہی آمروں اور بادشاہوں کی نمائندہ ہے جو آج تک استعماری مقاصد پورے کرنے کے لیے خطے کے عوام پر مسلط ہیں۔

سعودی عرب جیسے ملک کے اہلکار جو خود کو مسلمان کہتے نہیں تھکتے آزاد و خود مختار ملک بحرین میں فوجی مداخلت اور اس ملک کے عوام کے قتل عام کو اپنا قومی فریضہ قرار دے رہے ہیں۔ سعودی عرب کی فوجیں انتہائی بے دردی کے ساتھ بحرین کے مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہیں۔ سعودی عرب کی نامزد شوریٰ کے اسپیکر شیخ عبداللہ بن محمد ابراہیم آل شیخ نے کہا ہے کہ بحرین میں لشکر کشی ہمارا قومی فرض ہے۔ حیرت ہے یہ قومی فریضہ آج تک فلسطین کی آزادی کے لیے کیوں نہیں ادا کیا گیا اور بحرین کے عوام کی پرامن جمہوری تحریک کو کچلنے کے لیے کیسے پیدا ہو گیا۔

شیخ عبداللہ آل خلیفہ نے بحرین میں سعودی فوجوں کی لشکر کشی اور اس ملک کے پرامن مظاہرین کو کچلنے کے لیے سعودی عرب کے فوجیوں کے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض، بحرین میں امن وامان کی برقراری کو اپنا فرض سمجھتا ہے، درحالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ فوجیں آل سعود کے اتحادی آل خلیفہ کی حکومت کو بچانے کے لیے داخل ہوئی ہیں۔ سعودی عرب کی فوجیں بحرین کے شہریوں کا بے دردی کے ساتھ قتل عام کر رہی ہیں، تو وائٹ ہاوس کے حکمران بھی بہت ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ یہ فوجی مداخلت نہیں ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ سب کچھ امریکی ایما ء پر ہی ہو رہا ہے، جس کا اپنا بحری بیڑہ بحرین میں مستقر ہے۔

بحرین میں عوام کا جس بڑے پیمانے پر قتل عام کیا جا رہا ہے وہ امریکہ اور مغربی ممالک کی حکمران اشرافیہ تو ایک طرف ان کے ''آزاد'' ذرائع ابلاغ کو بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ انسانی حقوق کے نام نہاد محافظ عالمی ادارے بھی بحرین کی جیلوں میں زیر حراست سیاسی قیدیوں کی اموات پر خاموش ہیں اور خواتین کو جس طرح سے شہید کیا جا رہا ہے اس پر بھی کسی ادارے کی چیخ تو کیا معمولی سا اعتراض بھی سنائی نہیں دے رہا۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ بحرین امریکہ کے لیے اسٹرٹیجک اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ وہاں موجود اس کے پانچویں بحری بیڑے کے ذریعے پورے ملک کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

بحرین کے عوام کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ انھیں حق رائے دہی دیا جائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب جیسی حکومتوں کے لیے شیعہ و سنی کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ورنہ فلسطینی مسلمانوں نے حماس کی زیرقیادت منتخب حکومت تشکیل دی تھی لیکن غزہ گذشتہ چار برسوں سے محاصرے میں ہے جبکہ غزہ کے عوام سْنی ہیں۔ سعودی عرب جیسی حکومتوں کا کام اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ وہ خادم حرمین شریفین کے عنوان کی آڑ میں امریکہ اور اسرائیل کی بقا کے لیے کام کریں۔ سعودی فوجیں اپنے پرچم پر ''لا الہ الااللہ'' لکھے اور ہاتھوں میں امریکی اسلحہ اٹھائے نہتے بحرینی مسلمانوں پر یلغار کر رہی ہیں۔ یہی پرچم اْٹھائے نجدی فوجی مساجد کو تباہ کر رہے ہیں۔ بزرگانِ دین کی قبروں کو روند رہے ہیں، یہ پرچم اٹھائے انھوں نے صحابی رسول صعصعہ بن صوحان کے روضے کو پامال کر دیا ہے۔ آغاز میں تو مغربی میڈیا نے یہ خبریں نشر کیں، لیکن احتجاج کے خطرے سے دوبارہ اپنی آنکھیں موند لیں اور سعودی فوج نے بحرین میں وحشت و بربریت کی ایک نئی داستان رقم کی۔

اس وقت سعودی حکومت بحرین میں قتل وغارت کر کے ایک تیر سے دو شکار کر رہی ہے۔ ایک تو یہ کہ متشددانہ افکار کے باعث مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہوئے انھیں قتل کر رہی ہے اور دوسرے یہ کہ استعماری مفادات کے دفاع کے لیے اپنے قدیمی معاہدے پورے کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ برطانوی سامراج نے خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد ایک معاہدے کے تحت نجد و حجاز کو خاندان سعود کے حوالے کر دیا تھا، جس نے اپنے نام پر اس خطے کا نام سعودی عرب رکھ دیا۔ اسی طرح برطانوی سامراج ہی نے بحرین کی حکومت آل خلیفہ کے سپرد کی تھی۔ یہ دو خاندان خطے کے دیگر آمروں اور شیوخ کی طرح آج بھی سامراجی نمائندے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ وہی حکمران ہیں جنھوں نے آج تک صہیونی وحشیوں کے خلاف زبانی جمع تفریق کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ بحرین کے عوام کا خون بہانے والی اس فوج نے آج تک صہیونیوں کے خلاف ایک گولی بھی نہیں چلائی۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ مسلمان غور و فکر کریں کہ اْن کے غیرنمائندہ حکمران استعماری طاقتوں کے مفادات کے کیوں محافظ ہیں۔ حرمین شریفین کا مقدس نام آج حرمین ہی کے مقاصد کے خلاف دشمنان حرمین کے مفاد میں استعمال ہو رہا ہے۔ دوسری طرف جمہوریت کے حامی مغرب کے عوام کو بھی سوچنا چاہیے کہ اْن کے حکمران جو جمہوریت کی حمایت کے دعویدار ہیں اور جمہور کے نام پر برسراقتدار آئے ہیں دنیا میں آمروں اور خاندانی بادشاہتوں کی حمایت اور حفاظت پر کیوں کمر بستہ ہیں۔ کیا اسی کو منافقت نہیں کہتے۔ یہی وہ رجعت پسند حکمران ہیں جن کی وجہ سے آج تک او آئی سی مسلمان کے مفاد میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں کر سکی، اس لیے کہ اس میں بیٹھے ہوئے مسلمانوں کے مفادات کے نمائندہ ہی نہیں ہیں۔

جہاں تک بحرینی عوام کا تعلق ہے وہ جنازے اٹھا رہے ہیں، زخمیوں کو سنبھال رہے ہیں اور گولیاں کھا رہے ہیں۔ سڑکیں، مسجدیں نے اْن کے لہو سے رنگین ہو رہی ہیں۔ جو پھول لے کر نکلے تھے خون کا لباس اوڑھے خاک نشین ہو رہے ہیں۔ اسلام کے نام لیوا اْن پر ٹینک چڑھائے چلے جاتے ہیں لیکن عوام ہیں کہ اْن کی حریت کا جذبہ سرد ہونے کو نہیں آرہا۔ وہ اپنے حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کی سوگند کھائے ہوئے ہیں۔ دیگر خطوں میں بھی انقلابی تحریک قدم آگے بڑھا رہی ہے۔ بحرین کے عوام کی قربانیاں بھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ علامہ اقبال کے ایک شعر میں کچھ ترمیم کے ساتھ:

اگر ''بحرینیوں'' پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
محمد تقی خان

بحرین میں آل سعود اور آل خلیفہ کے مظالم

بحرین میں آل سعود اور آل خلیفہ کے مظالم

ایران کی بندرگاہ بو شہر سے 310 کلومیٹر جبکہ قطر اورسعودی عرب سے 32کلومیٹر کے فاصلے پر ''بحرین '' کے نام سے ایک اسلامی سرزمین واقع ہے۔تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو انیسویں صدی میں برطانیہ نیایک بحرینی قبیلے ''آل خلیفہ ''کیساتھ یہ معائدہ کیا تھاکہ اگر'' آل خلیفہ '' خطّے میں برطانوی مفادات کا تحفظ کرے تو اسے بحرین کا حاکم بنا دیا جائے گا۔اس دن سے لے کر آج تک بحرین میں'' آل خلیفہ'' کی بادشاہت قائم ہے اوربحرینی عوام عدل و انصاف کے حصول ،جمہوری اقدار کے فروغ،انسانی حقوق اور آئین و قانون کی بالادستی کی خاطر صدائیں دے رہے ہیں۔

یہ بحرین کی سرزمین ہے کہ جہاں ایک طرف بحرینی عوام امریکہ و برطانیہ کے خلاف سڑکوں پر سراپااحتجاج اور آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف غم و غصّے کا اظہار کر رہیہیں جبکہ'' آل خلیفہ ''عوامی مظاہروں کو ''آل سعود'' کی طاقت سے کچلنے اوراپنیپرچم پر ''لاالہ الااللہ '' لکھے اور ہاتھوں میں امریکی اسلحہ تھامے نہتے بحرینی مسلمانوں پر یلغار کرنے میں مصروف ہے ۔ لیکن آل سعود اور آل خلیفہ کی فورسز کی شدید حیرت و وحشت کے باوجود بحرینی عوام موت سے ڈرنا بھول گئے ہیں اور موت سے لڑ کر زندگی کی تلاش میں ہیں۔

تیرھویں ہجری اور اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب آل سعودعرب خانہ بدوشوں کی صورت میں زندگی گزار رہے تھے اور نجد کے نزدیک درعیہ کے مقام پر اس خاندان کی ایک چھوٹی سی حکومت تھی۔اس دوران ابن تیمیہ کی تعلیمات سے متاثر ایک شخص محمد ابن عبدالوہاب نے درعیہ کے حاکم محمد ابن سعود سے ملاقات کرکیاسیعربستان میں بکھرے ہوئے قبائل کو اسلام کے نام پر متحد کرنے کا مشورہ دیا۔محمد ابن سعود اور مد ا ابن عبدالوہاب کے درمیان یہ طے پایا محمد ابن وہاب کے افکار کی ترویج و اشاعت ابن سعود کا اولین فریضہ ہے اور ابن سعود کی حکومت کو اسلامی حکومت کے طور پر متعارف کرانا اور لوگوں کو ابن سعود کے گرد جمع کرنا محمد ابن وہاب کی ذمہ داری ٹھہری۔

مختلف نشیب و فراز آنے کے باوجود محمد ابن سعود کے اور اسکی آل نے اس معائدے کی پاسداری کی اور یوں وہابیت اور آل سعود نے یک جان اور دو قالب بن کر ارتقائی مراحل طے کئے۔ابن وہاب کے متشددانہ عقائد ، جارحانہ افکار اور جارحیّت آمیز رویّے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ موصوف نے اپنی کتاب ''کشف الشبہات ''میں24 سے زائد مقامات پر دوسرے اسلامی فرقوں کو کافر کہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت افغانستان و بحرین سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھتی ہے اور اسلامی ممالک کے خلاف استعمار کا ساتھ دیتی ہے۔ استعماری طاقتوں نے سعودی عرب میں آل سعود سے ،قطر میں آل ثانی سے،امارات میں آل نہیان سے ، بحرین میں آل خلیفہ سیاور کویت میں آل صباح سے اس طرح کے معائدے کئے کہ اگر انہیں حکومت دی جائے تو وہ خطے میں استعماری مفادات کا تحفظ کریں گئے اور انہی معائدوں کے باعث مذکورہ خاندانوں کو حکومتیں سونپی گئیں اور اسکے بدلے انہوں نے اپنی بقائ  اور استحکام کی خاطر استعمار کی کھل کر حمایت کی۔

اس وقت سعودی حکومت بحرین میں قتل و غارت کر کے ایک تیر سے دو شکار کر رہی ہے ۔ایک تو یہ کہ متشددانہ افکار کے باعث دوسرے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہوئے انہیں قتل کررہی ہے اور دوسرے یہ کہ استعماری مفادات کے دفاع کے لئے اپنے معائدوں کو پورا کر رہی ہے ۔ آل خلیفہ و آل سعود کی فورسز ظلم و تشدد کی نئی داستان لکھتے جارہے ہیں اور ہر اس جائز و ناجائز وسیلے کا استعمال کرہے ہیں جس سے عوامی آواز کو دبایا جاسکے۔

اپنے موقف پر ڈٹ جانا جس کا مشاہدہ ہم اس وقت بحرین میں دیکھ رہے ہیں کہ جوٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے سامنے ڈٹ گئے اور اپنے سینوں سے ان کا مقابلہ کیااور اپنی جانوں کی قربانی پیش کرکے کربلائی جذبہ کا عملی مظاہرہ کر تے ہوئے راتوں کو اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے اور دن کے مظاہرے قابضین و غاصبین کا چین غارت کرگئے ہیں۔ در حقیقت شیعہ تاریخ ہی سرخ تاریخ ہے جس کا ہر ورق اہلبیت علیہ ااسلام اور انکیماننے والوں کے خون ناحق سے تحریر ہے ،اور اس کی سب سے بڑی وجہ اہل تشیع کا وہ نکتہ نظرہے جس کے تحت وہ کسی ظالم کو خاطر میں نہیں لاتیاور دور حاضر کے شیعہ اسلئے واجب القتل ہیں کہ وہ عالمی استعمار کے سامنے نہیں جھکتے ۔ شیعہ کو ماردو خواہ بحرین میں ہو یا سعودیہ میں یا پھر عراق و پاراچنار میں اس لئے کہ شیعہ کی فقہ میں لکھا ہے جبر و ظلم کے خلاف ہمیشہ بر سرپیکار رہو اور ظالم کیسامنے ڈٹ جاو۔

بحرین، سعودی عرب ، امارات ، عرب دنیااور باقی تمام ڈیکٹیٹر حکومتوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ شاید وہ کچھ دنوں کے لئے اپنی عوام کے اعتراضوں کو خاموش کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں لیکن، وہ دن دور نہیں جب ناحق بہنے والا خون اور گلے میں دبی ہوئی آوازیں، ایک ایسی تحریک کو جنم دیں گی جو ظلم و ستم کی بنیادوں کو ویران کر کے رکھ دے گا۔

ہماری اخلاقی،شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ مظلوم بحرینی عوام کو ان متعصب ظالموں سے نجات دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور اس ظلم و بربریت کو بے نقاب کریں۔

آج پاکستانی حکام فوجی فاونڈیشن اور بحریہ کے تعاون سے بحرین میں لوگوں کے قتل عام کے لئے بھرتیاں کرتے ہوئے افغانستان میں استعمال ہونے والے سعودی ریّال اور فکر جبکہ پاکستانی مدارس اور نوجوان اور اسکا نتیجہ یاد رکھیں اور شیعہ قوم کو امتحان میں مت ڈالا جائے۔

قرآن اور آسمانی وحی کی منطق کے مطابق جفا کار، ظالم اور من مانیاں کرنے والے سب زائل ہونے والے ہیں اور عقلی اور اسلامی نگاہ کے مطابق، انسانوں پر ظلم کرنا اور ان کے حقوق کو پاما ل کرنا چاہے جس مذہب اور عقیدہ سے بھی ہو، گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے، اور اللہ تعالی کی حتمی تقدیر یہی ہے کہ ظالموں کے ان کے تخت قدرت سے، ذلت کی حقارت میں دھکیل دے

صدیوں بعد بھی نہ ہم بدلے اور نہ ہماری خونی تاریخ

صدیوں بعد بھی نہ ہم بدلے اور نہ ہماری خونی تاریخ 
 
 
سعودی عرب کے بادشاہوں  نے بلآخر دو جنوری دوہزار سولہ کی  صبح سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں کے رہنما آیت اللہ شیخ باقر النمرکا سر قلم کردیا جس کی بنا پر سعودی عرب کی عالمی سطح پر شدید مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔  لبنان ، ،فلسطین ،ترکی، عراق ، شام، یمن ، ایران اور پاکستان کے شیعہ اور سنی علماء اور دانشوروں نے سعودی عرب کے اس بہیمانہ ، معاندانہ اور مجرمانہ اقدام کی مذمت کی ہے۔
 
اس سے بڑا قہر خداوندی اور کیا ہوگا کہ انسان اپنے ڈر، خوف کو مصلحت کی گولی دے کر خاموشی کی نیند سلادے ۔۔ ظلم اور سزا میں فرق نہ سمجھے ۔۔ باہم ترحم اور محبت اٹھ جائے ۔ ۔۔ پھر بھی وہ خود کو نائب خدا سمجھے ۔۔ جو خود کو سمجھے اس کا سرقلم کر دیں ۔ کل ایک عالم دین کی شہادت ہوئی جن کا جرم “ حق “ کی صدا بلند کرنا تھی ۔ جنہوں نے سچ بول کر جھوٹ کا سرقلم کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ سو ان کے ساتھ ایسا نہ ہوتا تو حیرت ہوتی ۔۔۔ 
 
آیت اللہ نمر باقر نمر نے العوامیہ میں مساجد کے کردار کو اجاگر کر نے، نماز جمعہ کے قیام، شادی بیاہ کے معاملات میں آسانیاں پیدا کرنے، معاشرے میں خواتین کے کردار کو بڑھانے، نوجوانوں کو دینی مسائل اور معاملات سے آشنا کرنے اور سماجی برائیوں سے مقابلہ کرنے کا مشن شروع کیا اور آخری دم تک اس پر قائم رہے۔
 
آیت اللہ نمرباقر نمر نے جنت البقیع کی تعمیر نو کے لیے بھی جدوجہد کی اور سن دو ہزار چار سے ہر سال آٹھ شوال کو یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور مجالس کا اہتمام کرتے رہے۔ سعودی حکومت کی شدید پابندیوں اور سختیوں کے باوجود یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ سن دو ہزار سات تک جاری رہا۔
 
آیت اللہ نمر باقر نمر نے فروری دو ہزار نو میں سعودی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ملک کی شیعہ آبادی کو اس کے حقوق نہ دیئے اور ملک میں آزادانہ انتخابات نہ کرائے تو وہ عوام کو احتجاج اور مظاہروں کی کال دے دیں گے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر اپنی تقریروں میں مذہبی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو ترک کرنے اور عوام کو ان کے جمہوری اور مذہبی حقوق دیئے جانے پر زور دیتے رہے۔
 
میں آپ سے اپنا ایک کالم جو میں نے بیس اکتوبر دو ہزار چودہ کو لکھاتھا جب انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔ اور میں نے کالم کے آخر میں لکھا تھا 
“ 
مسلمانوں ۔۔! آخر کب تک تنکا تنکا رہو گے ۔ کب تک ایک امت کی بجائے فرقوں میں بٹے رہو گے، کب تک دین اسلام کے نام پر بلیک میل ہوتے رہو گے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ صرف ایک شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت نہیں مل رہی یہ عالم اسلام کے ہر مسلمان کو سزائے موت ہو رہی ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل تاریخ ہماری صدی کو ایسی خونی صدی قرار دے جسکے تانے بانے اسی صدی سے ملتے ہیں جب حاکم وقت نے نواسہ رسول امام حسین کا سر تن سے جدا کیا تھا ۔۔ سوچیئے صدیوں بعد بھی ہم میں 
کیا اور کتنی تبدیلی آئی ہے؟ نہ ہم بدلے ہیں اور نہ ہماری خونی تاریخ ۔۔ “ 
 
امام جعفر صادق علیہ السلام کا قول مبارک ہے “ ایک عالم کی موت “ عالم “ کی موت ہے “   ۔۔۔۔۔۔۔ کیا اہل اسلام کی موت ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ ؟
 
20.10.2014, 04:25am , سوموار
کالم ۔۔۔۔۔۔ 
دنیا میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں ان میں بڑھتے ہوئے انتشار کی وجہ نہ کوئی کافر ہے اور نہ کوئی گورا انگریز ۔حتیٰ کہ اس میں بہت بڑے پیمانے پر کوئی یہودی بھی نہپیں۔ یہ سب ہمارے اپنے ہی اعمال ہیں جو خود غرضی اور منفیعت سے شروع ہوتے ہیں لالچ اور منافقت پر ختم ہو جاتے ہیں ۔ ہمیں اپنے گریبانوں کی بجائے دوسروں کے گریبانوں میں جھانکنا پسند ہے ۔ دوسروں کی آگ کا نظارہ کرتے ہوئے اپنے جلتے گھر کا دھواں نظر نہیں آتا ۔ ایسے ہی دور کے لیئے جہاں اخلاقی دیوالیہ ہونے کے ساتھ ساتھ دین اسلام کی بھی جگ ہنسائی ہونی تھی ۔ کلام مبین کی آیت نمبر 36سورہ الا نعام کی تفسیر جو کہ ابن ِ کثیر نے کی ہے دیکھئے ۔ جس میں اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے فر ما یا کہ "میں تمہا رے اوپر آسمان سے عذاب نا زل کر نے پر قادر ہوں اور زمین کے نیچے سے بھی اور اس پر بھی کہ تمہیں فرقہ ، فرقہ کر کے لڑا دوں " اس پر ۔۔ حضور پاک رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشان ہو گئے اور مسجد نبوی سے باہر تشریف لے گئے ۔بستی ِ بنو بکر کے قریب ویرانے میں جاکر سر بہ سجدہ ہو گئے ۔صحا بہ کرام (رض) بھی پیچھے پیچھے چلے ،وہا ں جا کر حضور (ص) نے ایک طویل نماز ادا فر ما ئی صحابہ کرام (رض) بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے ۔ جب سلام پھیرا تو لو گوں نے پو چھا کہ حضو ر (ص) پہلے تو کبھی آپ نے (دن کے وقت ) اتنی لمبی نماز نہیں ادا فر ما ئی آج کیا با ت ہے ؟ 
 
حضور (ص) نے فر مایا کہ جب یہ آیت نازل ہو ئی تو میں امت کے لیئے بے چین ہو گیا اور اللہ تعا لیٰ سے درخواست کی کہ میری امت پر یہ عذاب نا زل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے میری یہ در خواست تو مان لی کہ حضرت لوط (ع) کی امت کی طرح اوپر سے اور حضرت نوح (ع)کی امت کی طرح نیچے سے عذاب نہیں آئے گا ، مگر فر قہ واریت کے با رے میں فر مایا کہ یہ تو اس امت کا مقدر ہو چکی ہے ۔ پھرصحابہ کرام (رض) سے فرمایاکہ تم لوگ مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے بعد آپس میں لڑوگے تو نہیں ۔انہوں نے کہا کہ حضو ر (ص) ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارے پا س قرآن ہے اور آپ کی سنت بھی۔ فر مایا مجھے بتایا گیا ہے کہ تم اسے پس ِ پشت ڈال دوگے۔ اور میں سرداروں سے ڈرتا ہو ں، کہ ایک مر تبہ جو تلواریں میانوں سے نکل آئیں تو پھر قیا مت تک واپس نہیں جا ئیں گی۔ ایک دوسری آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرقہ پرستی سے اظہار ِ بیزاری فرماتے ہوئے حضو ر (ص) سے مخا طب ہو کر فر ما یا کہ ً اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں “ تو ان سے فرمادیجئےکہ تمہارا فر قہ پرستوں سے کو ئی واسطہ نہیں ہے “ 
 
ہائے ۔۔ ہائے میں سوچتی تھی کہ یہ میں اس تاریک دور کی گواہ نہیں بنونگی ۔ پر آئے دن کوئی نہ کوئی بات مجھے اس غلط فہمی سے باہر نکالتی رہتی ہے ۔ جیسے حالیہ خبر نے میرے دل کو جیسے ہزار حصے کر ڈالے ہوں ۔۔۔۔ 
 
خبر ہے کہ “ سعودی عرب کی درباری عدالت کی جانب سے اس ملک کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت کے حکم سنا دیا “ ۔ انکو کون بتائے کہ زندگی ،موت اور رزق اسکے قبضہ قدرت میں ہے جس نے انسان کو بدبودار پانی کے ایک قطرے سے پیدا کیا ہے۔ اگر زندگی موت حاکموں اور درباروں کے ہاتھ میں ہوتی تو قیامت سے پہلے کب کی قیامت آ چکی ہوتی۔ یہ مردم خود حکمران اپنے علاوہ کب کسی کو زندہ رہنے دیتے 
 
تفصیل کے مطابق “ جون 2012 کو سعودی پولیس نے جب مشرق صوبے کے قطیف ضلع سے شیخ نمر کو گرفتار کیا تھا تو ان کی ٹانگ پر چار گولیاں ماری تھیں۔ شیخ نمر کو آٹھ ماہ تک زیر حراست رکھا گیا اور فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق پہلے چار ماہ ان کو ریاض میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔ شیخ نمر کی سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شیعہ مسلمانوں کی بڑی تعداد پیروکار ہے۔ شیخ نمر پرامن مظاہروں کے حق میں ہیں۔ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے فارس نیوز کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ آیت اللہ باقرالنمر نے سعودی عرب کے عوام کے مطالبات کے حق میں آواز اٹھانے اور تسلط پسندوں کے خلاف استقامت کا مظاہرہ کرنے کے علاوہ کوئی جرم انجام نہیں دیا ہے۔“ 
ان کے جرموں کی تفصیل خود سعودي ذرائع کے مطابق یہ ہے کہ “ آيت اللہ شيخ باقر نمر کو سعودي حکومت کي جانب سے انسانی حقوق کي خلاف ورزي اور جنب البقيع کي حالت پر اعتراض، مذہب تشيع کو تسليم کرنے، موجودہ تعليمي نظام ميں تبديلی اور مشرقي علاقوں کے عوام کي انقلابي تحريک نيز عوام کے برحق مطالبات کی حمايت کي پاداش ميں گرفتار کرکے جيل ميں بند کيا گيا ہے “ 
 
نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا “ آل سعود کی سیکیورٹی فورسز نے شیعہ مذہبی و انقلابی راہنما آیت اللہ شیخ النمر کو 2 سال قبل گولی مارنے کے بعد گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا تھا۔ حتی کہ ان کو اپنی اہلیہ کی نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ظالم سیکیورٹی فورسز نے شیخ النمر کو جسمانی تشدد اور نفسیاتی طور پر اذیتیں دیں جس میں ان کے دانت، ہاتھ اور ران کی ہڈی کو توڑ دیا اور اب کچھ دنوں سے کبھی سعودی اٹارنی جنرل کی طرف ان کو پھانسی دینے کی درخواست کی خبریں آتی ہیں اور اب یہ خبر آئی ہے کہ انہيں اگلے ہفتے پھانسی دیئے جانے کا امکان ہے! یہ خبر بےباک نیوز، جہان نیوز اور شیعہ نیوز نے بھی لگائی ہے “ 
 
ساری دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیمں بھی مل کر سعودی عرب کے حکام بالا کو یہ بتاتی رہیں کہ آیت اللہ نمر کے لئے سزائے موت کا حکم بین لاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔اور ان کا یہ قدم عالم اسلام میں نفاق پھیلا رہا ہے ۔۔پر انہیں اس سے کیا مطلب۔۔۔ سعودی عرب کے حکمران اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان ہی نہیں مانتے ۔ یہاں مسلہ شعیہ سنی کا ہے ہی نہیں سعودی تو اپنے فرقے کے علاوہ کسی اور سنی فرقے کو بھی نہیں مانتے اور ان پر سزا کا بازار گرم رکھتے ہیں ۔ پاکستان کے اندر حالیہ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے پیچھے کن کا ہاتھ ہے ۔۔؟ یہ میں نہیں کہہ رہی بلکہ پاکستان کی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں خوب جانتی ہیں اور ڈھکے چھپے سعودی عرب کا نام سامنے آ جاتا ہے ۔ سعودیہ میں عملی طور پر دوسرے مسالک کے لوگ میلاد، زکر اور مجلس نہیں کر سکتے ۔ حتی کہ اگر کسی گھر میں چھپ چھپا کر بھی ہو رہا ہوتو پورے گھر والوں کو ملک بدر کر دیتے ہیں ۔ 
 
دہائی خدا کی امریکہ اور اس امریکہ نواز ریاستوں کو یہ بادشاہت اور وہ بھی بدتر درجے کی بادشاہت“ جمہوریت “ لگتی ہے ۔ جہاں پر دنیا جہاں کی ہر عیاشی ہوتی ہے ۔ بچوں اور عورتوں کو باندیوں کی طرح رکھا جاتا ہے ، جہاں شاہی خاندان کے اعلیٰ ترین افراد کو بعض معاملات میں اپنی دیویوں اور بیویوں کے علاوہ اپنے حرم کی تعداد بھی درست علم نہیں۔ ایسا بدقسمت ملک جہاں تعلیم کا کوئی گراف نہیں ، ایسا ملک جہاں اللہ کا گھر اور اسکے حبیب کا روضہ ہے لیکن درپردہ فحاشی کئی واقعات کے حوالے سے مغرب سے زیادہ ہے، جہاں ملکی پولیس کسی کو بھی وجہ بتائے بغیر گرفتار بھی کر سکتی ہے اور اسکی گردن بھی تن سے جدا کر سکتی ہے ، جہاں کے شاہی خاندان کے محل کی بلندی اللہ کے گھر سے بھی بلند ہے، جہاں حکام بدزبانی پر اتر آئیں تو پاک و ہند کے مسلمانوں سے طنزیہ طور پر یہاں تک کہتے ہیں کہ اس خانہ کعبہ اورروضہ رسول کو یہاں سے اٹھا کر اپنے ہاں لے جاؤ، ایسا ملک جہاں کی خفیہ پولیس روس کی کے جی بی اور امریکہ کی سی آئی اے کی بھی باپ ہے، ایسا ملک نے اللہ کے آخری رسول اور انکے خاندان کی صرف نشانیوں کو ہی ایک ایک کر کے ختم نہیں کیا بلکہ آل رسول اور دیگر محسان دین کی قبروں کے نشان بھی مٹا دیئے ہیں، ایسا ملک جسکے حکمران مغربی ممالک میں ایک رات میں جوئے میں لاکھوں ڈالر ہار دیتے ہیں، شاہی خاندان کے کتنے ہی لوگ بیرونی ممالک میں غلط کاریوں کے الزام میں زیر حراست ہیں، ایسا ملک اور ایسے حاکم جنکو ذرہ بھر خوف خدا نہیں 
 
اب اگر کسی عالم دین کو سر عام پھانسی دینے کا اعلان ایران کرتا تو اس وقت تک ساری نیٹو فوجیں سر جوڑ کر میزائل داغنے کی تاریخوں کا اعلان کر چکی ہوتیں ۔ اگر پاکستان ہوتا تو اس کی ساری امداد بند اور فاقہ کشی کی نوبت پیدا کر دی جاتی ۔ جو ہوتا افغانستان تو ایک نئی طالبان فورس وجود میں آ چکی ہوتی ۔ 
 
مسلمانوں ۔۔! آخر کب تک تنکا تنکا رہو گے ۔ کب تک ایک امت کی بجائے فرقوں میں بٹے رہو گے، کب تک دین اسلام کے نام پر بلیک میل ہوتے رہو گے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ صرف ایک شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت نہیں مل رہی یہ عالم اسلام کے ہر مسلمان کو سزائے موت ہو رہی ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل تاریخ ہماری صدی کو ایسی خونی صدی قرار دے جسکے تانے بانے اسی صدی سے ملتے ہیں جب حاکم وقت نے نواسہ رسول امام حسین کا سر تن سے جدا کیا تھا ۔۔ سوچیئے صدیوں بعد بھی ہم میں کیا اور کتنی تبدیلی آئی ہے؟ نہ ہم بدلے ہیں اور نہ ہماری خونی تاریخ ۔۔ 
 
 
عاشق شبیر بے شک شیخ باقر النمر
دار پر بھی کہہ گئے حق شیخ باقر النمر

صدیوں بعد بھی نہ ہم بدلے اور نہ ہماری خونی تاریخ 
 
 
سعودی عرب کے بادشاہوں  نے بلآخر دو جنوری دوہزار سولہ کی  صبح سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں کے رہنما آیت اللہ شیخ باقر النمرکا سر قلم کردیا جس کی بنا پر سعودی عرب کی عالمی سطح پر شدید مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔  لبنان ، ،فلسطین ،ترکی، عراق ، شام، یمن ، ایران اور پاکستان کے شیعہ اور سنی علماء اور دانشوروں نے سعودی عرب کے اس بہیمانہ ، معاندانہ اور مجرمانہ اقدام کی مذمت کی ہے۔
 
اس سے بڑا قہر خداوندی اور کیا ہوگا کہ انسان اپنے ڈر، خوف کو مصلحت کی گولی دے کر خاموشی کی نیند سلادے ۔۔ ظلم اور سزا میں فرق نہ سمجھے ۔۔ باہم ترحم اور محبت اٹھ جائے ۔ ۔۔ پھر بھی وہ خود کو نائب خدا سمجھے ۔۔ جو خود کو سمجھے اس کا سرقلم کر دیں ۔ کل ایک عالم دین کی شہادت ہوئی جن کا جرم “ حق “ کی صدا بلند کرنا تھی ۔ جنہوں نے سچ بول کر جھوٹ کا سرقلم کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ سو ان کے ساتھ ایسا نہ ہوتا تو حیرت ہوتی ۔۔۔ 
 
آیت اللہ نمر باقر نمر نے العوامیہ میں مساجد کے کردار کو اجاگر کر نے، نماز جمعہ کے قیام، شادی بیاہ کے معاملات میں آسانیاں پیدا کرنے، معاشرے میں خواتین کے کردار کو بڑھانے، نوجوانوں کو دینی مسائل اور معاملات سے آشنا کرنے اور سماجی برائیوں سے مقابلہ کرنے کا مشن شروع کیا اور آخری دم تک اس پر قائم رہے۔
 
آیت اللہ نمرباقر نمر نے جنت البقیع کی تعمیر نو کے لیے بھی جدوجہد کی اور سن دو ہزار چار سے ہر سال آٹھ شوال کو یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور مجالس کا اہتمام کرتے رہے۔ سعودی حکومت کی شدید پابندیوں اور سختیوں کے باوجود یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ سن دو ہزار سات تک جاری رہا۔
 
آیت اللہ نمر باقر نمر نے فروری دو ہزار نو میں سعودی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ملک کی شیعہ آبادی کو اس کے حقوق نہ دیئے اور ملک میں آزادانہ انتخابات نہ کرائے تو وہ عوام کو احتجاج اور مظاہروں کی کال دے دیں گے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر اپنی تقریروں میں مذہبی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو ترک کرنے اور عوام کو ان کے جمہوری اور مذہبی حقوق دیئے جانے پر زور دیتے رہے۔
 
میں آپ سے اپنا ایک کالم جو میں نے بیس اکتوبر دو ہزار چودہ کو لکھاتھا جب انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔ اور میں نے کالم کے آخر میں لکھا تھا 
“ 
مسلمانوں ۔۔! آخر کب تک تنکا تنکا رہو گے ۔ کب تک ایک امت کی بجائے فرقوں میں بٹے رہو گے، کب تک دین اسلام کے نام پر بلیک میل ہوتے رہو گے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ صرف ایک شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت نہیں مل رہی یہ عالم اسلام کے ہر مسلمان کو سزائے موت ہو رہی ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل تاریخ ہماری صدی کو ایسی خونی صدی قرار دے جسکے تانے بانے اسی صدی سے ملتے ہیں جب حاکم وقت نے نواسہ رسول امام حسین کا سر تن سے جدا کیا تھا ۔۔ سوچیئے صدیوں بعد بھی ہم میں 
کیا اور کتنی تبدیلی آئی ہے؟ نہ ہم بدلے ہیں اور نہ ہماری خونی تاریخ ۔۔ “ 
 
امام جعفر صادق علیہ السلام کا قول مبارک ہے “ ایک عالم کی موت “ عالم “ کی موت ہے “   ۔۔۔۔۔۔۔ کیا اہل اسلام کی موت ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ ؟
 
20.10.2014, 04:25am , سوموار
کالم ۔۔۔۔۔۔ 
دنیا میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں ان میں بڑھتے ہوئے انتشار کی وجہ نہ کوئی کافر ہے اور نہ کوئی گورا انگریز ۔حتیٰ کہ اس میں بہت بڑے پیمانے پر کوئی یہودی بھی نہپیں۔ یہ سب ہمارے اپنے ہی اعمال ہیں جو خود غرضی اور منفیعت سے شروع ہوتے ہیں لالچ اور منافقت پر ختم ہو جاتے ہیں ۔ ہمیں اپنے گریبانوں کی بجائے دوسروں کے گریبانوں میں جھانکنا پسند ہے ۔ دوسروں کی آگ کا نظارہ کرتے ہوئے اپنے جلتے گھر کا دھواں نظر نہیں آتا ۔ ایسے ہی دور کے لیئے جہاں اخلاقی دیوالیہ ہونے کے ساتھ ساتھ دین اسلام کی بھی جگ ہنسائی ہونی تھی ۔ کلام مبین کی آیت نمبر 36سورہ الا نعام کی تفسیر جو کہ ابن ِ کثیر نے کی ہے دیکھئے ۔ جس میں اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے فر ما یا کہ "میں تمہا رے اوپر آسمان سے عذاب نا زل کر نے پر قادر ہوں اور زمین کے نیچے سے بھی اور اس پر بھی کہ تمہیں فرقہ ، فرقہ کر کے لڑا دوں " اس پر ۔۔ حضور پاک رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشان ہو گئے اور مسجد نبوی سے باہر تشریف لے گئے ۔بستی ِ بنو بکر کے قریب ویرانے میں جاکر سر بہ سجدہ ہو گئے ۔صحا بہ کرام (رض) بھی پیچھے پیچھے چلے ،وہا ں جا کر حضور (ص) نے ایک طویل نماز ادا فر ما ئی صحابہ کرام (رض) بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے ۔ جب سلام پھیرا تو لو گوں نے پو چھا کہ حضو ر (ص) پہلے تو کبھی آپ نے (دن کے وقت ) اتنی لمبی نماز نہیں ادا فر ما ئی آج کیا با ت ہے ؟ 
 
حضور (ص) نے فر مایا کہ جب یہ آیت نازل ہو ئی تو میں امت کے لیئے بے چین ہو گیا اور اللہ تعا لیٰ سے درخواست کی کہ میری امت پر یہ عذاب نا زل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے میری یہ در خواست تو مان لی کہ حضرت لوط (ع) کی امت کی طرح اوپر سے اور حضرت نوح (ع)کی امت کی طرح نیچے سے عذاب نہیں آئے گا ، مگر فر قہ واریت کے با رے میں فر مایا کہ یہ تو اس امت کا مقدر ہو چکی ہے ۔ پھرصحابہ کرام (رض) سے فرمایاکہ تم لوگ مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے بعد آپس میں لڑوگے تو نہیں ۔انہوں نے کہا کہ حضو ر (ص) ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارے پا س قرآن ہے اور آپ کی سنت بھی۔ فر مایا مجھے بتایا گیا ہے کہ تم اسے پس ِ پشت ڈال دوگے۔ اور میں سرداروں سے ڈرتا ہو ں، کہ ایک مر تبہ جو تلواریں میانوں سے نکل آئیں تو پھر قیا مت تک واپس نہیں جا ئیں گی۔ ایک دوسری آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرقہ پرستی سے اظہار ِ بیزاری فرماتے ہوئے حضو ر (ص) سے مخا طب ہو کر فر ما یا کہ ً اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں “ تو ان سے فرمادیجئےکہ تمہارا فر قہ پرستوں سے کو ئی واسطہ نہیں ہے “ 
 
ہائے ۔۔ ہائے میں سوچتی تھی کہ یہ میں اس تاریک دور کی گواہ نہیں بنونگی ۔ پر آئے دن کوئی نہ کوئی بات مجھے اس غلط فہمی سے باہر نکالتی رہتی ہے ۔ جیسے حالیہ خبر نے میرے دل کو جیسے ہزار حصے کر ڈالے ہوں ۔۔۔۔ 
 
خبر ہے کہ “ سعودی عرب کی درباری عدالت کی جانب سے اس ملک کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت کے حکم سنا دیا “ ۔ انکو کون بتائے کہ زندگی ،موت اور رزق اسکے قبضہ قدرت میں ہے جس نے انسان کو بدبودار پانی کے ایک قطرے سے پیدا کیا ہے۔ اگر زندگی موت حاکموں اور درباروں کے ہاتھ میں ہوتی تو قیامت سے پہلے کب کی قیامت آ چکی ہوتی۔ یہ مردم خود حکمران اپنے علاوہ کب کسی کو زندہ رہنے دیتے 
 
تفصیل کے مطابق “ جون 2012 کو سعودی پولیس نے جب مشرق صوبے کے قطیف ضلع سے شیخ نمر کو گرفتار کیا تھا تو ان کی ٹانگ پر چار گولیاں ماری تھیں۔ شیخ نمر کو آٹھ ماہ تک زیر حراست رکھا گیا اور فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق پہلے چار ماہ ان کو ریاض میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔ شیخ نمر کی سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شیعہ مسلمانوں کی بڑی تعداد پیروکار ہے۔ شیخ نمر پرامن مظاہروں کے حق میں ہیں۔ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے فارس نیوز کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ آیت اللہ باقرالنمر نے سعودی عرب کے عوام کے مطالبات کے حق میں آواز اٹھانے اور تسلط پسندوں کے خلاف استقامت کا مظاہرہ کرنے کے علاوہ کوئی جرم انجام نہیں دیا ہے۔“ 
ان کے جرموں کی تفصیل خود سعودي ذرائع کے مطابق یہ ہے کہ “ آيت اللہ شيخ باقر نمر کو سعودي حکومت کي جانب سے انسانی حقوق کي خلاف ورزي اور جنب البقيع کي حالت پر اعتراض، مذہب تشيع کو تسليم کرنے، موجودہ تعليمي نظام ميں تبديلی اور مشرقي علاقوں کے عوام کي انقلابي تحريک نيز عوام کے برحق مطالبات کی حمايت کي پاداش ميں گرفتار کرکے جيل ميں بند کيا گيا ہے “ 
 
نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا “ آل سعود کی سیکیورٹی فورسز نے شیعہ مذہبی و انقلابی راہنما آیت اللہ شیخ النمر کو 2 سال قبل گولی مارنے کے بعد گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا تھا۔ حتی کہ ان کو اپنی اہلیہ کی نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ظالم سیکیورٹی فورسز نے شیخ النمر کو جسمانی تشدد اور نفسیاتی طور پر اذیتیں دیں جس میں ان کے دانت، ہاتھ اور ران کی ہڈی کو توڑ دیا اور اب کچھ دنوں سے کبھی سعودی اٹارنی جنرل کی طرف ان کو پھانسی دینے کی درخواست کی خبریں آتی ہیں اور اب یہ خبر آئی ہے کہ انہيں اگلے ہفتے پھانسی دیئے جانے کا امکان ہے! یہ خبر بےباک نیوز، جہان نیوز اور شیعہ نیوز نے بھی لگائی ہے “ 
 
ساری دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیمں بھی مل کر سعودی عرب کے حکام بالا کو یہ بتاتی رہیں کہ آیت اللہ نمر کے لئے سزائے موت کا حکم بین لاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔اور ان کا یہ قدم عالم اسلام میں نفاق پھیلا رہا ہے ۔۔پر انہیں اس سے کیا مطلب۔۔۔ سعودی عرب کے حکمران اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان ہی نہیں مانتے ۔ یہاں مسلہ شعیہ سنی کا ہے ہی نہیں سعودی تو اپنے فرقے کے علاوہ کسی اور سنی فرقے کو بھی نہیں مانتے اور ان پر سزا کا بازار گرم رکھتے ہیں ۔ پاکستان کے اندر حالیہ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے پیچھے کن کا ہاتھ ہے ۔۔؟ یہ میں نہیں کہہ رہی بلکہ پاکستان کی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں خوب جانتی ہیں اور ڈھکے چھپے سعودی عرب کا نام سامنے آ جاتا ہے ۔ سعودیہ میں عملی طور پر دوسرے مسالک کے لوگ میلاد، زکر اور مجلس نہیں کر سکتے ۔ حتی کہ اگر کسی گھر میں چھپ چھپا کر بھی ہو رہا ہوتو پورے گھر والوں کو ملک بدر کر دیتے ہیں ۔ 
 
دہائی خدا کی امریکہ اور اس امریکہ نواز ریاستوں کو یہ بادشاہت اور وہ بھی بدتر درجے کی بادشاہت“ جمہوریت “ لگتی ہے ۔ جہاں پر دنیا جہاں کی ہر عیاشی ہوتی ہے ۔ بچوں اور عورتوں کو باندیوں کی طرح رکھا جاتا ہے ، جہاں شاہی خاندان کے اعلیٰ ترین افراد کو بعض معاملات میں اپنی دیویوں اور بیویوں کے علاوہ اپنے حرم کی تعداد بھی درست علم نہیں۔ ایسا بدقسمت ملک جہاں تعلیم کا کوئی گراف نہیں ، ایسا ملک جہاں اللہ کا گھر اور اسکے حبیب کا روضہ ہے لیکن درپردہ فحاشی کئی واقعات کے حوالے سے مغرب سے زیادہ ہے، جہاں ملکی پولیس کسی کو بھی وجہ بتائے بغیر گرفتار بھی کر سکتی ہے اور اسکی گردن بھی تن سے جدا کر سکتی ہے ، جہاں کے شاہی خاندان کے محل کی بلندی اللہ کے گھر سے بھی بلند ہے، جہاں حکام بدزبانی پر اتر آئیں تو پاک و ہند کے مسلمانوں سے طنزیہ طور پر یہاں تک کہتے ہیں کہ اس خانہ کعبہ اورروضہ رسول کو یہاں سے اٹھا کر اپنے ہاں لے جاؤ، ایسا ملک جہاں کی خفیہ پولیس روس کی کے جی بی اور امریکہ کی سی آئی اے کی بھی باپ ہے، ایسا ملک نے اللہ کے آخری رسول اور انکے خاندان کی صرف نشانیوں کو ہی ایک ایک کر کے ختم نہیں کیا بلکہ آل رسول اور دیگر محسان دین کی قبروں کے نشان بھی مٹا دیئے ہیں، ایسا ملک جسکے حکمران مغربی ممالک میں ایک رات میں جوئے میں لاکھوں ڈالر ہار دیتے ہیں، شاہی خاندان کے کتنے ہی لوگ بیرونی ممالک میں غلط کاریوں کے الزام میں زیر حراست ہیں، ایسا ملک اور ایسے حاکم جنکو ذرہ بھر خوف خدا نہیں 
 
اب اگر کسی عالم دین کو سر عام پھانسی دینے کا اعلان ایران کرتا تو اس وقت تک ساری نیٹو فوجیں سر جوڑ کر میزائل داغنے کی تاریخوں کا اعلان کر چکی ہوتیں ۔ اگر پاکستان ہوتا تو اس کی ساری امداد بند اور فاقہ کشی کی نوبت پیدا کر دی جاتی ۔ جو ہوتا افغانستان تو ایک نئی طالبان فورس وجود میں آ چکی ہوتی ۔ 
 
مسلمانوں ۔۔! آخر کب تک تنکا تنکا رہو گے ۔ کب تک ایک امت کی بجائے فرقوں میں بٹے رہو گے، کب تک دین اسلام کے نام پر بلیک میل ہوتے رہو گے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ صرف ایک شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت نہیں مل رہی یہ عالم اسلام کے ہر مسلمان کو سزائے موت ہو رہی ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل تاریخ ہماری صدی کو ایسی خونی صدی قرار دے جسکے تانے بانے اسی صدی سے ملتے ہیں جب حاکم وقت نے نواسہ رسول امام حسین کا سر تن سے جدا کیا تھا ۔۔ سوچیئے صدیوں بعد بھی ہم میں کیا اور کتنی تبدیلی آئی ہے؟ نہ ہم بدلے ہیں اور نہ ہماری خونی تاریخ ۔۔ 
 
 
عاشق شبیر بے شک شیخ باقر النمر
دار پر بھی کہہ گئے حق شیخ باقر النمر

مذہب شیعہ کے لئے فلسطین میں مستقبل متصور ہے اور یہ ایک الہی مسئلہ ہے .

فلسطینی جہاد اسلامی کے اعلی کمانڈر محمد شحادہ، کیوں شیعہ ہوئے

محمد شحادہ کو فلسطینیوں نے «الفارِس»، (سوار) اور «القائد الاسطوري» (افسانوي راهنما) جیسے مختلف القاب سے نوازا ہے ؛ وہ سازش و خیانت کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں؛ فلسطيني ذرائع ابلاغ كا مطالعہ كرتے وقت ان قوتوں کا ذکر بار بار پڑھنے کو ملتا ہے جن کو فلسطيني عوام نے مورد الزام ٹہرایا ہے. انہوں نے  کئی برس صہیونی ریاست کی جیلوں میں گذارے؛ آزادی کے بعد جدوجہد کے میدان میں جہاد اسلامی تحریک کے نمائندے کے عنوان سے میدان جہاد میں حاضر ہوئے؛ اچھے مقرر تھے اور تحریک جہاد کی جانب سے مختلف حلقوں میں تقریریں کیا کرتے تھے؛ محمد شحادہ کو ایک انقلابی شیعہ کے عنوان سے فلسطین کی آزادی کی خاطر اتحاد بین المسلمین سب سے زیادہ عزیز تھا؛ وہ تعصب سے پرہیز کیا کرتے تھے اور مظلوم فلسطینیوں کا بہت زیادہ احترام کیا کرتے تھے اور یہ دو صفتیں ان کی امتیازی خصوصیات تھیں اور ساریے فلسطینی ان کی ان خصوصیات کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں.

المجلّہ سعودی سلفیوں سے وابستہ رسالہ ہے  جس نے  محمد شحادہ کے ساتھ انٹرویو ترتیب دیا اور بعد میں اس مجلے نے  اسی انٹرویو کے ہمراہ کئی مضامین اور انٹرویوز کا اضافہ کرکے شہید محمد شحادہ کے خلاف پروپیگنڈا مہم میں شامل ہوا.
یہ انٹرویو المنبر رسالے کے ساتھ محمد شحادہ کے انٹرویو سے قبل لیا گیا تھا اور المنبر کے ساتھ ان کے انٹرویو میں اس انٹرویو کا ذکر بھی پایا جاتا ہے .

محمد شحادہ نے  تشیع بہت پہلے قبول کیا تھا مگر بعض لوگوں کو اس واقعی کی اطلاع بعد میں ملی اور «المجلّہ» رسالے کے مدیران بھی ان ہی لوگوں میں شامل ہیں جن کو شحادہ کی شیعیت کا علم نہیں تھا:

المجلّہ لکھتا ہے :

محمد حال ہی میں شیعہ ہوگئے ہیں حالانکہ فلسطینی معاشرہ ایک سنی معاشرہ ہے  جو شیعہ مذہب سے واقفیت نہیں رکھتا اور پھر محمد شحادہ جہاد اسلامی تحریک کے رکن ہیں جو ایک سنی تحریک شمار کی جاتی ہے ! 
ذیل میں المجلّہ کے ساتھ شحادہ کا انٹرویو پیش خدمت ہے :
المجلّہ : آپ نے  تشیع کے مائل ہونے  کا کب اعلان کیا؟ محمد شحادہ : میں جب بھی اس طرح کے مسائل کے بارے میں بات کرتا انہیں تاریخی حقائق کے عنوان بیان کیا کرتا تھا لیکن کہا جاسکتا ہے  کہ حزب اللہ کی ناقابل انکار فتوحات کے بعد میں نے  اپنے شیعی تشخص و شناخت کو فاش کیا.
المجلّہ : آپ کے شیعہ ہونے  کا رد عمل کیا رہا؟محمد شحادہ : حزب اللہ کی کامیابی پوری امت اسلامی اور دنیا کے سارے حریت پسندوں اور تمام اسلامی تحریکوں حتی کہ شیعہ مخالف اسلامی تحریکوں کی کامیابی تھی. یہ تمام تحریکیں رفتہ رفتہ اس عظیم فتح کے مثبت اثرات سے فائدہ اٹھائیں گی اور میں نے  بھی اس کامیابی کے بعد محسوس کیا کہ مناسب موقع آن پہنچا ہے . البتہ میں نے  [دیگر شیعیان اہل بیت کی مانند] اسلام کے دائرے سے خارج کوئی کسی موقف کا اعلان نہیں کیا اور میں نے جو بھی کہا اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت علیہم السلام کی حدیثوں کے دائرے ہی میں تھا.
المجلّہ : آپ شیعہ مذہب سے کس طرح روشناس ہوئے؟محمد شحادہ : کتب کے مطالعے اور لبنان میں جلاوطنی کے ایام میں اہل تشیع کے ساتھ آنے  جانے  کی بدولت.
المجلّہ : کیا جہاد اسلامی میں آپ کے دیگر دوستوں کو آپ کے شیعہ رجحانات کا علم تھا؟محمد شحادہ : جی ہاں! میں مختلف مناسبتوں سے مختلف مواقع پر ان کے ساتھ بات چیت کرتا تھا اور ایران کے اسلامی انقلاب کے بارے میں ان کے موقف کا جواب دیا کرتا تھا. میں انہیں بتایا کرتا تھا کہ دنیا کے تمام مسلمان اور تمام حریت پسند تحریکیں ایران کے اسلامی انقلاب کے ہمراہ ہیں اور وہ سب اس کی پاسداری کرتے ہیں.
المجلّہ : کیا جہاد اسلامی کے اندر آپ کو کسی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا ؟محمد شحادہ : نہیں، مجھے کبھی بھی ایسی چیز کا سامنا نہیں کرنا پڑا؛ گو کہ تنقید ہوا کرتی تھی مگر کسی نے  بھی بلاواسطہ طور پر
(Directly) میرے ساتھ بحث و جدل نہیں کیا.
المجلّہ : آپ ایک نامی گرامی راہنما ہیں اور لوگوں میں بھی نہایت قابل احترام اور ہردلعزیز ہیں؛ کیا اعلان تشیع کے بعد اس حوالے سے آپ کو کسی مسئلے کا سامنا نہیں ہوا ؟محمد شحادہ : میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کی اکثریت آخر کار اس نتیجے پر پہنچے گی کہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن کے بارے میں انہیں بحث و تحقیق کرنی چاہئے اور آخر کار وہ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ جو کچھ وہ شیعیان اہل بیت (ع﴾ کے بارے میں کہا کرتے تھے، صحیح نہیں تھا. البتہ میری مراد شیعوں کے درمیان وہ لوگ نہیں ہیں جو غلاة (غالی کی جمع﴾ کے عنوان سے پہچانے  جاتے ہیں کیوں کہ ان کے اپنے  خاص نظریات و افکار ہیں.
میں سمجھتا ہوں کہ شیعہ امامیہ کے بارے میں زیادہ سمجھ بوجھ اور ادراک وجود میں آیا ہے  اور لوگ ماضی کی طرح اس کی مخالفت نہیں کرتے. اس بات کی دلیل یہ ہے  کہ الازہر کے سابق شیخ الجامعہ «شیخ محمود شلتوت» نے  فتوي دے کر شیعہ مذہب کو اسلامی مذاہب کے زمرے میں شمارکیا اور اس کی پیروی کو جائز قرار دیا.
المجلّہ : ہم ذرا واضح بات کرنا چاہیں گے؛ اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ سنی مذہب کئی صدیوں سے فلسطین پر چھایا ہوا ہے  ؛ اور اب بتائیں کہ کیا مذہب شیعہ کے لئے اس ملک میں کوئی مستقبل تصور کیا جاسکتا ہے؟محمد شحادہ : جی ہاں! 
مذہب شیعہ کے لئے اس ملک میں مستقبل متصور ہے  اور یہ ایک الہی مسئلہ ہے .
المجلّہ : آپ جہاد اسلامی کے رکن ہیں؛ کیا آپ کے شیعہ ہونے  کی وجہ سے جہاد اسلامی کے ساتھ آپ کے تعلق پر کوئی اثر پڑا ہے ؟ محمد شحادہ : نہیں، کوئی اثر نہیں پڑا. جہاد اسلامی تحریک کلی طور پر ایک سنی تحریک ہے  مگر فرقہ واریت کی پیروی نہیں کرتی اور اپنے  ارکان اور عام لوگوں کے ساتھ اس تحریک کا لین دین اور تعلق مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ہے.
المجلّہ : بعض لوگوں [یعنی فرقہ واریت پر یقین رکھنے  والے وہابی اور المجلّہ کے مالکان و مدیران] کا خیال ہے  کہ شیعہ ہوکر مسلمانوں میں تفرقہ و اختلاف ڈالنے  کی بجائے، بہتر تھا کہ آپ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد و یکجہتی قائم کرتے؛ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
محمد شحادہ : بالکل واضح ہے  کہ اس وقت اتحاد بین المسلمین کی عالمی تحریک کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہے ! اور کون اس کشتی کی ہدایت کررہا ہے ؟ اس سلسلے میں ہمارے ایرانی برادران کا کردار بنیادی اور ناقابل انکار ہے  اور ایران اکثر اسلامی تحریکوں کے نمائندوں کے ساتھ مثبت روابط رکھتا ہے. ایران میں ہر سال ایک ہفتہ، وحدت کے لئے مختص کیا گیا ہے  اور میں نے  اہل تشیع کے ساتھ میل جول کے دوران کبھی بھی ان سے تعصب اور اہل سنت کی مخالفت کا مشاہدہ نہیں کیا ہے  بلکہ میں نے  جو بھی دیکھا اور سنا اتحاد بین المسلمین کے لئے شیعوں کی انتھک عالمی کوششوں کے بارے میں تھااور اختلافات صرف فروعی مسائل میں ہیں اور اصولی مسائل اور عمومی حکمت عملیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے  اور سارے مسلمان امت واحدہ ہیں اور ان سب کو مشترکہ اصولوں کی شناخت حاصل ہونی چاہئے.
المجلّہ : ممکن ہے  کچھ لوگ آپ پر ایران کے مفاد میں کام کرنے  کا الزام لگائیں؛ بالخصوص کہ آپ کا اقدام [اعلان تشیع] فلسطین میں پہلا ہی اقدام سمجھا جاتا ہے؟محمد شحادہ : اگر آپ ان الزامات کی حقیقت کا سراغ لگائیں تو دیکھ لیں گے کہ صرف کم عقل افراد ایسے الزامات کو ہوادے رہے  ہیں؛ دنیا کی تمام تحریکوں پر الزام لگایا جاتا ہے  کہ وہ فلان جماعت، گروہ یا ملک و نظام کے لئے کام کررہے  ہیں؛ لیکن میرا عقیدہ یہ ہے  کہ کسی مسلمان کا دیگر مسلمان بھائیوں کے ساتھ بننے  والا رابطہ عقیدے پر مبنی ہوتا ہے  اور ایران کے ساتھ میرا تعلق بھی اسی قسم کا رابطہ ہے  اور دین اسلام پر مبنی ہے  اور میرا ایران یا کسی بھی دیگر ملک کی سیکورٹی اور فوجی اداروں سے کوئی تعلق نہیں ہے، البتہ ہر حریت پسند تحریک کو عام طور پر کسی ایک اڈے اور بیس 
(Base) کی ضرورت ہوتی ہے  اور ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ ماضی میں ہمارا تعلق سوویت یونین اور چین کے ساتھ تھا.
المجلّہ : کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جہاد اسلامی تحریک شیعہ افکار سے متاثر ہے  اور اس کے بانی شہید فتحی شقاقی مصر میں حصول تعلیم اور شیعوں کے ساتھ اپنے  تعلق کے دور سے ہی اس مذہب سے متأثر تھے؟
محمد شحادہ : 
جہاد اسلامی تحریک مذہب پر مبنی تنظیم ہے جو سنی ماحول میں اس امت کے بعض حریت پسندوں کے ہاتھوں تشکیل پائی ہے۔
المجلّہ : اگر آپ کو ایک شیعہ جماعت کی تشکیل کا موقع ملے توکیا آپ اس کا اہتمام کریں گے؟ 
محمد شحادہ : اس موضوع کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے  اور ہم کبھی بھی فلسطین میں تفرقہ اور اختلاف کا باعث نہیں بننا چاہتے جبکہ ہمارے درمیان مشترکہ نقاط اختلافی نقاط سے کہیں زیادہ ہے .
المجلّہ : آپ کی آرزو کیا ہے ؟ کیا آپ مستقبل میں فلسطین کو ایک شیعہ جمہوریہ تصور کرتے ہیں؟
محمد شحادہ : ہماری آرزو ہے  کہ پوری اسلامی دنیا پر اسلامی حکومت [حکومت مہدی (عج﴾] کی حاکمیت ہو؛ ہم سب مذاہب کو قریب سے قریب تر ہونے اور مسلمانوں کے درمیان مسلسل گفتگو اور بات چیت کی دعوت دیتے ہیں اور ہمیں امید ہے  کہ خدا کی مدد و مشیت سے شیعہ – سنی اور دیگر فرقوں کے درمیان موجودہ فاصلے سمٹ جائیں اور اختلافات کم سے کمتر ہوں.

مذہب شیعہ کے لئے فلسطین میں مستقبل متصور ہے اور یہ ایک الہی مسئلہ ہے .

فلسطینی جہاد اسلامی کے اعلی کمانڈر محمد شحادہ، کیوں شیعہ ہوئے

محمد شحادہ کو فلسطینیوں نے «الفارِس»، (سوار) اور «القائد الاسطوري» (افسانوي راهنما) جیسے مختلف القاب سے نوازا ہے ؛ وہ سازش و خیانت کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں؛ فلسطيني ذرائع ابلاغ كا مطالعہ كرتے وقت ان قوتوں کا ذکر بار بار پڑھنے کو ملتا ہے جن کو فلسطيني عوام نے مورد الزام ٹہرایا ہے. انہوں نے  کئی برس صہیونی ریاست کی جیلوں میں گذارے؛ آزادی کے بعد جدوجہد کے میدان میں جہاد اسلامی تحریک کے نمائندے کے عنوان سے میدان جہاد میں حاضر ہوئے؛ اچھے مقرر تھے اور تحریک جہاد کی جانب سے مختلف حلقوں میں تقریریں کیا کرتے تھے؛ محمد شحادہ کو ایک انقلابی شیعہ کے عنوان سے فلسطین کی آزادی کی خاطر اتحاد بین المسلمین سب سے زیادہ عزیز تھا؛ وہ تعصب سے پرہیز کیا کرتے تھے اور مظلوم فلسطینیوں کا بہت زیادہ احترام کیا کرتے تھے اور یہ دو صفتیں ان کی امتیازی خصوصیات تھیں اور ساریے فلسطینی ان کی ان خصوصیات کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں.

المجلّہ سعودی سلفیوں سے وابستہ رسالہ ہے  جس نے  محمد شحادہ کے ساتھ انٹرویو ترتیب دیا اور بعد میں اس مجلے نے  اسی انٹرویو کے ہمراہ کئی مضامین اور انٹرویوز کا اضافہ کرکے شہید محمد شحادہ کے خلاف پروپیگنڈا مہم میں شامل ہوا.
یہ انٹرویو المنبر رسالے کے ساتھ محمد شحادہ کے انٹرویو سے قبل لیا گیا تھا اور المنبر کے ساتھ ان کے انٹرویو میں اس انٹرویو کا ذکر بھی پایا جاتا ہے .

محمد شحادہ نے  تشیع بہت پہلے قبول کیا تھا مگر بعض لوگوں کو اس واقعی کی اطلاع بعد میں ملی اور «المجلّہ» رسالے کے مدیران بھی ان ہی لوگوں میں شامل ہیں جن کو شحادہ کی شیعیت کا علم نہیں تھا:

المجلّہ لکھتا ہے :

محمد حال ہی میں شیعہ ہوگئے ہیں حالانکہ فلسطینی معاشرہ ایک سنی معاشرہ ہے  جو شیعہ مذہب سے واقفیت نہیں رکھتا اور پھر محمد شحادہ جہاد اسلامی تحریک کے رکن ہیں جو ایک سنی تحریک شمار کی جاتی ہے ! 
ذیل میں المجلّہ کے ساتھ شحادہ کا انٹرویو پیش خدمت ہے :
المجلّہ : آپ نے  تشیع کے مائل ہونے  کا کب اعلان کیا؟ محمد شحادہ : میں جب بھی اس طرح کے مسائل کے بارے میں بات کرتا انہیں تاریخی حقائق کے عنوان بیان کیا کرتا تھا لیکن کہا جاسکتا ہے  کہ حزب اللہ کی ناقابل انکار فتوحات کے بعد میں نے  اپنے شیعی تشخص و شناخت کو فاش کیا.
المجلّہ : آپ کے شیعہ ہونے  کا رد عمل کیا رہا؟محمد شحادہ : حزب اللہ کی کامیابی پوری امت اسلامی اور دنیا کے سارے حریت پسندوں اور تمام اسلامی تحریکوں حتی کہ شیعہ مخالف اسلامی تحریکوں کی کامیابی تھی. یہ تمام تحریکیں رفتہ رفتہ اس عظیم فتح کے مثبت اثرات سے فائدہ اٹھائیں گی اور میں نے  بھی اس کامیابی کے بعد محسوس کیا کہ مناسب موقع آن پہنچا ہے . البتہ میں نے  [دیگر شیعیان اہل بیت کی مانند] اسلام کے دائرے سے خارج کوئی کسی موقف کا اعلان نہیں کیا اور میں نے جو بھی کہا اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت علیہم السلام کی حدیثوں کے دائرے ہی میں تھا.
المجلّہ : آپ شیعہ مذہب سے کس طرح روشناس ہوئے؟محمد شحادہ : کتب کے مطالعے اور لبنان میں جلاوطنی کے ایام میں اہل تشیع کے ساتھ آنے  جانے  کی بدولت.
المجلّہ : کیا جہاد اسلامی میں آپ کے دیگر دوستوں کو آپ کے شیعہ رجحانات کا علم تھا؟محمد شحادہ : جی ہاں! میں مختلف مناسبتوں سے مختلف مواقع پر ان کے ساتھ بات چیت کرتا تھا اور ایران کے اسلامی انقلاب کے بارے میں ان کے موقف کا جواب دیا کرتا تھا. میں انہیں بتایا کرتا تھا کہ دنیا کے تمام مسلمان اور تمام حریت پسند تحریکیں ایران کے اسلامی انقلاب کے ہمراہ ہیں اور وہ سب اس کی پاسداری کرتے ہیں.
المجلّہ : کیا جہاد اسلامی کے اندر آپ کو کسی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا ؟محمد شحادہ : نہیں، مجھے کبھی بھی ایسی چیز کا سامنا نہیں کرنا پڑا؛ گو کہ تنقید ہوا کرتی تھی مگر کسی نے  بھی بلاواسطہ طور پر
(Directly) میرے ساتھ بحث و جدل نہیں کیا.
المجلّہ : آپ ایک نامی گرامی راہنما ہیں اور لوگوں میں بھی نہایت قابل احترام اور ہردلعزیز ہیں؛ کیا اعلان تشیع کے بعد اس حوالے سے آپ کو کسی مسئلے کا سامنا نہیں ہوا ؟محمد شحادہ : میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کی اکثریت آخر کار اس نتیجے پر پہنچے گی کہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن کے بارے میں انہیں بحث و تحقیق کرنی چاہئے اور آخر کار وہ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ جو کچھ وہ شیعیان اہل بیت (ع﴾ کے بارے میں کہا کرتے تھے، صحیح نہیں تھا. البتہ میری مراد شیعوں کے درمیان وہ لوگ نہیں ہیں جو غلاة (غالی کی جمع﴾ کے عنوان سے پہچانے  جاتے ہیں کیوں کہ ان کے اپنے  خاص نظریات و افکار ہیں.
میں سمجھتا ہوں کہ شیعہ امامیہ کے بارے میں زیادہ سمجھ بوجھ اور ادراک وجود میں آیا ہے  اور لوگ ماضی کی طرح اس کی مخالفت نہیں کرتے. اس بات کی دلیل یہ ہے  کہ الازہر کے سابق شیخ الجامعہ «شیخ محمود شلتوت» نے  فتوي دے کر شیعہ مذہب کو اسلامی مذاہب کے زمرے میں شمارکیا اور اس کی پیروی کو جائز قرار دیا.
المجلّہ : ہم ذرا واضح بات کرنا چاہیں گے؛ اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ سنی مذہب کئی صدیوں سے فلسطین پر چھایا ہوا ہے  ؛ اور اب بتائیں کہ کیا مذہب شیعہ کے لئے اس ملک میں کوئی مستقبل تصور کیا جاسکتا ہے؟محمد شحادہ : جی ہاں! 
مذہب شیعہ کے لئے اس ملک میں مستقبل متصور ہے  اور یہ ایک الہی مسئلہ ہے .
المجلّہ : آپ جہاد اسلامی کے رکن ہیں؛ کیا آپ کے شیعہ ہونے  کی وجہ سے جہاد اسلامی کے ساتھ آپ کے تعلق پر کوئی اثر پڑا ہے ؟ محمد شحادہ : نہیں، کوئی اثر نہیں پڑا. جہاد اسلامی تحریک کلی طور پر ایک سنی تحریک ہے  مگر فرقہ واریت کی پیروی نہیں کرتی اور اپنے  ارکان اور عام لوگوں کے ساتھ اس تحریک کا لین دین اور تعلق مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ہے.
المجلّہ : بعض لوگوں [یعنی فرقہ واریت پر یقین رکھنے  والے وہابی اور المجلّہ کے مالکان و مدیران] کا خیال ہے  کہ شیعہ ہوکر مسلمانوں میں تفرقہ و اختلاف ڈالنے  کی بجائے، بہتر تھا کہ آپ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد و یکجہتی قائم کرتے؛ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
محمد شحادہ : بالکل واضح ہے  کہ اس وقت اتحاد بین المسلمین کی عالمی تحریک کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہے ! اور کون اس کشتی کی ہدایت کررہا ہے ؟ اس سلسلے میں ہمارے ایرانی برادران کا کردار بنیادی اور ناقابل انکار ہے  اور ایران اکثر اسلامی تحریکوں کے نمائندوں کے ساتھ مثبت روابط رکھتا ہے. ایران میں ہر سال ایک ہفتہ، وحدت کے لئے مختص کیا گیا ہے  اور میں نے  اہل تشیع کے ساتھ میل جول کے دوران کبھی بھی ان سے تعصب اور اہل سنت کی مخالفت کا مشاہدہ نہیں کیا ہے  بلکہ میں نے  جو بھی دیکھا اور سنا اتحاد بین المسلمین کے لئے شیعوں کی انتھک عالمی کوششوں کے بارے میں تھااور اختلافات صرف فروعی مسائل میں ہیں اور اصولی مسائل اور عمومی حکمت عملیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے  اور سارے مسلمان امت واحدہ ہیں اور ان سب کو مشترکہ اصولوں کی شناخت حاصل ہونی چاہئے.
المجلّہ : ممکن ہے  کچھ لوگ آپ پر ایران کے مفاد میں کام کرنے  کا الزام لگائیں؛ بالخصوص کہ آپ کا اقدام [اعلان تشیع] فلسطین میں پہلا ہی اقدام سمجھا جاتا ہے؟محمد شحادہ : اگر آپ ان الزامات کی حقیقت کا سراغ لگائیں تو دیکھ لیں گے کہ صرف کم عقل افراد ایسے الزامات کو ہوادے رہے  ہیں؛ دنیا کی تمام تحریکوں پر الزام لگایا جاتا ہے  کہ وہ فلان جماعت، گروہ یا ملک و نظام کے لئے کام کررہے  ہیں؛ لیکن میرا عقیدہ یہ ہے  کہ کسی مسلمان کا دیگر مسلمان بھائیوں کے ساتھ بننے  والا رابطہ عقیدے پر مبنی ہوتا ہے  اور ایران کے ساتھ میرا تعلق بھی اسی قسم کا رابطہ ہے  اور دین اسلام پر مبنی ہے  اور میرا ایران یا کسی بھی دیگر ملک کی سیکورٹی اور فوجی اداروں سے کوئی تعلق نہیں ہے، البتہ ہر حریت پسند تحریک کو عام طور پر کسی ایک اڈے اور بیس 
(Base) کی ضرورت ہوتی ہے  اور ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ ماضی میں ہمارا تعلق سوویت یونین اور چین کے ساتھ تھا.
المجلّہ : کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جہاد اسلامی تحریک شیعہ افکار سے متاثر ہے  اور اس کے بانی شہید فتحی شقاقی مصر میں حصول تعلیم اور شیعوں کے ساتھ اپنے  تعلق کے دور سے ہی اس مذہب سے متأثر تھے؟
محمد شحادہ : 
جہاد اسلامی تحریک مذہب پر مبنی تنظیم ہے جو سنی ماحول میں اس امت کے بعض حریت پسندوں کے ہاتھوں تشکیل پائی ہے۔
المجلّہ : اگر آپ کو ایک شیعہ جماعت کی تشکیل کا موقع ملے توکیا آپ اس کا اہتمام کریں گے؟ 
محمد شحادہ : اس موضوع کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے  اور ہم کبھی بھی فلسطین میں تفرقہ اور اختلاف کا باعث نہیں بننا چاہتے جبکہ ہمارے درمیان مشترکہ نقاط اختلافی نقاط سے کہیں زیادہ ہے .
المجلّہ : آپ کی آرزو کیا ہے ؟ کیا آپ مستقبل میں فلسطین کو ایک شیعہ جمہوریہ تصور کرتے ہیں؟
محمد شحادہ : ہماری آرزو ہے  کہ پوری اسلامی دنیا پر اسلامی حکومت [حکومت مہدی (عج﴾] کی حاکمیت ہو؛ ہم سب مذاہب کو قریب سے قریب تر ہونے اور مسلمانوں کے درمیان مسلسل گفتگو اور بات چیت کی دعوت دیتے ہیں اور ہمیں امید ہے  کہ خدا کی مدد و مشیت سے شیعہ – سنی اور دیگر فرقوں کے درمیان موجودہ فاصلے سمٹ جائیں اور اختلافات کم سے کمتر ہوں.

شیعہ ہونے والی ٹونی بلئیر کی سالی لاورن بوتھ:
 اللہ تعالی کے ساتھ رابطہ پہلی مرتبہ قم میں محسوس کیا

حال ہی میں اسلام قبول کرنے والی سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی سالی لاورن بوتھ (Lauren Booth) نے، کہا ہے کہ اسلام کا احترام اور اس میں دلچسپی ان کے دورہ غزہ سے شروع ہوئی۔

اللہ تعالی کے ساتھ رابطہ پہلی مرتبہ قم میں محسوس کیا

انھوں نے کہا: چھ ہفتے قبل جب میں ایران آئی اور قم میں کریمۂ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) کے حرم مشرف ہوئی تو وہاں میں نے پہلی بار اللہ کے ساتھ ربط و تعلق محسوس کیا اور یہ اللہ کے ساتھ میرے رابطے کا پہلا تجربہ تھا۔
لاورن بوتھ نے کہا کہ حضرت معصومہ (س) کے حرم میں میں ضریح کی جانب گئی اور اپنے ہاتھ سے اسے چھوا تو میرے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے "اللہ تیرا شکر"۔ 
انہوں نے کہا کہ یہ الفاظ غیرارادی طور پر میرے منہ سے نکلے کیونکہ میں مسلمان نہیں تھی، میں نے اس سفر پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ جس کی وجہ سے مجھے اس حرم کی زیارت نصیب ہوئی۔
لاورن بوتھ نے فارس نیوز ایجنسی کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے قبول اسلام قبول کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ پہلی بار جب میں نے اسلام کو سمجھا اور اس کے لئے احترام کی قائل ہوئی تو وہ غزہ میں 2005 کا سال تھا۔
انھوں نے کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ صہیونی ریاست کے خلاف جدوجہد کے لیے فلسطینی عوام متحد ہوجائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر پروفیسر محسن عثمانی ندوی   

 حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے

یہ  بات  معلوم  ہے  کہ اسلام  ایک  مکمل  اور  جامع  نظام  حیات  کا  نام  ہے ۔  جس  طرح  ایک  گلشن  بہار رسیدہ  میں  رنگ برنگ  کے  خوشبو  دار  پھول  ہوتے  ہیں   اسی طرح دین   اسلام  کا  چمن  بھی   خوشبودار  اور  سدا  بہار پھولوں سے مہکتا  رہتا  ہے  ۔ اسلام  کے  نظام  میں   معتقدات  اور  عبادات تو  ارکان اساسی  کی  حیثیت  رکھتے  ہیں  لیکن  ضرورت

پیش  آنے  پر  جہاد   کا  درجہ  بھی  ایک  اہم  رکن  دین  کا  ہے  ۔   تہذیب  وتمدن  سے  لے کر  معاشیات اور سیاسیات

تمام چیزیں  دین  کے  دائرہ میں  آتی  ہیں  ۔  آزادی  اور  مساوات  انسانی  اور  بنیادی  حقوق  اسلام   کے  تصور  حیات

میں  کلیدی  حیثیت   رکھتے  ہیں  ۔  انسانی  زندگی  کے   ہر  شعبہ  میں  اسلام  کی  رہنمائی  موجود  ہے  ۔   ان  تمام  چیزوں

کے   ربط  باہمی  کا  تصور  اگر   نہیں  پایا جاتا  ہے  تو اسلام  کے  محاسن  کی  جامع تصویر  سامنے  نہیں  آتی  ہے  ۔       اس  مختصر  تمہید  کی  ضرورت  اس لئے  پیش  آئی  کہ  عرب  اور  اسلامی  دنیا   میں اس  وقت    ہنگامہ  نشور   اور  شور  رستاخیز  برپا  ہے  اور  وہ  آجکل جس  بھونچال  اور صاعقہ  آسا   زلزال  سے  گذر رہی ہے  وہ  تاریخ  کا  منفرد  واقعہ  ہے۔  عالم  اسلام  بیداری  کی  کروٹ  لے  رہا  ہے  اور  غفلت  سے بیدار   ہو  رہا  ہے  ان  حکمرانوں  کے  گریبانوں  کو پکڑ  رہا  ہے  جو   مغرب  کے  پروردہ  ہیں  ۔   عرب  دنیا  کی  سرزمین   کشت  وخون  کی  وجہ  سے   لالہ  زار  ہے   ہر  طرف   صدائے  ماتم  وشیون  سنائی  دے رہی  ہے   ستم  کی  اندھیری  رات  میں  ستون  دار  پر  سروں  کے  چراغ   روشن   ہور  ہے   ہیں  ۔  تاج  اچھالے  جارہے  ہیں   اور  تخت  گرائے جارہے  ہیں۔حکومت اور  عوام کے درمیان  معرکہ  کارزار برپا  ہے   حکومت  کے  خلاف  نفیر  جنگ   کی  آواز  ہر  طرف  فضائوں  میں   ہے   ۔  یہ   ہماری  تاریخ  کا بے  حد  اہم  واقعہ ہے ۔  اس  صورت  حال   کے   بارے  میں  اس  وقت  اسلامی  نظریہ  کو  پیش  کرنے  کی  ضرورت  تھی  اور  عوام  کو  یہ  بتانے  کی  ضرورت   تھی  کہ اس  بارے  میں  دین  کی  رہنمائی  کیا  ہے   اور   اسلام کا  سیاسی  نظام  کیا  ہے   ۔  یوسف  القرضاوی  اس  وقت   عالم اسلام  کے  بہت بڑے  قابل اعتماد  عالم  دین   اور  مفکر  ہیں  ۔  انہوں  نے  جو بیانات  دئے  ہیں  اس  سے  ان  کے  پختہ  شعور   اور   ادراک  کا  اندازہ  ہوتا  ہے  ۔  انہوں  نے   مصر   ،   تیونس  اور لیبیا  میں  عوامی   مطالبات  کی  اور   حکومتی   استبداد  کے  خلاف  آواز   بلند کرنے  کی  پر زور حمایت  کی  ہے  ۔ لیکن  ان  کا  فتو  سعودی  عرب  کی  مفتیان  گرامی  کے  فتووں  سے  ٹکرا گیا  ہے  جنہوں  نے  عوامی تحریک  کے   بجائے  حکمرانوں  کی  حمایت  کی ہے  ۔ مصر  کے  ایک  سلفی  عالم  نے  تو  یوسف  القرضاوی  کے  خون کو  مباح  قرار  دے  دیا  ہے    اور  دلیل  یہ  ہے  کہ  ان  کے  فتوی  سے  فتنہ  برپا  ہورہا ہے   والفتنہ  اشد  من  القتل  ۔  فتوووں  کا  ٹکراو   اس  سے پہلے  بھی  ہو  چکا  ہے ۔چند سال پیشتر  شیخ  یوسف  القرضاوی    نے   کہا  تھا  کہ  یوں  تو   خودکش بمباری  جائز  نہیں    لیکن  استثنائی  صورت  حال  میں  انہوں  نے  اس  کی  اجازت  دی  تھی  اور  فلسطین  کے   جہاد  کے سلسلہ  میں  انہوں  نے   اس  کو  درست  قرار  دیا  تھا  ۔   اس  فتوی  نے   صہبونی  استعمار  کو  سخت  پریشانی  میں  میں  مبتلا کردیا تھا ۔  لیکن اس  فتوی  کی   سعودی   علماء  اور  مفتیان  کرام  نے  مخالفت  کی  تھی   اور انہوں  نے  ایسی  خود کش   بمباری   کو حرام  قرار دیا تھا  ۔  یہاں  اس  بات  کی  وضاحت   میں  کوئی  حرج  نہیں  کہ  عرب  ملکوں  میں  علماء  اور   مفتیان  کرام    حق  کے   اعلان  میں  اس  قدر  آزاد  نہیں   جتنے  ہندوستان  کے  علماء  آزاد  ہیں  ۔ مصر  میں  جامع  ازہر  کے    مفتی  اخیر  تک    حسنی  مبارک  کے  طرف دار  تھے   حق  کے  علم  بردار  نہ  تھے  ۔ ۔ شیخ   یوسف القرضاوی  جس  سرزمین  کے  مکین  ہیں  اس  کی  وجہ  سے  ان  کو  بیانات   دینے  میں  بہت  احتیاط  کی  ضرورت پیش  آتی   ہے   اور  ان  کے  لئے  آزادی  اظہار  رائے  کی  بھی  ایک  حد  ہے  اور  اس  حد  سے  تجاوز  کرنا  ان  کے  لئے  ممکن  نہیں۔اس  کے باوجود  انہوں  نے  جو بیان  دیا  ہے  وہ  دوسرے  ملکوں  کے مفتیان  کرام کے  لئے  ممکن  نہیں   ہے  ۔  مکمل   آزادی  کے  ساتھ  اظہار  خیال  جن   ملکوں  میں  ہوسکتا  ہے  ان  میں  ہمارا  ملک  ہندوستان  بھی  ہے  ۔   یہاں  حکومت  اور ارباب  حل وعقد  سے  بالکل    آزاد  ہو  کر  صحیح  اسلامی   نقطہ  نظر  پیش  کیا جاسکتا  ہے  ۔ لیکن  یہاں  کے  قابل  احترام  علماء  نے    وقت  کے  اس   اہم  ترین  مسئلہ  کے   بارے  میں   خاموشی    اختیار  کر رکھی   ہے  ۔  اور  ان  کے لبوں  پر  مہر  سکوت  لگ  چکی  ہے  ۔کیونکہ   اس   بارے  میں  جو  موقف  بھی  اختیار  کیا جائے  گا  وہ  یا تو  عوامی  یورش  اور  شورش  کے  خلاف  ہوگا   اور  اصحاب  اقتدار  کی  حمایت  میں  ہوگا   یا  اصحاب  سطوت   کے  اقتدار  کے  خلاف  ہوگا  اور  عوام  کی  حمایت  میں  ہوگا    ۔یہاں کچھ  لوگ  ایسے  ہوں  گے  جن  کے لئے  اس  وقت    وفاداریوں   اور مفادات  کا معاملہ    ہوگا  ۔  حق  سے  محبت   اور وابستگی  کی  وہ  بساط  جو  فقیروں  کو  وارث  پرویز  بناتی  ہے    بہت  کم  علماء  دین  کے پاس  ہے   ۔ اس  وقت  صحیح   راستہ  کی  طرف رہنمائی  کون  کرے  ۔ خدا  کا  دین  مسجد  میں  نماز  پڑھنے  اور دعائیں  مانگنے تک  محدود  ہو گیا  ہے  ۔ اگر  اسلام  مکمل  نظام  حیات  کا  نام    ہے  تو  علماء  کو  اس  مسئلہ  میں  عوام  کی  رہنمائی  کرنی  چاہئے  تھی  ۔  اگر   اس مسئلہ  میں  راسخون فی  العلم علماء  کے  نقطہ  ہائے   نظر  الگ الگ  ہیں  تو  ان  کو  بیان  کرنے  میں  بھی  کوئی  حرج   نہیں  تھا    جس  طرح  بہت  سے   دینی  مسائل میں  فقہاء  اور  علماء   کے   فتاوی   الگ  الگ ہیں  اور ان  کو  بیان  کیا جاتا  ہے  ۔  لیکن  صدیوں  کے  استبدادی  نظام  کے  وجہ  سے  علماء  نے  جو  پہلے  جبر  وقہر  کا شکار  ہو  چکے ہیں  سیاسی مسائل  پر   اپنی  رائے دینے  میں  احتیاط  برتنی  شروع  کردی  تھی  اور  وہ  اس احتیاط  پر  آج بھی  قائم  ہیں  ۔حالانکہ  اس وقت   اس احتیاط  کی   ضرورت  نہ  تھی  ۔  اس وقت  خاموشی  کا مطلب  یہ  ہے  کہ    سیاست  سے  دین  کا  کوئی  واسطہ  نہیں  ہے  ۔  اور  دین  ان  حالات  میں   کوئی  رہنمائی  نہیں  کرتا  ہے  ۔  اس  وقت   خاموشی  کا  مطلب   عرب  حکمرانوں  کے  ظلم  وجبروت کی  خاموش   حمایت  بھی  ہے   ۔  سعودی  عرب  میں  رابطہ  عالم  اسلامی   نے  تقریبا  اسی   تازہ  اور  گرم   موضوع  پر  شعبان  کے   مہینہ  میں  کانفرنس  منعقد  کرنے  کا  اعلان  بھی  کردیا  ہے  اور  ہندوستان  کے   علماء  کے  نام  بھی  دعوت  نامے  جاری  کردئے  گئے  ہیں  ۔  اس  وقت   عالم  اسلام  کے   علماء  کی اور  خاص  طور  سے  ہندوستان  کے   علماء  کی  حق  گوئی   اور بیباکی   کا    سخت  امتحان  ہے  ۔

اس  وقت   عرب  ملکوں  کی  صورت  حال  یہ  ہے  کہ    حسنی  مبارک  کو  اقتدار  چھوڑ  کر  جانا  پڑا  ۔     مصر  میں  حسنی  مبارک  کے   دور  کو  شاید  ہی  کوئی   شخص  مبارک  دور  کہہ  سکے  ۔  ان  کے  عہد  میں  وہ  ہمیشہ  ٩٩ فی  صد ووٹ  سے  کامیاب  ہو تے  آئے  ٹھے   ۔  ان  کے   مخالفین  جیلوں میں  ڈالدئے   جاتے  تھے  ۔١٩٥٨   سے  مصر  میں  امر  جنسی  نافذ  تھی  ۔  عوام  غربت  اور  افلاس  کا  شکار  اور  نان  شبینہ  کے   محتاج  تھے  ۔ ایک  طرف  تو  عوام محتاج  تھے لیکن  جو  صاحب  تاج  تھے  ان  کے  کروروں  ڈالر  کا  سرمایہ اور سونے  چاندی  کا  رطل گراں   بیرونی  ملکوں  کے  بینک کے  کھاتوں  میں  جمع  تھا   ۔  یہی  حال  ٹیونس  کا تھا  جہاں  کے  حکمران  زین العابدین  بن  علی  عوامی  شورش  کی  تاب  نہ لاکر  ڈیڑھ  ٹن  سونا  اپنے ساتھ لے  کر  سعودی عرب  میں  پناہ گزین   ہوگئے  ۔  یہ  زین  العابدین   وہ  حکمراں  تھے  جو  مذہبی  علامتوں  کی  توہیں  کیا کرتے  تھے  ۔اور  اسلامی  نظام  کے   خلاف تھے   ٹیونس  اور  مصر  دونوں  جگہ  عوامی  احتجاج  نے  حکومتوں  کا تحتہ الٹ  دیا   اور  وہاں  کے  استبدادی  نظام  کا  خاتمہ  کردیا  اور  جہوریت  کی  راہ  ہموار   کردی  ۔   لیبیا   کے  تانا  شاہ  کرنل  قذافی  نے  عوام  کو  چالیس  برسوں  سے  نہ  صرف  اپنے  پنجہ  میں  جکڑ رکھا ہے  بلکہ  اپنے   بعد  حکومت  کرنے  کے  لئے  اپنے  بیٹے  سیف الاسلام  قذافی  کو  اپنا  وارث  بنایا ہے  ۔  کویت  کے  اسلامی  ہفت روزہ  المجتمع  نے  لکھا ہے  کہ  اگر یہ تسلیم  بھی  کرلیا جائے   کہ   قذافی  نے   عوام  کی  آسائش   کے  بہت  کچھ  کیا   ہے  تو  بھی  اگر  وہاں  کے  عوام  استبدادی  نظام  سے  چھٹکارا  چا  ہتے ہیں  تو   قذافی  کو  کیا  حق  ہے  کہ زبردستی   بزور   طاقت   اقتدار  سے  چپکے    رہیں  ۔  اگر  وہ  کہتے ہیں  کہ  عوام  ان  کو پسند  کرتے  ہیں  تو   جمہوری  طرز  پر   انتحاب  کا  طریقہ  اپنے  یہاں انہوں  نے  کیوں رائج  نہیں کیا  ۔ اب   اگر  تانا  شاہی  نظام  کی  پر امن  مخالفت  کی  جاتی  ہے  تو  بزور  طاقت   وہ   احتجاج  کو  دبانے  کی  کیوں  کوشش  کرتے  ہیں  ۔  شام  کی  صورت  حال  یہ  ہے  کہ  وہاں  کی  ہر  شام  شام  غریباں  ہے    اور  وہاں   کی  ہر  صبح   صبح  بے  کساں  ہے  ۔  ستر   سے  زیادہ  ایسے  شہر  اور  قصبات  ہیں  جہاں  پر  امن  مظاہرہ   کرنے  والوں  کو  آتشیں   ہتھیاروں    سے  بھون  دیا  گیا  ہے    لاشیں  بے  گوروکفن  سڑکوں  پر  پڑی  ہوئی  ہیں      ۔ آزادی  کی  راہ  میں   شہید  ہونے  والوں  کی  تعداد  دس  ہزار  ہے   اور   اتنی  ہی  تعداد  ان  لوگوں  کی  ہے  جنہوں  نے  لبنان  میں   پناہ  لی  ہے  لشار  اسد  کے  باپ  حافظ  الاسد    کے  زمانہ  میں  معرة  التعمان  اور    حماة  میں  ہزاروں   اسلام پسندوں  کو  ان  کی  اسلام پسندی  کی  جرم  میں  موت  کے  گھاٹ  اتار  دیا گیا تھا  ۔  اس  وقت  سے لے  کر اب  تک  تقریبا  نصف   صدی  سے  وہاں  ایمر  جنسی   نافذ  تھی   اور  کسی  کو  زبان  کھولنے  کی  اجازت  نہیں  تھی      جمعہ  کے  خطبہ  میں  بھی    ظالم  حکراں  کی   ثنا  خوانی  کی جاتی  تھی  اور وہاں  کے    علماء  کو  اس   کے لئے  مجبور کیا جاتا  تھا  ۔ اس  وقت    شام  کے    مخالفین  حکومت  نے  ترکی  میں  ایک   بہت  بڑی    کانفرنس   منعقد  کی  ہے   اور  شام  میں  جمہوری  نظام   قائم  کرنے  کا عہد  کیا  ہے  اس  کانفرنس   میں  اخوان  المسلمین  اور  دوسرے  تمام  گروہ  جو  موجودہ  استبدادی   نظام  کے  خلاف  تھے   حکومت  کو  ہٹا  نے  پر  متفق  تھے  ۔انہوں  نے  بشار اسد  کے  اقتدار  سے   فورا  ہٹنے  کا مطالبہ  کیا  ۔   یمن  کے  حکمراں   علی  عبد  اللہ  صالح    بھی   عوامی  انقلاب  کی  جدو  جہد  کو  کچلنے  میں لگے ہوئے  ہیں  وہاں  بھی   انقلاب  کا  نعرہ  ہے    اور    بغاوت   اتنی   شدید  ہے    کہ   خلیجی  کونسل  نے  بھی  علی  عبد اللہ  صالح  کی  برطرفی  کی  حمایت  کی  ہے  لیکن  اس  نے   معاہدہ  کا   جو  مسودہ  تیار  کیا  ہے  اس  کی  ایک  شق     یہ  بھی  ہے  کہ   معزولی  کے  بعد  علی  عبد  اللہ صالح پر  کوئی  مقدمہ  نہیں  چلایا  جائے  گأ   احتجاج کرنے  والوں  کا  ایک  طبقہ  معاہدہ  کے  مسودہ  سے    متفق  نہیں ہے     یمن   کے  حکمراں  کو  سعودی  حکومت  کی  بھی  حمایت  حاصل  ہے  ۔  سعودی  حکومت  نے   بحرین  کی  حکومت  کی    بھی   حمایت میں    ابنی  فوج  بھی اتار  دی  ہے    یمن  اور  بحرین   دونون  جگہ  عوامی  مخالفتوں  کو دبانے کے لئے  سعودی  عرب   مدد  فراہم  کر رہا  ہے  ۔  یمن  اور  بحرین  میں  براہ راست  مداخلت  کا  مطلب  ان  دونوں  جگہ  کے عوام  سے  دشمنی  کا  اعلان  ہے  ۔ اگر  سعودی ی عرب    یمن  اور  بحرین  کے  حکمرانوں  کی  مدد  کررہا  ہے  تو  دوسری  جانب    ایران   ملک  شام  کے  آمر  مطلق  بشار  اسد  کی  مدد  کر رہا  ہے    جو  آجکل  اپنے  ملک  کے  پر  امن عوام کو   پوری  طاقت  کے  ذریعہ  کچلنے  میں  مصروف  ہے   ۔  مطالبات  اور  مظاہرات  اور  حکومت  کے  خلاف  احتجاج  کی   گھنی  گھنگھور  گھٹا  کئی  دوسرے  عرب  ملکوں  کے   آسمان    تک بہونچ  رہی  ہے    ۔  ہر  جگہ   کے   حکمراں  خوف  زدہ  ہیں  کہ  اب  ان  کے لئے  روز  حساب  آگیا  ہے  ۔اس  طوفان  کے  عوامل میں  امریکہ  اور اسرائیل  سے  نفرت  کا  جذبہ  بھی  کام  کرہا ہے ۔  انقلابات  کے   طوفان   میں  سعودی عرب  اور  حرمین  شریفین  کے  علماء  کا  فتوی  سامنے  آگیا  ہے  کہ    حکومت  کے   خلاف  بغاوت  مطلقا  حرام  ہے  ۔ پر  امن  مظاہرہ  بھی  جائز نہیں  یہاں  تک کہ  حاکم  کے   خلاف  دستخطوں کا  ممورنڈم  پیش  کرنا  بھی   شرعا  ممنوع  ہے  ۔   حسنی  مبارک  کے اقتدار سے   دست برداری  کے  ایک  دن  پہلے  تک  یعنی  دس  فروری  تک   پوری سعودی  حکومت  اپنے  علماء  کے بیانات  کے ساتھ   مصر  کے فرعون   کے  اقتدار  کی  حفاظت  میں  لگی  ہوئی  تھی  ۔

اگر  حرمین شریفین  کے   علماء  اور  مفتیان   کرام  کے   فتوے   صرف  ا پنے  ملک    کے  سیاق   میں   ہوتے   تو  ہمیں  اس  پر  کوئی  اعتراض  نہ  ہوتا  ۔حرمین  شریفین  کی  وجہ  سے  سعودی  حکومت  کا  استحکام  ہر  شخص کو  عزیز  ہے    خادم  الحرمین    حجاج  کی    بہترین   خدمت  کرتے  ہیں   اور  حرمین  شریفین  کے     اعلی  درجہ    کے  انتظامات    کرتے ہیں  ۔پوری  دنیا  میں  اسلام  اور  مسلمانوں  کے  استحکام  میں  ان   حصہ  دوسرے  اسلامی  ملکوں  سے  زیادہ  ہے۔  وہاں  مکمل  نہ  سہی  لیکن  کسی  قدر  اسلامی  نظام  کا  نفاذ  بھی  ہے  ۔    یہ  کہنا  مشکل  ہے  کہ  وہاں  کا  نظام  پورے  طور   اسلامی  نظام  ہے  ۔  جس  حکومت  کے  خلاف    خروج  ممنوع   ہے  وہی  حکومت  ہے   جس  نے  اپنے   یہاں  اسلامی  نظام   رائج کیا  ہو  ۔  حسنی  مبارک   معمر  القذافی   بشار  الاسد   زین  العابدین   اور  علی  عبد  اللہ  صالح  کوئی    امیر  المومنین  اور  خلیفة  المسلمین   نہیں  کہ  ان  کے    خلاف  احتجاج  نا  درست  اور  غیر  مشروع  ہو   ۔

جہاں  تک  سعودی  حکومت  کا  تعلق  ہے   کوئی  پسند  نہیں  کرے  گا  کہ  سر زمین  حجاز  پر  بھی  انقلاب  کی  دستک  شروع  ہوجائے  ۔  کوئی نہیں  پسند  کرے  گا  کہ انقلاب  کے  نتیجہ  میں   وہاں  حافظ  الاسد  اور  صدام  حسین   جیسے  حکمراں  برسر  اقتدار  آجائیں  لیکن    سعودی  حکومت  کو  از خود  ان  دستوری  اصلاحات  کی  طرف   قدم  بڑھانا  چاہئے  جن کی  وجہ  سے  برائیاں  دور  ہوں      اور  اسلام  کا   جمہوری   اور  شورائی  نظام  قائم  ہو  اور  موروثی  نظام  ختم  ہو  یا  محص  برائے  نام  ہو   اور   ارباب  حل  وعقد   اور  علماء  دین    امیر  وحاکم  کا  انتخاب  کریں ۔ سعودی  حکومت  کو   ان  شکایتوں  کو  دور  کرنا چاہئے  جو وہاں  عوام  کو  ہیں  اور مکمل  طور  پر  عدل  وانصاف  پر  مبنی نظام  قائم  کرنا  چاہئے  ۔وہاں    کچھ    لوگوں  کو    شکایت  ہے  کہ  ان  پر  ظلم  ہو  رہا  ہے  اور  بغیر  مقدمہ  چلائے  لوگوں  کو  محروس  رکھا جاتا  ہے  ۔  حکومت  کے   اعلی   ذمہ داروں  کو   تحقیات  کرنی  چاہئے  اور  شکایات  کا  ازالہ  کرنا چاہئے  ۔سعودی  حکومت  کا  امریکہ کی  طرف  جھکاو  اور  اس  کی  ساتھ  گہرے  تعلقات  وہاں  کے  عوام  کو  پسند  نہیں ۔    سعودی  حکومت  کو  امریکہ  سے  اپنے  تعلقات پر  نظر   ثانی  کی  ضرورت  ہے  ۔  سعودی  حکومت  کی  اس  وقت   اصلاح  کی    کوشش  اور بادشاہت  کی  قربانی  پوری  اسلا می  تاریخ میں   یا د رکھی  جائے  گی ۔  باشاہت  کو  ایک  دن  جانا  ہی  ہے   کہ   یہ  خلاف  زمانہ  عمل  ہے  اور  مزاج اسلام  کے   بھی  مغایر  ہے  اگر  حود  سے  ارباب  مملکت  نے  بادشاہت  کو  خیر باد  کہا  تو  تاریخ  میں  ان  کا  روشن   ہوگا  ۔  دین  نصیحت  کا نام ہے  ۔  اس  وقت  علماء   تملق  کے  بجائے   حق  گوئی  اور  نصیحت  سے  کام لیں  تو  یہ  ان  کے    منصب    کے  مطابق  ہوگا  ۔

سعودی  عرب  میں  جو    فتوے  جاری  کئے  گئے  ہیں  ان  میں  کہا گیا  ہے  کہ   قرآن  میں  اللہ  اور  اس  کے  رسول  کے  ساتھ  اولی  الامر  کی  بھی  اطاعت  کا حکم دیا گیا  ہے  ۔ہندوستان  میں  ذاکر  نائک  کا   ''پیس  ٹی  وی '' ان  ہی   فتووں  کو  ہز   ماسٹر  وائس  بن  کر  دہرا  رہا  ہے  ۔ اور  عوامی  احتجاجات  کو  برا کہ  رہا  ہے  ۔ لیکن   یہ   علماء  بتائیں  کہ  کس طرح  کے  اولی  الامر  کے  بارے  میں  یہ  حکم  ہے  کہ  ان  کے  خلاف  خروج  نہ  کیا جائے    ۔    اس  کی  وضاحت  کی  ضرورت  ہے  کہ   اگر  اسلامی  نظام  نہ  ہو  اور   ولی الامر حاکم  اگر  جابر  اور ظالم  ہو   اور  ملک  کے نظام  کو  اسلامی  اقدار  حیات  کے بجائے  مغرب  کے  نظام  حیات  پر  چلانا  چاہتا  ہو  بلکہ  فی  الواقع  چلا  رہا  ہو  اور  اس  کی  مخالت  کرنے  والوں  کو  پس  دیوار  زنداں  ڈال  دیا جاتا  ہو  اور  موج  خون  ان  دینی  تحریکات  کے  حامیوں   کے   سروں  پر  سے  گذر  جاتی  ہو   اور  اکثر  دار  ورسن  کی  آزمائش  سے  بھی انہیں  واسطہ  پڑتا  رہتا  ہو  اور اگر جمہوری  نظام کو  لانے  اور  استبدادی  نظام کو  بدلنے  کی  گنجائش   موجود  ہو  تو  کیا  اس صورت  میں  بھی  خاموشی  کی  ساتھ  اطاعت  کی  جائے  گی  یا  استبدادی  نظام کو  بدلنے  کی  کوشش  کی  جائے گی  ۔    یہ  بجا  ہے  کہ  عوامی  شورش   سے  جو   ہر  طرف  عرب  ملکوں  میں   نظر  آرہی  ہے  یہ  بات  یقین  کے   ساتھ  نہیں  کہی  جاسکتی  ہے  کہ   اس  سے اسلامی  نظام برسر  اقتدار  آجائے  گا  ۔ لیکن  اس  سے   اس  کا  امکان  تو  ضرور  پیدا  ہوتا  ہے  ۔ کیونکہ  دینی  عناصر  بھی  احتجاج  کے  ایک  اہم  عنصر  کی  حیثیت   رکھتے  ہیں ۔ ان  سیاسی  معاملات  پر    نئے   سرے  سے  دینی  نقطہ نظر  کی   وضاحت   اس لئے  ضروری  ہے  کہ  اسلامی  نظام  کے حامیوں  کے  لئے  کوئی  دوسرا  چارہ  کار احتجاج  میں شریک  ہونے  کے  سوا  اس  وقت  باقی  نہیں  بچا  ہے  ۔

اسلامی تاریخ  میں  خلافت راشدہ  کے جمہوری   اور  شورائی   دور  کے   بعد  استبدادی  نظام   اور  ملوکیت  کا  آغاز      ہو  گیا  تھا    یہ  غلط روایت  اتنے  طویل   زمانہ  تک   باقی  رہی  کہ  مسلمانوں  کے   مزاج  میں  سرایت   کر  گئی    چنانچہ  ہم دیکھتے  ہیں  کہ  دنیا  میں  ہر  جگہ  جہوریت  کامیاب  ہو جاتی  ہے  لیکن  مسلم  ملکوں  میں  آسانی  کے  ساتھ  کامیاب  نہیں  ہوتی  ہے  ۔  اس  وقت   سیاسی  نظام  میں  عہد  خلافت راشدہ  کی  طرف مراجعت  کی   ضرورت  ہے        تاکہ  اسلام کا  جمہوری  اور   شورائی  نظام  پھر  سے  واپس  ہو  سکے  ۔  پہلے  استبدادی  تظام  کو  ختم  کرنا  مشکل  تھا

لیکن  آج   جمہوریت  کے   فکری  غلبہ  کی  وجہ  سے  جمہوری  نظام  کی   طرف  واپسی  آسان  ہو  گئی  ہے  ۔  قدیم  زمانہ  میں    استبدادی   نظام   کی   جو  خرابیاں  تھیں   وہ  آج  بھی  ہیں ۔  وسائل  دولت  اور  خزانہ    پہلے  بھی   حکمران  کی   ذ١تی  جاگیر  ہوا کرتا تھا  اور آج  بھی  وہ اس  کی      ذاتی  ملکیت  ہوتا  ہے  ۔   ۔  پہلے   زمانہ  کا  حکومتی  نظام   ہر  فرد  کی  زمدگی  میں  اتنا دخیل   نہیں  ہوتا  تھا  جتنا اب  ہوتا  ہے  ۔  معاشرہ  پہلے  حکومت کی دست اندازیوں  سے  بڑی  حد تک  آزاد  ہوتا تھا  ۔ لیکن  اب  حکومت   ایک  ایک فرد  کی  ذاتی  زندگی  میں  دخیل  ہے  ۔اس لئے   غلط  نظام  کو  بدلنا   پہلے  کے  مقابلہ  میں  اب زیادہ  ضروری  بھی  ہے  اور  نسبتا آسان  بھی  ہے ۔اسلامی  تاریخ  میں  خلافت  راشدہ  کے    بعد    خلافت  عل  منہاج  النبوة   کا  دور ختم  ہو گیا  تہا  اور   اتنا  سخت  استدادی  نظام  قائم  تھا  کہ  تبدیلی  کی  جو  کوششیں    ہوئیں  وہ  کا میاب  نہیں  ہو  سکیں  ۔  خلافت  راشدہ  کے  دور  کے بعد  کسی  کو بھی    حاکم  سے  محاسبہ  کرنے  کی  آزادی  نہ  تھی   آج  کے   زمانہ  میں  صدر  اور  وزیر اعظم  کو  بھی  عدالت  کے   کٹہرے میں   لایا  جاسکتا  ہے  اگر  وہ  غلط  اور  غیر  اخلاقی  کام  کرے  ۔  خلافت  راشدہ  کے   دور  میں  خلفاء  کی زندگی  طہارت  اور تقوی    کا نمونہ  ہوتی  تھی  بعد  میں  حاکم  فسق  وفجور  میں  ڈوب  گئے  تھے  اور ان  کے  خلاف  کوئی  کاروائی  ممکن  نہیں  تھی  ۔ آج  کے  زمانہ  میں  اگر  کرپشن   کا  پتہ چل جائے      تو  حاکم   کے  خلاف  مقدمہ  دائر  کیا جاسکتا  ہے  اور ایسا  ہو  چکا   ہے  ۔   خلافت  راشدہ  کے  زمانہ  میں  خلیفہ  ایک عام  فرد  کی  طرح  بود  وباش  رکھتا  تھا   لیکن  بعد  کے  دور  میں  امراء  شاہانہ زندگی  گذار  تے  تھی  اور  ان  پر  کوئی  احتساب  نہیں   ہو  سکتا تھا  ۔  لیکن آج  کے  جمہوری دور  میں  ان  پر  احتساب  ہو  سکتا ہے  ۔ کیا آج  بھی  خاموشی  کے  ساتھ  غلط کار   اصحاب  اقتدار    کی  اطاعت  کی  جائے  گی  اور  ان  کے   اقتدار  کو  چیلنج  نہیں  کیا  جائے  گا   ۔خلافت  راشدہ  کے  دور  کے    بعد  عدلیہ  تاریخ  میں  آزاد نہیں تھی   ۔  ملوکیت  کے   دور  میں  عدلیہ  آزاد ی سے  محروم  تھی   ۔  ملوکیت  کے  دور  میں  استبداد  کو    ہٹانا آسان  نہیں  تھا  اب  تھوڑی  سی   کوششوں  سے  یہ  ممکن  ہو گیا  ہے  کیا  اب بھی  استبداد  کو برداشت  کرنا چاہئے   اور  نظام  کو  بدلنے  کی  کوشش  نہیں  کرنا چاہئے  ؟  دوسری  اہم  بات  یہ  ہے   کہ  ظلم وجور  کو  روکنا  اور  برائیوں  کا سد باب  کرنا  ہر  مسلمان  کی  ذمہ  داری  ہے  ۔ زمانہ  کے   جمہور  مزاج  کی   وجہ  سے   آج  تبدیلی  کا عمل  جتنا آسان  ہے پہلے  نہ تھا   ۔کیا  اب  بھی  تمام برائیوں کو  اور ظلم  کو دیکھ  کر  زبان  پر  مہر  سکوت  لگائی  جائے  گی  ۔ کیا اسکندر  و  چنگیز کو  کھلی  چھوٹ  دے  دی  جائے  گی  کہ  وہ  جس  طرح  چاہے   انسانیت  کی  قبا چاک  کرے  اور  انسانوں کو  بنیادی  حقوق سے  محروم  رکھے  ۔ مصر  میں  اور  ٹیونس  میں  لیبیا میں   اور  شام  میں   اور  یمن  میں    عوام  ظلم  کے اقتدار   اور  استحصال   کے  خلاف  اگر  کھڑے  ہو  گئے   ہیں  تو  علماء  کو  ان  کی  اخلاقی  تایید کرنا چاہئے  ۔ ان  انقلابیوں  میں  سب  نہیں   تو  اسلام  پسندوں  کی  اور  جمہوریت  پر یقین  رکھنے  والوں  کی  بڑی  تعداد موجود  ہے  اور  یہ  امید  رکھنا چاہئے  کہ  اس  تبدیلی سے   اسلام  پسندوں  کو اور  جمہوریت پر  یقین  رکھنے  والوں کو   اپنے  پسندیدہ  نظام  کو  لانے   میں  آسانی  ہوگی  اسی  لئے  ہم  دیکھتے   ہیں  کہ  ان  انقلابات  سے  سب  سے زیادہ  پریشانی  اسرائیل  کو  ہے    جس  نے  فلسطین  پر  قبضہ  کر رکھا  ہے  ۔اس  کو  خطرہ  ہے  کہ  ان  تحریکات  سے  اسلام  پسندوں  کو  غالب  آنے  کا  موقعہ  ملے  گا   جو  اس  کے  وجود  کے لئے  خطرہ  ہوں گے   ۔  امریکہ  نے  بھی  ان  تبدیلیوں  کی  اور  حکومت  کے  خلاف  احتجاج  کی   تحریک  کی   حمایت  صرف  اس  وقت  کی  ہے  جب  اس  نے  نوشتہ  دیوار  کو  پڑھ لیا  ہے  ۔یہ  عجیب بات  ہے  کہ   امریکی  صدر  اوباما  تو  ایسے  وقت  میں  عالم  اسلام  کو   اپنا   مخاطب    بنائیں  اور  جمہوریت کی  تحریک کی  حمایت کریں  اور  علماء  بالکل  خاموشی  اختیار  کریں  ۔ ایسے  میں   شیخ  یوسف  قرضاوی  کا   عرب  ملکوں  کی  عوامی  تحریکات  کی  حمایت  میں فتوی  ہمارے  نزدیک  مزاج اسلام   اور مزاج  عصر  کے   عین مطالق  ہے  ۔ اہل  حرم  کے  یہ  فتوے  کہ  حکومت  کے   خلاف  پر  امن  مظاہرے  بھی   حرام  ہیں  اہل  حرم  کی  رسوائی  کا  باعث  ہیں ۔

گلہ   جفائے  وفا  نما    جو  حرم  کو   اہل  حرم   سے  ہے

کسی  بتکدہ  میں  بیاں  کروں  تو  کہے  صنم  بھی ہری  ہری

یہاں  مختصرا   کتاب  '' رد  المحتار ،، باب  البغاة  کے  حوالہ  سے  یہ  ذکر  کرنے  میں  مضائقہ  نہیں  کہ  اگر   خلیفہ  کسی  جماعت  پر  ظلم  کرے  اور  اس  ظلم  کو  دور  کرنے  کے  لئے  وہ  جماعت  اطاعت  امیر   سے  ا نحراف    کرے    اور  اپنا  حق  طلب  کرے    تو  ایسی  صورت  میں  اس  جماعت  کو  باغی  نہیں قرار  دیا  جائے  گا  یعنی  یہ  وہ  بغاوت  نہیں   ہو گی  جسے  ناجائز   قرار  دیا گیا  ہے  ۔  اور  مسلمانوں  کے  لئے  یہ  جائز  نہ  ہوگا  کہ   ان   مظلوموں  کے   خلاف  خلیقہ  کی  مدد  کر  کے  ظلم  پر  اعانت  کریں  ۔   بعض  علماء  کے  نزدیک  ان  مظلومین  کی   اعانت  اور  امداد  واجب  ہے  ۔  اس  جزئیہ  کی  روشنی  میں  ہمیں  یوسف  القرضاوی  کا  بیان  صحیح  نظر  آتا  ہے  دوسری  بات  یہ  ہے  کہ اطاعت  کا  حکم  اسلامی  ریاست    کے  امیر   یا  حاکم   کے لے   دیا گیا  ہے  ۔  ایک  سعودی  عرب  کو  مستثنی  کرکے  کسی    عرب  ملک  پر   اسلامی  ریاست   کا   اطلاق  نہیں   ہوسکتا  ہے  ۔  اور  نہ  ان   کے  نالائق   حکمراں  امیر  المومنین  اور خلیفة  المسلمین  ہیں  ۔

احادیث  میں  امیر  کی  اور  مسلمانوں  کے  امام  کی  خواہ  وہ  صابح  یا  فاجر   اطاعت  کا  حکم  ہے ۔  لیکن  کیا  اس  سے  مراد  ایسی  اسلامی  ریاست  کا  امیر  نہیں  ہے   جہاں  اسلامی  نظام  قائم  ہو ،   کیا  اس  سے  مراد  امیر  المومین  اور  خلیفة  المسلمین  نہیں  ہے  ؟ لیکن   اب  خلافت  کہاں  قائم ہے  اب  اجتماعیت  کا  وہ  وحدانی  نظام  کہاں  باقی  رہا  جس  نظام  کے امیر اور  امام   اور  خلیفہ  کے  لئے  اطاعت  کا  حکم  دیا گیا  ہے  اور  جو  اسلام  کی  سر بلندی  کے  لئے کوشاں  ہوتا تھا  ،   کیا  مسلمانوں  کی  چھوٹی  چھوٹی  بے  شمار  سلطنیں  قائم   جو  اہل  دین  پر  ظلم    کریں  گی     کیا  ان  کی  اطاعت  فرض  ہوگی  اور  ان  کو ہٹا  نے  کی   کوشش  غیر  مشروع  ہوگی  ؟   امام  احمد بن  حنبل  نے  امیر  کی  تشریح   ان  الفاظ  میں کی  ہے  ''  من من  ولی  الخلافة با جماع  الناس  علیہ  ورضاہم بہ فہو امیر  المؤمنین ،،   یعنی  جسے  لوگوں  کی    مرضی  اور  اجماع سے  خلیفہ  بنایا  جائے  وہ  امیر  المومنین   ہے  ۔  مسند  افتاء  پر  فائز  سعودی  عرب  کے  مفتیان  گرامی  کو  کیا  ہوگیا  ہے  کہ  عرب  ملکوں  کے  ظالم  و  قاہر  استبدادی  تظام  کے  حاکموں  کی  حمایت  کرنے   چلے  ہیں  جو  اسلامی  طاقتوں  کو  کچلنے  اور روندنے  اور   اپنے  مغربی  آقاوں  کو  خوش  کرنے  میں لگے  رہتے  ہیں  ۔

امام حسن  نے  یہ  کہا  ہے  کہ  امیر  اور مسلمانوں  کا  ولی  االآمر    وہ  شخص  ہے  جو  جمعہ  اور  جماعت   اور  عید  کے  اہتمام  کے  ساتھ  مملکت  کے  حدود  و  ثقور  کا  ضامن  ہو  ہم  یلون  من  أمرنا  خمسا  الجمعة  والجماعة  والعید   والثقور  والحدود   لیکن  آج  کے  دور  کے  حکمراں  وہ  ہیں  جو   اپنی  سرزمین  اسرائیل  کے  حوالہ  کردیتے  ہیں  اور  اس  کے   ساتھ  اس  معاہدہ  پر  دستخط  بھی کردیتے  ہیں  اور  فلسطینیوں  کی  مدد  کے  بجائے  اسرائیلیوں  کی  مدد  کرتے  ہیں   اور  اسرائیل  سے  تعلقات  قائم  کرتے  ہیں  فلسطینیوں  کی  ناکہ  بندی  کرتے  ہیں     اور  شریعت  کے نفاذ  کا  مطالبہ  کرنے  والوں  کو  کچلتے  ہیں  اور  أنہیں  جیلوں   کی سلاخوں  کے  پیچھے  ڈال  دیتے  ہیں   ۔ کیا  ایسے  ہی  قسم  کے    ''  امیر  المومنین  ،،  کی  اطاعت  کا  حکم دیا گیا  ہے   ؟  اور  اگر  جلوس  اور مظاہروں  کے  ذریعہ  ان  کو  ہٹایا  جاسکتا   ہے  اور  ان  سے  بہتر  شخص  کو  حکمراں  بنا  یاجاسکتا  ہے  جبر  وتشدد  کے  نظام  کو  ختم کیا جاسکتا  ہے  انسانی  حقوق   کو  بحال  کیا جاسکتا  ہے  منغربی  ملکوں  کی  استحصال  کا  مقابلہ کیا جاسکتا  ہے   تو  کیا ایسا  نہیں  کیا  جائے  گا  ؟حیرت  اور  استعجاب  اس  بات  پر ہے   کہ  سعودی  عرب  کے  مفتیان  کرام  آج  بھی  مصر کے   فرعون  حسنی  مبارک  کے  ساتھ   ہیں  اور  کل  بھی  ان  کے  ساتھ  تھے  ۔

علماء  کرام  کو   مکہ  کانفرنس  میں  جو  رابطہ  عالم  اسلامی  کی  طرف  سی  منعقد  ہورہی  ہی   ان  تمام پہلووں  پر   غور کرنا چاہئے  ۔  یوسف  القرضاوی  بھی  بڑے   عالم   دین  ہیں  آخر  ان کی   سوچ  اور  ان  کا  انداز  فکر  سعودی عرب  کے  بہت  سے مفتی   حضرات  سے  مختلف  کیوں  ہے  ۔  مزاج  دین سے  واقفیت   اور   عصری  آگہی  کے  اعتبار سے  وہ   فقیہان  حرم  سے  بلند  اور  ممتاز  ہیں  اور  ا  جتہاد   کی  صلاحیت   رکھتے  ہیں   ۔  یوسف  القرضاوی  کے  خلاف   ایک سلفی  عالم  کا   قتل  کا  فتوی  افسوس  اور  حیرت  واستعجاب  کا موجب  ہے  ۔

چونکہ  اسلام  کا  بھی  اپنا   سیاسی  نظام  ہے  اس لئے    اب  یہ  وقت   آگیا  ہے  کہ  علماء  مکہ کانفرنس  میں  جو

اس  مسئلہ  پر کھل  کر    رائے  دیں  کہ  اسلام   کے   نظام  سیاست  میں  موروثی  نظام  کی  گنجائش  ہے  یانہیں  ۔  قرآن  میں  ہے  الرض للہ   بزور طاقت  کوئی  تخت  پر اور  کسی  سرزمین  پر   قبضہ  کرلے   اور  لوگوں  کو  اطاعت  پر  مجبور  کرے  اور  موروثی  نظام   قائم  کردے   تو کیا  اسلام  میں  یہ  موروثی  نظام  پسندیدہ  یا  قابل  قبول  ہوگا  ۔حکومت  سماج  کی تنظیم  کا   اور  ملک  و زمین  کی  حفاظت  کا  ایک  ادارہ  ہے  یہ  کسی   شخص  کی  یا خاندان   کی  ذاتی  ملکیت  کیونکر  ہو  سکتا  ہے    اور  اسے  موروثی  کیونکر  بنایا  جاسکتا  ہے   ۔بادشاہتوں  کو  تو  چھوڑئے  کہ  وراثتی  نظام  ان  کا  ہمیشہ  سے    شعار  رہا  ہے   ٹیونس   مصر   لینیا  اور  شام  میں   جہاں    ڈکٹیٹر  شپ  ہے   ہر  جگہ   یہی  موروثی  نظام  قائم  ہے   ۔حکومت  کا  موروثی  نظام  کسر  اور  قیصر  کی  سنت    ہو  سکتی  ہے  ۔ پیغمبر  اور  خلفائے  راشدین  کی  سنت  نہیں  ہوسکتی  ہے  جس کے  اختیار  کرنے  کا  حکم دیا گیا  ہے  ۔    ہندستان  کے  علماء  کو جو  مکہ  کانفرنس     میں  شریک  ہوں  گے   حق  گوئی  اور  بیباکی  کا  نمونہ  پیش  کرنا چاہئے   علماء  کو  اس  کے  بارے  میں  بھی  رائے  دینی  چاہئے  کہ    اسلامی  نظام   میں   امیر   یا حاکم  کا انتخاب  عام  الکشن   یعنی  عوام  کی  رائئے  کے  ذریعہ  کیا جاسکتا  ہے  یا  نہیں  ۔  ارباب    حل  و  عقد  کے   ذریعہ  انتخاب  پر  تو سب  کا  اتفاق  ہے   ۔  لیکن  موجودہ  دور  بالغ   رائے دہندگی  کا  دور ہے  اس  کے   بارے  میں   علماء کی  رائے  سامنے آنی  چاہئے  ۔ علماء  کی  رائے  اس  مسئلہ  میں  بھی  سامنے  آنی  چاہئے  کہ   امیر  یا  حاکم  کا  تقرر  ایک  محدود  میعاد  کے لئے  کیا جاسکتا  ہے  یا  نہیں  ۔اگر  اس  بارے  میں  کوئی

صریح حکم موجود  نہیں  ہے  تو  حالات  کے  لحاظ  سے    ایک  مقررہ    مدت  کے  بعد   انتخاب  امیر    کا کام  درست  ہو  گا  یا  نہیں  ۔  حاکم  کی  حکومت  کے  لئے کوئی  مدت   مقرر  کی  جاسکتی  ہے  یا  نہیں  ۔  اس  بات   کی بھی  وضاحت کی  ضرورت  ہے  کہ امیر  یا  حاکم   فیصلہ   کرنے  میں   اکثریت  کی  رائے  کا  پابند  ہے   یا آزاد  ۔  کیا  آج  کے  حالات   کے  لحاظ  سے  پابندی  کا   فیصلہ  کیا جاسکتا ہے  ۔  ارباب  حل وعقد  کو  یا   شوری  کو   امیر  کو  معزول  کرنے  کا  حق  ہے  یا  نہیں  ۔

اسلام  کا  نظام  خلافت  ابھی  نظروں  سے  بہت  دور  ہے  لیکن  اگر  اسلام  پسند  آئندہ  ملکوں  میں   حکومت میں  آجائیں  تو  اسلامی  حکومتوں  کا  ایک  وفاق  قائم  ہو  سکتا  ہے  جو  خلافت  کے   نظام کی  طرف  پہلا  قدم  ہوگا

حکام اور ان کے فرائض
نرمی کے مظاہر
نرمی اور مدارات کے مظاہر دلنشین ہوتے ہیں ، جو حکمرانوں کے اقوال اور افعال سے نمایاں ہوتے ہیں ۔
(الف) حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان پر قابو رکھیں، اور ہمیشہ تہذیب سے آراستہ گفتگو کریں اور مسخرہ و مذاق سے اجتناب کریں۔
(ب) ہر وقت اپنی رعایا کے حق میں ہمدردی کا رویہ رکھیں اور ان کے دکھ و آلام کا احساس کریں ۔ اگر ان کے لئے کسی خطرے یا تکلیف کا احساس کریں تو اس کے علاج اور دفاع میں جلدی کریں ۔ ان کی تکلیفوں کو آسان کریں اور ان کی مدد کریں ۔
(ج) حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی رعایا کو مختلف اقسام کی تکلیفوں اور مشقتوں سے تحفظ مہیا کریں، جو ان کی بدبختی اور درماندگی کا باعث ہو سکتے ہیں ۔
نرمی کے آثار
نرم رویہ اختیار کرنے کے پاکیزہ اور خوشگوار آثار مرتب ہوتے ہیں جو حکام اور رعایا دونوں کے لئے بھلائی اور بہتری کا باعث ہوتے ہیں ۔ اس طرح رعایا کے دلوں میں حکمرانوں کی محبت پیدا ہوتی ہے اور وہ ان کے مقاصد کے حصول کے لئے تعاون پر کمربستہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح رعایا منافقت اور چاپلوسی کی لعنت سے بھی نجات پاتے ہیں ۔ مگر ظالم اور جابر حکومت ہو تو وہ عوام چار و ناچار منافقت میں مبتلا ہوتے ہیں اور ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں ۔ اسی لئے خداوند عالم نے اپنے پیارے رسول کی نرمی اور ہمدردی کی وجہ سے قرآن کریم میں ان کی تعریف فرمائی ہے۔ سورہ آل عمران آیت105میں ارشاد ہوا :
” خدا نے اپنی رحمت کی بناءپر تمہارے دل کو نرم بنایا۔ اگر تم ترش رو اور دل کے سخت ہوتے تو لوگ تمہارے ارد گرد سے فرار ہو جاتے۔“
اپنے مددگاروں کی چھان بین کریں
حاکم ذاتی طور پر یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ رعایا کے امور کی تنظیم اور بہبودی کے عمل کو استقلال دے سکے اور ان کی ضروریات اور اہمیتوں سے مطلع ہو سکے۔ اس بناءپر اسے مددگاروں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جو اس کام میں اس کی مدد اور تعاون کر سکیں اور اس کے مقاصد کے حصول میں ممدومعاون بن سکیں حکمرانوں کے یہ مددگار اور تعاون کرنے والے ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور اچھی یا بری صفات و خصائل کے حامل ہونے کی بناءپر حکمرانوں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اس لئے حکمرانوں پر لازم ہوتا ہے کہ وہ ایسے معاونین اور مددگاروں کو منتخب کریں جو اچھی صلاحیتوں کے حامل ہوں ۔ عوام کی فلاح و بہبود کا خیال رکھیں ، انہیں سعادت سے ہمکنار کر سکیں اور ان کی خواہشات کا احترام کریں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ عوام کے مصالح کے خلاف اپنے ذاتی مفادات اور انا کی تسکین کی خاطر کام کریں اور رعایا کے حقوق پر ڈاکہ ڈالیں۔
گورنروں اور عملے کا محاسبہ
افراد اپنے منصب اور اختیارات کی وجہ سے خود سراور خودپسند ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے آپ کولوگوں سے برتر سمجھتے ہیں اور ان پر ظلم و تعدی کرتے ہیں ۔ لوگوں کی خدمت کو اپنا فریضہ نہیں سمجھتے ہیں ۔ اس لئے حکمرانوں کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے عملے ، کارکنوں اور ملازموں پر کڑی نظر رکھیں۔ ان کے اچھے کاموں اور اچھی کارکردگی کی قدر کریں اور بری حرکتوں کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دیں ، تاکہ افراد اپنے معاشرتی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں اور عوام میں بھی عزت و کرامت کا شعور پیدا ہو جائے اگر ایسا نہ کیا جائے تو معاشرے سے عدل و انصاف ختم ہو جائے گا اور لوگ دغا، سفارش، رشوت، چاپلوسی اور خوشامد وغیرہ کے ذریعے اپنے امور کو پورا کرنے پر مجبور ہوں گے۔ حکمرانوں کا فریضہ ہے کہ اپنی عوام کو ان تمام لعنتوں سے آزاد کریں ۔
عوام کی سعادت
حاکم اپنی ذمہ داریوں کی بناءپر عوام کا امین اور نگہبان ہوتا ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ ان کی رعایت کرے اور انہیں اپنی مہربانیوں سے نوازے اور پورے معاشرے کے لئے مادی اور معنوی سعادتوں کے حصول کی کوششیں کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ معاشرے میں امن و امان اور عدل و انصاف پھیلانے کی کوشش کرے۔ معاشرے کی علمی ، اخلاقی اور سماجی بنیادوں کو ترقی کی طرف لے جائے، علم کو زیادہ سے زیادہ پھیلائے اور تمام اقتصادی پہلوﺅں میں ترقی کی سعی کرے۔ صنعت، زراعت اور تجارت کے جدید اصولوں کے ذریعے اپنے عوام کو ترقی کی طرف لے جائے۔ جدید اور طبعی وسائل کو بروئے کار لائے اور ہر ممکن طریقے سے تمام شعبوں میں ہر ممکن ترقی کی کوشش کرے۔ اسی طرح سے حکمرانوں اور رعایا کے درمیان خلوص و محبت کے رشتے استوار ہوں گے اور عوام کے دلوں میں حکمرانوں کے لئے جگہ ہوگی اور وہ ہر وقت ان کا ذکر اچھے الفاظ سے کریں گے۔
اسی طرح افراد کے حقوق بھی معاشرے کی ترقی کا باعث ہوتے ہیں ۔ وہ اس طرح کہ اگر معاشرہ افراد کے حقوق کا تحفظ کرے تو پورے معاشرے میں کشائش ہوگی اور امن و امان کا دور دورہ ہوگا۔
حاکم کے رعایا پر حقوق
عادل حکمران عوامی معاشرے کے مدار کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے عظمتوں سے ہمکنار کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ وہ اپنی رعایا کو عظمت و بزرگی سے ہمکنار کرتا ہے اور ان کا امین اور نگہبان ہوتا ہے جب کہ وہ خود بھی معاشرے کے اجزاءمیں سے ایک جز ہوتا ہے اور اس کی بنیادی حیثیت سے اسے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے حکمرانوں اور رعایا کے درمیان ہمدردی اور مہربانی کے روابط کا ہونا ضروری ہے۔ حکمران رعایا کی فلاح و بہبودکے حقوق ادا کرتا ہے اور انہیں ان کے مقاصد سے ہمکنار کرتا ہے۔ اس کے زیر سایہ عوام آزادی، کشائش اور سکون کی دولت پاتے ہیں۔ اسی لئے جہاں عوام کے حقوق حکمرانوں پر ہوتے ہیں وہاں عوام پر بھی حکمرانوں کے حقوق ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک پر لازم ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کریں اور اپنے فرائض کو ادا کریں ۔
حضرت امیر المومنین ؑ نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے رعایا اس وقت تک خوشحال نہیں ہو سکتی جب تک حاکم صالح نہ ہوں۔ اور حاکم اس وقت تک صالح نہیں ہو سکتا جب تک رعایا اس کے احکام کی تعمیل میں ثابت قدم نہ ہو۔ جب رعایا اپنے حکام کا حق ادا کرے۔ اور حکام رعایا کے حقوق کی رعایت رکھیں تو حق عزت پاتا ہے اور ان کے درمیان دین کے رشتے قائم ہو جاتے ہیں اور عدالت کے نشانات برقرار رہتے ہیں اس طرح رسول اکرم کی سنتیں جاری ہوں گی، زمانہ سدھر جائے گا، بقاءسلطنت کی امیدیں پیدا ہوں گی اور دشمنوں کی امیدیں مایوسی میں بدل جائیں گی۔ لیکن جب حکمران رعایا پر غالب آجائیں اور ان پر ظلم ڈھانے لگیں گے تو ہر بات میں اختلاف ہوگا، ظلم کے نشانات ابھر آئیں گے، دین میں فساد بڑھ جائیں گے اور دینی راستے ترک کئے جائیں گے۔ خواہشات نفسانی پر عمل عام ہوگا۔ احکام دین معطل ہوں گے، نفسانی بیماریاں پھیل جائیں گی، حقوق کو ٹھکرانے اور باطل اعمال پر عمل کرنے سے کوئی وحشت محسوس نہیں ہوگی۔ اس وقت نیک لوگ ذلت کا شکار ہوں گے اور بدکار معززبن جائیں گے اور بندوں پر خدا کا شدید عذاب ہوگا۔(نہج البلاغہ حکمرانوں کے حقوق رعایا پر)
اطاعت
حکمرانوں کا ایک حق رعایا پر یہ ہے کہ رعایا اللہ کی خوشنودی کے امور میں حکمران کی اطاعت کریں، کیوں کہ خالق کی نافرمانی کرتے ہوئے کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں اور جب رعایا یا خلوص دل کے ساتھ حکمران کی اطاعت کرتی ہے تو حکمرانوں کو تقویت ملتی ہے اور وہ ان کے آلام اور ضرورتوں کا احساس کرتا ہے اور ان کی خواہشات اور آرزوﺅں کی تکمیل کرکے ان کی سعادت کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن جب رعایا حکمرانوں کی نافرمانی کرتی ہے تو یہ حکمرانوں کی کمزوری اور رسوائی کا سبب بنتا ہے اور اس کے غیظ و غضب کے اثرات خود رعایاپر پڑتے ہیں ۔ وہ ان کی فلاح و بہبود کو نظر انداز کرتا ہے اور ان کے مقاصد اور اہداف تشنہ تکمیل رہتے ہیں ۔
حضرت امام موسیٰ بن جعفر ؑ نے اپنے شیعوں کو حکمرانوں کی اطاعت کا یوں حکم فرمایا ہے:” اے گروہ شیعہ تم اپنے حکمرانوں کی اطاعت ترک کرکے اپنے اتحاد کو کمزور نہ کرو۔ اگر حکمران عادل ہے تو اللہ سے دعا کرو کہ اس کا سایہ تمہارے سروں پر قائم رہے۔ اگر ظالم و جابر ہے تو اس کی اصلاح کے لئے خدا سے دعا مانگو کیوں کہ حکام کی اصلاح میں ہی تمہاری اصلاح موقوف ہے ، اور عادل حکمران تو تمہارے لئے بمنزلہ مہربان باپ کے ہے۔ اس کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو اور جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو اس کے لئے بھی ناپسند کرو۔(البحار کتاب العشرہ صفحہ 218بروایت امالی)
حکمرانوں کا ہاتھ بٹانا
حکمران چاہے کتنی ہی طاقت اور اختیارات رکھتے ہوں اکیلے سارے نظام کو درست کرنے سے قاصر ہیں ۔ وہ عوام کے مفادات اور حقوق ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے مگر یہ کہ عوام بھی اپنے مصالح کی خاطر ان کا ہاتھ بٹائیں ان کے اختیارات کی پشت پناہی کریں، ان کو تقویت پہنچائیں اور ہر ممکنہ مادی و معنوی کوششوں میں ان کی مدد اور تعاون کریں تاکہ معاشرے میں ایک دوسرے کے تعاون سے امن و امان اور فراخی کا دور دورہ ہو۔
خیر خواہی
اکثر حکمران حکومت کے نشے میں سرکشی اور طغیان پر اتر آتے ہیں ۔ رعایا پر طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں ۔ ان کی آزادی کو سلب کرلیتے ہیں اور ان کی ہتک حرمت اور بے عزتی کرنے لگتے ہیں ۔ یوں انہیں ذلت و توہین سے دو چار کرتے ہیں ۔
اس وقت دانشوروں اور علمائے امت پر لازم ہوتا ہے کہ انہیں اس کا احساس دلائیں اور نصیحت کرکے سیدھے راستے پر قائم رکھیں ۔ اگر وہ بات مان لیں اور رویہ درست کریں تو صحیح ہے ۔ بصورت دیگر ان کے خلاف کوئی مناسب اقدام کرکے معاشرے کی اصلاح کی جائے۔
حدیث میں وارد ہوا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق ؑ نے اپنے آبائے کرام کی سند سے نقل کیا ہے کہ حضور اکرم نے فرمایا:” بادشاہ روئے زمین پر اللہ کا سایہ ہے جو ہر مظلوم کی جائے پناہ ہوتا ہے۔ پس ان میں سے اگر کوئی عدل و انصاف سے کام لے تو وہ اجر کا مستحق ہوگا اور عوام کو اس پر شکر کرنا چاہیے اور اگر ان میں سے کوئی ظلم کرے تو اس پر عذاب ہوگا اور عوام کو صبر کرنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اس پر اللہ کا عذاب نازل ہو جائے۔“ (البحار کتاب العشرہ ص214)

موجودہ زمانے میں زندگی کے اسالیب مختلف ہیں اور اصلاح کے وسائل کا بھی یہی حال ہے۔ اسی لئے موجودہ متمدن حکومتوں کی طرف سے اخبار، رسائل اور جرائد کے ذریعے حکمرانوں پر تنقید کی اجازت ہوتی ہے۔ کہ وہ حکمرانوں کو ان کی غلطیوں اور عوام کی ناراضگیوں سے آگاہ کریں ۔

محمد جواد

امامت  خلفاء کی نظر میں
     
ارباب حل و عقد کے انتخاب سے وجود میں آنے والی امامت کے بارے میں علماء کئی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان اختلاف ہے۔ ارباب حل و عقد کی تعداد کتنی ہونی چاہیے؟ ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ امامت ہر علاقے کے اہل حل و عقد کی اکثریت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی تاکہ لوگوں کی حمایت کا دائرہ عام ہو اور امام کی اطاعت اجماعی ہو۔ یہ نظریہ ابوبکرکی بیعت کے پیش نظر ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ ان کو سقیفہ بنی ساعدہ میں موجود لوگوں نے منتخب کیا تھا اور اس بیعت سے پہلے غائبین کی آمد کا انتظار نہیں کیا گیا تھا.
دوسرے گروہ کا خیال میں منصب امامت کے پختہ ہونے کے لئے کم از کم پانچ افراد کی ضرورت ہے جو سب مل کر منتخب کریں یا ایک شخص کے انتخاب کو دوسروں کی رضامندی حاصل ہو۔ اس نظریے کی دو دلیلیں ہیں:
پہلی دلیل: ایک تو بیعت ابوبکرسے جو پانچ افراد کے اتفاق سے عمل میں آئی اور اس کے بعد لوگوں نے ان کی متابعت کی۔ یہ پانچ افراد عمربن خطاب، ابوعبیدہ بن جراح، اسیدبن حضیر، بشیربن سعد اور ابو حذیفہکے غلام سالم تھے۔

امامت  خلفاء کی نظر میں
حضرت ابو بکر نے کہا:
یہ امارت قریش کے اس قبیلے کے علاوہ کسی کے لئے تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ وہ نسب اور خاندان کے لحاظ سے سارے عربوں میں ممتاز ہیں۔ میں تمہارے لئے ان دونوں مردوں یعنی حضرت عمراور ابو عبید ہمیں سے ایک کو پسند کرتا ہوں۔ پس ان دونوں میں سے جس کی چاہو بیعت کر لو۔

حضرت عمرنے کہا :
کوئی شخص یہ سمجھ کر مغالطہ نہ ڈالے کہ ابوبکرکی بیعت اتفاقاً اور بغیر سوچے سمجھے ہو گئی تھی اور انجام کو پہنچی تھی۔ بیشک معاملہ یونہی تھا لیکن اللہ نے اس کے برے عواقب سے بچایا۔ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو عظمت و فضلیت میں ابو بکرکی برابری کر سکے۔ جو شخص مسلمانوں سے مشورے کے بغیر کسی کی بیعت کرے تو نہ اس کی بیعت کی جائے گی اور نہ اس کی جس کی اس نے بیعت کی ہو۔ کہیں یہ دونوں (مسلمانوں کو) دھوکہ دینے کے جرم میں قتل نہ کئے جائیں.

مکتب خلفاء کے پیروکاروں کے نظریات
قاضیوں میں سے بہترین قاضی ماوردی بغدادی(متوفی ۴۵۰ھ) اپنی کتاب ”الاحکام السلطانیہ“ میں کہتے ہیں نیز علّامہٴ زماں امام قاضی ابو یعلی (متوفی ۴۵۸ھ) نے بھی اپنی کتاب الاحکام السلطانیہ میں کہا ہے کہ امامت دو طریقوں سے منعقد ہو تی ہے۔ ایک تو ارباب حل و عقد کے انتخاب کے ذریعے اور ثانیاً پہلے امام کی وصیت کے ذریعے۔
ارباب حل و عقد کے انتخاب سے وجود میں آنے والی امامت کے بارے میں علماء کئی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان اختلاف ہے۔ ارباب حل و عقد کی تعداد کتنی ہونی چاہیے؟ ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ امامت ہر علاقے کے اہل حل و عقد کی اکثریت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی تاکہ لوگوں کی حمایت کا دائرہ عام ہو اور امام کی اطاعت اجماعی ہو۔ یہ نظریہ ابوبکرکی بیعت کے پیش نظر ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ ان کو سقیفہ بنی ساعدہ میں موجود لوگوں نے منتخب کیا تھا اور اس بیعت سے پہلے غائبین کی آمد کا انتظار نہیں کیا گیا تھا۔

دوسرے گروہ کا خیال میں منصب امامت کے پختہ ہونے کے لئے کم از کم پانچ افراد کی ضرورت ہے جو سب مل کر منتخب کریں یا ایک شخص کے انتخاب کو دوسروں کی رضامندی حاصل ہو۔ اس نظریے کی دو دلیلیں ہیں:
پہلی دلیل: ایک تو بیعت ابوبکرسے جو پانچ افراد کے اتفاق سے عمل میں آئی اور اس کے بعد لوگوں نے ان کی متابعت کی۔یہ پانچ افراد عمربن خطاب، ابوعبیدہبن جراح، اسیدبن حضیر، بشیربن سعد اور ابو حذیفہکے غلام سالم تھے۔
دوسری دلیل: یہ ہے کہ حضرت عمرنے چھ افراد کی مشاورتی کمیٹی بنائی تاکہ پانچ افراد کی حمایت سے چھٹا آدمی خلیفہ بنے.

یہ بصرہ کے اکثر فقہاء اور متکلمین کا نظریہ ہے۔ کوفہ کے بعض علماء کہتے ہیں کہ تین افراد کافی ہیں یعنی دو کی رضامندی سے تیسرا شخص امام بن سکتا ہے۔ بنا بریں ایک حاکم اور دو گواہ ہوئے۔ جیسا کہ صیغہ نکاح کے لئے ولی اور دو گواہ کافی ہیں۔ بعض کا یہ نظریہ بھی ہے کہ ایک شخص کے ذریعے بھی امامت حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ حضرت عباس نے حضرت علی(ع) سے کہا تھا کہ اپنا ہاتھ دراز کریں تاکہ میں آپ کی بیعت کروں لوگ کہیں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچازاد بھائی کی بیعت کر لی ہے۔ پھر آپ کے بارے میں دو افراد کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہو گا۔ چونکہ یہ ایک حکم ہے اور ایک شخص کا حکم نافذالعمل ہے۔ 3 رہا پہلے امام کی وصیت کے ذریعے انعقاد امامت کا طریقہ تو اس کے جواز پر اجماع قائم ہے اور اس کی صحت اتفاقی مسئلہ ہے۔ اس کی دلیل دو باتیں ہیں جن پر مسلمانوں نے عمل کیا ہے اور ان کی مخالفت بھی نہیں کی۔

پہلی دلیل یہ ہے کہ ابو بکرنے وصیت کے ذریعے امامت حضرت عمرکو دی اور مسلمانوں نے بھی ان کو وصیت کے ذریعے حاصل شدہ امامت کی توثیق کی دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر نے وصیت کے ذریعے امامت کا مسئلہ مشاورتی کمیٹی کے حوالے کیا۔ آگے چل کر کہتے ہیں۔ کہ کیونکہ حضرت عمرکی بیعت صحابہ کی رضامندی پر موقوف نہ تھی اور اس لئے کہ امام اس امر کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے۔

امام کی معرفت کے لزوم پر بھی علماء کے درمیان اختلاف نقل ہوا ہے۔ ان میں سے
بعض کہتے ہیں کہ تمام لوگوں پر واجب ہے کہ وہ امام کی ذات اور امام کے نام کی معرفت حاصل کریں۔ جس طرح ان پر خدا اور رسول(ص) کی معرفت ضروری ہے۔ پھر کہتے ہیں۔ اکثر لوگوں کے عقیدے کی رو سے امام کی اجمالی معرفت سب پر لازم ہے۔ تفصیلی معرفت واجب نہیں ہے۔

قاضی القضاة ابویعلی (متوفی ۴۵۸ھ) نے الاحکام السلطانیہ میں مذکورہ اقوال پر کسی اور کے اس قول کا اضافہ کیا ہے۔ امامت طاقت اور قہر و غلبے کے ذریعے بھی حاصل ہو جاتی ہے اس کے لئے بیعت کی ضرورت نہیں ہے۔ جو شخص تلوار کے زور سے تسلط حاصل کرے پھر خلیفہ بن کر امیر المومنین کا لقب پائے تو اللہ اورآخرت پر ایمان رکھنے والے کسی فرد کے لئے یہ جائز نہیں ہے وہ اس کو امام جانے بغیر رات گزارے۔ خواہ وہ نیک ہو یا فاجر وہ ہر حال میں امیر المومنین ہے۔
ابو یعلی اس امام کے بارے میں جس کے مقابلے میں حکومت کا طالب کوئی شخص خروج کرے اور دونوں کے ہمراہ کچھ لوگ ہوں۔ کہتے ہیں ان میں سے جو غالب آجائے جمعہ کی نماز انہی کے ساتھ ہو گی۔ اس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ ابن عمرنے واقعہ حرہ کے دوران اہل مدینہ کے ساتھ نماز پڑھی اور کہا ہم اسی کے ساتھ ہیں جس کا غلبہ ہو۔
امام الحرمین جوینی (متوفی ۴۷۸ھ) کتاب الارشاد میں خلیفہ کے انتخاب، اس کی کیفیت اور انتخاب کنندگان کی تعداد کے بارے میں کہتے ہیں۔ یہ بات ذہین نشین کر لیجئے کہ امامت کے لئے اجماع شرط نہیں ہے بلکہ امامت امت کے اجماع کے بغیر بھی قائم ہوجاتی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت ابوبکرکو امامت حاصل ہوئی تو انہوں نے مسلمانوں کے امور کو فوری طور پر نپٹانا شروع کیا اور اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ دور دراز علاقوں میں موجود اصحاب تک اس کی خبر پہنچ جائے۔ اور کسی نے اس بات پر ان کی ملامت بھی نہیں کی اور نہ اسے کسی نے سستی و لاپرواہی پر محمول کیا ہے۔

جب منصب امامت کے پختہ ہونے کے لئے اجماع کی ضرورت نہیں ہے تو ایک خاص تعداد اور معین مقدار کی شرط پر بھی کوئی دلیل نہیں ہے۔ لہذا درست بات یہی ہے کہ ارباب حل و عقد میں سے صرف ایک شخص کے ذریعے بھی امامت کا انعقاد ہو سکتا ہے۔ امام ابن عربی (متوفی ۵۴۳ھ) کہتے ہیں۔ امام کی بیعت کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ سارے لوگ بیعت کریں بلکہ اس کے انعقاد کے لئے ایک یا دو آدمی بھی کافی ہیں۔
نیز شیخ الفقیہ امام علامہ مفسرو محدث قرطبی(متوفی ۶۷۱ھ) سورة بقرہ کی آیت: انی جاعل فی الارض خلیفة کی تفسیر کے آٹھویں مسئلے میں کہتے ہیں۔
کہ اگر ایک شخص بھی جس کا تعلق رباب حل و عقد سے ہو بیعت کر لے تو خلافت ثابت ہو جاتی ہے اور دوسروں کے لئے بھی بیعت لازم ہو جاتی ہے۔ اس قول کے برخلاف کچھ حضرات کہتے ہیں کہ امامت ارباب حل و عقد کی ایک جماعت کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ جب حضرت عمر نے ابو بکرکی بیعت کی اور کسی صحابی نے ان کی مخالفت نہیں کی۔ بنابریں دیگر عقود کی طرح ایک خاص تعداد کی ضرورت نہیں ہے۔
امام ابو المعالی کہتے ہیں کہ جو شخص ایک فرد کی بیعت کے ذریعے امام بن جائے تو پھر اس کی امامت پکی ہو جاتی ہے۔ وہ پھر کسی خاص وجہ یا تبدیلی کے بغیر معزول نہیں کیا جا سکتا۔ بعد ازاں کہتے ہیں کہ اس مسئلے پر اجماع قائم ہے۔ مفسر قرطبی مذکورہ آیت کی تفسیر کے پندرھویں مسئلے میں کہتے ہیں کہ جب ارباب حل و عقد کے متفقہ فیصلے سے یا ایک شخص کی بیعت سے (جیسا کہ ذکر ہو چکا) کوئی شخص امام بن جائے تو پھر اس کی بیعت تمام لوگوں پر واجب ہو جائے گی۔
قاضی القضاة عضد الدین الایجی (متوفی ۷۵۶ھ) اپنی کتاب ”المواقف“ میں لکھتے ہیں۔ تیسرا مسئلہ اس بات کے بیان میں کہ امامت کس طرح ثابت ہوتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ امامت صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان یا سابقہ امام کی تصریح سے ثابت ہوتی ہے اور یہ بات اجماعی ہے۔ اس کے علاوہ ارباب حل و عقد کی بیعت سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ لیکن مکتب شیعہ اس نظریے کے خلاف ہے۔ ہماری دلیل بیعت کے ذریعے ابوبکرکی امامت کا ثابت ہونا ہے۔
پھر لکھتے ہیں کہ جب امامت کا انتخاب اور بیعت کے ذریعے وجود میں آنا ثابت ہو جائے تو جان لو کہ اس کے لئے اجماع کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اس بات پر عقل اور نقل کی روشنی میں کوئی دلیل قائم نہیں ہے۔ بلکہ اس امر کے لئے ارباب حل و عقد میں سے ایک دو افراد کا اقدام کافی ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ صحابہنے دین میں اپنی پختگی کے باوجود اسی پر اکتفاء کیا تھا۔ جیسا کہ حضرت عمرنے ابوبکرکی بیعت کی تھی۔ اور عبدالرحمان بن عوف نے حضرت عثمانکی بیعت کی تھی۔ انہوں نے اس بات کی شرط نہیں رکھی کہ مدینہ میں موجود افراد اتفاق کر لیں چہ جائیکہ پوری امت کے اجماع کو شرط قرار دیتے۔
اس کے علاوہ کسی نے ان کی سرزنش بھی نہیں کی اور آج تک ہر دور میں یہی سلسلہ جاری ہے۔
قاضی عبدالرحمن بن احمد الایجی کی کتاب ”المواقف“ کے شارحین مثلاً سید الشریف جرجانی(متوفی ۸۱۶ھ) وغیرہ نے بھی قاضی صاحب کی تائید کی ہے۔
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کے باوجود امام کی اطاعت کا وجوب
حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میرے بعد ایسے امام آئیں گے جو مجھ سے ہدایت نہیں حاصل کریں گے نہ میری سنت پر عمل پیرا ہوں گے۔ ان میں جلد ہی ایسے اشخاص اٹھیں گے جن کے دل شیطانی ہوں گے لیکن بدن انسانی۔ حضرت حذیفہکہتے ہیں کہ میں نے پوچھا:
اے اللہ کے رسول(ص) اگر میں اس وقت موجود ہوا تو کیا کروں؟
فرمایا:
تم امیر کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اگرچہ وہ تمہاری پشت پر مارے اور تمہارے مال کو چھین لے۔ پس اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے امام سے ایسے امر کا مشاہدہ کرے جو ناپسندیدہ ہو تو وہ صبر کرے۔ کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت الگ ہو جائے وہ جاہلیت (کفر) کی موت مرے گا۔

عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ جب یزید بن معاویہ کے دور میں واقعہ حرہ میں جو ہونا تھا ہو چکا تو عبد اللہ بن عمرنے کہا:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا۔ جو کسی (حاکم کی) اطاعت سے خارج ہو جائے تو قیامت کے دن خدا کے آگے اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی۔ جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت کا طوق نہ ہو تو وہ جاہلیت (کفر) کی موت مرے گا۔

امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں ”لزوم طاعة الامراء فی غیر معصیة“ نامی باب میں کہا ہے کہ اہل سنت کے فقہا محدثین اور متکلمین کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ فسق، ظلم اور حقوق کی پامالی کے باعث امام اپنے منصب سے خودبخود معزول نہیں ہوتا نہ اسےبرطرف کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے خلاف خروج کی اجازت ہے۔ بلکہ لوگوں پر واجب ہے کہ اس بارے میں موجود احادیث کے ذریعے اسے وعظ و نصیحت کریں اور ڈرائیں۔ اس سے قبل فرماتے ہیں کہ ان کے خلاف خروج اور جنگ اجماع کی رو سے حرام ہے اگرچہ وہ فاسق اور ظالم ہی ہوں اور اس بارے میں متعدد احادیث ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔ اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حکمران ارتکاب گناہ کے باعث معزول نہیں ہوتا۔

قاضی ابو بکر محمد بن طیب باقلانی (متوفی ۴۰۳ھ) نے ”التمہید“ میں امام کی معزولی اور وجوب اطاعت امام کے سقوط کے اسباب سے متعلق جو کچھ کہا ہے اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ اہل اثبات اور اصحاب حدیث کی اکثریت کہتی ہے کہ امام فسق، ظلم، غصب اموال، ناحق کسی کی جان لینے، حقوق کی پامالی اور احکام خدا کی خلاف ورزی کے باعث اپنے عہدے سے الگ نہیں ہوتا۔ اس کے خلاف خروج بھی ضروری نہیں ہے بلکہ اسے وعظ و نصیحت کرنی چاہیے اور خدا کا خوف دلانا چاہیے۔ اس کے کسی بھی امر کی حکم عدولی حرام ہے۔ اس بات کے اثبات کے لئے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ سے مروی احادیث سے استدلال کیا ہے۔ ان احادیث میں حکمرانوں کی اطاعت کو واجب قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ وہ ظلم کریں اور اموال کی تقسیم میں امتیازی سلوک روا رکھیں۔ نیز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا۔ ”سنو اور اطاعت کرو اگرچہ (حکم کرنے والا) کٹی ہوئی ناک والا ایک غلام یا ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، نماز پڑھو ہر نیک اور فاجر کے پیچھے۔“ علاوہ بریں یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی اطاعت کرو اگرچہ وہ تمہارا مال کھائیں اور تمہاری پشت پر ضربت لگائیں۔“

آخری صدیوں میں مکتب خلفاء کے پیروکاروں کا استدلال
ماضی میں خلفاء کی حکومت کے قیام کی صحت پر آخری صدیوں میں مکتب خلفاء کے پیروکاروں کا استدلال یہ ہے کہ خلفاء کی حکومت مسلمانوں کے باہمی مشورے کی بنیادوں پر قائم تھی۔ ان کے بعض حضرات اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ آج بھی اسلامی حکومت بیعت کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے۔ لہذا مسلمان جس شخص کی بیعت کر لیں وہ اسلامی حکمران ہو گا اور مسلمانوں پر اس کی اطاعت واجب ہو جائے گی.
محمد جواد
مصباح الہدای فاوندیشن.............................................قم